وہ ظلم کرے میں ظلم سہوں! یہ رسم ابھی تک باقی ہے


غزہ جل رہا تھا۔ اس کی تپتی ہوئی زمین، وہ شعلہ بار فلک، دشمنوں کے ہزار گھات۔ باپ اور بڑے بھائی کی ایک ساتھ شہادت کے غم میں نڈھال وہ آٹھ سالہ محمود اپنی ماں کا ہاتھ تھامے، بھوک، پیاس اور بے سروسامانی سے بھرے ہوئے اس جہان میں جیسے خون کے ایک سمندر میں کھڑا تھا۔ گھر کا گلستان اجڑ کر ایک کھنڈر بن چکا تھا۔ والدہ تھی کہ شہید شوہر اور بیٹے کی یاد رلاتی تو خدا کا شکر ادا کرنے لگتی اور یہ سب کچھ کمسن محمود کی سمجھ سے بالاتر تھا کہ اس نے تو اپنے والدین کو تب تب شکر گزاری میں دیکھا تھا جب ایک خوشحال خاندان کی صورت وہ زندگی امید اور محبت کا ہاتھ تھامے فصل بہاراں میں جشن بہاراں کے مزے لوٹ رہی تھی۔

ایسی زندگی جو ضرورت اور ضروری کے مفہوموں سے نا آشناء تھی۔ دنیا اور مافیا سے آزاد، مستقبل کی فکر سے بے نیاز اور حال میں مست وہ آوارہ سی زندگی کہ جس کا ہر دن اپنوں کے ساتھ کے احساس سے کبھی خالی نہ رہا۔ اس کمسن کا وہ بچپن جو ہر دن والدین کے سامنے چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی بنیاد پر شروع ہوتا، توکل کی بنیاد پر جاری رہتا اور رب کی رضا پر شکر گزاری کر ساتھ ختم ہوتا۔ اس سب میں نہ ہی افسردگی کی کوئی وجہ باقی رہتی اور نہ ہی ہنسنے کا بہانا۔ وہ زندگی کہ جس میں تمام خوشیوں کا نقطہ بس ایک ”ہم“ کا احساس تھا۔

لیکن پھر اسی زندگی کا وہ رخ کہ جب محمود کو ہر گھڑی یہ لگنے لگا کہ اس کی زندگی کی غزل کسی بھی لمحے تمام ہو چلی، قافیہ رہ گیا تو بس موت کا۔ ”ماں! بس ہم ہی کیوں“ ؟ اس نے ایک دن اکتا کے ماں سے پوچھ ہی لیا۔ ماں اس کا چھوٹا سا وجود اپنے سینے سے لگا کر بولی! ”کیونکہ ہم چن لیے گئے ہیں میرے لال۔ ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد ہمارے دین کی سر فرازی اور اس کے حرمت و آبرو کی حفاظت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس دین کی حرمت و آبرو جس کا پیغام عرش بریں سے آدمؑ کے دل میں اتارا گیا۔

ایوبؑ جسے صبر کے جسداں میں لائے تھے۔ موسیٰؑ جسے ہیبت کے تلسمات میں لائے۔ روح اللہ، مسیحا کے کرامات میں لائے تھے۔ وہ مقصد جسے یعقوبؑ کے اشکوں کی نمی سے سینچا گیا۔ وہ حرمت جو گل عارض یوسفؑ سے رنگی گئی۔ یہ وہ ہے جو یونسؑ کی دعاؤں میں ڈھالی گئی۔ جو کشتی نوحؑ کے کنارے کی وجہ بنا۔ وہ مقصد جس کے لیے خلیل اللہ کو آگ میں جھونکنے کے بعد اسی آگ کو انداز گلستاں بخشا گیا۔ وہ مقصد جو محمدﷺ کی نبوت سے پروان چڑھا۔

وہ مقصد جسے کربلا کی زمین پر خون شہداء بہترؑ سے سینچا گیا اور آج ایک مرتبہ پھر اسی مقصد کی حرمت اور آبرو کے لیے علم حسین اٹھایا گیا تو ہم اس پاکیزہ سفر کے امین ٹھیرے، جان، مال، سکوں و آسائش، رشتوں، عزت و آبرو کی قربانی اس امانت کی حفاظت کی شرط ہے اور ان تمام قربانیوں کا سودا رب کی رضا کے بعد جنت کے عوض کیا گیا جو یقیناً گھاٹے کا سودا نہیں، اس وعدے پر کیوں شکر نہ کیا جائے؟ ، بلا شبہ“ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ”۔

مایوسی اور فاقوں کی ایک شام نجانے کب وہ کمسن ماں کی گود میں سر رکھ کر سو گیا مگر صبح کی گداز ہواؤں میں اچانک ایک روز زوردار دھماکے کی آواز سے ڈر کر اس کی آنکھ کھلی تو چاروں جانب بکھری کالی دھول اور مٹی میں نہ اسے کچھ سنائی دے رہا تھا نہ کچھ دکھائی۔ اپنے جسم سے جگہ جگہ رستے ہوئے خون سے لاپروا وہ کمسن دیوانوں کی طرح ماں کو ڈھونڈنے لگا۔ کچھ ہوش و نظر سنبھلی تو دیکھا کہ اس کی ہزار حسرتوں کا واحد مسکن اس کی ہی آنکھوں کے سامنے فرش فرش تھا۔

