مریم نواز کے سر پر پنجاب کی چادر


سیاسی بے یقینی اور بدحال معیشت کے خطرات کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں نے عوام کو مزید بد حال کر ڈالا ہے، جبکہ منہ زور مہنگائی کے باوجود نگران حکومتی وزراء کی جانب سے سرسوں کا تیل ہتھیلی پر جمانے کی کوششیں جاری ہیں، کسی کو عوام کی فکر نہیں، ورنہ وزراء کے بقول نو من تیل موجود نہ ہونے کے باوجود آج بھی رادھا ناچ رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سڑکوں اور بازاروں میں ہمیں عوام شانت نظر آتی ہے یقیناً اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ عقل اور شعور سے نابلد ہیں وگرنہ ان کے شعور کے لئے سیاسی رہنماؤں کے روز بدلتے بیانات ہی کافی ہیں۔

حالیہ واقعات میں ABSOLUTELY NOT اور ”ہم غلام نہیں ہیں“ کا نعرہ لگانے والا امریکہ سے مداخلت کی درخواست کر رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ماضی سے سبق نہ سیکھتے ہوئے پی ٹی آئی ایک بار پھر سے قوم کو 9 مئی کے واقعہ کی جانب دھکیل رہی ہے اور دوسری جانب بگڑی ہوئی ملکی معیشت کو سنبھالنے کی بجائے آئی ایم ایف کو پاکستان کی مالی امداد نہ دینے کی درخواست کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی ماضی میں بھی آئی ایم ایف سے امداد رکوانے کی ناکام کوشش کر چکی ہے اور اس بار بھی ناکام ہو گی انشا اللۂ۔ ”بدلتا ہے رنگ، آسماں کیسے کیسے“ ۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو اپنے محبوب سیاستدانوں کی کب سمجھ آئے گی؟

ملک میں ہونے والے انتخابات کے بعد عوام سمیت سیاسی پنڈتوں کی نظریں پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر ہیں، جہاں پنجاب کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مریم نواز اپنے سیاسی کردار کا آغاز کر رہی ہیں۔ مریم نواز نوجوان اور پرعزم شخصیت کی مالک ہیں، جنہوں نے اپنے باپ سے سیاسی تربیت حاصل کی۔ موجودہ سیاسی قائدین میں مریم نواز ایک توانا اور پراثر آواز ہیں، جنہوں نے مختصر سیاسی سفر میں اپنے مخالفین سے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

والد کے دور اقتدار میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والی مریم نوازنے اپنے والد کی سرپرستی میں سیاسی اور انتظامی امور کی سوجھ بوجھ حاصل کی۔ اگرچہ مریم نواز کا سیاسی سفر ایک عشرے سے جاری ہے مگر کسی بھی عوامی اور انتظامی عہدے پر پہلی بار ان کا چناؤ کیا گیا ہے۔ یاد رکھیں! کسی مسافر کے لیے صفر سے شروع ہونے والے سفر کی اگلی منزلیں کون سی ہوتی ہیں اس کا اندازہ تو کوئی بھی لگا سکتا ہے، مگر یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس سفر کا آغاز کیسا ہو گا اور انجام کہاں پر ہو گا۔

البتہ ہم نے یہ ضرور دیکھا ہے کہ مضبوط ارادوں کی چھاؤں تلے سجائے جانے والے اکثر خواب پورے ہو جاتے ہیں، کیونکہ جذبوں کی تمازت، مسلسل جہد اور بدن کی طاقت سے لیس کسی بھی شخصیت کا جسم مقصد کے حصول کے لئے اپنے خون کے آخری قطرے تک کو بہانے کے ارادے سے مخمور ہوتا ہے یقیناً ایسے افراد کسی بھی معاشرے کی پہچان بن جاتے ہیں خوش بختی سے مریم نواز ایسے ہی افراد میں شامل ہیں۔

پاکستانی سیاست کی روایات کے عین مطابق مریم نواز کو والد کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، ان پر مقدمات درج ہوئے، فیصلے خلاف ہوئے، جیل بھی گئیں۔ مقدمات کی کارروائی کے دوران جانبدارانہ میڈیا ٹرائل کا شکار رہیں، اگرچہ سیاسی سفر کی ابتداء میں ان کے مزاج کی تیزی نے، ان کے والد کے لئے مشکلات پیدا کیں اور اس عرصے میں مقتدرہ حلقوں میں بھی ناپسندیدہ سمجھی گئیں، مگر جلد ہی انہوں نے پاکستانی سیاست کے اسرار کو پا لیا اور یوں مزاج میں ٹھہراؤ آتا گیا۔

انہوں نے موجودہ الیکشن مہم میں ثابت کیا ہے کہ وہ عوام کو اکٹھا کر سکتی ہیں اور اپنے بیانیے کو عوام میں مقبول بنانے کے فن کو بھی سمجھتی ہیں۔ پنجاب کے عوام کو مریم نواز سے بہت سی امیدیں ہیں اور مریم نواز بھی اس بات کا ادراک رکھتی ہیں کہ انہیں عوام کی امیدوں پر پورا اترنا ہو گا۔ وہ جانتی ہیں کہ وزارت اعلیٰ کا سفر صرف ایک انعام ہی نہیں، بلکہ ایک امتحان بھی ہے، جس میں کامیابی کے بعد ، ان کے لئے وزارت عظمیٰ تک کا اگلا سفر آسان ہو جائے گا۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) جانتی ہے کہ پاکستانی سیاست میں پنجاب کی کتنی اہمیت ہے اور جس کے سر پر پنجاب ”پگ“ رکھ دیتا ہے وہ مرکز میں بھی حکومت بناتا ہے۔

موجودہ الیکشن کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ صرف مسلم لیگ (ن) ، بلکہ مریم نواز کے لئے بھی یہ ذمہ داری کانٹوں کی سیج ہے، جس پر کام کرتے ہوئے پنجاب کے عوام کے ریلیف کے لئے مضبوط اور مستحکم فیصلے کرنے ہوں گے۔ چند دن پہلے مریم نواز نے پریس کانفرنس میں بطور وزیراعلیٰ پنجاب پہلی بار اپنے ویژن اور پالیسیوں کا مختصر خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ”ستھرا پنجاب اور محفوظ پنجاب“ کے پروگرام پر عملدرآمد کریں گی۔

ان کی ترجیحات میں خواتین تھانوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ تھانہ کلچر کو بہتر کرنا بھی شامل ہے۔ نوجوان وزیراعلیٰ مریم نواز جانتی ہیں کہ اس وقت پوری دنیا میں آئی ٹی کا غلبہ ہے اور جن ممالک نے آئی ٹی کے فروغ پر توجہ دی وہ آج ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں، چنانچہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ اپنے وزارت اعلیٰ کے دور میں پنجاب میں کم از کم پانچ آئی ٹی سٹی بنائیں گی۔ مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں پنجاب کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے صوبے میں ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنا، صحت کے مسائل کو دور کرنا اور کئی حکومتی سہولیات کو عوام کے ڈور سٹیپ تک پہنچانے کا عندیہ بھی دیا۔

انہوں نے قوم کو صحت کارڈ کے دوبارہ اجراء کی خوشخبری بھی سنائی۔ مریم نواز کی جانب سے پاکستان میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کارآمد طریقے سے مصروف کرنے کے لئے بلا سود قرضوں کی فراہمی کی نوید بھی سنائی گئی۔ پنجاب کے لوگ دعاگو ہیں کہ اگر مریم نواز بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو کر پنجاب کے لوگوں کو آسان اور محفوظ زندگی فراہم کرسکیں تو یہ ان کے سیاسی مستقبل کے لئے نیک شگون ہو گا۔

Facebook Comments HS