ناممکن واپسی کی اذیت
پچیس سال پہلے سردار کول جیت سنگھ سیٹھی کے چچا سردار درشن سنگھ سیٹھی نے کاغذ پر پینسل سے ایک نقشہ بنایا۔ کول جیت سنگھ نے پچیس سال تک وہ نقشہ اس آس پر دل سے لگا کر رکھا کہ زندگی میں ایک دن اس نقشے کی مدد سے وہ اپنے دادا کی بنائی ہوئی حویلی کو ڈھونڈ لیں گے۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے سب سے بڑے شہر لاس اینجلس میں مقیم کول جیت کو اپنے خواب کی تعبیر کے امکانات اس وقت نظر آئے جب ان کے بیٹے نے پاکستان آنے کا ارادہ کیا۔
کول جیت کا سپوت اپنے پرکھوں کی اس شاندار حویلی کی کھوج میں پندرہ فروری کو سیاحتی کمپنی ”انڈس ہیریٹیج کلب“ کے ذریعے چکوال آ گیا۔ ان کی رہنمائی کے لیے ان کے ہمراہ وہالی گاؤں کے نعمان مرزا تھے۔ اوڈھروال چوک سے میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ منزل چکوال کا مشہور قصبہ مرید تھا جو نہ صرف آبادی کے لحاظ سے چکوال کا چوتھا بڑا گاؤں ہے بلکہ چکوال کی ثقافت کا امین بھی ہے۔
مرید کے مرکزی بازار ”میدان“ میں وہی حسب معمول چہل پہل تھی جو اس کو چکوال کے دوسرے دیہات سے ممتاز کرتی ہے۔ یوں تو میدان میں موجود دکاندار اور روایتی محفلیں جمانے والے راہ گیروں پر خال ہی دوسری نظر ڈالتے ہیں لیکن پندرہ فروری کے اس اجلے دن میدان میں موجود لوگ کار سے نکلتے اس نووارد کو دیکھ کر دیکھتے رہ گئے۔ سر پر لال پگڑی باندھے، چہرے پر گھنی سیاہ مونچھیں اور ڈاڑھی سجائے، گرم چادر اوڑھے یہ سیاہ پوش چھتیس برس کا سردار ہرجس سنگھ سیٹھی تھا جس کا باپ ہندوستانی دارالحکومت دہلی میں پیدا ہوا اور اس نے خود امریکی شہر لاس اینجلس میں آنکھ کھولی لیکن اپنے پر دادا سردار دیوان سنگھ سیٹھی کی اس دو منزلہ حویلی کی کھوج اسے مرید لے آئی جو دیوان سنگھ نے 1930 کے لگ بھگ اس وقت تعمیر کروائی جب گاؤں کے مکینوں کی اکثریت کچے مکانوں میں رہتی تھی۔
ہرجس سنگھ کو یہ یقین نہیں تھا کہ ان کے پردادا کی پرشکوہ حویلی ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود بھی ہوگی یا وقت کے دریا میں اس کے آثار تک بھی بہہ گئے ہوں گے ۔ لیکن ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے پردادا کی حویلی کا بیشتر حصہ اپنی اصلی حالت میں موجود تھا۔
حویلی کو ڈھونڈنے کے لیے میں نے مرید میں اپنے دوست مبشر کو پچیس سال قبل سردار درشن سنگھ کا کاغذ پر بنایا ہوا نقشہ بھیج دیا تھا۔ نقشہ دیکھتے ہی مبشر کو معلوم ہو گیا کہ یہ حویلی وہی ہے جس کے موجودہ مالک اس کے اپنے ماموں ماسٹر غلام اکبر ہیں۔ وہی ماسٹر غلام اکبر جو اکبر سینچری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
جیسے ہی ہرجس سنگھ سیٹھی نے حویلی میں قدم رکھا، ماسٹر غلام اکبر نے ان کا استقبال کیا۔ حویلی کو دیکھ کر ہرجس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے والد کول جیت کو ویڈیو کال کی۔ لاس اینجلس میں آدھی رات بیت چکی تھی لیکن کول جیت ابھی تک اس لمحے کے انتظار میں جاگ رہے تھے کہ کب ان کا بیٹا ویڈیو کال پر انہیں ان کے دادا کی حویلی دکھائے گا۔
کول جیت کے مطابق ان کے آبا و اجداد تلہ گنگ کے رہائشی تھے۔ انیسویں صدی کے وسط میں جب ہندوستان میں طاعون کی وبا پھوٹی جس نے ایک کروڑ سے زائد انسانوں کی زندگیوں کو نگل لیا، تو اس وقت طاعون کے خوف سے فرار ہو کر سیٹھی خاندان کے سردار میگھ سنگھ نے مرید کو اپنا نیا مسکن بنایا۔ مرید اس وقت چھوٹا سا گاؤں تھا۔ سیٹھی خاندان نے مرید میں منتقل ہونے کے بعد سونے کی تجارت میں خوب ترقی کی۔ اس خاندان کے مرد ایران سے سونا لاتے اور ہندوستان میں بیچتے۔ سونے کے اس کاروبار میں سردار میگھ سنگھ کے پوتے سردار دیوان سنگھ سیٹھی نے خوب نام کمایا۔ جب دیوان سنگھ کے والد سردار سونا سنگھ سیٹھی نے دوسرے شادی کی تو دیوان سنگھ نے اپنے لیے نیا گھر بنایا۔ گھر نہیں یہ محل تھا جو آج بھی ”دیوانا والی حویلی“ کے نام سے مشہور ہے۔ کول جیت سنگھ کے مطابق یہ حویلی 1930۔ 35 کے لگ بھگ تعمیر ہوئی۔ ماسٹر غلام اکبر بتاتے ہیں کہ اس حویلی کی بنیادیں چار سے پانچ فٹ گہری ہیں۔ دو منزلہ حویلی آٹھ کمروں پر مشتمل تھی۔ دیوان سنگھ نے حویلی کو سامنے بہتی ہوئی سوج ندی کے دائیں کنارے پر بنایا۔ اس محلے میں سکھوں کے اور بھی عالی شان گھر موجود تھے۔ جن میں سے دو گھر ابھی تک اپنی اصلی حالت میں قائم ہیں جبکہ ایک تین منزلہ حویلی کو چند سال قبل گرا دیا گیا۔
