سائرن یا نیرو کی بانسری
پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت کے کالم نگار جناب محمد اکرم چوہدری صاحب نے مورخہ 27 فروری 2024 کو اپنے سائرن نامی کالم میں ”شہر بانو، عربی خطاطی اور ہمارے رویے!“ کے عنوان کے تحت جو دانش کے موتی بکھیرے ہیں ان پر تبصرہ ضروری ہو گیا ہے۔
آپ نے مذکورہ واقعہ کا ذکر کر کے لکھا کہ :
” لوگوں نے سمجھا کہ خاتون شاید کہیں توہین مذہب کی مرتکب ہوئی ہیں“
اور بے بس خاتون کو چھڑانے کے لئے شہر بانو پولیس افسر کی کامیاب سعی کا ذکر کرنے اور اس مکروہ واقعہ کی شدید مذمت کرنے کے بجائے (جو ان کا اولین فرض بنتا تھا ) بس معمولی سا یہ لکھ کر کہ:
” میں ایک مرتبہ پھر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بحیثیت قوم ہم جس انداز میں مذہبی معاملات پر ردعمل دیتے ہیں وہ ہماری مجموعی سوچ اور مذہب کے حوالے سے معلومات پر سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے مذہبی معیار دوسروں کے لیے اور ہیں جب کہ ہم اپنے لیے ہر وقت مذہبی معاملے میں نرمی کے تلاش میں رہتے ہیں اور دوسروں کے معاملے میں بہت ہی بے رحم ہو جاتے ہیں“
یہ صرف سوالیہ نشان ہی نہیں بلکہ رونے کا مقام تو ان کا کالم بھی ہے جس میں مذمت کرنے کے بجائے یہ جانتے ہوئے بھی کہ:
”لوگ بغیر کچھ سمجھے اکٹھے ہوتے ہیں اور جیسے جیسے جمع ہونے والوں کی تعداد بڑھتی ہے ویسے ویسے ہی سمجھ بوجھ، تحمل مزاجی اور شعور کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ نفرت اور بدلے کے جذبات حاوی ہوتے ہیں اور پھر لوگوں کی عقل جواب دے جاتی ہے اس کے نتیجے میں ایک سانحہ رونما ہوتا ہے، گھر جل جاتے ہیں، قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، بین الاقوامی سطح پر ہمارا (حقیقی۔ ناقل) پرتشدد اور شدت پسند چہرہ دنیا کے سامنے جاتا ہے“
اور قاضی فائز عیسیٰ پر چند دن پہلے سے غلاظت پھینکنے کہ مہم اور مذہبی شر پسندوں کی طرف سے ”تاثیر کی طرح کے انجام“ کی میڈیا پر دھمکیوں کے علم کے باوجود کالم نگار اس واقعہ کی ذمہ داری کے ضمن میں مذہبی بتوں کی قیادت کو نہایت مؤدبانہ توجہ دلاتے ہیں کہ:
” مذہب کے معاملے میں بالخصوص مذہبی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو تحمل مزاجی کا درس بھی دے اور لوگوں کو اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرنی چاہیے“
اور طرفہ تماشا یہ کہ اس نتیجہ پر پہنچ کر بھی کہ :
” یہ عربی خطاطی والا لباس پہنے صرف ایک خاتون اپنا چہرہ نہیں چھپا رہی تھی بلکہ وہ بحیثیت قوم ہم سب کا چہرہ بے نقاب کر رہی تھی“
البتہ محترم کالم نگار اس مذہبی بنیاد پر ہونے والے سانحہ فاجعہ پر صحیح تنقید کرنے والوں کو سخت سرزنش فرماتے ہوئے دین و اخلاق کی معراج تک رہنمائی کرنے والی ایک انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”اس واقعے کے بعد لوگوں نے مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جتنے لوگ مذہبی شخصیات کو نشانہ بنا رہی ہے، تنقید کر رہی ہے۔ اگر اس میں سے مناسب تعداد بھی مذہبی معلومات کو بڑھانے اور مذہب کو سمجھنے پر وقت لگائیں تو یہ ممکن نہیں کہ بہتری نہ ہو۔“
صورتحال تصور کرنے سے :
1۔ پولیس کی حراست میں۔ 2۔ معافی مانگنے پر مجبور۔ 3۔ مظلومہ بے گناہ خاتون کی پریس کانفرنس۔ 4۔ دائیں بائیں براجمان علماء کہلانے والے۔ کے درمیان، یہ لڑکی جنگلی کتوں کے درمیان ایک ہرنی کا بچہ لگ رہی تھی۔ لیکن اس وڈیو کو دیکھنے کے بعد کالم نگار کا خون کھولنے کے بجائے یہاں پر ”تحمل اور بردباری“ سے بھرپور کالم نگار کے معصوم دل میں مذہبی۔ کے لئے احترام کے جذبات اچھلنے لگتے ہیں اور ان سے پھر اظہار ہمدردی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
” علماء کو تو ہر وقت برا بھلا کہنا سب اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہ کبھی کوئی نہیں سوچتا کہ ہم انہیں کیا دیتے ہیں“
راقم کی تہذیبی مجبوری ہے کہ وہ الفاظ جن کا کالم نگار خود کو مستحق بنا چکے ہیں وہ زبان پر یا تحریر میں نہیں لا سکتا۔ یہ صیغہ جمع متکلم کو استعمال کرتے ہوئے ”ہم“ کے پردے میں سماج کو تو کوسنے سے دریغ نہیں کرتے لیکن اس سو فی صد معصوم بچی پر اس لمحہ جو گز رہی تھی اس کو ذرا تصور تو کریں۔ ان علماء کہلائے جانے والے، کالم نگار کے نزدیک ”معزز مذہبی رہنما“ ، جن کے بیچ پھنسی سراسر بے گناہ عورت سے، ناحق معافی منگوائی جا رہی تھی اور یہ علماء۔ اس سے حظ اٹھا رہے تھے۔ جبکہ اس پر علماء۔ کے علاوہ ہر درد مند، حساس انسان ایک کرب شدید محسوس کر رہا تھا۔
کالم نگار نے نہ اسے اپنی بچی سمجھا اور نہ اپنے دل و دماغ پر اس کی تکلیف کی ہلکی سی دستک تک محسوس کی۔ پھول سی بچی کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایک انسانیت سے گرے ہوئے، جاہل اور غلیظ شخص کی قہر آلود نظروں میں ناحق گناہگار ٹھہرائی گئی تھی۔ ذرا تصور کیا جائے کہ خدا نخواستہ اس کے لباس میں واقعی کوئی قرآنی لفظ لکھا نظر آ جاتا تو اس کا خون تو مباح ہو گیا تھا۔
حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ سعودی حسینائیں کلمہ طیبہ لکھے ملبوسات پہنتی ہیں بلکہ بکینی تک پہنتی ہے جو Amazon پر آج بھی فروخت ہو رہی ہیں وہ ان علماء یا کالم نگاروں کی نظروں میں نہیں آتیں۔ نیکی کے دعویدارو! اک نظر ادھر بھی!
ہر وہ دانشور اور دینی رہنما جو اس واقعہ کی سچے دل سے مذمت نہیں کرتا اس کی اسلام کی تعلیم اور بانی اسلام کے نمونہ کے ساتھ ذرہ بھر عملی ہم آہنگی نہیں ہے پھر بقول ڈاکٹر اسرار ”اس دنیا میں۔ منافق ترین قوم پاکستانی“ کے اس مغضوب رویہ کی ذمہ داری مولوی اور دانشوروں پر برابر پڑتی ہے
کالم نگار نے ”ہم“ کے پردے میں لکھا ہے :
” چونکہ ہم اپنی غلطیوں کو نظر انداز کرنے اور دوسروں کی غلطیاں نکالنے میں مہارت رکھتے ہیں، اپنی خامیوں کو دور نہیں کرنا چاہتے اور دوسروں کو خامیوں کے ساتھ زندہ دیکھنا نہیں چاہتے، عدم برداشت اور شدت پسندی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ بات اگر صرف قرآن کریم کے حوالے سے ہی ہو اور اگر ہم اپنی زندگی کے معمولات دیکھیں تو یاد رکھیں ہم ہر وقت قرآن کریم کی آیات کے خلاف کام کرتے ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ لعنت اللہ علی الکذبین۔ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت۔ انہ لا یحب المستکبرین اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، انہ لا یحب الخائنین۔ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ”۔
راقم کی کالم نگار کی خدمت میں درخواست ہے کہ وہ اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے ”ہم“ کے بجائے ”میں“ سے مخاطب ہوں اور اپنی ہی بیان کردہ اخلاقی خلاف ورزیوں پر وہ سب سے پہلے خود توبہ کریں اور اس معصوم بچی سے بھی معافی مانگیں جس کے دہشت زدہ چہرے کے نقوش کو بھانپنے اور خوفزدہ دل کی دھڑکن کو محسوس نہ کر کے دینی و دنیاوی اخلاق سے گریز کیا ہے۔


