آخری اسٹیشن (2)

26 نومبر 2023
مسافر گاڑی سے اترا اور لمحے بھر کو آنکھ اٹھائی تو سامنے گندم کی ”پرالی“ سے اٹی خنک زمین پر ایک تخت بچھا تھا جس کے ماتھے پہ لکھا تھا؛
تخت محل
سطح سمندر سے بلندی 499 فٹ
تعمیر شدہ 1897
آہ۔ بخت کے تخت سے یک لخت اتارا گیا تخت محل۔
کسی سہاگن کی اجڑی مانگ جیسا تخت محل مجھے اپنی جانب شدت سے کھینچ رہا تھا۔ اس خالی عمارت میں بلا کی کشش تھی جس کے محرابی دروازے میں دکھنے والے دو کھجور کے درخت شاید کسی کے منتظر تھے۔ دو کمروں، محرابی گزرگاہ اور ایک ٹکٹ گھر پہ مشتمل دور دراز کا یہ اسٹیشن، نجانے کتنی ریل کی سیٹیاں سن چکا ہو گا۔ دیوار پہ بنا بورڈ بہت کچھ بتا رہا تھا۔
317 اپ اور 318 ڈاؤن کے اوقات کار،
بہاولنگر، چشتیاں، بخشن خان، حاصل، پور، شیخ واہن اور مدرسہ تک کا کرایہ،
ضروری اطلاع کہ یہ اسٹیشن گاڑی آنے سے ایک گھنٹی پہلے کھلتا ہے اور گاڑی آتے ہی بند ہو جاتا ہے۔
پیچھے کی طرف چھوٹی اینٹ کا ایک راستہ دور بنے ایک کمرے تک لے جاتا ہے جو شاید عملے کی رہائش گاہ رہی ہو گی۔ دھند میں چھپا یہ کمرہ کچھ حد تک اپنی پراسراریت کا بھرم قائم رکھے ہوئے تھا۔
اسٹیشن کے کمروں میں مسافر کو کچھ دروازے، کھڑکیاں اور انگریز دور کے خوبصورت آتش دان ملے۔
ایک آتش دان پر کسی شادی کی مٹھائی کا ڈبہ نظر آیا۔ شاید کوئی بھول گیا ہو گا۔
16 مئی 1935
بہاول نگر جنکشن
سطح سمندر سے بلندی 514 فٹ
فجر پڑھتے ہی بہتر سالہ باریش، واحد بخش اپنا ٹی سٹال کھول چکا تھا جو بہاول نگر ریلوے جنکشن کے پلیٹ فارم نمبر 2 پہ واقع تھا۔ یوں تو یہاں دو سٹال اور بھی تھے لیکن وہ صرف ٹرین کے اوقات میں ہی چالو ہوتے تھے جبکہ محنت کا رسیا واحد بخش، مسافروں سمیت اسٹیشن کے عملے اور یہاں آنے والے ہر بندے کے لیے چائے تیار رکھنے کو ہمہ وقت موجود رہتا۔
دلی سے آنے والی گاڑیاں ہوں یا کراچی سے جانے والی، بہاولنگر جنکشن پہ اکثر رش لگا رہتا تھا۔ انتظار گاہیں مسافروں سے بھری رہتی تھیں، اسٹیشن ماسٹر ادھر ادھر دوڑ رہا ہوتا تھا، ٹینکیاں وقت پہ بھری جا رہی ہوتی تھیں، ورکشاپ پہ انگریز افسروں کے ڈبوں کی مرمت کی جا رہی ہوتی تھی جبکہ انجن بھی رخ بدلنے کو لوہے کی گول پٹڑی پہ گھوم رہے ہوتے تھے۔
اسٹیشن کا بجلی گھر ہو یا کوئی اور دفتر، سب ملازمین کی چائے کا آرڈر واحد بخش کے پاس ہی آتا تھا۔ بلکہ اکثر تو ڈانس کلب میں تعینات ملازم بھی اس کے پاس چائے پینے نکل آتے تھے۔ بہاولنگر اسٹیشن ہی تو تھا جس نے اس بوڑھے کی دونوں بیٹیوں کی شادیاں ٹھیک ٹھاک طریقے سے کروا دی تھیں، وہ اسے کیسے چھوڑ سکتا تھا۔