دیوان سنگھ کے بیٹے سردار پرتاپ سنگھ سیٹھی غدر تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ 1947 میں پرتاپ سنگھ دہلی میں ہی موجود تھے جہاں وہ گرفتاری کے ڈر سے دن کوئلوں کے ڈھیر میں چھپ کر گزارتے تھے۔ پرتاپ سنگھ کو بٹوارے کا دو ماہ قبل ہی علم ہو گیا تھا کہ ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے۔ وہ پاکستان آئے اور اپنے خاندان اور گاؤں کے دوسرے سکھوں کو فسادات سے پہلے ہی سرحد پار لے گئے۔ ماسٹر غلام اکبر کے مطابق ان کے دادا جہان خان خود دیوان سنگھ کو ٹانگے پر بٹھا کر چکوال ریلوے سٹیشن چھوڑنے آئے۔ پرتاپ سنگھ پہلے دہلی میں آباد ہوئے اور پھر کلکتہ چلے گئے۔ ان کے بیٹے کول جیت سنگھ امریکہ چلے گئے اور گزشتہ کئی عرصے سے امریکہ میں ہی آباد ہیں۔
ہجرت کا دکھ ہجرت کرنے والا ہی جان سکتا ہے۔ مشہور ناول نگار میلان کنڈیرا اپنے ناول ”اگنورینس“ (Ignorance)
میں انگریزی لفظ ”ناسٹیلجیا“ کے معنی تفصیل سے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ناسٹیلجیا ایک ایسی اذیت ہے جو کبھی نہ پوری ہونے والی حسرت کے سبب پیدا ہوتی ہے۔
آج چھہتر سال گزرنے کے باوجود بٹوارے کا شکار ہوئے خاندان کی تیسری نسل کے فرد کے چہرے اور آنکھوں سے اپنے اصل وطن کو لوٹنے کی ناممکن خواہش سے پیدا ہونے والی اذیت چھلک رہی تھی۔
کوئی بھی حساس پنجابی بٹوارے کی اذیت سے نہیں نکل سکتا۔ دیوان سنگھ کی حویلی کے مہمان خانے میں جب ہرجس سنگھ نے اپنے والد کو ویڈیو کال کر کے حویلی دکھائی تو یہی اذیت باپ بیٹے کی آنکھوں سے اشک بن کر امڈ آئی۔
ہم جب چھت سے نیچے آنے لگے تو میں نے ہر جس کے لیے راستہ چھوڑا کہ وہ پہلے سیڑھیوں سے اتریں۔ ”پہلے آپ۔ کیونکہ یہ گھر میرا ہے اور آپ میرے مہمان ہو“ ، ہرجس نے انگریزی میں کہا کہ وہ پنجابی سے ناآشنا تھے۔
1947 میں جب مرید کا دیوان سنگھ اپنی اس حویلی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر انجانی راہوں پر نکلا تو یہ حویلی ویسی ہی اذیت کے شکار سرحد کے اس پار سے آئے ہوئے عبدالشکور کو مل گئی۔ 1980 میں عبدالشکور نے مرید چھوڑ دیا اور حویلی ماسٹر غلام اکبر کو بیچ دی۔ 2013 میں ماسٹر غلام اکبر نے حویلی کا ایک حصہ گرا کر نئی تعمیرات کیں جب کہ دوسرے حصے کا چھت اور فرش تبدیل کیے۔ آج بھی دیوان سنگھ کی یہ حویلی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ایستادہ ہے۔ فرق صرف اتنا آیا ہے کہ اس کے سامنے جہاں سوج کی ندی بہتی ہوئی نظر آتی تھی وہ اب سامنے تعمیر ہونے والے مکانات سے اوجھل ہو گئی ہے۔
حویلی کو دیکھنے کے بعد ہر جس سنگھ کو گردوارہ دکھایا گیا جہاں اس کے خاندان کے بڑے کبھی عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ گردوارہ آج کل دینی مدرسہ ہے۔
مرید سے نکل کر ہم گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ون کی ریلوے روڈ والی برانچ میں آئے جو آج سے ایک سو چودہ سال پہلے چکوال کے سکھ باسیوں نے تعمیر کی۔ اس کے بعد میں ہرجس کو آریہ ہائی سکول کی سحر انگیز عمارت دکھانے یونیورسٹی آف چکوال لے گیا جہاں شعبۂ انگریزی کے سربراہ اور میرے محسن پروفیسر سجاد صاحب نے ان کا استقبال کیا اور یونیورسٹی اور آریہ ہائی سکول کی عمارت کے متعلق تفصیلات بتائیں۔ رائل آرچرڈ پر کھانا کھانے کے بعد پہلوان ریوڑی کے تحفوں کے ساتھ ہرجس سنگھ کو رخصت کیا جنہوں نے بھارت جا کر ایک فلم سکول کا افتتاح کرنا تھا کہ وہ خود امریکہ میں بطور فلم ڈائریکٹر کام کرتے ہیں۔

