پیپلزپارٹی اور عوام کے بڑھتے فاصلے


پاکستان پیپلز پارٹی کی فیصل آباد شہر میں انتخابی کارکردگی ملاحظہ فرمائیں،
شہر کے نو صوبائی حلقوں میں 2013 میں کل حاصل کردہ ووٹ: 32000
2018 میں کل ووٹ: 18750
2024 میں کل ووٹ: 14500

کچھ لوگ اس بدترین کارکردگی اور مقبولیت کی تنزلی کو کمزور تنظیمی ڈھانچے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مانا کہ تنظیم کسی بھی جماعت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ مگر ووٹ حاصل کرنا اور مقبول عوامی جماعت بننے کے لئے جماعت کے قائد کو عوام کا محبوب لیڈر اور طلسماتی شخصیت ہونا لازم ہے، اس کے علاوہ اعلیٰ مقرر اور شاندار سیاسی پس منظر جیسی مزید خوبیاں کسی بھی مقبول لیڈر کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔

اب تنظیم تو جماعت اسلامی یا تحریک لبیک جیسی جماعتوں کی شاید سب سے بہتر ہو مگر کوئی عوام کے لئے قابل قبول لیڈرشپ میسر نہیں اور اسی طرح پیپلز پارٹی کو اگر ضیاء آمر کے دور میں دیکھیں تو ظلمتوں کے اس دور میں کہاں تھیں تنظیمیں اور کتنی موثر تھیں؟ مگر جب محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان تشریف لائیں تو عوام کا سمندر کسی تنظیم کا کارنامہ نہیں تھا ایک محبوب قائد کی بیٹی اپنے مقبول ترین باپ کی میراث لے کر اور عوام کے لئے قابل قبول نجات دہندہ کے طور پر وطن واپس آ رہی تھیں۔

اب تنظیم کی اہمیت کو پس پشت ڈالے بغیر ہر گزرتے دن کے ساتھ پیپلز پارٹی کی عوام میں گرتی ہوئی ساکھ کی اہم وجوہات سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ ظاہر ہے مقبولیت کی یہ گراوٹ شہید بینظیر بھٹو کی موت کے بعد اب تک جاری ہے، بی بی کی شہادت کے بعد پارٹی کی کمان سنبھالنے کے لئے آصف زرداری کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا پارٹی کے جیالے کارکنوں کو اس کا اچھی طرح ادراک تھا لہذا کارکن نے تو اس کو قبول کیا مگر عوام نے اس کو قبول نہیں کیا۔

1988 سے لے کر سیاست پر نظر رکھنے والے سب جانتے ہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو ایک طلسماتی شخصیت اور عوام کے لئے ایک برانڈ تھیں ان کے خلاف فحش تصاویر سے لے کر عورت کی حکمرانی جیسے کئی حربے ریت کی دیوار ثابت ہوئے تو مخالفین نے آصف زرداری کو ٹارگٹ کر کے محترمہ کی مقبولیت میں شگاف ڈالنے پر کام شروع کیا۔ مسٹر ٹین پرسنٹ سے لے کر سرے محل، ڈاکٹر عاصم اور ایان علی سے ہوتا ہوا سندھ ہاؤس میں ارکان اسمبلی کا خریدار جیسے القابات اور الزامات آج بھی پیچھا کر رہے ہیں۔

مقابلے میں پارٹی نے اس تاثر کو زائل کرنے اور روک تھام کے لئے کچھ نہ کیا۔ بدقسمتی سے میڈیا کا استعمال اور پراپیگنڈا کا توڑ پارٹی کی کبھی بھی ترجیح نہیں رہا۔ لہذٰا آصف زرداری جو کہ ایک عوامی برانڈ اور مقبول لیڈر نہیں تھے اس لئے بی بی کی شہادت کے فوراً بعد نواز شریف نے انتخابی نعرے کے طور پر زرداری کا نام استعمال کیا کہ اب پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کا مطلب زرداری کو ووٹ دینا ہے۔ میں یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ لوگ سمجھتے ہیں 2008 میں پیپلز پارٹی کو ہمدردی کا ووٹ ملا میں سمجھتا ہوں کہ بی بی کے بعد پیپلز پارٹی کا ووٹ اور سیٹیں کم ہو گئیں لوگ مایوس تھے اور ساتھ نواز شریف کا انتخابی نعرہ زمینی حقائق یعنی زرداری صاحب کی غیر مقبولیت کے عین مطابق تھا۔

خیر وجوہات جو بھی ہیں اور ذمہ دار جو بھی ہے آصف زرداری کو عوام نے پذیرائی نہیں دی اب پارٹی کے کارکنان جو صورتحال اور مجبوری کو سمجھتے تھے آج تک انتخابی ڈبوں سے ووٹ صرف انہی کے نکل رہے ہیں۔ مطلب ہر حلقے میں تین سے چار ہزار۔ پیپلز پارٹی کا یہ کارکن اس امید پر زندہ تھا کہ 2018 تک بی بی کا بیٹا عمر کے حساب سے اس قابل ہو جائے گا کہ الیکشن لڑ کر اسمبلی میں جائے اور پارٹی کی قیادت کرے تب عوام دوبارہ پیپلز پارٹی کی طرف رجوع کر لے گی مگر 2018 کے بعد بھی بلاول بھٹو اسمبلی تو پہنچے اور کچھ عرصے کے لئے وزیر خارجہ بھی رہے مگر یہ تاثر قائم نہیں ہو سکا کہ وہ اب پارٹی کے قائد ہیں خود مختار ہیں اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔

اسی طرح 2024 کا انتخاب بھی آ گیا۔ بلاول بھٹو بطور وزیر خارجہ اپنی کارکردگی، پارلیمنٹ میں اپنے کردار اور اپنے کئی ٹی وی انٹرویوز میں اپنی قابلیت کا لوہا منوانے میں کامیاب رہے۔ اس بار وہ انتخابات میں بہتر نتائج کی توقع کر رہے تھے پھر اچانک ایک دن زرداری صاحب ایک انٹرویو میں نمودار ہوئے اور بلاول کی الیکشن مہم اور امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ لب لباب یہ تھا کہ بلاول ابھی زیر تربیت ہے اور پارٹی کا صدر میں ہوں اور بلاول کو بھی میں ٹکٹ دوں گا یہاں تک ارشاد فرما دیا کہ پارٹی کا وزیراعظم کا امیدوار میں بھی ہو سکتا ہوں۔

یہ ایک سوچا سمجھا انٹرویو تھا ایک تو انہوں نے بہت عرصہ کے بعد اچانک انٹرویو دیا دوسرا ان چار باتوں کے علاوہ اس انٹرویو میں اور کچھ نہیں تھا۔ ان کے اس انٹرویو نے سیاسی ماحول میں ایک تلاطم پیدا کر دیا اور کارکن جو 2018 کی نسبت زیادہ اعتماد کے ساتھ بلاول کو ایک ابھرتے ہوئے لیڈر اور وزیراعظم کے طور پر پیش کر رہے تھے نا صرف مایوس ہوئے بلکہ عوام نے بطور لیڈر بلاول کو انتخابات میں سنجیدہ نہیں لیا۔ اب آ جائیں واپس الیکشنز نتائج کی طرف پچھلے تین انتخابات میں بتدریج ووٹ کم ہوتا گیا یعنی عوام زرداری صاحب کی قیادت ہوتے ہوئے ووٹ تو دور کی بات متوجہ ہونا بھی گوارا نہیں کرتی اور جو ووٹ نکلے ہیں وہ کم ہوتے ہوئے کارکن ہیں جن کے خون میں دل و دماغ میں بھٹو ازم ہے۔

ان کے لئے کوئی آپشن ہی نہیں وہ بھی اب کم ہو رہے ہیں۔ میں یہاں واضح کردوں کہ کچھ قومی اسمبلی کے حلقوں میں تگڑے مقابلے ہوئے اور کچھ ووٹ بڑھے ہیں یہ کچھ لوگ 2018 کے بعد پارٹی میں نئے آئے تھے جن میں ندیم افضل چن، امتیاز صفدر وڑائچ بہادر سہڑ دوست کھوسہ ذوالفقار دلہ وغیرہ جن کی وجہ سے قومی اسمبلی کے چند حلقوں کے کل ووٹوں کی تعداد کچھ زیادہ ہے۔

میں یہاں سندھ اور باقی پاکستان کو ایک طرف رکھ کر دیکھتا ہوں، سندھ پر الگ سے بحث ہو سکتی ہے۔ آصف زرداری صاحب کی عوامی پذیرائی پر بات ہو چکی ہے۔ ماضی میں سندھ حکومت بی بی شہید کے ہوتے ہوئے دو بار پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے جا چکی ہے۔ لہذا یہ کہنا تو ممکن نہیں کہ زرداری صاحب بینظیر بھٹو سے زیادہ مقبول ہیں اس لئے سندھ حکومت بچی ہوئی ہے، اس کی کئی دوسری وجوہات ہیں۔ جو اور بھی زرداری صاحب کی غیر عوامی انداز سیاست پر سوالیہ نشان ہیں۔

ان میں صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنانا اور بلوچستان حکومت گرانے والوں کا ساتھ دے کر 2018 کے انتخابات میں دھوکہ کھانا وغیرہ شامل ہیں۔ بادی النظر میں یہ اسٹیبلشمنٹ سے سندھ کی حکومت پر بلیک میل ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آج بھی دھاندلی کے نام پر سندھ میں احتجاج ان کو دباؤ میں رکھنے کی ایک سعی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بینظیر بھٹو نے عوامی سیاست پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے سندھ حکومت کی قربانی دینے کو ترجیح دی کیونکہ ان کو اپنی عوامی مقبولیت پر بھروسا تھا، مگر زرداری صاحب کے پاس وہ عوامی ساتھ شامل حال نہیں اس لئے وہ کسی بھی قیمت پر سندھ حکومت کو کھونا نہیں چاہتے کیونکہ غیر مقبولیت کے اس عالم میں اگر سندھ حکومت نہ بچی تو عوامی طاقت پر دوبارہ اس کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا بالکل ایسے ہی جس طرح باقی صوبوں میں کئی دہائیوں سے اقتدار نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی میراث آخری سانسیں لے رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے پاس ایک ہی امید باقی ہے۔ جس طرح بھٹو شہید کے بعد اس کی بیٹی ٹرمپ کارڈ ثابت ہوئی اسی طرح بینظیر کی بیٹی یا بیٹا وہ ٹرمپ کارڈ ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔ سیاسی میراث اور پارٹی بہت پہلے ان ٹرمپ کارڈز کے حوالے ہو جانی چاہیے تھی۔ اب بی بی شہید کے بعد تیسرا انتخاب گزر چکا ہے۔ زرداری صاحب نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ پارٹی کی کمان ان ٹرمپ کارڈز کو منتقل کرنے کو تیار نہیں۔

پارٹی کے اندر ان کو یہ بات کہنے کی کسی میں ہمت نہیں۔ مثلاً پنجاب کے قائدین اگر یہ بھی کہہ دیں کہ انتخابات میں ہمارے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں تو وہ تضحیک آمیز لہجے میں کہہ دیتے ہیں ہیں کہ ندیم افضل چن کو ککھ پتہ نہیں۔ انتخابات میں نون لیگ کی ایماء پر کی گئی زیادتیوں کے خلاف چوہدری منظور جیسے قائدین آج بھی احتجاج کرتے نظر آرہے ہیں مگر زرداری صاحب کی ساری توجہ اسی نون لیگ سے مذاکرات پر مرکوز ہے اور انتخابی دھاندلیاں مذاکرات کے ایجنڈے پر نہیں۔ بہرحال اب زرداری صاحب اپنے لئے صدارت لے چکے ہیں ان کو پیشگی مبارکباد، مگر یہ صدارت اگلے پانچ سال کے لئے مہر ثبت ہو چکی ہے کہ پارٹی کی کمان زرداری صاحب کے پاس ہی رہے گی اور عوامی مزاج کے مطابق پارٹی بلاول یا آصفہ جیسے ٹرمپ کارڈز کو منتقل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

Facebook Comments HS