خالد سعید: کت گئے کھیون ہار

پرانی فلموں، پرانے گیتوں، پرانے رسالوں اور کتابوں میں سانس لیتا جہاں ہر لمحے نیا لگتا ہے۔ ایسے ہی کہیں بہت دور بچپن میں کسی رسالے میں بنگلہ گیت پڑھا تھا جس کا مکھڑا بھی یہی تھا۔ لکڑی جلی تو کوئلہ بنی۔ کوئلہ جلا تو راکھ۔ میں پاپن کچھ ایسی جلی نہ کوئلہ ہوئی نہ راکھ۔ نہ جانے اپریل آتے آتے ایسا کیوں لگتا ہے۔ شاید یوں کہ انہی دنوں میں بہت سوں کا کھیون ہار۔ خالد سعید۔ میرے ابا

Read more

کیا ہم کبھی بھی بدل سکیں گے؟

میر صاحب نے گئے دنوں میں اپنی حالت زار پہ کہا تھا ”دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں۔ مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں۔“ لگتا تو یہ ہے کہ کہیں میر صاحب کے ذہن رسا میں مستقبل بعید میں بننے والے پاکستان کا نقشہ تو نہیں تھا۔ کچھ مصیبتوں کے لیے ہم (جائز وجوہات پر) اشرافیہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں لیکن بہت سے ہمارے مسائل ہمارے اپنے زہر ناک رویوں کا نتیجہ ہیں۔ ٹریفک

Read more

فلم ،علم اور ہم

فلم، علم اور ہم۔ ۔ تبدیلی اور ارتقاء اس گولے کا سب سے بڑا سچ ہے جو لمحہ موجود میں پوری کائنات میں ہمارے لیے دستیاب صرف ایک ٹھکانہ ہے۔ اگر ہم معلوم تاریخ کا جائزہ لیں تو قدیم یونان سے لے کر عہد حاضر تک انسان کے رہن سہن میں ناقابل یقین تبدیلیاں آئی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ رینے ساں (جہاں سے علوم کے نئے در کھلے ) کے بعد ہمارے سوچنے کے انداز ہی بدل گئے

Read more

سامنا اور وہ بھی انجان کا، مگر کیسے؟

من چاہے سے سامنا ہو یا ان چاہے سے۔ دل کی دھڑکن نے بے ترتیب ہونا ہی ہے۔ کُچھ ایسا بھی بولا جا سکتا ہے جو آپ کے من کے اندر کی بے چینی کو ظاہر کر دے۔ دل کے معاملات کو تو سنبھالا جا سکتا ہے۔ کیسے؟ عصمت چغتائی کے الفاظ میں ”کوئی لاکھ روپیہ بھی دے تو میں نہ بتاؤں“ ۔ لیکِن میں آج آپ کوایک اور معاملے پر بہت کچھ بتانے لگا ہوں اور وہ بھی مفت

Read more

سامنا اور وہ بھی انجان کا۔ مگر کیسے؟

من چاہے سے سامنا ہو یا ان چاہے سے۔ دل کی دھڑکن نے بے ترتیب ہونا ہی ہے۔ کُچھ ایسا بھی بولا جا سکتا ہے جو آپ کے من کے اندر کی بے چینی کو ظاہر کر دے۔ دل کے معاملات کو تو سنبھالا جا سکتا ہے۔ کیسے؟ عصمت چغتائی کے الفاظ میں ”کوئی لاکھ روپیہ بھی دے تو میں نہ بتاؤں“ ۔ لیکِن میں آج آپ کوایک اور معاملے پر بہت کچھ بتانے لگا ہوں اور وہ بھی مفت

Read more

دید کے قابل مگر کیسے

گئے دنوں میں عورتوں کے رسالوں میں چھپی کہانیوں میں مرد و خواتین کرداروں کے سراپے ان کی لکھاریوں کی تشنہ لبی کے غماز ہوا کرتے تھے۔ مرد ہمیشہ دراز قد اور وجیہہ ہوا کرتے تھے جو پینٹ پہنے میچنگ یا کنٹراسٹ کوٹ میں ملبوس پائیں باغ میں نازک اندام لمبی زلفوں میں پھول سجانے والی انتہائی ڈرپوک چھوئی موئی مگر شام کے دھندلکے میں اپنے ہیرو سے ملنے کے لیے ہر دم تیار ہیروئن کا انتظار کرتے پائے جاتے۔

Read more

دنیا رنگ رنگیلی ہے بابا

رنگ زندگی ہیں۔ جیون کے بدلتے رنگ ہمیں بہت کچھ بتاتے ہیں۔ اس بہت کچھ میں ایک بات جو سب سے اہم ہے وہ ہے کائنات کا ابتداء آفرینش سے تا دم تحریر مختلف رنگوں سے مزین چلے انا ہے۔ قدیم یونان ہو یا جدید ریاستی ڈھانچے۔ ہر جگہ ہمیں تنوع کی حکمرانی ملتی ہے۔ یہ تنوع یہ فرق ہونا ہی اس زندگی میں امکانات کے نئے سے نئے در کھولتا ہے۔ چلیں تھوڑی دیر کے لیے فرض کریں کہ

Read more

بےنشاں منزلوں کا سفر

قدیم زمانوں سے آج تک اہل دانش انسان کی زندگی میں بہتر رویوں کی ترویج کے لیے سوچتے رہے ہیں۔ تعلیم کو اس مقصد کے حصول کے لیے اہم ترین ذریعہ سمجھا گیا ہے ۔ قدیم یونان ہو یا ٹیکسلا کے قریب درسگاہوں کے اثار۔ ہر جگہ مقصد ایک ہی تھا انسان کے اندر جبلی حیوانیت کو دائرہ آدمیت میں لانا۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیا افلاطونی عہد کا یونانی یا اشوکا کے وقت میں سانس لیتا

Read more

شب تاریک اور جگنو

معلوم تاریخ کے ہر دور میں عموماً مگر یورپ میں رہنے ساں یا احیاء العلوم کی تحریک کے بعد سے صرف اس معاشرے نے حقیقی ترقی کی ہے جس نے علم و ہنر کی نئی راہیں تلاشی ہیں۔ ان راہوں کو تلاشنے کا جنون یا تو ہم میں قدرت نے ودیعت کیا ہو تا ہے (جو یقیناً کم لوگوں میں ہوتا ہے) ۔ یا پھر ہمارے اساتذہ ہم میں پیدا کرتے ہیں بھلے وہ ہیلن کیلر کی ٹیچر اینی کی

Read more

خالد سعید: دو صدیوں کا معمار!

بے نظیر بھٹو شہید، لیڈی ڈیانا دونوں کی نا وقت جدائی میں ایک قدر مشترک تھی۔ دونوں کے لیے عام انسانوں کی آنکھیں بے ساختہ چھلک پڑیں۔ یہ رتبہ بلند کسی تخت نشیں کو نہیں مل سکتا۔ اس کے لیے ایڈز اور کینسر سے لڑتے بچوں کو گلے لگانا پڑتا ہے، یا پھر افتادگاں خاک کے درجے پر اترنا پڑتا ہے۔ اور پھر ایدھی بابا بھی اسی دائرہ عشق میں آتے ہیں۔ اگر ان کو عوامی انداز میں رخصت کیا

Read more