گلگت بلتستان کا انمول تاریخی و ثقافتی ورثہ
ملک کے ایک موقر اخبار کی خبر ہے کہ واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم کی زد میں آنے والے آثار قدیمہ، چٹانوں پر کی گئی نقش و نگاری اور کندہ کاری کو محفوظ کرنے کے لئے ایک پرائیویٹ کمینی کے ساتھ ساڑھے چار کروڑ روپے کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کمپنی آٹھ ماہ کے اندر ڈیم کی سائیٹ پر موجود کندہ کاری کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے دستاویزی اور تھری ڈی فلم کی شکل میں محفوظ کرے گی۔
دیامر ڈیم کی زد میں آنے والے نقوش اور کندہ کاری کے نمونوں کی کل تعداد دس ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے، جو پتھر کے زمانے سے بدھ مت کے زمانے تک کی تاریخی معلومات پر مبنی ہیں۔ یہ ایک بیش قیمت تاریخی خزانہ اور ثقافتی ورثہ ہے۔
مذکورہ معاہدہ کے تحت اس ورثے کو محفوظ کرنے کا اقدام اپنی جگہ مگر اس معاہدہ میں کیا کیا شرائط طے ہوئے ہیں ان کو ابھی تک منظر عام پر نہیں کیا گیا ہے۔ جس سے یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ اس انمول تاریخی ورثے کے کاپی رائٹس کس کے پاس ہوں گے ، واپڈا کے پاس، وفاق کے پاس یا گلگت بلتستان کے محکمہ آثار قدیمہ یا گلگت بلتستان کی حکومت کے پاس؟
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کا معاہدہ منظر عام پر لایا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس تاریخی ورثے کے کاپی رائٹ کس کو دیے جا رہے ہیں کیونکہ اس ورثے کے استعمال سے مستقبل میں ایک اچھی خاصی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان کی چٹانیں، پہاڑ اور کئی دشوار گزار جگہیں آثار قدیمہ، کندہ کاری اور نقوش سے بھرے پڑے ہیں جو تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں بیشتر کندہ کاری سنسکرت اور دیگر قدیمی زبانوں میں لکھے گئے کے نمونوں پر مشتمل ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بیشتر لکھائی قبل از تاریخ کے مذاہب، رہن سہن، بودوباش، طرز زندگی اور اس زمانے کے حالات و واقعات کی مفید معلومات پر مشتمل ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ثقافتی و تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے لئے حکومتی سطح پر تاحال کوئی سنجیدہ کام نہیں ہوا ہے۔
ماضی میں آثار قدیمہ کے کئی اہم نوادرات، نقوش، کندہ کاری اور چمڑے یا لکڑی میں لکھی گئی تحاریر کو چرا کر با اثر لوگوں نے اپنے گھروں میں سجا رکھا ہے یا فروخت کر کے پیسے ہڑپ کیے ہیں۔ ہماری یاد میں گلگت بلتستان کے کئی مقامات پر بدھا کے مجسمے نظر آتے تھے اب وہ نظر نہیں آتے۔ صرف یشینی (بدھا) کارگاہ کے مقام پر سلامت ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اونچی اور دشوار جگہ پر موجود ایک چٹان پر کندہ کاری کر کے بنایا گیا ہے جہاں تک پہنچنا عام لوگوں کے لئے ممکن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی سطح اب یشینی کو محفوظ کر کے سیاحوں کے لئے راستہ بنایا گیا ہے جہاں پر گزشتہ سال کوریا سے بدھ مت کے پیروکاروں کے ایک گروپ نے آ کر اپنی عبادات بھی بجا لائی تھیں۔
گلگت بلتستان میں ثقافتی و تاریخی ورثہ کے اس خزانہ کو محفوظ بنانے سے متعلق حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے اس کا بیشتر حصہ نام نہاد ترقیاتی سکیموں کی زد میں آ کر بھی ضائع ہوا ہے۔ جیسے اب ایک بڑا ثقافتی خزانہ دیامر بھاشا ڈیم کی زد میں آ کر ڈبونے والا ہے، حالانکہ دنیا بھر میں ترقیاتی سکیموں کی منصوبہ بندی کے دوران نوادرات، آثار قدیمہ اور ماحولیات کا تحفظ سمیت دیگر اہم امور کو پیش نظر رکھا جاتا ہے تاکہ ترقی کے نام پر قیمتی تاریخی اور ثقافتی ورثہ کو ضائع نہ کیا جا سکے۔
اس علمی و تاریخی خزانے کو ایک منصوبہ بندی کے تحت محفوظ کیا جائے اور اس پر تحقیق کے لئے گلگت بلتستان میں ایک میوزیم اور ریسرچ اکیڈمی بنائی جائے تو اس سے آنے والی نسلیں مستفید ہو سکتی ہیں۔ اس تاریخی ورثہ کی مدد سے نہ صرف سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ اس کی مدد سے ایک قابل ذکر آمدن بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ہمارے ہاں حکمران ویژن سے خالی ہونے کی وجہ سے وہ سیمنٹ کی سڑکوں، عمارتوں اور کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے بنائے گئے پلازوں کو ترقی سمجھتے ہیں جبکہ دنیا علم، ادب، سائنس، ٹیکنالوجی، نت نئے ایجادات اور انسانی اقدار کے فروغ اور اس میں کمال حاصل کرنے کو ترقی سمجھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے نوجوان اب ان اہم امور کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرائیں جن کی مدد سے نہ صرف ثقافتی و تاریخی ورثہ کو محفوظ کیا جا سکے بلکہ تحقیقی اور سائنسی علوم کو فروغ دے کر گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کو درست سمت میں گامزن کیا جا سکے۔
گلگت بلتستان کے دور افتادہ پہاڑوں اور چٹانوں کے درمیان پائے جانے والے اس تاریخی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنا حکومت گلگت بلتستان کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس ورثے کو ضائع کرنے کا مطلب اپنی شاندار تاریخ اور علمی خزانے کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔ دنیا اپنی تاریخ کو محفوظ کرتی اور اس سے سبق حاصل کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران اس جدید دور میں بھی اس کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔ #


