کچھ خواتین سیکس کے اختتامی مرحلے میں تسکین حاصل کیوں نہیں کر پاتیں اور اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟


تصویر

یہ وہ سوال ہے جسے بہت سے سائنس دان اور سیکسالوجسٹ اب تک نہیں سمجھ سکے ہیں۔ خواتین میں سیکس کے دوران ’ہیجان شہوت‘ (آرگیزم یا سیکس کے اختتامی مراحل می ملنے والی جنسی تسکین کا عروج) کے بارے میں کئی کتابوں میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر یقینی طور پر ہر کسی کا تجربہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔

کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ انھوں نے سیکس کے دوران کبھی اس کا تجربہ نہیں کیا، کیونکہ وہ نہیں جانتی کہ یہ کیا ہے۔

بہت سی چیزیں سکیس میں خواتین کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ جسمانی، ذہنی، ہارمونل، جذباتی کچھ بھی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

اس مضمون میں ہم ایسی آٹھ وجوہات کے متعلق بات کریں گے اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کچھ خواتین جنسی تعلق کے دوران ہیجان شہوت تک کیوں نہیں پہنچ پاتیں۔

ماضی کا تلخ تجربہ

تصویر

اگر کسی خاتون کو ماضی میں سیکس کے حوالے سے کوئی تکلیف دہ تجربہ ہوا ہو اور وہ اِس تجربے کی وجہ سے اپنے جنسی تعلقات کو معمول پر نہیں لا سکتی ہیں۔ ایسی صورتحال کا سامنا کرنے والی خواتین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اُس تکلیف دہ تجربے سے متعلق اپنے پارٹنر (ساتھی یا شوہر) سے کُھل کر بات کریں۔

اگر کوئی خاتون سیکس کے دوران کوئی خاص پوزیشن یا کام نہیں کرنا چاہتی ہیں تو انھیں کسی ماہر کی مدد لینی چاہیے تاکہ وہ اپنے اس مسئلے سے اچھی طرح نمٹ سکیں۔ کیونکہ سیکس سے حقیقی معنوں میں لطف اندوز ہونے کے لیے ایسے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے۔

ایسا کرنے سے خاتون نہ صرف ماضی کے مخصوص واقعات کے بارے میں بات کر پائیں گی، بلکہ وہ اپنے پارٹنر کی اخلاقی حمایت بھی حاصل کر سکیں گی جس کی اس معاملے میں اشد ضرورت ہوتی ہے۔

میڈرڈ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات اور جنسیات کے ڈائریکٹر ہیکٹر گیلوان کہتے ہیں کہ ’ایسی صورتحال میں آپ کو ذاتی طور پر بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، کیونکہ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ ماضی کے دردناک تجربے کی وجہ سے آپ کو شرمندگی، خوف اور جذباتی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ آپ کے جنسی لطف حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔‘

ہیکٹر گیلوان کے مطابق کچھ خواتین کو ماضی کے تلخ جنسی تجربات کی وجہ سے پرائیوٹ پارٹس یا شرمگاہ کو چھونے سے پیدا ہونے والی جنسی احساسات کا کچھ خاص تجربہ نہیں ہوتا اور ایسی صورتحال میں وہ اپنی جنسی خواہش کو مکمل طور پر دبا دیتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسی خواتین کو جنسی خواہشات کو جگانے اور محبت بھری زندگی گزارنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک مثبت رویہ ضروری ہے۔ انھیں رومانوی خواہشات کو ایک طرف رکھنے اور اپنے جسم سے پیار کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ اس طرح انسان کو آہستہ آہستہ جنسی لذت کے قریب لایا جا سکتا ہے۔ ایک بار تسلی بخش سطح پر پہنچ جانے کے بعد، جوڑے کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔‘

ایک خاتون کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ماضی میں کیا ہوا اور کیسے ہوا اس کے بارے میں دوسرے شخص کو کتنی معلومات بتانی ہیں۔

ہیکٹر گیلوان بتاتے ہیں کہ ’جب ایک خاتون کو اپنے تجربے کو سمجھنا مشکل ہو، تو بہتر ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو اپنی مشکل کے بارے میں بتائیں۔ ایسے میں رومانوی موضوعات پر بات کرنے کے بجائے عورت کو درپیش مسائل پر بات کریں۔ اس کے بعد وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ اپنے معالج سے اس مسئلے پر بات کر سکتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ایک عورت کو اپنے ساتھی کے ساتھ کُھل کر بات کرنی چاہیے۔ بہتر ہے کہ اس واقعے کے شرمناک پہلو کا ذکر نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ ساتھی کے ساتھ رومانوی زندگی کو بھی بہتر بنانا چاہیے۔ اس واقعے کا ذکر کرنے سے گریز کرنے کے بجائے یہ سوچ کر کہ یہ اسے شرمندگی کا احساس دے گا، اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘

روزمرہ کی مصروف زندگی کا تناؤ

کچھ خواتین جنھوں نے ہیکٹر گیلوان سے اس بارے میں رہنمائی لی وہ محسوس کرتی ہیں کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ اُن کی پرورش ایسے روایتی ماحول میں ہوئی ہے جہاں جنسی تعلقات پر بات نہیں ہوتی اور ایسی گفتگو کو ’گندا‘ سمجھا جاتا ہے

علاج کے لیے ڈاکٹر گیلوان سے رجوع کرنے والی زیادہ تر خواتین کو تقریباً ایک ہی مسئلہ تھا۔ بہت سی خواتین روز مرہ زندگی کے تناؤ کی وجہ سے اپنی سیکس لائف سے لطف اندوز نہیں ہو پا رہی تھیں۔

ہیکٹر گیلوان کہتے ہیں کہ ’جسم بہت حساس ہے۔ اس کے لیے آرام بہت ضروری ہے۔ جسم میں تناؤ، تھکاوٹ کی ایک خاص سطح ہے۔ اس کے ساتھ جنسی خواہشات بھی ہیں، لیکن جنسی تعلقات میں زیادہ سے زیادہ لطف کے لیے آرام ضروری ہے۔‘

بہت سی خواتین ملازمت کے اہداف، گھر سے دور کام کرنے، بعض صورتوں میں بچوں کی پرورش کی ذمہ داریوں اور مالی مسائل کی وجہ سے بڑھتے ہوئے دباؤ میں ہیں۔

ایسی صورتحال میں بھی بعض خواتین اپنی جنسی خواہش کے برعکس صرف اپنے ساتھی کو مطمئن کرنے کے لیے جنسی تعلق رکھتی ہیں۔

طبی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ خواتین جنسی طور پر جذباتی ہونے کا بہانہ کرتی ہیں، لیکن انھیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی صورتحال سے باہر آنے کے لیے ساتھی کے ساتھ بات چیت کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

بنا خواہش کے جنسی تعلق

سیکس

ہم اس نقطہ کو ایک فارمولے سے شروع کر سکتے ہیں۔ اس فارمولے کا مطلب ہے کہ کوئی شخص صحیح طور پر اندازہ نہیں لگا سکتا کہ دوسرا شخص جنسی تعلقات کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے۔

آپ جماع کے دوران مختلف آوازوں اور حالتوں کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن اُن کا جواب دینا ضروری ہے۔

سیکسالوجسٹ کہتے ہیں کہ ’بہت سے لوگوں کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنسی تعلقات کے دوران تبدیلیوں اور خواہشات پر بات کرنا مشکل لگتا ہے۔‘

ہیکٹر گیلوان کہتے ہیں کہ ’میرے پاس آنے والی ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتی ہیں تو اس عمل کے دوران اکثر جب وہ ہیجان شہوت کے قریب ہوتی ہے تو شوہر انھیں شہوت دینا چھوڑ دیتا ہے اور اس خاتون نے کبھی یہ بات اپنے شوہر کو نہیں بتائی۔‘

یہ جاننے کے بعد سیکسالوجسٹ نے خاتون کو سمجھایا کہ جنسی تعلقات سے پہلے اور بعد میں ہی نہیں بلکہ جنسی تعلقات کے دوران بھی بات چیت کرنا ضروری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس گفتگو سے یہ جانا جا سکتا ہے ان کے ساتھی کا جسم کس قسم کا ردعمل چاہتا ہے اور جنسی تعلقات کے دوران مطمئن محسوس کرنے کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے۔‘

قبل از وقت انزال بہت سے جوڑوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ تھا جنھوں نے ہیکٹر گیلوان سے علاج کروایا۔ ایسا ہی ایک زیر علاج جوڑے کے متعلق بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس یہ بہترین مثال ہے۔‘

’کچھ معاملات میں خواتین ہمارے پاس اکیلی آتی ہیں، کیونکہ وہ اپنے ساتھی کی عزت اور جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں چاہتیں۔ ان کے مطابق وہ جنسی تعلقات کے دوران پہلے کی نسبت زیادہ وقت گزارتے ہیں لیکن قبل از وقت انزال کی وجہ سے انھیں ہیجان شہوت حاصل نہیں ہوتا۔‘

ہیکٹر گیلوان کہتے ہیں کہ ’یہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ اگر جنسی تعلقات کے ساتھ کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، تو قبل از وقت انزال ایک معمولی مسئلہ ہے۔‘

جماع سے قبل ایک دوسرے کو متحرک کریں

سیکس

ہیکٹر گیلوان کے مطابق انھوں نے گذشتہ چند برسوں میں جنسی تعلق قائم کرنے سے قبل جوڑوں کے ایک دوسرے کو متحرک کرنے میں صرف کیے جانے والے وقت میں اضافہ دیکھا ہے۔

’یہ معاملہ دہائیوں پہلے نہیں تھا۔ پہلے مرد جلدی سے جنسی لذت حاصل کرتے لیکن عورت کو جنسی تسکین حاصل نہ ہوتی۔ جنسی تعلقات کو فرض سمجھا جاتا تھا، لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جوڑے جماع سے پہلے فور پلے میں کتنا وقت گزارتے ہیں اس سے جنسی تعلقات قائم کرنے پر مثبت اثر پڑتا ہے، کیونکہ یہ دونوں کے درمیان ایک اچھا جسمانی مکالمہ ہے۔‘

ہیکٹر گیلوان کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ مرد اور عورت جنسی تعلقات کے دوران ایک دوسرے کے جنسی اعضا کو چھو کر ایک دوسرے کو متحرک کرنے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے اندرونی احساسات کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے۔

اہم بات یہ ہے کہ عورت اپنے ساتھی کو بتائے کہ اسے کیا کرنا ہے اور اس کے جسم کے کس حصے کو چھونے سے اسے جنسی لذت حاصل ہوتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ’کچھ خواتین شکایت کرتی ہیں کہ مرد اکثر یہ نہیں جانتے کہ عورت کی اندام نہانی کو کس طرح متحرک کرنا ہے کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ ایسا کرنے سے عورت جسمانی طور پر بے چینی محسوس کرے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے اپنے ساتھی کے ساتھ اس پر بات کی ہے، تو انھوں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کرتیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کے ساتھی کے جذبات مجروح ہوں گے یا وہ شرمندہ ہوں گے۔‘

سیکس سے پہلے جوش بڑھانے کے لیے عورت کو اپنے ہاتھوں سے جسم کے حساس حصوں کو متحرک کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ جنسی تعلقات سے پہلے کی جنسی لذت کا سبب بنتا ہے اور ہمبستری کو بہت آرام دہ کرتا ہے۔

’کچھ خواتین کے مطابق جو خود کو متحرک کرتی ہیں، وہ اس چیز سے بھی لطف اندوز ہوتی ہیں جو جنسی تعلقات کے دوران ان کا ساتھی محسوس کرتا ہے۔ جنسی تسکین کا کوئی بھی فارمولا حتمی نہیں ہے۔‘

سیکس نہ کرنے کی خواہش

تصویر

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کا کہنا ہے کہ خواتین کی زندگی کے مختلف مراحل ان کی جنسی خواہش کو متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین حیض، حمل اور پوسٹ پارٹم سٹریس کے دوران جنسی تعلقات میں دلچسپی کھو دیتی ہیں۔

ڈپریشن، اضطراب اور ہارمونل مسائل کے لیے ادویات خواتین کی جنسی اور جذباتی خواہشات کو متاثر کر سکتی ہیں۔

نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق خواتین میں ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار میں کمی بھی جنسی تعلقات کی خواہش کو کم کر سکتی ہے۔ ٹیسٹوسٹیرون بیضہ دانی اور ایڈرینل غدود میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ اعضا ٹھیک کام نہ کر رہے ہوں تو خواتین میں اس کا اثر دیکھا جاتا ہے۔ یہ جنسی خواہش کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اس لیے اینڈو کرائنولوجیکل مسائل میں مبتلا افراد کو بار بار طبی معائنہ کروانا چاہیے۔

اگر مسئلہ ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹروجن جیسے ہارمونز سے متعلق ہے تو ڈاکٹر ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی تجویز کر سکتے ہیں۔

جنسی تسکین کا بھی دباؤ

ایک سیکسولوجسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب کچھ مریضوں کا معائنہ کیا گیا تو ان میں کچھ خود پر قابو پانے والی خصوصیات پائی گئیں۔

’یعنی وہ خواتین سیکس کے دوران ہیجان شہوت پر پہنچنے سے قبل ہی اس کیفیت میں پہنچ جاتی ہیں، لیکن جنسی تسکین حاصل نہیں کر پاتیں اور اس کے بعد وہ جماع کے دوران اپنے رویے کا مشاہدہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اور اس دوران ان کے ذہن میں جماع کے عمل میں کارکردگی سے متعلق خیالات کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور وہ سیکس پر توجہ کھو بیٹھتی ہیں۔‘

اس حالت پر قابو پانے کے لیے آرام کرنا اور خوش رہنا ضروری ہے۔

سیکس کے دوران درد ہو تو کیا کریں؟

کئی عوامل ہیں جو جنسی اعضا کے معاملے میں عورت کی شدید محرک تک پہنچنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

ان میں سے ایک vaginismus ہے۔ یہ اندام نہانی کے نچلے حصے میں پٹھوں کا غیر ارادی طور پر سکڑ جانا ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق، ان پٹھوں کا کھچ جانا ’سیکس کو تکلیف دہ یا ناممکن بنا دیتا ہے۔‘

ہیکٹر گیلوان کے مطابق ایک اور بیماری dyspareunia ہے۔ یہ خواتین میں درد، جلن اور تکلیف کا باعث بننا ہے۔ یہ مسائل جماع سے پہلے، جماع کے دوران اور جماع کے بعد ہوتے ہیں۔ یہ vaginismus کے مقابلے خواتین میں زیادہ عام ہے۔

Dyspareunia کسی جسمانی مسئلہ یا انفیکشن کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اس کا علاج کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ جب دماغ میں جنسی خواہش اور درد کے درمیان تعلق قائم ہو جاتا ہے تو درد سے بچنے کے لیے جنسی خواہش کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے۔

اگر کسی عورت کو اندام نہانی میں انفیکشن یا درد ہو، اندام نہانی میں خشکی ہو تو اسے ڈاکٹر سے ملنا چاہیے، نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ’مینوپاز یعنی خواتین میں ماہواری بند ہو جانے کے بعد جنسی تعلقات کے دوران درد عام ہے۔ جسم میں ایسٹروجن کی سطح میں کمی اندام نہانی کی خشکی کو تکلیف دہ بنا دیتی ہے۔‘

اس کی وجہ سے خواتین میں جنسی خواہش کم ہو جاتی ہے۔ تاہم ایسے حالات میں ہمبستری سے قبل لبریکنٹس مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

تعلقات میں مسائل

خواتین میں مباشرت کے بارے میں ماہرین کی آخری بات جوڑے کے درمیان تعلق ہے۔

’کبھی کبھی جوڑے ہمارے پاس آتے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ اس کی وضاحت ہم خواتین کے حوالے سے کر سکتے ہیں۔ درحقیقت اصل مسئلہ مرد یا عورت میں نہیں بلکہ ان کے رشتے میں ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹروں کے مطابق ایسی صورت میں ان کے درمیان ذاتی مسائل کا حل نہ صرف ان کی جنسی و رومانوی زندگی بلکہ روزمرہ کی زندگی کو بھی خوشگوار بنا دیتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32522 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments