مغرب کے فری کنٹری میں جنسی آزادی کا مغالطہ
ہیتھرو ائرپورٹ پر اترتے ہوئے اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس کے خوابوں کی دنیا بہت زیادہ تلخ ہونے والی ہے۔ تین چار دن تو اس نے اپنے ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے میں گزار دیے۔ اس کے بعد اس نے سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال شروع کیا تو کچھ دن کے بعد ہی زاہد کو کئی ایک پروفائل نے اپروچ کیا۔ وہ اس جگہ کے رہائشیوں کے استعمال کے حوالے سے کافی مشہور سائٹ تھی جہاں پر وہ سرچنگ کر رہا تھا۔ اسی دوران اس کی وہیں پر ایک لڑکی سے ہیلو ہائے ہوئی۔
ریچا نام کی یہ لڑکی اس کے ساتھ روز باتیں کرنے لگی۔ باتوں باتوں میں ریچا نے اپنے اپ کو 13 سال کا بتایا۔ یہاں پر اصولی طور پر زاہد کو اس لڑکی کو نظر انداز کر دینا چاہیے تھا لیکن زاہد گوری کے چکر میں اس کے ساتھ چیٹ کرتا رہا کہ کم عمر ہے تو کیا ہوا، یہ تو آزاد ملک ہے یہاں تو سب چلتا ہے۔ اس نے تو یہی دیکھا اور سنا تھا کہ گورا تو ضرورت اور خواہش دیکھتا ہے۔ عمر اور رنگ و روپ سے اسے کوئی غرض نہیں۔ اگر ضرورت مند ہیں اور ادائیگی کر سکتے ہیں تو آپ کے لیے عمر کوئی معنی نہیں رکھتی۔
اس لڑکی نے اسے باتوں میں چونکہ اپنی عمر بھی بتا دی تھی اس کے باوجود زاہد پیچھے نہیں ہٹا تو لڑکی نے اس کو ملاقات کے لیے اکسانا شروع کر دیا۔ ان دونوں کی ملاقات قریبی کیفے کے اندر ہونا طے پائی زاہد نے خوشی خوشی ہاں کر دی لیکن جب وہ اس لڑکی سے ملنے کے لیے متعلقہ جگہ پر پہنچا تو ایک دم کئی لوگوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر کر سوال جواب کرنے شروع کر دیے۔ زاہد کو اس وقت کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے، ساتھ ساتھ اس کی ویڈیو بھی بنائی جا رہی تھی۔
پھر کچھ دیر کے بعد جب اسے حوالہ پولیس کیا گیا تب اس پر انکشاف ہوا کہ اسے پیڈوفیلیا منٹیلٹی کے تحت اریسٹ کر لیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد اسے بتایا گیا کہ یہ ایسے گروپس ہوتے ہیں جو برطانیہ کے اندر آنے والے لوگوں کے رجحانات کا ٹیسٹ لینے کے لیے اس قسم کی ڈیٹنگ ایپس اور سوشل میڈیا ایپس کا سہارا لیتے ہیں۔ زاہد اب پھنس چکا تھا، جس کا انجام برطانیہ سے بے دخلی بھی تھا اور ہمیشہ کے لیے بین بھی۔ جانے انجانے میں ہونے والی اپنے اس غلطی پر وہ شدید شرمندہ تھا اس نے معافی مانگنے کی بھرپور کوشش کی کہ اسے معاف کر دیا جائے اس کا رجحان نہیں تھا لیکن پولیس اور ان گروپس کا ایک ہی موقف تھا کہ جب لڑکی نے اپنی عمر بتا دی تھی تو اسے شٹ اپ کال دینے کی بجائے اس نے اس کے ساتھ ناصرف چیٹ کی بلکہ اس سے اس کی تصاویر بھی منگوائیں اور پھر اس کے ساتھ ڈیٹنگ کے لیے تیار بھی ہو گیا۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ اسے عمر سے قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا اور اس کا برطانیہ میں مزید قیام برطانوی بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کو عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے سب کچھ سننے کے بعد حالانکہ عدالت کو پتہ تھا کہ مد مقابل ایک فرضی کردار ہے اور 13 سالہ بچی کا کوئی وجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود عدالت نے اسے برطانیہ چھوڑنے کا حکم دیا کیونکہ وہ اپنے رجحانات کے ٹیسٹ میں فیل ہو چکا تھا۔ یہاں کچھ نکات کا سمجھنا نہایت ضروری ہے جیسے ان ”آزاد ریاستوں“ میں اگرچہ رضامندی کی عمر 16 سال ہے، قانون میں 16 اور 17 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے کچھ اضافی تحفظات ہیں۔
مثال کے طور پر کچھ کام غیر قانونی قرار دیے گئے ہیں جیسے کہ • 18 سال یا اس سے کم عمر کے کسی شخص کی تصویر یا ویڈیو لیں جو جنسی سرگرمی میں ملوث ہو۔ • 18 سال سے کم عمر کے کسی فرد سے جنسی خدمات کے لیے ادائیگی کریں۔ • 18 سال سے کم عمر کے کسی شخص کے ساتھ جنسی سرگرمی میں حصہ لیں اگر آپ اس کا اعتماد حاصل کر چکے ہیں جیسے کہ آپ کوئی ان کے استاد، سماجی کارکن، ڈاکٹر یا نگہداشت کارکن ہیں۔ • 18 سال سے کم عمر کے کسی فرد کے ساتھ جنسی سرگرمی میں حصہ لیں اگر وہ آپ کے خاندان کا فرد ہے۔
اب بات کرتے ہیں اصل مدعے کی تو برطانیہ میں کچھ عرصے سے کچھ ایسے گروپ سامنے آئے ہیں جنہیں آپ اپنی آسانی کے لیے Paedophile Hunters کہہ سکتے ہیں۔ یا پھر انہیں آن لائن چائلڈ ابیوز ایکٹیوسٹ گروپ (OCAG) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جو آن لائن بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث مبینہ پیڈو فائلز یا اس طرح کے بدسلوکی کے لیے بچوں سے ملنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ او سی اے جی آن لائن چائلڈ ابیوز ایکٹیوسٹ گروپ کا مخفف ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق فروری 2024 میں آن لائن کام کرنے والے خفیہ پولیس کے قومی نیٹ ورک نے گزشتہ سال یعنی 2023 میں 1,600 سے زائد مشتبہ افراد کو بچوں سے جنسی زیادتی کرنے کے الزام میں پکڑا ہے جس کے بعد ایک رائے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ تفتیش کاروں اور پراسیکیوٹرز کو او سی اے جی کے ممبران کو چارج کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے جنہوں نے جرم کو ہوا دی یا یوں کہہ لیں کہ انہوں نے لوگوں کو اشتعال دلایا اور یہ راہ دکھائی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی حقیقی مجرم ان میں بھی شامل ہو اور ساتھ ہی اس سوال نے بھی سر اٹھایا کہ اگر انہوں نے فیک کردار کی بجائے حقیقت میں ہی بچوں کا استحصال کرنا شروع کر دیا تو کیا ہو گا؟
او سی اے جی کے ممبرز کے حوالے سے یہ موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ ممبر پر مجرمانہ الزامات عائد نہ کرنے کی دلیل کو کیس کے جائزے کے حصے کے طور پر مکمل طور پر ریکارڈ کیا جانا چاہیے۔ استغاثہ کو یاد دلایا جاتا ہے کہ کسی شخص کو مکمل طور پر ارتکاب کرنے کی کوشش کا مجرم قرار دیا جا سکتا ہے حالانکہ حقائق کے مطابق یہ ناممکن ہے۔ واضح رہے کہ یہ صرف پرائیویٹ گروپ نہیں ہوتے بلکہ پولیس لوگوں کو کھوجنے اور ان کے رجحانات کو پرکھنے کے لیے خود بھی ایسی کارروائیوں کا اہتمام کرتی ہے۔
وہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور ڈیٹنگ ایپس کا استعمال کرتے ہیں اور او سی اے جی گروپس آن لائن بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث یا بچوں سے ملنے میں دلچسپی رکھنے والے مبینہ پیڈو فائلوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ جبکہ پولیس کے ذریعہ استعمال کی جانے والی تکنیک او سی اے جی سے مختلف ہے۔ بعض اوقات وہ کمیشن آف اینس کو شامل کر سکتے ہیں۔ کچھ مواقع پر، او سی اے جی کی طرف سے فراہم کردہ شواہد کو لے کر پراسیکیوشن او سی اے جی گروپس کے اراکین کو چارج کرنے پر بھی غور کرتا ہے اور Rv Privett کیس اس ضمن میں استغاثہ کو رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔
استغاثہ کو یاد دلایا جاتا ہے کہ کسی شخص کو مکمل طور پر جرم کے ارتکاب کرنے کی کوشش کا مجرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ حقائق کے مطابق یہ ناممکن ہے
Rv Shipuri [ 1987 ] A۔ C۔ 1۔ Rv Jones [ 2007 ] EWCA Crim 1118
بھی دیکھیں جس میں اس بات کی تصدیق کی کہ کسی شناخت کے لیے قابل شناخت بچے کے ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر او سی اے جی ممبران بچوں کو یا تو اپنے یا دوسروں کو اپنی سرگرمی کے حصے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تو پراسیکیوٹرز کو او سی اے جی اراکین کے خلاف ممکنہ مجرمانہ کارروائیوں پر غور کرنا چاہیے تاکہ بچوں کی شمولیت کا جواز سمجھا جا سکے۔
ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق ”او سی اے جی گروپس کے شواہد جنہیں ‘پیڈو فائل ہنٹرز، اینٹی گرومنگ گروپ، آن لائن چائلڈ ابیوز ایکٹیوسٹ گروپ (او سی اے اے جی)’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پیڈو فائل شکاریوں کو سال 2018 میں انگلینڈ اور ویلز میں کم از کم 150 مواقع پر مشتبہ افراد کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔“ ایک اور خبر میں بتایا گیا کہ ویسٹ مڈلینڈز کے بچوں کے جنسی استحصال کی انکوائری میں 5 اپریل 2023 کو اکیس افراد کو سزا سنائی گئی۔
بچوں کے جنسی استحصال کے ایک مشہور اپیل کیس میں، عدالت نے فیصلہ دیا کہ پیڈو فائل شکاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ اس معاملے میں اپیل مارک سدرلینڈ، ایک پیڈو فائل نے دعوی کیا کہ اسٹنگ آپریشن نے نجی زندگی کے احترام کے حق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ تب عدالت نے واضح موقف اختیار کیا کہ بچوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے اگر کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا پڑے تو ایسا کرنا غلط نہیں ہے اور ریاست کو ایسا کرنے کی اجازت ہے۔
جب ہم لفظ چائلڈ گرومنگ کے ساتھ آتے ہیں تو ہم صرف پاکستانی یا ایشیائی کمیونٹی کا ذکر کرتے ہیں یا اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ لیکن بہت سی صورتوں میں، یہ غلط ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ دسمبر 2020 میں گارڈین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، مطالعہ چائلڈ سیکسول کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے زیادہ تر گروہ سفید فام مردوں پر مشتمل ہوتے ہیں، ہوم او سی ای رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا۔ اخبار نے اپنی سٹوری میں لکھا کہ اس مطالعہ کی بنیاد پر کئی مغالطے رد ہو گئے اور انگلینڈ، سینٹ اسکاٹ لینڈ اور ویلز نے ایشیائی گرومنگ گینگز کے افسانوں کو دور کر دیا جو کہ بہت مشہور ہے۔
مارک سدرلینڈ کے مشہور کیس کو برطانیہ کی سپریم کارٹ نے مسترد کر دیا، عدالت نے فیصلہ دیا کہ بچوں کے مفاد کو کسی بھی دلچسپی پر ترجیح دی جاتی ہے۔ لارڈ سیلز نے کہا کہ ریاست کی ایک خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو بالغوں کے جنسی استحصال سے بچائے۔ جنسی آفنسز ایکٹ 2003 کہتا ہے کہ کوئی شخص جنسی سرگرمی کے لیے رضامندی دیتا ہے اگر وہ پسند سے متفق ہوں اور دونوں ہوں۔ یہ انتخاب کرنے کی آزادی اور حق ہے۔ دوسری جانب اس حوالے سے اگر ہم پاکستانی نوجوانوں کی بات کریں تو ہمارے ہاں نوجوانوں کو باہر جانے کا تو شوق ہوتا ہے مگر متعلقہ ممالک کے حوالے سے ان کی معلومات صرف اور صرف فلموں کی حد تک محدود ہوتی ہیں، جن کا بنیادی طور پر حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
وہ جو فلموں میں دیکھتے ہیں اسی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جبکہ اگر آپ کسی دوسرے ملک میں تعلیم حاصل کرنے، ملازمت کرنے یا بزنس کرنے یا پھر مستقل سکونت اختیار کرنے کی غرض سے بھی جا رہے ہیں تو کم از کم اس ملک کے حوالے سے اہم معلومات آپ کو ہونی چاہیے۔ وہاں کا کلچر، رہن سہن، اہم مقامات اور خاص طور پر قوانین کے بارے میں جانکاری لازمی حاصل کرنی چاہیے تاکہ آپ جانے انجانے میں کسی قسم کے مسائل کا شکار نہ ہو جائیں۔
بے شک اب وہاں یہ فلسفہ بھی پروان چڑھ رہا ہے کہ صرف ایشیائی افراد سے اس رجحان کو جوڑنا غلط ہے اور سفید فارم بھی اس حوالے سے مشکوک ہوتے ہیں تو عدالت اب ایشیائی افراد کے کیس کو سنتے ہوئے احتیاط برت رہی ہے کہ یہ کہیں عصبیت کی بنیاد پر کی گئی کارروائی نہ ہو۔ تاہم میں یہاں پر ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں جسے آپ ایک وکیل کا مشورہ سمجھ لیں کہ ہمارے لوگوں کو پاکستان سے باہر اپنی ذات، کام اور ملک کے وقار کے حوالے سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ“ آزاد ریاست ”کیا ہوتی ہے اور“ رضا مندی ”کے اصل مفاہیم اور رویہ کیا ہوتے ہیں اور کیا آپ اس کا انتخاب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس انتخاب سے متفق بھی ہیں۔