اچانک فقیر والی، ہارون آباد اور ڈونگہ بونگہ کے مسافروں کو اٹھا کے ریل جنکشن پہ رکی تو واحد بخش چائے کا آرڈر لینے بھاگا۔ داڑھی میں پھیرنے والی اس کی چھوٹی سبز کنگھی اچھل کہ کہیں گر گئی تھی لیکن اس وقت وہ گاہکوں کی سروس میں کوئی خلل نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔
26 نومبر 2023
مسافر کا خواب پورا ہونے والا تھا۔ بس ایک موڑ کے بعد ریاست بہاولپور کا مصروف اور بہترین جنکشن اس کے سامنے آنے والا تھا۔
اور وہ سامنے تھا۔
سفیدے کی ایک لمبی قطار اور آدھی ٹوٹی اینٹوں والے راستے پہ گرے سفیدے کے خشک پتے،
اکھڑی ہوئی پٹڑیاں، سنسان پلیٹ فارم، تالہ بند مسجد، ایک خوبصورت لمبا محرابی برآمدہ، لکڑی کے مقفل دروازے، باہر جانے کا راستہ جس پہ تعمیر کا سال 1894 لکھا تھا، 13 اپریل 1995 کو وزیراعظم بینظیر بھٹو کی منظوری سے بحال ہونے والے بہاولنگر فورٹ عباس سیکشن کی افتتاحی تختی، خالی ٹینکیاں جن کے پائپوں پر اب بھی نارتھ ویسٹرن ریلوے لکھا ہے، ریلوے ورکشاپ کے زنگ آلود دروازے و تالے اور پرانا بجلی گھر جس کے راستے کو خشک لکڑیوں سے بند کیا گیا تھا۔
یہ کون سا بہاولنگر تھا؟
یقیناً واحد بخش کا بہاول نگر تو نا تھا۔
پلیٹ فارم پر سبز رنگ کی ایک چھوٹی کنگھی پڑی ملی، شاید جلد بازی میں کسی کی جیب سے گر گئی ہو گی۔
روجھانوالی کے اسٹیشن پر ایک ہو کا عالم تھا اور اس پرانے اسٹیشن کو یاسیت نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ برآمدے خالی اور راستے بند ملے۔ اجڑی ہوئی ورکشاپ کے ایک حصے سے لوہے کی چھت تک اتار لی گئی ہے۔ لوہے کے پائپوں کو زنگ لگ چکا ہے۔ ٹینکیوں کی چھت تک جاتے زینے اپنا وجود کھو رہے ہیں۔ جا بجا جھاڑیاں اور کائی اگ چکی ہے۔ کسی کونے میں بھڑوں کے چھتے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ البتہ شیڈ مین انچارج کا کوارٹر اور اس کے باہر لگے ہرے بھرے پودے اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ یہاں کوئی اب بھی رہتا ہے۔
دور ایک طرف انجن کا رخ بدلنے والا لوہے کا گول چکر کچھ بہتر حالت میں ہے۔
یہ جگہ اسٹیشن کم اور کوئی گودام زیادہ لگتا ہے جہاں جگہ جگہ لوہا بکھرا پڑا ہے۔
اسٹیشن کے باہر ٹکٹ گھر اور مسافر خانہ ہے جبکہ کچھ دور انگریزوں کا بنایا ناچ گھر بھی اپنی حالت پہ ماتم کناں ہے۔
خوبصورت ہال، لکڑی کے چھجے، اونچی چھتیں، قطار در قطار دروازے اور آتش دان، یہ ڈانس کلب اب بھی اپنے ماضی کی داستان سنا رہا ہے۔ بس چند ماہ میں ہی یہ بھی ختم ہو جائے گا۔
کاش کے ریاست پاکستان کے کسی وزیر مشیر کو اس مظلوم اسٹیشن کی آہ سنائی دے جائے اور اس کے بھاگ جاگ اٹھیں۔
3 ستمبر 1947
امروکا اسٹیشن
سطح سمندر سے بلندی 572 فٹ
رات کے ڈھائی بجنے کو تھے اور غلام محمد کی آنکھوں سے نیند غائب تھی۔ امروکا ریلوے اسٹیشن کا یہ بوڑھا اسٹیشن ماسٹر اس وقت تک سو جاتا تھا لیکن آج اس کی آنکھوں کو کسی کا انتظار تھا۔ آنے والا بہت خاص تھا۔
تھوڑی ہی دیر بعد دور سے ایک روشنی دکھائی دی اور غلام محمد کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔
دہلی سے کراچی جانے والی ٹرین امروکا پہنچنے والی تھی۔ یہ کوئی عام مسافر ٹرین نا تھی، بلکہ ہندوستان سے نئی بننے والی مملکت پاکستان کے حصے کا دفتری سامان، اسلحہ و دیگر خزانہ لے کر آنے والی وہ خاص ٹرین تھی جس کا اسے تین دن سے انتظار تھا۔
حالانکہ امروکا میں اس ٹرین کا سٹاپ پندرہ منٹ کا تھا لیکن اس جانب پاکستان کا پہلا اسٹیشن ہونے کے ناتے غلام محمد اسے کچھ دیر اور روک سکتا تھا۔
ٹرین کے رکتے ہی اس نے انجن کے سامنے نئی مملکت کا پرچم لگا دیا اور اسے سلامی دی۔ ڈرائیور سمیت سیکیورٹی کے عملے کو وہ اپنے کمرے میں لے آیا۔ اس کی بیوی جو کب سے کھانا پکائے انتظار میں تھی، تمام عملے کا کھانا لے کر آئی اور دسترخوان پہ چن دیا۔
مہمان نوازی کے اصولوں سے واقف امروکا کا یہ بوڑھا اسٹیشن ماسٹر، پاکستان کے حصے کا مال بحفاظت لے کر جانے والوں کو بغیر کھانا کھلائے کیسے جانے دیتا۔
طعام کے بعد عملے نے غلام محمد کا شکریہ ادا کیا اور قریباً پینتالیس منٹ بعد ٹرین چل پڑی۔
پلیٹ فارم کے کنارے پر ہلکی سی ملگجی روشنی والا لالٹین اٹھائے غلام محمد اس ڈرائیور کو ہمیشہ یاد رہنے والا تھا جو اب جاتی ٹرین کو ہاتھ ہلا رہا تھا۔
نومبر 2023
آہ
1893 میں بننے والا غلام محمد کا امروکا اسٹیشن۔
مسافر مغرب سے چند منٹ پہلے جب اس اسٹیشن پہ اترا تو ہاتھ میں جھنڈا لیے پاگلوں کی طرح اس ٹرین کے نشان تلاش کرتا یہاں وہاں بھٹکنے لگا۔ مگر نا تو غلام محمد نظر آیا نا اس کا لالٹین اور نا ہی وہ ٹرین جس پہ جھنڈا لگانے کی خواہش مسافر دل میں دبائے یہاں تک پہنچا تھا۔ اور اس ٹرین کے بعد تو نجانے کتنی ریل گاڑیاں آئیں اور اس کے نشان مٹا کے یہاں سے گزر گئیں۔ امروکے میں اب کچھ نہیں سوائے ایک بوڑھی عمارت، دو پٹڑیوں، چند بورڈز اور ریل کے کانٹوں کے۔
البتہ کچھ دور ایک بلند ٹاور ضرور ملتا ہے جو اس علاقے میں فوجی راج کا گواہ ہے۔
پاکستان کے انچ انچ سے شدید محبت کرنے والا یہ مسافر ایک آخری بار ہندوستانی سرحد کے پاس پہلے یا آخری اسٹیشن کو دیکھتا ہے، اور دوبارہ آباد ہونے کی دعا دے کر رخ موڑ لیتا ہے۔






