عربی رسم الخط والا عبایہ اور مشتعل ہجوم

جب سے لاہور کی اچھرہ مارکیٹ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے تب سے میرے مائنڈ میں ایک ہی چیز چل رہی ہے کہ کیا یہ بھی لاقانونیت کے پچھلے کئی دلسوز واقعات ہی کی طرح وکٹم بلیمنگ کی نذر ہو کر میری مادر گیتی کے ماتھے پر کلنک کا ایک مزید ٹیکا ثابت ہو گا۔ ایمن امرتسری نے نہ جانے کس پس منظر میں یہ شعر کہا ہو گا کہ
رنج و راحت ایک سے ہیں مجھ کو مثل خار و گل
مادر گیتی نے پالا ان کو اک آغوش میں
مگر میں اتنی آزردہ ہوں کہ مجھے رنج و راحت صحیح معنوں میں ایک سے لگ رہے ہیں۔ آج اسی سلسلے میں ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ سر سید کو مسلمانوں کے انگریزی نہ آنے پر تشویش تھی مگر اس سے بڑی یہ تشویش ہے کہ ہمیں تو عربی بھی نہیں آتی اور میں اس سے تھوڑا آگے سوچوں تو ہمیں تو تمیز کرنا بھی نہیں آتی کہ غلط کیا ہے اور درست کیا ہے۔ بس ہم مثل ہجوم چلتے ہیں، مثل ہجوم ہی سوچتے ہیں اور مثل ہجوم ہی اپنا ردعمل دیتے ہیں۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا جن معاشروں میں قانون کی عملداری نہ ہو وہاں کیا ہوتا ہے۔ آئیے میں آپ کو اس پہ ایک واقعہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔
شہر بغداد میں ایک شیخ اور اس کا مرید ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ ایک بار انھوں نے کسی دوسرے ملک کی طرف سفر کیا۔ راستے میں ایک شہر آیا اور انھوں نے سفر کی تھکن اتارنے کے لیے ایک رات کے پڑاؤ کا فیصلہ کیا۔ شدید بھوک ستا رہی تھی۔ مگر دونوں یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں کھانے پینے کی اشیا سمیت ہر شے ایک درہم فی سیر یا فی عدد کے حساب سے بک رہی ہے۔ اس قدر سستائی دیکھ کر مرید کی رال ٹپکنے لگی اور شیخ سے عرض کی کہ حضور اس شہر میں اپنے قیام کی مدت بڑھا لیجیے تاکہ ہم کچھ دن یہاں کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
شیخ نے مرید کو خبردار کیا کہ یہاں ہر شے ایک بی بھاؤ پر بک رہی ہے لہذا دال میں کچھ کالا ہے۔ یہاں کے لوگ یقیناً عجیب ہیں۔ ہم زیادہ دن یہاں نہیں ٹھہر سکتے۔ بہتر ہو گا کہ صبح فجر پڑھتے ہی یہ شہر چھوڑ دیں۔ مگر موٹی عقل والا مرید بھلا رمز کہاں سمجھ سکتا تھا۔ اصرار کرنے لگا کہ یا شیخ یہاں کوئی خطرہ نہیں۔ قصہ مختصر مرید نے شیخ سے چند دن اور قیام کرنے کی بات منوا بھی لی۔ چند روز بعد صبح بی صبح ڈھول کی آواز سے دونوں کی آنکھ کھل گئی۔
نقارچی اعلان کر رہا تھا کہ دربار میں آج سہ پہر کھلی کچہری لگے گی۔ شیخ اور مرید بھی عدل و انصاف کا ماجرا دیکھنے دربار میں پہنچ گئے۔ لوگ حاکم شہر کے روبرو اپنے اپنے مسائل اور شکایات رکھ رہے تھے اور حاکم ہر مسئلے اور شکایت پر فوری فیصلہ صادر کر رہا تھا۔ اسی اثنا میں ایک شخص لنگڑاتا ہوا ہجوم چیرتے ہوئے آگے بڑھا اور حاکم کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
حضور انصاف کی دہائی ہے۔ میں ایک غریب آدمی ہوں اور میرا گزر بسر چھوٹی موٹی چوریوں پر ہے۔ گزری شب میں نے ایک گھر پر جیسے ہی نقب لگائی اس کی دیوار کا ایک حصہ مجھ پر آن گرا اور میری ٹانگ زخمی ہو گئی۔ اب میں معذور ہو گیا ہوں اور چوری چکاری سے بھی گیا۔ آپ ذرا اس مکان کے مالک کو طلب کر کے پوچھیں کہ ایسی ناقص اور کمزور دیوار آخر کیوں بنوائی جو ایک نقب کا بوجھ تک برداشت نہ کر پائی۔ حاکم نے مالک مکان کو ہرکاروں کے ذریعے طلب کر لیا اور بہ انداز طیش پوچھا تم نے اپنے مکان کی دیوار اتنی ناقص کیوں بنوائی جس کے گرنے سے ہمارا ایک قیمتی ہنرمند شہری معذور ہو گیا۔
مالک مکان نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ میرے آقا مجھے تو تعمیرات کی الف ب بھی نہیں معلوم۔ دیوار تو معمار نے بنائی ہے۔ وہی بہتر بتا سکتا ہے کہ پورے پیسے لینے کے باوجود اتنی ناقص تعمیر کیوں اٹھائی۔ حاکم نے فوراً معمار کو بلا بھیجا اور وہ دوڑتا چلا آیا۔ کیوں بے یہ جو تو معمار بنا پھرتا ہے آخر کو اتنی کمزور دیوار کیوں اٹھائی کہ ہمارے ایک باصلاحیت چور کی نقب کا بوجھ تک برداشت نہ کر پائی اور گر گئی اور ایک شریف انسان کی ٹانگ توڑ دی۔
معمار نے دست بستہ کہا حضور جس روز میں وہ دیوار بنا رہا تھا، اس روز میری مزدور سے کچھ تو تو میں میں ہو گئی چنانچہ اس نے غصے میں آ کر ناقص گارا بنا ڈالا۔ لہذا قصور وار میں نہیں وہ مزدور ہے۔ مزدور کی طلبی ہوئی تو اس سے صاحب اقتدار نے پوچھا ”او ناہنجار تو نے ایک تو گارا ناقص بنایا اور پھر معمار سے بھی یہ بات چھپائی۔ مزدور نے لجلجاتے ہوئے کہا کہ قبلہ عالم جس وقت میں گارے میں پانی ڈال رہا تھا تو آپ کے دیوان صاحب اپنے مست ہاتھی پر سوار گزر رہے تھے۔ میں خوفزدہ ہو گیا کہ کہیں بدمست ہاتھی کے پیروں تلے کچلا نہ جاؤں لہذا عالم بدحواسی میں گارے میں سارا پانی الٹ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ آپ کو دیوان صاحب سے پوچھنا چاہیے کہ وہ ایک مست ہاتھی پر سوار اس روز بابر نکلے ہی کیوں؟
حاکم نے دیوان سے پوچھا کیوں جناب آپ نے اس دن سواری سے پہلے جانچ کیوں نہیں کی کہ ہاتھی اس قابل نہیں ہے کہ اسے باہر نکالا جائے۔ دیوان نے کہا جناب میرا ہاتھی مست نہیں تھا لیکن ایک عورت اچانک زیورات سے لدی پھندی ہاتھی کے سامنے آ گئی۔ زیورات کی جھنکار سے ہاتھی بدک کے بے قابو ہو گیا۔ قصور ہاتھی کا نہیں اس عورت کا ہے جس نے بجنے والے زیورات پہن رکھے تھے۔ حاکم نے عورت کو کھلی کچہری میں فوری حاضری کا سمن بھیج دیا۔ عورت ہانپتی کانپتی پہنچی تو حاکم نے پوچھا نیک بخت تو بجنے والے زیورات پہن کر بازار میں کیوں آتی ہے آرام سے گھر پہ کیوں نہیں بیٹھتی۔ دیکھ تیرے زیور کی جھنکار سے کتنا نقصان ہوا۔ عورت نے بڑے ادب سے کہا سرکار زیور میں نے نہیں بلکہ میرے شوہر نے خریدے۔
بہتر ہو گا کہ آپ انھی سے پوچھیں۔ چنانچہ عورت کو حکم دیا گیا کہ وہ گھر جائے اور اپنے شوہر کو بھیجے۔ شوہر آیا تو حاکم نے پوچھا کیا اپنی بیوی کو جھنکار پیدا کرنے والے زیور خرید کے دینا ضروری تھا؟ شوہر نے کہا حضور آپ اس سنار کو کیوں نہیں پکڑتے جو جھنکار پیدا کرنے والے زیورات بناتا ہے۔ اگر وہ نہ بنائے تو کوئی کیوں خریدیے؟ حاکم نے سنار کو طلب کر کے پوچھا کہ تو ایسے زیور کیوں بناتا ہے جسے پہن کر جھنکار پیدا ہو اور اس جھنکار سے کوئی ہاتھی بدک جائے اور ہاتھی کے بدکنے سے کسی مزدور کا گارا خراب ہو جائے اور پھر اس گارے سے ایک معمار جو دیوار بنائے وہ اتنی ناقص ہو کہ ایک نقب لگانے پر ہی گر پڑے اور کسی ایسے غریب شہری کی ٹانگ توڑ دے کہ جس کا گزارہ ہی چوری چکاری پر ہو۔ واللہ ہم یہ ظلم برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کی تمہیں کڑی سزا ملے گی۔
سنار نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضور کے قربان جاؤں جان کی امان پاؤں تو بتاؤں کہ اگر زیور نہ بناؤں تو کنبے کو کیسے پالوں۔ حاکم بھی ایک کے بعد ایک شہادت سن سن کے اکتا چکا تھا لہذا اس نے سنار سے کہا کہ اصل قصور وار تم بی ہو تم سنار کا پیشہ اپنانے کے بجائے کچھ اور بھی کر سکتے تھے۔ سو ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دیوار گرنے کا سبب تمہاری زرگری ہے اس لیے تمہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔
حاکم کے محافظوں نے سنار کو پکڑا اور جلاد کے حوالے کر دیا۔ جلاد نے ترنت سنار کی گردن میں پھندا ڈالا۔ مگر گردن اتنی پتلی تھی کہ پھندا پوری طرح کسا نہ جا سکا، جلاد نے محافظوں سے شکایت کی محافظوں نے حاکم تک شکایت پہنچائی۔ حاکم نے کہا یہ کون سا مشکل مسئلہ ہے۔ پتلی گردن والے سنار کو چھوڑ کے کسی موٹی گردن والے کو پکڑ کے قانونی تقاضے پورے کرو بم بچشم خود انصاف ہوتا دیکھیں گے۔
محافظوں نے پھانسی گھاٹ کے گرد جمع ہجوم میں کسی موٹی گردن والے کی تلاش شروع کردی اچانک ان کی نظر پردیسی شیخ کے مرید پر پڑی جو چند ہی دنوں میں اس سستے شہر کی اشیا کھا کھا کے خوب موٹا ہو گیا تھا۔ اسے پکڑ کے حاکم کے سامنے لایا گیا۔ حاکم نے کہا اس کی گردن مناسب لگتی ہے۔ محافظوں نے مرید کو جلاد کے سپرد کر دیا اور جلاد کا پھندا اس کی گردن میں پورا آ گیا۔
تو معزز قارئین جہاں اندھیر نگری ہو اور سیاہ و سفید سب ایک ہی جیسا ہو وہاں نا انصافی اور ظلم وبا کی طرح پھیلتے پھیلتے آپ تک پہنچنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ظلم تماشا نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی لاعلمی کوئی دلیل۔ رب کریم ہم پر اور ہمارے وطن پر اپنا رحم فرمائے۔

