حلوہ: خادم کا فیض


حکومت وقت کے مشیروں نے ختم نبوت کے حلف نامے میں درون خانہ باریک واردات ڈالی تو مذہبی جماعتوں نے موقع پر چوکا لگا کر اپنے حصہ وصول کیا اور خواب خرگوش میں لوٹ گئے۔ لیکن اس موقع پر مفاد پرست گروہ کے فیض نے خرافاتی منصوبے کی داغ بیل ڈالی۔ اس نے سب سے بلند آہنگ و متشدد گروہ کی پشت صوت ہزار پر دست بے حس رکھ کر ذرا سی ہلا شیری دی تو یکلخت پورا ملک جام ہو گیا۔

حکومتی حلقوں میں تھرتھلی مچ گئی، کئی کالے بکرے قربانی کی نذر ہوئے تب جاکر گلو خلاصی ہوئی۔

گلشن کا کاروبار دوبارہ چل پڑا، لیکن اب بیوپاری عدم تحفظ کا شکار نظر آرہے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ مفاد پرست گروہ نے اپنے مفادات کے حصول کے بعد حالات کو سازگار بنانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے بھرپور کوشش کی یہاں تک کہ گروہ کے کرتا دھرتا نے میڈیا پر بڑی بڑی سرخیاں چلوائیں کہ اب ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے لیکن عدم تحفظ کا احساس ایسا پیوست ہوا کہ ختم ہونے کا نام نہ لے۔ اس پہ مستزاد یہ کہ کبھی خبر آتی کہ فلاں کو گولی مار دی گئی، کبھی خبر آتی کہ فلاں کو ہجوم نے مل کر قتل کر دیا، کبھی خبر آتی کہ فلاں شخص زندہ جلا دیا گیا۔ حالات اس نہج پر پہنچے کہ گروہ کے لیڈر کے اپنے ایمان پر شکوک و شبہات کے سائے منڈلانے پڑے، اس نے اپنے ڈیرے پہ محفل میلاد منعقد کر کے یقین دلایا کہ میں سچا پکا، کڑوا میٹھا مومن ہوں۔

پلوں کے نیچے سے ٹنوں گیلن پانی گزرنے کے بعد جب آپریشن شروع ہوا تو پہلا ٹیکہ مذہبی گروہ کے سربراہ کے سینے میں ہی پیوست کیا گیا۔ اس کے بعد مختلف جھڑپوں، خفیہ کارروائیوں، اور دوبدو مقابلوں سے شدت پسند گروپ کے کس بل نکالے گئے۔

ناگ کا اثر کمزور پڑا تو فقط اتنا ہی کہ مفاد پرست گروہ کے مفادات اس کی اثر پذیری سے باہر نکل گئے۔ لیکن عوام؟ وہ اسی بھٹی میں جلتے بھنتے رہے۔

سوال یہ ہے کہ عوام کی جان خلاصی کیسے ممکن ہوگی؟ میں اور آپ کیسے اپنا تحفظ یقینی بنائیں؟ کیا منافقت سے کام لیں؟ کیا برصغیری اسلام قبول کیے بنا کوئی راستہ نہیں؟ کیا حضور کی امتی کے لئے امتیوں کی دین میں کوئی جائے پناہ نہیں؟ کیا میں اور آپ نہیں جانتے کی حضور نے دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا؟ کیسے حضور نے دل دکھانے والوں کو عفو و درگزر کی چادر میں ڈھانپا؟ آپ نے جو کتابیں ہمیں تھمائیں ان میں سینکڑوں واقعات عفو و درگزر سے عبارت ہیں۔

آج ذرا سی آزاد خیالی، ذرا سی روشن بات، ذرا سی فکری بے احتیاطی، ذرا سی روایت پہ تنقید، آپ کو مدہوش کر سکتی، آپ کے جذبات کو مشتعل کر سکتی ہے، آپ کو جنونی بنا سکتی، آپ پر میرا لہو حلال کر سکتی ہے۔

یہ ہے آج کا پاکستان
جسے فیض نے سینچا ہے، جسے خادم نے پانی لگایا ہے
یہاں اسلام کی تعریف سے رواداری و احسان نکال دیے گئے ہیں
یہاں جہالت بکتی ہے اور، سچائی منہ چھپائے روتی ہے
یہاں حروف خون سے محترم ہیں اور قلم تہ تیغ ہے
یہاں خادم کا فیض عام ہے، اور سگان فیض آوارہ پھرتے ہیں

یہاں نبی کا اسلام درگور ہے، اور کلام الہی کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔
یہاں عربی اسلام پر عجمی جہالت غالب ہو چکی ہے۔
یہاں قرآن میں سوائے رسم الخط کے کچھ باقی نہیں ہے، اور سنت میں سوائے عقیدت کے سب مر چکا ہے۔
یہاں حلوہ پہ فقط مولوی کا حق ہے۔

Facebook Comments HS