پی ڈی ایم پارٹ ٹو: بند گلی میں


سوشل میڈیا پر ایک میسج خوب گردش کر رہا ہے۔ لکھا ہے!
‏مبارک ہو وعدے کے مطابق
300 فری یونٹ بلاول
200 فری یونٹ مریم نواز
300 فری یونٹ علیم خان
ٹوٹل 800 یونٹ فری
مارچ سے بجلی کے بل کی پریشانی دور ہو جائے گی پیارے پاکستانیوں۔
یہ وائرل پوسٹ شیئر کی جسے پڑھ کر مسکراہٹ ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی۔

صورتحال یہ ہے کہ فری یونٹ دینے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے تمام سیاستدان اس وقت حکومت کا حصہ بننے جا ر ہے ہیں جسے پی ڈی ایم پارٹ ٹو کا نام دیا گیا ہے ایک دوست نے اسے پی ڈی ایم 2.0 کا نام دیا، وجہ پوچھی تو بتایا گیا پی ڈی ایم۔ 2.0۔ یعنی دوسری باری اور کام زیرو۔

اب اس حکومت میں شامل وہ تمام یونٹ لٹانے والے رہنما جب عوام کے سامنے جائیں گے تو لوگ یونٹ مفت دینے کے اندھادھند دعووں بارے استفسار کریں گے، اب وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے ہمیں ووٹ نہیں دیے، جواب میں ووٹر کہہ گا اگر ووٹ نہیں دیے تو پھر حکومت میں کیسے آ گئے آپ لوگ؟ اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہو گا، اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم آئے نہیں لائے گئے ہیں تو پھر ووٹر پوچھے گا بھائی اگر ایسے آنا جانا کرنا تھا تو پھر یہ الیکشن کا سارا بہانہ کیوں؟

ہمارے ساتھ جھوٹے وعدے کیوں، ؟ ہمارے ساتھ جلسوں کا کھیل کیوں؟ اب پی ڈی ایم کے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا، اسے کہتے ہیں نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔ پی ٹی آئی مخالف جماعتیں ایک بار پھر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان تو ہو گئی ہیں لیکن بڑی بری طرح پھنس چکی ہیں، پی ٹی آئی حکومت کے جانے کے بعد پی ڈی ایم پارٹ ون نے عارضی حکومت میں وہ گرہیں لگائی ہیں کہ انہیں اپنے دانتوں سے کھولنا ہو گا، دوسرا کوئی چارہ بھی نہیں، کسی پر الزام لگا سکتے ہیں نہ کسی کو دوش ٹھہرا سکتے ہیں۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتے ہم سے پچھلی والی حکومت نے بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ کیونکہ پچھلی حکومت بھی ان ہی کی تھی۔

نقصان کا حساب کتاب کریں تو واضح نظر آتا ہے، الیکشن چارے میں سب سے زیادہ خسارہ نون لیگ کا ہوا ہے، چوتھی بار وزیراعظم بننے کا میاں نواز شریف کا خواب چکناچور ہوا، نون لیگی ورکرز کے لئے یہ ایک انتہائی تکلیف دہ چیز ہے، خاص طور پر ان ورکرز کے لئے جو لندن میں میاں صاحب کے ساتھ ہمیشہ دائیں بائیں موجود ر ہے ہیں، ایک لیگی ورکرز کی اشکبار آنکھوں کے ساتھ شاعری کی ویڈیو ان دنوں وائرل ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے میاں نواز شریف کے چاہنے والوں پر کیا گزر رہی ہے۔

خود شریف خاندان اس صورتحال سے کافی مایوس دکھائی دیتا ہے لیکن وزارت عظمیٰ اور پنجاب کی پگ بلکہ یوں کہیے، پنجاب کی چنی اپنے پاس رکھ کراس صدمے کا کس حد تک مداوا کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن وہ خواب جو لندن سے لاہور تک فضاؤں میں پروان چڑھتا رہا وہ بادل بن کر ہوا ہو چکا ہے۔ اس کا صدمہ بہرحال بھلائے نہیں بھلے گا۔

سیاسی میدان میں نون لیگ کو شدید دھچکا پہنچا ہے، ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے دو قدم پیچھے ہٹنے سے لے کر الیکشن میں صفایا ہونے تک پاکستانی سیاست کی ایسی ہوشربا کہانی ہے جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا، کئی بار وزارت عظمیٰ کی مسند پر پہنچنے والی نون لیگ اس وقت بڑی مشکل سے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے بڑے گھرکا ہاتھ نہ ہوتا تو اس الیکشن میں اس کا نام و نشان بھی نہیں ہونا تھا۔ سیاسی طور پر نون لیگ آئندہ کے سیاسی منظر نامے پربھی دکھائی نہیں دے رہی، کیونکہ وہ اپنے گڑھ پنجاب سے بھی تقریبا ہاتھ دھو چکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ سندھ پر مکمل چھائی ہوئی ہے اور دیگر صوبوں میں بھی کہیں نہ کہیں جوڑتوڑ کی شکل میں موجود ہے۔

بطور وزیراعظم شہباز شریف نے اگر پرفارم نہ کیا، ڈلیور نہ کرسکے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جائے گی، نون لیگ کا بوریا بستر ہمیشہ کے لئے گول ہو جائے گا، اب سٹیئرنگ نون لیگ کے پاس ہو گا، ہر اچھے برے اقدام کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ نون لیگ کوہی جائے گا اس لیے نون لیگ کے لئے کرو یا مرو۔ والی صورتحال ہے۔

اسٹیبلشمنٹ سے قریبی تعلق کا تاثر زائل کرنا نون لیگ کے لئے ایک بڑا چیلنج ہو گا، خود اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی یہی بہتر ہو گا، کہ سیاسی طاقتوں کو کچھ عرصہ خود سے فیصلے کرنے، آگے بڑھنے دیا جائے، اب کچھ دیر کے لئے باہمی فاصلے بڑھا لئے جائیں تو دونوں کے لئے اچھا ہو گا۔

اس بار نون لیگ کو پرانے بیانئے کو ترک کر کے نئی سوچ اور ایجنڈے کے ساتھ میدان میں آنا ہو گا، سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار بار ہا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ موجود ووٹرز کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور انہوں نے میاں نواز شریف کے بڑے پراجیکٹس کو اپنے آنکھوں سے بنتے، پروان چڑھتے نہیں دیکھا، اس لئے ان کی میاں صاحب کی سیاست اور خدمات سے جذباتی یا سیاسی وابستگی نہیں، انہوں نے ہوش سنبھالا تو عمران خان کو دھاڑتے لتاڑتے سنا اور دیکھا، جذبات سے معمور نوجوان اس کی تقاریر اور تگڑے بیانیے پر مر مٹے، آپ دیکھیں عمران خان نے نہ ہی کوئی موٹروے اور سڑک بنائی ہے اور نہ ہی کوئی بڑا پراجیکٹ پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے، لیکن نوجوان پھر بھی اس کو بے تحاشا فالو کرتے ہیں

میرے خیال میں اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو اس کا استعماری طاقتوں کے سامنے زبانی کلامی ڈٹ جانا جیسے اس کا ابسولوٹلی ناٹ کہنا۔ ہم کوئی غلام ہیں کہنا، جذباتی اور پرجوش نوجوانوں کو ان جملوں میں بغاوت، اکڑ اور قومی حمیت نظر آتی ہے اور وہ اس پر دل و جان سے فدا ہو جاتے ہیں دوسرا عمران خان کا مذہبی ٹچ۔ بزرگوں اور بڑی عمر کے لوگوں کا کہنا ہے ہم اس لئے عمران خان کو پسند کرتے ہیں کیونکہ اس نے اقوام متحدہ کی اسمبلی میں ناموس رسالت کی بات کی۔

یہ دو چیزیں نوجوانوں اور عام پاکستانیوں میں پی ٹی آئی رہنما کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا ن لیگ اس انداز کو کاپی کرے۔ لیکن ان دو نکات پر چلتے ہوئے پاکستان کے نوجوان اور بزرگ ووٹرز کے دل تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ لیکن سب سے پہلے اسے معاشی طور پر بدحال پاکستان کو ڈگر پر لانا ہو گا۔ یقین کریں اگر اس بار شہباز شریف مہنگائی کو کم کرتے ہوئے بجلی کے بلوں کے ہوشربا اضافے کو نیچے لے آتے ہیں تو نون لیگ پھرسے زندہ ہو جائے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments