اچھرہ کی مظلوم خاتون اور پروفیسر شیر علی کی معافی کے مابین مماثلت۔
کیا اس سرزمین پر باشعور ہونا جرم ہے؟
کیا اپنی انفرادیت کا کھلے عام اظہار گناہ ہے؟
کیا اپنی فکر کو تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے پیش کرنا ناقابل معافی جرم ہوتا ہے؟
یہاں جو عقل و شعور کی بات کرے اسے دائرہ انسانیت یا مذہب سے خارج کرنے کی باتیں کیوں شروع ہو جاتی ہیں؟
کیا مذہب و فرقہ انسانیت سے بالاتر ہو سکتا ہے؟
کیا کوئی زبان اتنی مقدس ہو سکتی ہے کہ اس کے تحفظ کی خاطر بلا سوچے سمجھے کسی کی بھی جان لے لی جائے؟
کیا عقیدے کو دنیاوی علم کے ساتھ نتھی کیا جا سکتا ہے؟
جس طرح سے دنیاوی علم کو ہر لحاظ سے پرکھا یا جانچا جا سکتا ہے اور اس پر درجنوں اعتراضات اور سوال اٹھائے جا سکتے ہیں کیا عقیدہ کی ڈومین میں اس طرح کی کوئی گنجائش موجود ہوتی ہے یا پرکھنے کا کوئی مستند اور عقلی پیمانہ موجود ہے؟
کیا سچ محض ایک زبان میں مقید ہو سکتا ہے؟
کیا لیبارٹری کا عقیدے کے ساتھ کوئی سمبندھ بن سکتا ہے؟
کیا کسی کو محض اس وجہ سے معافی مانگنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ دنیاوی علوم کو دنیاوی پس منظر میں کیوں پڑھا رہا ہے؟
کیا کسی بھی زبان کی کیلیگرافی کے آ رٹ کو توہین مذہب کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے؟
کیا قدرت کا عطا کردہ انسانی جسم پلید، نجس یا گندا ہوتا ہے؟
اس قسم کے سوالات ہر اس معاشرے میں پوچھے جانے چاہئیں جہاں ”غیرت بریگیڈ“ والے دوسروں کے ایمان کی جانچ پڑتال کرتے ہوں اور خدائی اختیار کو اپنا خاص حق یا استحقاق سمجھتے ہوئے دوسروں کو کافر، مرتد، زندیق، ملحد یا گستاخ ہونے کے فرمان جاری کرتے ہوں۔
ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ جناب کو یہ اختیار کس نے ودیعت کیا ہے کہ جو آپ کی فہم کے تقاضوں پر پورا نہ اترتا ہو اسے فی الفور دائرہ مذہب سے خارج کر دیں اور لٹھ بردار زومبیز کو اس کے پیچھے لگا دیں جو اپنے ایمان کو استحکام دینے کی خاطر یا آخرت میں بلند مرتبہ حاصل کرنے کے لیے اس معصوم و مظلوم کو گدھ کی طرح نوچ ڈالیں؟
کیا کسی بھی انسان کی فہم و فراست اس قدر بلند یا پاک صاف ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے مطابق دوسروں کی گردنوں کو اڑانے کے فرمان جاری کریے؟
دنیا بھر میں لاکھوں خواتین اور مرد مختلف زبانوں کی کیلیگرافی والے لباس زیب تن کرتے ہیں کوئی انہیں آنکھ اٹھا کر کے نہیں دیکھتا یا شک کی بنیاد پر گالم گلوچ نہیں کرتا۔ ہمارے ہاں بھی اکثر ادبی میلوں میں لوگ باگ مختلف شعراء کی شاعری والی کیلیگرافی کے لباس یا رومال وغیرہ پہن لیتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا اور نا ہی کوئی توہین اردو، فارسی یا عربی کا فرمان جاری کرتا ہے۔ حالانکہ مختلف زبانوں میں دنیا کی دوسری زبانوں کے کئی الفاظ بھی شامل ہوتے ہیں۔
دبئی سے آنے والی خاتون کی بدقسمتی کہیے جس نے عربی کیلیگرافی والا لباس جس پر صرف ”حلوہ“ لکھا واضح دکھائی دے رہا ہے، گستاخی و بے ادبی سے بے نیاز ہو کر وہ لباس پہن لیا اور اپنے شوہر کے ساتھ اچھرہ کی ایک دکان میں جا پہنچی، جہاں وہ کچھ کوالٹی ٹائم گزارنا چاہتے ہوں گے وہاں اچانک سے غیرت بریگیڈ کا ایک لٹھ بردار آن پہنچا۔
بس پھر کیا تھا محافظان مذہب کے درمیان ایک نہتی خاتون جو بیچاری سہمی ہوئی کھڑی تھی اور لوگ اپنے ایمان کو ریفریش ٹچ دینے کے لیے نعرہ بازی کرنے میں مصروف عمل تھے۔
وہ تو بھلا ہو اے ایس پی شہر بانو کا، جس نے عقلمندی اور بہادری کا مظاہرہ کیا اس مظلوم اور معصوم خاتون کو اپنے حفاظتی حصار میں لے کر مجمع کے چنگل سے باہر نکالا اور اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کی۔ ورنہ ایک خاتون کو بے دردی سے قتل کرنے کی شرمناک حرکت یا کلنک کا ٹیکہ بھی ہمارے ماتھے پر لگ چکا ہوتا۔
اس خاتون کو مظلوم یا معصوم اس وجہ سے کہنا بنتا ہے کہ اسے بالکل بھی نہیں پتا تھا کہ اس نے جو لباس پہنا ہوا ہے اس سے اہل ایمان کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں، یہ سب تو اسے غیرت بریگیڈ والوں کے ذریعے سے معلوم پڑا۔
ابھی تو وہ اس ساری صورتحال کو سمجھنا چاہ رہی تھی کہ ہجوم نے گھیراؤ کر لیا۔ اب اس ساری کارروائی کا جو سرغنہ تھا وہ بھی ماشاءاللہ باریش تھا اور اپنی کارروائی کے متعلق جو کچھ بھی اس نے بتایا وہ کلپ بھی یوٹیوب پر موجود ہے، جس میں وہ بڑے اعتماد سے کہہ رہا ہے۔
”میں نماز پڑھ کر آیا تو کچھ لوگوں نے مجھے بتایا کہ سامنے آئس کریم والی دکان میں ایک ایسی خاتون موجود ہے جس نے قرآن مجید کی مماثلت والا لباس پہن رکھا ہے، میں فوراً اس دکان میں پہنچا اور اس خاتون کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس لباس کو فوری طور پر اتار دو اور برقع پہن لو، آپ کے لباس پر عربی لکھی ہوئی ہے جس سے ہمارے جذبات مجروح ہو رہے ہیں، خاتون نے یہ سب کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میرے خدا ہو کہ تمہارے کہنے پر میں یہ لباس اتار دوں جس پر میں نے ہجوم کو دعوت دے ڈالی“
اب اس ساری گفتگو سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس قسم کی رعونت اور تکبر اس ساری گفتگو میں پنہاں ہے۔
خدا کے روپ میں خدائی اختیار کا بے دریغ استعمال اور سب سے بڑھ کر اپنی مذہبی حدود کو پامال کرتے ہوئے ایک غیر محرم عورت کے ساتھ ڈائریکٹ گفتگو کرنا اور اسے لباس اتارنے پر مجبور کرنا اس قسم کا زعم ایک مذہبی فرد کے ذہن میں ہی خمار بن کے سما سکتا ہے ایک دنیا دار بندے میں اس حد تک جانے کی سکت کہاں؟
اس سارے ڈرامے کے ڈراپ سین کے بعد یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ خاتون کی کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ ہجوم کی بیوقوفی تھی کہ انہوں نے اس لباس کو آیات والا لباس سمجھ لیا۔
پھر بھی محافظین دین نے اسی مظلوم اور معصوم خاتون کو اپنے نا کردہ گناہ کی غلطی کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا حتی کہ معافی تک مانگنے پر مجبور کر ڈالا۔
محافظین دین کے جھرمٹ میں اس معصوم نے سہمے سے انداز میں اور روتے ہوئے معافی مانگی۔ لیکن محافظین دین میں اتنی ہمت بھی پیدا نہیں ہوئی کہ وہ خود سامنے آتے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتے۔
یہ کس قسم کا سماج ہم نے بنا لیا ہے کہ جہاں مظلوم کو ہی معافی مانگنا پڑتی ہے، بتایا جائے کہ یہ خاتون کہاں پر غلط تھی؟ اگر اسے پتا ہوتا کہ اس لباس پر آیات لکھی ہوئی ہیں تو کیا وہ یہ لباس پہنتی؟
ایک بند اور گھٹن زدہ سماج میں بھلا ایسے کون کر سکتا ہے؟ پروفیسر شیر علی کا کیا قصور تھا؟
کوئی ان کا جرم بتا سکتا ہے؟
کیا اس نے کسی کی جان لی تھی؟
اس کا جرم تو بس اتنا سا تھا کہ وہ غلط جگہ پر پیدا ہو گیا تھا۔
اس کا جرم یہ تھا کہ وہ ارتقا پر بات کرتا تھا۔
سائنسی مضامین پڑھانے والا اس کے علاوہ اور کیا پڑھائے؟ جو چیزیں سائنس کی ڈومین میں آتی ہیں ایک سائنس کا استاد انہی پر تو گفتگو کرتا ہے۔ پروفیسر شیر علی کا جرم یہ تھا کہ وہ سائنس کو سائنس کے پیرائے میں پڑھاتا تھا اس میں اسلامیات کا ٹچ یا ملاوٹ نہیں کرتا تھا۔
وہ اپنے سائنسی مضامین کو پڑھانے میں ڈیڈ اونیسٹ تھا اور خواتین کی برابری کی بات کرتا تھا۔
بھولا بندہ اس بات سے بے خبر تھا کہ اس قسم کے تنگ نظر اور بند سماج کو خالص باتیں بھلا کہاں ہضم ہوتی ہیں؟
ایک دن محافظین نے گھیر لیا اور تلواروں کے سائے میں اسے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا۔ یہاں عقل کی بات کرنے والوں کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ جہاں اس قسم کا چلن ہو وہاں بھلا کون عقل و شعور کی بات کرے؟
اسی لیے تو ہمارے قیمتی لوگ یہاں رہنا پسند ہی نہیں کرتے یورپ جا بستے ہیں۔
ہمارے علاقہ میں ایک مفتی صاحب ہوا کرتے تھے جن سے ہماری بھی نیاز مندی تھی۔ خاصے کھلے ذہن کے مالک تھے کسی نے ان سے پوچھا کہ ”حضرت جی شرعی طور پر اورل سیکس جائز ہے“ ؟
انہوں نے جواب دیا کہ اس مسئلے کا شریعت سے کوئی واسطہ نہیں ہے یہ ایک طبعی مسئلہ ہے اگر کوئی کرنا چاہے تو ان کا نجی معاملہ ہے ہمیں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟
ان کی اس وضاحت پر انہی کے مذہبی بھائی ان سے خاصے ناراض ہو گئے تھے کچھ نے تو انہیں مرتد تک بھی ڈیکلیئر کر دیا تھا۔
مخالفین کا کہنا تھا کہ زبان کا ٹکڑا پاک ہوتا ہے اور اس سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، اس لیے اورل سیکس درست نہیں۔
پھر تو عضو تناسل کو بھی اتار پھینک دینا چاہیے، اس قسم کی پلید چیز کو ہم نے خواہ مخواہ ساتھ میں کیوں چپکا رکھا ہے؟ جب ہم اسی زبان سے گالیاں بکتے ہیں، دوسروں پر بہتان باندھتے ہیں اور جھوٹ بڑھ چڑھ کے بولتے ہیں پھر یہ سب جائز کیسے ہو جاتا ہے؟



کونسی سرزمین ہے جہاں با شعور ہونا اپنی انفرادیت کا اظہار جرم نہیں کیا فرانس جرمنی سویڈن میں کوئی مسلم خاتون یا لڑکی سر پر اسکارف باندھ کر کھلے عام مارکیٹ یا اسکول جا سکتی ہے احساس کمتری میں مبتلا لوگ اور صحافی ہمیں مغرب کی تقلید کے بھاشن دیتے رہتے ہیں