اس ماں کا جسم نازنیں، ہر طرف سے چھدا ہوا کٹا ہوا۔ خون میں لتھڑا ہوا وہ حجاب جو تار تار تھا۔ یہ وہی دخترء بتولؑ تھی جو اپنی آخری سانسوں تک بے تیغ، حیدر کرار کی خو بن کر صبر کی ذوالفقار کو لہراتے ہوئے وقت کے یزیدوں کے سامنے ڈٹی رہی۔ وہ تو اس کا آخری حوصلہ تھی مگر حفظ و امان کے اس دین پر وہ حوصلہ آج قربان ہو چلا۔ اس مقصد کی تکمیل میں بہنے والی اس ماں کے خون کی ہر بوند سے کلمے کی صدا آتی ہوئی سنائی دے رہی تھی۔

اس کمسن محمود کے وجود کی ایک ایک نس چیخ چیخ کے دہائیاں دینے لگی کہ اس کے علاوہ وہ کچھ نہ کر پایا۔ کچھ محسن دوڑتے ہوئے آئے اور اس ماں کے سدھ بدھ جسم کو میت خانے کی جانب لے گئے۔ کمسن و کمزار بیٹا اپنی ماں کے مردہ وجود کے اردگرد بس دوڑتا رہا چیختا رہا۔ شام کے اندھیرے میں اپنی ماں کی حرمت کے چراغ دل میں لیے، اس کی ہر تکلیف و تذلیل کے داغوں کو دل میں لیے، اپنی کائنات کو اس بیٹے نے اپنے ہی ہاتھوں سے خاک کیا، اور اس خاک میں اس ماں کی الفت، اس کی شفقت، اس کی یادرں کی ہر ہر کسک، اس کی نارنج شگوفوں میں مہکی مسکراہٹ بھی دفنا دی گئی۔

وقت گزرتا رہا اور کچھ ہی عرصہ میں وہ کمسن غزہ کا خرد، اپنے ننھے ہاتھوں میں پتھر لیے، تنگ گلیوں کی ہر آڑ سے اسرائیلی فوجیوں اور ان بھاری بھرکم ٹینکوں پر سنگ ریزی کرتا دلاوری کا ایک مرد مجاہد دکھائی دینے لگا تھا۔ لیکن اس تپتی ہوئی یتیم ستمگری میں اجڑے مکانوں کے کھنڈروں پر اکیلا کھڑا ہو کر سوئے فلک کو تکتا تو زار و قطار رونے لگتا۔ نجانے کیا ڈھونڈتا تھا؟ ماں کی پر سکون آغوش، یا باپ کی شفقت کا وہ مضبوط سایہ؟

یا پھر اس شہربان کی وہ تمام چاہتیں اور وہ تمام ہاتھ جن سے ہم آغوش اس کا ہاتھ تھا؟ گردش ایام کو اب اجازت تھی کہ اس کا سب کچھ بگاڑ دے کیونکہ وقت کے ساتھ اپنوں کا وہ محبت بھرا حصار، آہستہ آہستہ اپنا وجود کھونے لگا تھا۔ آج اسے اپنے ہی شہر کی تمام بے مہر گزرگاہیں کسی بے نام و نشان راہوں کا گمان اس لیے دینے لگی تھیں کہ بے حساب بھوک اور تشنگی میں سامنے بہتے مغربی دریا کا وسیع پانی کو وہ دیکھ تو سکتا تھا مگر اس کی پیاسی آنکھیں ان دشمنوں اور امت مسلمہ کے سوئے ہوئے احساس کو جگانے کے لیے شاید ناکافی تھیں۔ پھر ایک صبح دشمن کی بندوق سے نکلنے والی ایک آوارہ گولی اس کم سن اور کمزور مجاہد کی پیاس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بجھا لے گئی۔ وہ چھوٹی سی لاش اٹھانے والوں کے لیے اس لیے بہت بھاری تھی کہ اس کا دل اپنی ہی امت سے کی گئی شکایتوں سے بھرا پڑا تھا اور جسے بس اہل فلسطین کا صبر ہی اٹھا سکی۔

آج اس لاش کا وجود چیخ چیخ کر ایک ہی دہائی دے رہی تھی کہ ”اے وقت کے حکمرانو سنو! یہ منشائے خدا تھی کہ سر شبیرؑ جدا ہوتا۔ بیبیاں ؑ پابند رسن ہوتیں۔ قافلۂ سالار قیدی بنے۔ عون و محمد کا لہو رسے۔ سرء شبیرؑ تشت میں ہو اور سر دربار زینبؑ بنے۔ مگر سنو! کہ آج اسی مقصد کی تکمیل کے لیے غزہ کے ٹیلوں کا انتخاب ہوا۔ آج انہی ٹیلوں پر ماتم ہو رہا ہے بے گورو کفن کا۔ جانشیں حسینؑ، ہم فلسطینی! ظلم کو نہیں روتے۔ ہم روتے ہیں تو حسینؑ کے ماتم زادوں پر۔

امت کے ان کوفیوں پر کہ آج بھی زینبؑ سر بازار ہے اور تم خاموش ہو۔ ہمیں مرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ ہمیں جلا وطن ہونے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ ہمیں فاقوں اور بے سروسامانی میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زندگی سے تمہیں کیا ملتا ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ کتنے احسان فراموش ہو تم؟ ہم اہل فلسطین! مبارک ہو ہمیں کہ آج ہم حسین کے جانشیں ٹھہرے، ہمارا گناہ فقط یہ کہ ہم نبیوں ؑ کے مقصد کے امین بنے مگر افسوس کہ تم نے ہمارے ساتھ برادران یوسف کا سلوک کیا۔ افسوس کہ تم میں سے ہر ایک وہ حر ہے جو ابھی تک لشکر یزید میں ہے“ ۔

Facebook Comments HS