اصول انتقادیات ادبیات – ایک تنقیدی جائزہ: جابر علی سید


ڈاکٹر انیلا سلیم اورینٹل کالج سے تعلق رکھنے والی استاد محقق و نقاد ہیں۔ ایچ ڈی کی ڈگری ”جابر علی سید حیات اور ادبی خدمات“ کے عنوان سے ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی زیر نگرانی مقالہ لکھ کر اوریئنٹل کالج لاہور سے ڈگری حاصل کی۔ جابر علی سید کے فن و فکر اور ادبی کارناموں کے حوالے سے اب تک ان کی دو کتب ”اصول انتقادیات ادبیات ایک تنقیدی جائزہ از جابر علی سید“ ترتیب و تدوین کے حوالے سے اور ”جابر علی سید۔ حیات اور ادبی خدمات“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ دو کتب ”ڈاکٹر اسلم انصاری کے نثری افکار“ اور ”جابر علی سید کی غیر مطبوعہ تحریریں“ زیر اشاعت ہیں۔ ان کی دل چسپی کا میدان مشاہیر کے خطوط، تحقیق، تنقید اور تدوین ہے۔

ڈاکٹر انیلا سلیم کی کتاب ”اصول انتقاد ادبیات ایک تنقیدی جائزہ“ کی ترتیب و تحشیہ اور تدوین کے حوالے سے ایک اہم کارنامہ ہے۔ یہ مدون کتاب دارالنوادر لاہور سے 2012 ء میں شائع ہوئی۔ 144 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا انتساب انیلا سلیم نے اپنے والدین کے نام کیا ہے۔ کتاب کے مندرجات میں دیباچہ، تنقید پر مقدمہ، اصول انتقادیات باب اول تا باب دہم، حاصل مطالعہ ضمیمہ اشاریہ واسما شامل ہیں۔ انیلا سلیم کی مدون کردہ یہ کتاب ممتاز نقاد ”جابر علی سید“ کے ایک مسودے پر مبنی ہے جو انھوں کے نام اور نقاد ”سید عابد علی عابد“ کی معروف تصنیف ”اصول انتقاد ادبیات“ پر تجزیاتی محاکمے کی صورت میں قلم بند کیا تھا بقول ڈاکٹر بصیرہ عنبرین :

”انیلا سلیم نے اس غیر مدون مسودے کی ترتیب و تدوین کا فریضہ تحقیق کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے انھوں نے نہ صرف اس مسودے کا دقت نظر سے مطالعہ کیا، بلکہ بھرپور محنت اور کاوش سے کتاب سے متعلقہ حوالہ جات و حواشی سپرد قلم کیے ہیں۔ جابر علی سید نے دوران تنقید جن کتب۔ کی جانب اشارے کیے ہیں۔ انیلا سلیم نے ان کے مکمل حوالے فراہم کیے ہیں نیز ان کی تحریر میں شامل نامکمل شعروں کی تکمیل اور کم و بیش تمام اشعار کے ماخذ کی نشان دہی ان کی کاوش مزید ہے۔ پیش نظر مرتبہ کتاب ان کی تحقیقی ذوق کی آئینہ دار ہیں اور محققانہ صلاحیتوں کا اظہار بھی۔“ 1 ؎

انیلا سلیم کا تحریر کردہ دیباچہ بھی خاصے کی چیز ہے۔ اس میں انھوں نے جابر علی سید کے اردو تنقید میں مقام و مرتبہ تصانیف، علاوہ ازیں ”سید عابد علی عابد“ کی تنقیدی جہات کے تعین کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ جابر علی سید ادب میں نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے اردو تنقید کو جدید تصورات و نظریات پر مبنی فکر انگیز مجموعوں سے نوازا۔ ان کی طبیعت میں تنقیص و تنقید کا ایک فطری مادہ موجود تھا، جو ان کی تنقیدی کتب میں نمایاں ہے۔

یہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں جابر علی سید نے سید عابد علی عابد کی معروف تالیف ”اصول انتقاد ادبیات“ پر تنقیدی آرا پیش کی ہیں، جو ان کے تنقیدی شعور کے عکاس ہیں۔ جابر علی سید کی اس تنقیدی تحریر کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ شاگرد اور استاد کے تنقیدی نظریات کا ٹکراؤ او اور پیکار بھی ہے۔ یہ ٹکراؤ علمی ارتقاء کی دلیل ہے۔ نظریات کی یہ پیکار تخریبی نہیں تعمیری ہے۔ ”2 ؎ جابر علی سید نے بظاہر یہ ایک تنقیدی جائزہ پیش کیا لیکن اس میں مشرقی و مغربی ادب تنقید کے وسیع ذخائر کو کھنگالہ گیا ہے انیلا سلیم نے سید عابد علی عابد کی کتاب“ اصول انتقاد ادبیات ”کا بھی تعارف دیباچے میں پیش کیا ہے۔ ادب کی تنقید میں اس کتاب کی جو اہمیت ہے اس کے پیش نظر جابر علی سید نے جو اس کا تفصیلی جائزہ کیا ہے۔ اس کا منظر عام پر آنا ضروری تھا۔ اس کے ذریعے سید عابد علی عابد کی اس تصنیف کو نئے نئے زاویوں سے پرکھا جائے گا۔

” جابر علی سید“ کے اس تنقیدی جائزے کا مسودہ مدون کو ان کے فرزند محترم عقیل جاوید کی طرف سے محترم حفیظ الرحمن کی وساطت سے ملا۔ انیلا سلیم نے ”اصول انتقاد ادبیات“ (ایک تنقیدی جائزہ) کی تدوین میں جو طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ دیبا چے میں اس کا تفصیلی ذکر کیا ہے یہ اچھے محقق ہونے کی دلیل ہے کہ ادب کے قارئین کے لیے جو کچھ تدوین کے ضمن میں پیش کیا جائے اپنے طریقہ کار کو قارئین کے سامنے واضح کر دیا جائے ا نیلا سلیم کے طریقہ کار کے حوالے سے اہم نکات درج ذیل ہیں :۔

1۔ مدون نے اصل مسودے کے متن کی تدوین کے سلسلے میں جدید املائی خصائص کو مدنظر رکھا ہے۔ تحریر میں جہاں کہیں الفاظ کی قدیم صورت موجود تھی اسے تبدیل کر دیا ہے اور اس طرح یہ تبدیلی مقتبس عبارت میں بھی کی ہے۔ مثلاً جابر جابر علی سید اکثر املا کی صورت پیش نظر نہیں رکھتے۔ مثلاً ایک جملہ یوں ہے ”

”دبلا پتلا نوجوان کے لیے یہ بھاری چیز ہے“
جبکہ یہ جملہ یوں ہونا چاہیے :
”دبلے پتلے نوجوان کے لیے یہ بھاری چیز ہے“ 3 ؎

2۔ متن کی تدوین میں بھی مدون نے ضروری تبدیلیاں کی ہیں اکثر مسودے میں جابر علی سید ”کا“ کی بجائے ”کی“ اور ”کی“ کے بجائے ”کا“ لکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔

3۔ متن میں جابر علی سید نے پاور ق میں حوالہ جات درج کیے ہیں اور متن میں جہاں کہیں کسی حرف یا لفظ کے حذف ہو جانے کا احتمال گزارا ہے اسے قوسین میں درج کر دیا گیا ہے۔ مدون نے حوالے، حواشی اور وضاحتی نوٹ ہر باب کے آخر میں نمبر وار درج کیے ہیں اور اس سلسلے میں قوسین میں الگ نمبر درج کیے ہیں۔

4۔ حواشی میں جابر علی سید کی منقبس کردہ عبارت اور اصل تصنیف میں موجود عبادت کی تقابلی صورت پیش نظر رکھی گئی ہے۔

5۔ شعراء اور دواوین و کلیات کے حوالے سے ساتھ ساتھ شعری متن کی تصحیح و تقابل سے اشعار کے اصل متنی صورت کے تعین کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ضرورت بقول مدون اس لیے پیش آئی کہ جابر علی سید نے اقتباسات کے اندراج میں کچھ خاص احتیاط نہیں رکھی کی۔ الفاظ کی ترتیب کے الٹ پھیر اور جملوں کی ترتیب میں فرق سے مؤلف ”اصول انتقاد ادبیات“ اور جابر علی سید کی منقبس کردہ عبارت یکسر مختلف معنی کی حامل ہو گئی ہے مثلاً ایک اقتباس میں یوں تحریف کی ہے :

”۔ تاریخی واقعات کا مطالعہ کرتے وقت بھی اسی طرح قطع زماں کر کے کے انہیں جانچا جاتا ہے۔“ 4 ؎
جبکہ کہ ”اصول انتقاد ادبیات میں یہ جملہ یوں ہے :
” تاریخی ادوار کا مطالعہ کرتے وقت بھی اسی طرح قطع زماں کر کے انہیں جانچا جاتا ہے“ (ص : 48 ) ”5 ؎

6۔ اردو اور فارسی اشعار کے نام کے ساتھ ساتھ دواوین و کلیات کا مکمل حوالہ اور فارسی اشعار کے تراجم بھی حواشی میں درج ہیں۔

7۔ مصنفہ نے حواشی و حوالہ جات کا اہتمام بھی کیا ہے۔ مدون نے پاور ق میں مختصر حواشی اور باب کے آخر میں تفصیلی حواشی درج کیے ہیں۔ مثلاً صفحہ 8 پر ایک عبارت درج ہے :

” انتقاد“ تنقید کے مفہوم میں نیاز فتح پوری بھی استعمال کرتے تھے انہیں اصرار تھا کہ معنوی لحاظ سے تنقید غلط لفظ ہے۔ ”6 ؎

پاورق میں اس کی وضاحت انیلا سلیم نے یوں کی ہے :

” مؤلف کے خیال میں لفظ“ Criticism ”کی اصل عربی لفظ“ غربال ہے ”حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ اصلاًًً یونانی ہے یعنی Kritikes اسی طرح garble کی اصل Critc نہیں ہے۔ دیکھیے آکسفورڈ لغت“ 7 ؎

مجموعی طور پر ”اصول انتقاد ادبیات ایک تنقیدی جائزہ“ انیلا سلیم کے تحقیقی ذوق اور محققانہ صلاحیتوں کی غماز ہے۔ مدون نے اس میں تدوین کے اصولوں کو مدنظر رکھا ہے محنت و دقت سے اس کے حواشی و حوالہ جات نیز نامکمل شعروں کی جس طرح تکمیل کی ہے ان کی یہ کاوش قابل ستائش ہے۔ صحت متن کا خاص خیال رکھا ہے، حواشی کے انتظام سے اس کتاب کی تفہیم میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ نامکمل حوالوں اور اشعار کی تکمیل سے کتاب کا متن مکمل صورت میں قاری تک پہنچتا ہے۔ اس کتاب کے مقدمے میں اپنے طریقہ کار کی وضاحت بھی کی ہے۔

حوالہ جات

1۔ انیلا سلیم، اصول انتقادیات ادبیات ایک تنقیدی جائزہ از جابر علی سید (ترتیب و تدوین) ، لاہور:دارالنوادر، 2012 ء، ص ب فلیپ

2۔ ایضاً، ص ب دیباچہ
3۔ ایضاً، ص ب و یباچہ
4۔ ایضاً، ص 20
5۔ ایضاً، ص ب دیباچہ
6۔ ایضاً، ص 8 متن
7۔ ایضاً، ص 8 پاورق

Facebook Comments HS

One thought on “اصول انتقادیات ادبیات – ایک تنقیدی جائزہ: جابر علی سید

  • 03/03/2024 at 5:36 شام
    Permalink

    بہت خوب

Comments are closed.