بننا صادقین کا شاگرد اور کام کرنا میرا سری دیوی کے مقابل


جہاں تک میرے علوم مخفی پر دسترس کا حال تھا وہ ایک طرف میں زندگی بھر ڈرائنگ میں نکما رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسکول میں ٹیچرز کے لئے مشکل ہوتی تھی کہ ہر مضمون میں سو 100 لانے والا کلاس مانیٹر اور ان کا چہیتا طالب علم ڈرائنگ میں فیل ہوتا تھا۔ لیکن وہ چپ چاپ مجھے تیس چالیس دے کر مجبوراً پاس کر دیتے۔

چند سال پہلے، میں ٹی وی اسٹیشن پر امروہہ سے تعلق رکھنے والے عظیم مصور صادقین سے ملا۔ شاید نیلام گھر کے پروڈیوسر کا دفتر تھا۔ میرا ”سید صادقین احمد نقوی“ سے سید والا ٹانکا اور امروہہ کا ڈاکخانہ بہ آسانی فٹ ہو گیا۔ میں نے حضرت رئیس امروہوی اور ان کے چھوٹے بھائی جان ایلیا، کا حوالہ بھی دے دیا۔ میں نے صادقین سے مصوری میں برش پکڑ کر کچھ بنیادی باتیں سکھانے کی فرمائش کی۔ لگی لپٹی رکھے بغیر کہنے لگے، اگر تمہیں ڈرائنگ نہیں آتی تو مصوری بھی نہیں آئے گی۔ مصوری، خطاطی یا خطاطی تمہارے بس کی بات نہیں۔ بہرحال، ”کل سے آجانا“ ۔ یوں میں ان کے آستانے پر پہنچ گیا۔ اور صادقین کے صبر کو آزمانے لگا۔

حال یہ تھا کہ انگور بناتا تو فٹ بال بن جاتی تھی وہ بھی چوکور۔ کہنے لگے یہ کیا ہے میں نے کہا فٹ بال ہے بس ہوا نکلی ہوئی ہے۔ صادقین کی بچوں جیسی معصوم کھلکھلاہٹ اور ہنسی دیکھنے والی تھی۔ کچھ دن بعد ان کا مرفی ریڈیو خراب ہوا تو میں نے جگاڑ لگا کر بلا تردد آدھے گھنٹے میں ٹھیک کر دیا۔ پہلی بار پوچھا۔ تم آخر ہو کون۔ میں نے کہا این ای ڈی میں الیکٹریکل انجینئر۔ پوچھنے لگے یہاں کیوں وقت کھوٹا کر رہے ہو میں نے کہا اگر ڈرائنگ اچھی ہوتی تو ڈاکٹر بن جاتا اور انسانیت کی خدمت کرتا اور صرف ڈرائنگ کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔

کچھ دن اور گزرے۔ تو ایک دن جب استاد کا موڈ ویسے ہی خراب تھا۔ میرے بے ڈھنگی لکیروں کو دیکھ، سر پیٹتے، کہنے لگے، ”انجینئر، سچ بتاؤ کیوں مصوری سیکھنا چاہتے ہو؟“ ، میرے منہ سے بے اختیار نکلا: یہ جو آپ کے ارد گرد اپسرائیں تصویر بنوانے بیٹھی ہوتی ہیں میں بھی ان کا راجہ اندر بننا چاہتا ہوں۔ ویسے بھی آپ کا ہی شعر ہے کہ ”سیکھتے ہیں مصوری مہ رخوں کے لئے“ ۔ اتنا ہنسے کہ سانس اکھڑ گئی۔ کہنے لگے بھول جاؤ۔ ناممکن ہے۔

مجھے استاد کی بات خاصی بری لگی۔ بہرحال کچھ دیر بعد ان کے مہمانوں کے لئے چائے کافی بنا کر لایا تو ایک دوشیزہ اسٹول پر مونا لیزا بنی بیٹھی تھی۔ اور باقی باہر اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔ یاد رہے میں اس وقت بھی این ای ڈی میں انجینئرنگ کا طالب علم تھا۔ مختلف کلاسوں اور مضامین کے طلبا کو پڑھاتا تھا۔ ساتھ ریڈیو، ٹی وی، اخبار پر بھی میرا نام کسی نہ کسی بہانے آ جاتا تھا۔ سو، اس دن جب استاد نے اپنی ٹیڑھی انگلیوں سے لڑکی کا خاکہ بنانا شروع کیا۔

میں نے استاد صادقین کو غلط ثابت کرنے کے لئے باقی اپسراؤں کی توجہ اپنی طرف کرنے کی کوشش کی۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ صادقین کا کوئی سچا شاگرد ہوتا تو وہ بھی مصوری شروع کر دیتا، لیکن لکھنوی کرتہ پاجامہ پہنے، مجھے وہ لڑکیاں صادقین کا ملازم سمجھ رہی تھیں۔ جو اگر سچ بھی ہوتا تو اعزاز ہوتا۔ بہرکیف ان برگر لڑکیوں کی بدتمیزی پر میں نے ان کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔

سب سے پہلے تو میں نے ہلکی آواز میں مائیکل جیکسن کا گانا گنگنانا شروع کیا۔ گنگنانے کا فائدہ ہی یہ ہوتا ہے کہ تان سین کے الاپ بھی سکون سے ہم جیسوں کے نرخروں سے بہ آسانی ادا ہو جاتے ہیں۔ میری شاندار گلوکاری پر ان کے کان کھڑے ہونا یقینی تھا۔ پھر میں نے ٹریک بدل کر بیٹل کے ایک مشہور گانے کو چھیڑا اور کچھ دیر بعد مجھ میں ایلوس پریسلے کی روح آ چکی تھی۔ انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ کوئی مشہور فنکار ہے جس سے وہ ناواقف ہیں اور اس کے ساتھ بدتمیزی کرچکی تھیں۔

ان میں سے ایک نے ڈرتے ڈرتے مجھ سے بات شروع کی تو میں نے جان بوجھ کر اردو بولنے سے گریز کیا۔ وہ کچھ اور متاثر ہو گئیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرا لکھنو سے تعلق ہے (میرے والد، والدہ اور نانا سب لکھنو سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ امروہہ سے میرا تعلق تو صادقین کے لئے تھا)۔ اور فی الوقت، بمبئی سے دلیپ جی (یعنی دلیپ کمار) کا پیغام گورو صادقین کے لئے لایا ہوں۔ بالی ووڈ کے کسی شخص سے مل کر، جو دلیپ صاحب کے قریب تھا اور ان سے اتنی عاجزی سے بات کر رہا تھا۔ لڑکیاں بیہوش ہوتے ہوتے رہ گئیں۔

لڑکیوں کی نیم بیہوشی اس وقت شاک میں بدل گئی جب میں نے انہیں بتایا کہ میں نے جیتندر کی تازہ فلم تحفہ میں سری دیوی کے ساتھ ایکٹنگ کرنے کے علاوہ فلم میں معاون ہدایت کاری بھی کی تھی اور دلیپ صاحب کی آنے والی فلم کرما میں بھی ایک چھوٹا موٹا کردار کر رہا تھا۔ اسٹار ڈسٹ کی معرفت دھرمیندر، راجیش کھنہ اور دیو آنند کی باتیں ایک طرف، ان سب کا دل یہ جان کر تیزی سے دھڑکنے لگا کہ امیت جی (امیتابھ بچن) کی قلی میں ریلوے اسٹیشن پر مجھے بھی کئی بار بیٹھے دیکھا جا سکتا تھا۔ بلکہ ایک سین میں تو اللہ رکھا نے میرے ہاتھ سے ہی اڑان بھری تھی۔ میں جس دھڑلے سے چرب زبانی کر رہا تھا۔ اور جتنی عاجزی اور انکساری سے بات کر رہا تھا، وہ سب مجھ پر اتنی ہی واری فریفتہ ہو رہی تھیں۔

میں نے جامعہ کراچی میں فائن آرٹس پڑھنے والی اسی لڑکی کا نام جو مجھے اچھی بھی لگی، اس کی تاریخ پیدائش اور والدہ کا نام پوچھا۔ میرے اس لڑکی کے بارے میں کیے چند زبانی انکشافات سن کر بمشکل چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ وہ چاروں لڑکیاں اپنی آمد کے مقصد کو بھول کر میرے کندھوں، بازو، پیٹھ اور ہاتھوں سے خود کو مس کر کے مجھے راجہ اندر بنا چکی تھیں۔ اور بقول مداری، ”اس وقت کوئی پتھر بھی مارتا تو ٹھک ٹھک کی آواز آتی“ ۔ یوں کچھ ہی دیر بعد وہاں قرب سید کے حصول کے لئے زنانیوں کی عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ اور میں تمام علوم خفی، علوم کفریہ اور علوم حرامیہ کا سہارا لیتے ہوئے انہیں وہ سب کچھ بتا رہا تھا جو وہ سننا چاہتی تھیں۔

تھوڑی دیر بعد استاد صادقین، ”سوٹا مارنے یا کپی کی تلاش میں“ ، ادھر آئے تو مجھے دربار نہیں بلکہ اپنا حرم سجائے دیکھ، دم بخود رہ گئے۔ حال یہ تھا کسی لڑکی نے ان کی طرف چھچھلتی سی نظر بھی نہیں ڈالی۔ کچھ نہیں بولے، لیکن اس دن کے بعد سے مجھے مصوری سیکھنے کی ضرورت نہیں رہی، مجھ پر ایک نئی دنیا کا راستہ کھل چکا تھا۔ میں ایک ایسے فن کا ماہر تھا جو اپنی خوبیوں سے اب تک ناواقف تھا اور جسے جگانے میں بابا صادقین کا اکلوتا ہاتھ تھا۔ ضرورت تھی تو صرف خود اعتمادی اور چرب زبانی کی۔ بقول دانت کچکچاتے صادقین، ”بدمعاش انجینئر، تم نے پہلے ہی دن معرفت کی جو منازل طے کرلی ہیں مجھے اس تک پہنچے میں عرصہ لگ گیا تھا“ ۔

