گیدڑ کا عشق


یہ کہاوت تو آپ نے سنی ہوگی کہ ”گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے“ (بعض ماہرین حیوانات کا خیال ہے کہ اگر آہستہ آہستہ بھی جائے تو نتیجہ موت ہی کی صورت میں نکلتا ہے ) لیکن جس گیدڑ کی کہانی میں آپ کو سنانے جا رہا ہوں وہ شہر کی طرف نہیں بھاگا تھا بلکہ وہ جنگل ہی کی ایک شیرنی کے عشق میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اب کیوں ہو گیا تھا اس کا جواب شاید گیدڑ کے پاس بھی نہیں تھا کیوں کہ ”عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب؛ جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے۔“ البتہ یہ بات اچنبھے کی ہے کہ ”گیدڑ اور عشق! وہ بھی کسی شیرنی سے“ ۔ بات وہی ہے کہ جب کسی کی موت آنی ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ تو چاہیے ہوتا ہے، اب چاہے وہ شہر کی طرف بھاگے یا شیرنی سے عشق لڑائے، بہرحال ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔

جیکسن (دی گیدڑ) افریقہ کے ایک جنگل میں بسیرا کرنے والے ایک شریف گیدڑ گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ ان کے والد جناب جیکی چن جنگل میں درندوں کے شکار سے بچے کھچے گوشت اور ہڈیاں لاکر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ یہ کام انتہائی محنت طلب اور احتیاط کا متقاضی تھا کیوں کہ ذرا سی غفلت کی صورت میں وہ خود بھی درندوں کے ہتھے چڑھ کر بچا کھچا گوشت کی شکل میں کسی اور گیدڑ کے پیٹ میں جا سکتے تھے۔

جیکسن کے طور طریقے بچپن ہی سے نرالے تھے ان کا مزاج اپنے بہن بھائیوں سے یکسر مختلف تھا۔ انھیں اونچے اونچے خواب دیکھنے کی عادت تھی، وہ اکثر اپنے بہن بھائیوں کو کہتا: ”دیکھنا ایک دن میں اس جنگل کا بادشاہ بن جاوں گا اور سارے جانور میرے حکم کے تابع ہوں گے۔“ وہ اپنے ہم نسل جانوروں کے ساتھ کم ہی اٹھتا بیٹھتا تھا۔ اپنے بیٹے کی حرکتیں دیکھ کر کبھی کبھی تو جیکی چن کو جیکسن کی والدہ کی چال چلن پر شبہ ہونے لگتا لیکن اس بات کا اظہار انھوں نے کبھی بھی اپنی زوجہ عالیہ سے نہیں کیا کیوں کہ وہ ایک شریف النفس گیدڑ تھا۔

ایک دن دریا کے کنارے جیکسن پانی پی رہا تھا کہ اس کی نظر دریا کے دوسرے کنارے پر ایک نوجوان شیرنی پر پڑی جو پانی پینے میں مصروف تھی۔ شیرنی اسے بہت خوبصورت اور حسین لگی، اس کے سڈول جسم، دراز قامت، کتابی چہرہ، روشن آنکھیں اور شیرنی جیسی چال نے جیکسن کے دل و دماغ کو اپنے سحر میں جھگڑ لیا۔ وہ کافی دیر تک اس حسین شیرنی کا نظارہ کرتا رہا۔ شیرنی نے بھی ایک نظر ان پر ڈالی اور اپنی راہ لی (دراصل وہ تازہ تازہ شکار کا گوشت کھا کر اپنی پیاس بجھانے دریا کنارے آئی تھی، اب وہ کسی اور شکار کے موڈ میں نہیں تھی) ۔ شیرنی کے جانے کے بعد گیدڑ بھی اپنے گھر کو لوٹ گیا۔ دن بھر شیرنی کی خیالوں میں کھویا رہا، رات کو بھی شیرنی خواب میں آ کر اس کا دل گرماتی رہی۔

اگلے دن دوبارہ جیکسن اسی مقام پر پانی پینے کے بہانے شیرنی کے جلوے کا نظارہ کرنے چلا گیا لیکن کئی گھنٹے گزر گئے شیرنی نہ آئی۔ مایوس ہو کر گیدڑ گھر تو آ گیا لیکن اپنا دل وہیں چھوڑ آیا۔ دن بھر شیرنی کے خیال میں بے چین رہا، اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کئی سالوں سے شیرنی کی محبت میں گرفتار ہے۔ اس کا دل ابا کے لائے ہوئے بچے کھچے گوشت کھانے کو بھی نہیں چاہ رہا تھا۔ دن ڈھل گیا، شام ہوئی اور شب فراق بھی نالہ و فریاد میں گزر گئی۔

اگلے دن صبح سویرے جیکسن دریا کنارے پہنچ گیا حالانکہ اسے پتا تھا کہ شیرنی پانی پینے دوپہر کو آتی ہے لیکن وہ کوئی چانس لینا نہیں چاہتا تھا۔ کئی گھنٹے انتظار کے بعد آخر کار اس کے دل کی مراد پوری ہوئی اور شیرنی نظر آئی۔ وہ دنیا و مافیا سے بے خبر شیرنی کے جلوے کا نظارہ کرنے میں مست ہو گیا، اسے شیرنی کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ شیرنی نے جب ایک گیدڑ کو اپنی طرف ٹکٹکی باندھے نظروں سے گھورتے ہوئے دیکھا تو اس کی غیرت شیرنی جوش میں آئی اور وہ دریا پار کر کے اس کے پاس پہنچ گئی۔

شیرنی کو اپنی طرف آتے دیکھ کر جیکسن گھبرا کر بھاگنے لگا لیکن شیرنی نے اسے پیچھے سے آواز دے کر بلایا اور کہا: ”ابے او گیدڑ! ڈرتے کیوں ہو، میں شکار کر کے شکم سیر ہوں، مجھے اس وقت کسی اور شکار کی حاجت نہیں“۔ شیرنی کی طرف سے جان کی امان ملنے پر جیکسن بھی ہمت کر کے اس کے قریب آیا۔ ”میں کچھ دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تم یہاں آ کر مجھے تکتے رہتے ہو۔ لگتا ہے تمھیں اپنی زندگی سے اکتاہٹ ہو گئی ہے“ شیرنی نے دھاڑتے ہوئے کہا۔

جیکسن نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا:” اے جان تمنا! مجھے آپ سے عشق ہو گیا ہے۔ اب یہ نہ پوچھنا کہ کیوں ہوا ہے کیوں کہ اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔“ شیرنی کو جب پتا چلا کہ ایک دوسری نسل کا جانور اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہے تو اسے ایک عجیب روحانی خوشی کا احساس ہونے لگا مگر اس نے جیکسن پر ظاہر نہ ہونے دی کہ اس کی جرات عاشقانہ پر اسے بہت خوشی ہوئی ہے۔ اس نے متانت و سنجیدگی سے کہا: ”اے عاشق کم عقل! اللہ تم پر رحم فرمائے۔“ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔

گیدڑ کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ شیرنی نے اس کے اظہار عشق کے جواب میں اسے کچھ نہ کہا تھا۔ اس کے عشق جنوں خیز میں تیزی آئی اور حوصلے مزید بلند ہو گئے۔ وہ ناچتا گاتا اپنے گھر چلا گیا۔ اس کے بھائی بہنوں نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو پریشان ہو گئے اور اس کیفیت جذب و مستی کے بارے میں پوچھنے لگے مگر جیکسن نے سب کو ٹال دیا، وہ اپنی وجدانی کیفیت سے کچھ دیر اور مزہ لینا چاہتا تھا۔ رات بھر خواب میں شیرنی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا۔

صبح ناشتے سے فارغ ہو کر دوبارہ دریا کنارے پہنچ کر شیرنی کا انتظار کرنے لگا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد اسے دریا کے دوسرے کنارے پر شیرنی نظر آئی۔ جیکسن، جو پچھلے تین گھنٹوں سے اپنی محبوبہ جاں فزا کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا، ’بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق‘ کا نعرہ بلند کر کے دریا میں کود گیا اور تیرتے ہوئے دوسرے کنائے پر شیرنی کے پاس پہنچا۔ اب یہ اس کی بدنصیبی تھی کہ آج شیرنی کو صبح سے کوئی شکار ہاتھ نہیں آیا تھا اور اسے سخت بھوک لگ رہی تھی۔

Facebook Comments HS