گوادر کی گلیوں میں بہتا سمندر


آپ پاکستان کے کسی بھی کونے میں جائیں اگر گوادر کا پوچھیں تو ہر کسی کو پتہ ہو گا۔ یہ سن کر تعجب ہوگا کہ جن لوگوں کو بلوچستان کا پتہ نہ ہو پھر بھی انہوں نے گوادر کا نام سنا ہو گا۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ صرف یہ ہے کہ سی پیک کے نام پر گوادر کو اتنا اچھالا گیا کہ ہر کوئی سمجھتا ہے، گوادر اب سنگاپور اور دبئی کے شہروں کی طرح ایک ماڈرن شہر بن چکا ہے۔ ترقی اور خوشحالی کے اس ڈھونگ سے فائدہ ہوا ہے تو صرف مقتدرہ طبقہ اور چند سرمایہ دار خاندانوں کو۔ مشرف کے دور میں پاکستان میں سب سے بڑا غبن گوادر کے نام پر ہوا تھا۔

سی پیک کے منصوبوں کا آغاز ہوتے ہی سرمایہ داروں اور لٹیروں کے گروہوں نے گوادر کے نام پر جتنا ملکی خزانے کو لوٹا اتنا چائنا کو اصل صورتحال سے بے خبر رکھا۔

اس پورے پروپیگنڈے اور سرمایہ داری کے دوڑ میں جتنا فائدہ سرمایہ داروں اور مقتدرہ کلاس کو ہوا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان یہاں کی عام آبادی کو ہوا۔

سرکاری سکیموں کے نام پر تو کہیں پورٹ اور ترقی کے نام مقامی آبادی کو سٹی سے باہر دھکیلنے کی بارہا کوششیں کی گئی ہیں۔ پھر بھی جو لوگ اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنے پر راضی نہ ہوئے تو ان کو خدا کے سہارے پر چھوڑ دیا گیا۔ گوادر کے بیشتر مقامی باشندے جو صدیوں سے یہیں آباد ہیں، پرانے گوادر میں رہتے ہیں۔ وہاں نہ سڑکیں ہیں، نہ نکاسی آب کا کوئی نظام ہے اور نہ ایمرجنسی کی صورت میں کسی سمندری طوفان کی صورت میں آبادی کو محفوظ رکھنے کا کوئی طریقہ موجود ہے۔

گزشتہ دنوں سے یہاں بارشوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے پورا شہر پانی میں ڈوب چکا ہے۔ گھر اور دیوار گر چکے ہیں، اوپر کھلا آسمان اور نیچے پانی، درمیان میں گوادر کے بے سہارا باسی۔ ایسا لگتا ہے جیسے سمندر نے اپنا رخ موڈ لیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ وہ بھی گوادر کی گلیوں کا چکر لگائے اور دیکھے کہ یہاں ترقی کے نام پر جتنا پیسہ خرچ ہوا ہے وہ ترقی اصل میں ہے کہاں۔

دو دن کی طوفانی بارشوں سے جب مقامی آبادی کو بچانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے تو سوچیں ایک ہفتہ اگر یہ سلسلہ چلتا رہے تو شہر کہاں سمندر کہاں اس کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔

اب حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ کم از کم ان لوگوں کو بنیادی ریلیف دیں جو اپنی چھت اور فرش دونوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ اور ترقی کی طرف رواں دوں گوادر کے باسیوں کا بھی کچھ خیال رکھا جائے۔

Facebook Comments HS