سرمہ سلیمانی اور سلاجیت بیچنے کے دوران میں نے مداری سے کچھ سادے کاغذ اور قلم کی فرمائش کی تو وہ ان بے تکی چیزوں کا نام سن کر میرا منہ تکنے لگا۔ میں نے اس کے کان میں کہا کہ تم سارا دن جھک مار کے دس پندرہ روپے کماتے ہو پچاس ساٹھ پیسے کی انوسٹمنٹ مزید کرلو۔ بے شک میرے حساب سے کاٹ لینا۔

اب میں نے اپنا چولا بدلا اور مداری کی پراڈکٹس بیچنے کے لئے مال کی اہمیت بڑھانے کے لئے رنگین شیشوں کی ویلیو ایڈڈ سروس کے ساتھ انہیں پکھراج، یاقوت اور نیلم گردانتے ہوئے ہیرے تک کی مارکیٹنگ شروع کردی۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ میں اس وقت تک پکھراج، زمرد اور نیلم میں فرق نہیں کر سکتا تھا۔ لوگوں میں ایک نیا تجسس پیدا ہو گیا۔ ساتھ مداری میری کہانیوں کو اپنے حافظے میں فٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس میں آدھے سے زیادہ انگریزی گفتگو اس کے سر سے گزر رہی تھی۔

کاغذ قلم سامنے آ چکا تھا کہ یکایک میں نے سامنے بور ہوتے ایک سن رسیدہ شخص سے پوچھا کہ انکل، آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے۔ اس نے نہ چاہتے ہوئے ایک تاریخ دے دی۔ جو سوئے اتفاق 14 اگست 1947 کے آس پاس تھی۔ 17 اگست۔

میں نے ایک ہنکارا بھرا اور اس کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی انگریزی میں جواب دیا کہ یعنی اتوار کے دن پیدا ہوئے۔ ”کیا آپ کا نام عیدو یا رمضانی تو نہیں“ ۔ نشانے پر بیٹھتا ایک ایسا شاندار تکا جو اس باعث مارا، کیونکہ قیام پاکستان رمضان کی آخری جمعرات کو ہوا تھا اور یوں 17 کو اتوار ہونی تھی۔ ہرجا کہ میں ان دنوں زبانی کسی بھی عیسوی تاریخ کا دن بتانے کے ساتھ ساتھ ہجری تاریخ بتانے پر بھی قادر تھا اور میں اس وقت اسی علم کو اپنے فائدے میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ اور بات کہ مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔ محمد رمضان صاحب مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے کیونکہ پلانٹڈ نہیں تھے اور دوسرے لوگ انہیں اس لئے دیکھ رہے تھے کہ اگر پلانٹڈ بھی تھے تو شاندار اداکار تھے۔

دوسری طرف مجھے مداری کی آنکھوں میں ایک شاندار چمک نظر آ رہی تھی جو اس بات کی غمازی تھی کہ جو شخص ساری دنیا کو ماموں بناتا ہے وہ پینٹ شرٹ پہنے بابو کی شاگردی میں آنے کے لئے اتاؤلا ہو رہا ہے۔ لوگوں ایک نفسیات یہ بھی ہے کہ ایک بات اگر عام سے کپڑے پہنے کوئی شخص کرے تو اس کا اثر اس سے مختلف ہوتا ہے، جو اچھے یا پینٹ شرٹ پہنے شخص کے منہ سے ادا ہوں اور مجھے مداری پر اس معاملے میں کئی گنا برتری حاصل تھی۔

سچ ہے پاپی پیٹ اور تیس پچاس پیسوں کے لئے میں کوئی بھی تماشا لگانے کے لئے تیار تھا۔ کیونکہ ریڈیو پاکستان آنے جانے میں ڈیڑھ دو گھنٹے لگتے۔ سو لوگوں کی بھیڑ دور جدید کے نئے انجینئر مداری کا تماشا دیکھنے کے لئے آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ میں نے شہزادی دنیا زاد اور شہرزاد کی طرح ”الف لیلی“ والی حکمت عملی اختیار کرنی ہے۔ جب سننے والا محو ہو جائے تو نیا کٹا کھول دو ( یعنی نئی کہانی) کہ لوگ خود پوچھیں، پچھلی کا کیا ہوا۔

اسی طرح میں نے اس بات کا جواب بھی سوچ لیا تھا کہ اس وقت اگر مجھے کوئی جاننے والا یا رشتہ دار وہاں مداری کی صورت دیکھ لے، تو میں نے کیا جواب دینا ہے۔ یوں انجینئر صاحب، اب بے خوف سانڈے کا تیل اور سلاجیت بیچنے کے لئے تیار تھے۔

پنگوں کی کتھا۔ پہلا پنگا : جب میں نے بھرے بازار سانڈے کا تیل بیچا

Facebook Comments HS