حلوے کے حصار میں
ایک دفعہ کا ذکر ہے، کب کا، یاد نہیں۔ بس اتنا یاد ہے کہ ایک دریا کے کنارے بسی ایک بستی کہ نام جس کا ہیملن تھا، وہاں انسانوں سے زیادہ چوہے پیدا ہونے لگے۔ چوہوں نے نہ صرف یہ کہ انسانی زندگی کے فطری معمولات کو غیر فطری انداز میں تہ بالا کر کے رکھ دیا بلکہ ان کی وجہ سے انسانی آبادی طاعون جیسی مہلک بیماری کا شکار ہونے لگی۔ ایسے میں کہ جب چوہوں نے ہر طرف تباہی پھیلا رکھی تھی اور کار و افعال زندگی درہم برہم ہو چکے تھے، بستی میں ایک شخص نمودار ہوا کہ لباس جس کا رنگ دار اور گفت گو خوش نما امیدوں اور وعدوں سے لبریز تھی اور بغل میں اس کے ایک دھونکنی بین تھی۔ وہ بستی کے مدارالمہام کے پاس جا پہنچا۔ بولا ”جناب ذی وقار! جس مسئلۂ لا ینحل میں آپ اور آپ کی رعایا پھنس چکی ہے، حل اس کا اس ناچیز کے پاس ہے۔ اگر اس خادم کو من چاہا معاوضہ دینے کا عہد کیا جاوے تو خادم اپنا چمت کار دکھاوے۔“
مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق، حاکم شہر نے اس شخص کی بات مان لی۔ قصہ نیم مختصر یہ کہ، اس شخص نے اپنی دھونکنی بین اٹھائی، اور بستی کے مرکزی چوراہے پر آ کر اسے بجانا شروع کر دیا۔ بین کی آواز چوہوں کے کانوں میں پڑی اور وہ بے خود ہو کر بین باز کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے۔ جب سب چوہے ایک جگہ جمع ہو گئے تو بین باز، بین بجاتا جانب لب دریا چل پڑا اور سبھی چوہے یہ جانے بغیر کہ انہیں کدھر لے جایا جا رہا ہے، اس کے پیچھے پیچھے چلتے دریا برد ہو گئے۔ اس سے آگے کی کہانی غیر متعلقہ تو نہیں، لیکن اس کا ذکر پھر سہی کہ کس طرح حاکم شہر اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکا اور کس طرح بین باز نے بستی کے بچے اپنے پیچھے لگائے۔
تو بات یہ ہے عزیز حصہ ہائے ہجوم! یہاں پر بھی چوہوں جیسی جنتا کو مختلف بین بازوں نے عرصہ دراز سے اپنے اپنے پیچھے اتنا لگا رکھا ہے کہ اب چوہے ”آٹو“ پر لگ چکے ہیں۔
سیاست ہو، تعلیم ہو، یا مذہب، یہاں زندگی کے ہر شعبے میں جہالت کی بین بجائی گئی ہے اور ہم سب ہر اس بین باز کے پیچھے لگے ہیں جس کی دھن ہمیں پسند ہے۔ بین باز کے قول کو اس کے فعل اور تحقیق کی کسوٹی پر پرکھے بغیر اس کی ہر بات بے چون و چراں مانی گئی ہے، مانی جا رہی ہے، اور مانی جاتی رہے گی۔ انسانوں کی بستی میں بین کی دھن پر ناچنے والے چوہے حاوی رہے ہیں اور حاوی رہیں گے اور انسانوں کے معمولات زندگی کو متاثر کرتے رہیں گے۔
ان میں وہ سیاست دان بین باز بھی ہیں جنہوں نے عوام کو سہانے مستقبل کی دھن سنائی، عوام ہمیشہ سے اسے سنتے رہے۔ سر دھنتے رہے اور اپنے مستقبل کو خاک ناک کرتے رہے۔ ان بین بازوں نے شروع دن سے ہی ہجوم کو جہالت کی دھن کے سحر میں ایسا جکڑا کہ ہم با شعور قوم بن ہی نہیں سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک کی پبلک تب بھی قوم نہیں تھی جب اس کی آبادی سوا تین کروڑ تھی، اور آج بھی قوم نہیں ہے جب اس کی آبادی سوا چوبیس کروڑ ہے۔
کبھی قرارداد مقاصد کی دھن بجی تو کبھی جہاد کی دھن۔ کبھی روٹی کپڑا مکان کی دھن بجی تو کبھی ریاست مدینہ کی دھن۔ کبھی ایشین ٹائیگر کی دھن بجی تو کبھی روشن پاکستان کی دھن۔ کبھی جمہوریت کی دھن بجی تو کبھی آمریت کی دھن۔ اور ہم سب نے اپنی اپنی پسند کے بین بازوں کی دھنوں پر مدہوش ہو کر دھمال ڈالی۔ اور حال کو تباہ حال کر ڈالا۔
ہم ہر اس استاد و معلم و مولوی و مدرس کے پیچھے لگے جس نے کتاب کو پڑھے بغیر اپنے ذاتی نظریات و تشریحات کی ترویج کی۔ اس کے ہر درست و نا درست کو من و عن تسلیم کیا اور اس درست اور نا درست کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو تاریک کیا۔ جنہوں نے ہمیں متن سمجھایا نہ ہی سمجھنے دیا، انہوں نے زبان و ایجاد کو مذہبوں میں بانٹ کر کسی زبان یا ایجاد کو کافر کہہ کر اس کے خلاف نفرت پیدا کی اور کسی زبان یا ایجاد کو مسلمان بنا کر اسے عقیدت بخشی۔
تعلیم کے فلسفے تک نہیں جانے دیا، ظاہری شعائر کو مقدس بنایا۔ اور ہر سوال پوچھنے والے یا اختلاف کرنے والے کے خلاف فتوے دیے۔ برصغیر کے مذہبی دانش وروں نے تو حد ہی کر دی۔ تصویر سے لے کر سپیکر تک۔ ہر نئی ایجاد کو شیطان سے منسوب کیا اور اس کے استعمال پر پابندی لگائی۔ گفت گو کی طولانی سے بچنے کے لئے گفت گو کو صرف زبان تک محدود کرتا ہوں اگرچہ اس باب میں کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔
برصغیر پر جب فارسی بولنے والے حملہ آور ہو کر یہاں کے حکم ران بنے تو اپنے ساتھ فارسی زبان لے کر آئے۔ چونکہ وہ مسلمان تھے تو فارسی مسلمانوں کی زبان ٹھہری اور جو زبان اس خطے میں ہزاروں برسوں سے بولی جا رہی تھی اسے کافر زبان بنا کر اس کے خلاف ایک نفرت پیدا کردی گئی۔ آج بھی یہاں عبادات کے لئے فارسی الفاظ کا استعمال کیا جانا ہی جائز مانا جاتا ہے۔
اسی طرح جب اس خطے میں انگریزی آئی تو اس کے خلاف منظم انداز میں نفرت پھیلائی گئی۔ اسے زبان فرنگی کہہ کر دھتکار دیا گیا اور انگریزی بولنے یا سیکھنے والے کو تحقیر و نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ اور ہر وہ ذی شعور مسلمان جس نے اس زبان کو سیکھنے بولنے کے حق میں کوئی بات کی اس کے خلاف کفر کے فتوے لگائے گئے اور معاشرتی سطح پر ان کے لئے زندگی تنگ کر دی گئی۔ اور پھر ردعمل میں ایک طبقہ وہ پیدا ہوا جس نے صرف انگریزی کو ہی تہذیب یافتہ ہونے کی دلیل و اظہار مان لیا۔ اور آج یہ صورت حال ہے کہ اگر آپ لفظ ٹٹی کا استعمال کریں گے تو آپ کو جاہل۔ گنوار اور اجڈ گردانا جائے گا۔ اور اگر آپ پوٹی کہیں گے تو آپ تعلیم یافتہ و مہذب سمجھے جائیں گے۔ اب تو لفظ لیٹرین کا استعمال بھی غیر مہذب و غیر شائستہ ہو چکا ہے حالانکہ یہ لفظ فرانسیسی سے نکل، انگریزی سے ہوتا ہوا ہمارے روز مرہ میں داخل ہوا۔ میرے ایک جاننے والے ایک خوب صورت سے انگریز کا چھوٹا سا مجسمہ خرید لائے کہیں سے اور لاکر اپنی بیٹھک میں سجا دیا۔ اس مجسمے کے سینے پر لکھا تھا۔
”The King Pimp“
صاف ظاہر ہے کہ انہیں اس کا مطلب ہی نہیں پتا تھا۔ اگر پتا ہوتا تو یقینی طور پر وہ اس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہ کرتے۔ ایسی بہت سی مثالیں آج کل سماجی روابط کی جگہوں پر آپ لوگ بھی دیکھ رہے ہوں گے جن سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ جہالت اس معاشرے کی کمر پر کاٹھی ڈال کر سوار ہے۔ اور معاشرے میں عدم برداشت کی جاہلانہ ثقافت اور تہذیب کی ایسی نشو و نما اور پرداخت کر دی گئی ہے کہ لوگ مکالمے اور دلیل کی جگہ مرنے مارنے پر تل گئے ہیں۔
جہاں زاد۔
یہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہ۔
کوزوں کی لاشوں میں اترا ہے۔
زبانوں کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کا سلسلہ تقسیم برصغیر کے بعد بھی جاری رہا اور نئی مملکت خداداد بننے کے بعد ذرائع ابلاغ و نشر و نشریات کو باقاعدہ طور پر الفاظ کی ایک فہرست دی گئی جن کا استعمال ممنوع تھا صرف اس لئے کہ وہ الفاظ سنسکرت یا ہندی کے تھے۔ ان ممنوع الفاظ کی زد میں بہت سے شعرا کا وہ کلام بھی آ گیا جس میں ہندی الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا۔ اب اگر کوئی مسلمان کوئی ایسا لفظ بول یا لکھ دیتا جو کہ ہندی کا ہوتا تو اس کے خلاف ایک بازار گرم کر دیا جاتا۔ اس کی ”مسلمانگی“ پر سوالیہ نشان لگ جاتا اور طعنے دیے جاتے کہ اگر تمہیں زبان کافر اتنی ہی پسند ہے تو تم وہیں جا کر کیوں نہیں بس جاتے۔ مطلب ہم مسلمان ہوتے ہوئے فارسی میں ”وہ نماز پڑھ رہی ہے“ یا انگریزی میں
”She is offering prayer“
تو کہہ سکتے ہیں لیکن ”وہ پوجا کر رہی ہے“ نہیں کہہ سکتے۔
ہم مسلمان ہوتے ہوئے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ میرا روزہ ہے، یا انگریزی میں
”I am with fast“
لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے اپاس یا برت رکھا ہوا ہے۔ سیدھی سی بات ہے جب کوئی مسلمان برت رکھے گا تو اسلامی عقیدے اور ضابطے کے مطابق ہی رکھے گا جیسے کوئی مسلمان روزہ رکھتا ہے۔ عربی میں صوم کہتے تو میں نے آج تک کسی پاکستانی کو نہیں سنا۔ لفظ روزہ ایک مسلمان کے لئے ویسا ہی ہے جیسے برت یا فاسٹ۔ لیکن کہہ کر دیکھیے کہ میں نے برت رکھا ہوا ہے آپ کو ایک ناکردہ گناہ کی معافی مانگنی پڑ جائے گی اگر ہجوم سے بچ گئے تو۔
نا علمی کی جہالت کو شعوری طور پر اس معاشرے میں رواج دیا گیا۔ خاص کر جس زبان کے سیکھنے سے مذہبی احکامات تک رسائی اور ان کا فہم ممکن تھا اسے ہی شجر ممنوع قرار دے دیا گیا اور اس باب میں مختلف تاویلیں دی گئیں۔
”تم جان کر کیا کرو گے، ہم جو ہیں جاننے والے اور جان کر بتانے والے۔“
”اس زبان میں ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہیں۔ تم الجھاؤ کا شکار ہو جاؤ گے۔ “
”یہ کام ہم ہر چھوڑ دو، ترجمہ و تشریح پڑھنے والے تو گم راہ ہو گئے۔ کیا تم بھی گم راہ ہونا چاہتے ہو؟“
یہ وہی لوگ ہیں کہ جنہوں نے علیؑ کو مولا کہنے پر فتوے لگائے اور خود مولانا کہلائے اور ان سے اگر پوچھا جائے کہ حضرت یہ کیسا تضاد ہے تو وہ آپ کے پیچھے انہیں لگا دیں گے جو ان کی بجائی دھن کے اسیر ہیں۔ پھر وہ آپ کا بینڈ بجا دیں گے۔
مجھے یاد ہے جماعت ہشتم کی عربی کی کتاب میں باپ کی عظمت پر ایک نظم تھی جس کا آغاز اس مصرعے سے ہوتا تھا۔
”ابی ابی، ربی ربی“
مطلب، اے میرے والد، اے میرے والد۔
اے مجھے پالنے والے، اے مجھے پالنے والے۔
اب آپ کسی شخص کو کہ جو آپ کی کفالت کرتا ہو، اسے ربی کہہ کر دیکھیں۔ آپ کے ارد گرد کے سبھی انسانوں کی سماعتوں میں وہی دھن بجنا شروع ہو جائے گی جس کے نشے میں ان کے بین بازوں نے انہیں مسحور کر رکھا ہے اور آپ کا حال و حشر بھی وہی ہو گا جو اس خاتون کا ہوا جس نے ایسا لباس زیب تن کر رکھا تھا جس پر عربی رسم الخط میں لفظ ”حلوہ“ لکھا ہوا تھا۔


