شدت پسندی کا جن بوتل میں کیسے بند ہو گا؟
ایسے لگتا ہے کہ پاکستان ایک گول دائرے میں چل رہا ہے۔ یہ 1985 کے جنرل ضیاء الحق کے دور میں 8 سال کے وقفے سے قائم ہونے والی پارلیمنٹ کا ایوان بالا یعنی سینیٹ تھا۔ چیئرمین غلام اسحاق خان کی صدارت میں اجلاس جاری تھا کہ سینیٹر مولانا کوثر نیازی توجہ دلاؤ نوٹس پر بول رہے تھے۔ مولانا کوثر نیازی کے ہاتھ میں اس روز کا ایک قومی روزنامہ تھا جس میں جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد کے حوالے سے معروف اور مستند ماہر نفسیات ڈاکٹر مبشر حسین ملک کی نگرانی میں تیار کی گئی ایک سروے رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ رپورٹ کا نچوڑ یہ تھا کہ راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم پچاس فیصد سے زائد لوگ سنگین نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔
مولانا کوثر نیازی نے نکتہ اٹھایا کہ راولپنڈی اسلام آباد میں وفاقی وزراء اور سینئر بیوروکریسی بھی رہائش پذیر ہے اس لیے قوی امکان ہے کہ ان میں بھی اگر پچاس فیصد نہیں تو بھی ایک بڑی تعداد نفسیاتی امراض کا شکار ہو۔ اس لیے ایوان کی ایک کمیٹی قائم کی جائے جو اس حوالے سے ماہرین کے ساتھ مل کر صورتحال کا جائزہ لے اور یہ بھی دیکھے کہ وفاقی کابینہ کے کون کون سے ارکان نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں اور یہ کہ کمیٹی صورتحال کے سد باب کا لائحہ عمل بھی تیار کر کے ایوان کے سامنے رکھے۔
میں نے ایک نوجوان پارلیمانی رپورٹر کے طور پر اپنے اخبار کے لیے اس معاملے کی کوریج کی لیکن اگلے ہی روز میں ڈاکٹر مبشر حسین ملک کے سامنے سینٹرل گورنمنٹ ہسپتال (موجودہ بے نظیر بھٹو ہسپتال) جا پہنچا اور رپورٹ کے بارے میں سوال کیا۔ ڈاکٹر مبشر حسین ملک نے رپورٹ کے مندرجات کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے سائنٹفک سروے کو منفی نہ لیا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم پچاس فیصد شہری ذہنی لحاظ سے مکمل صحت مند ہیں یعنی نصف گلاس خالی نہیں بلکہ نصف گلا بھرا ہوا دیکھا جائے تو بات مختلف ہو جائے گی۔
ڈاکٹر مبشر حسین ملک اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن اپنے گرد و پیش کے حالات کو جب دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ صرف راولپنڈی اسلام آباد ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں اب بات پچاس فیصد گلاس خالی سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ نفسیاتی مسائل اب انتہا پسندی اور شدت پسندی سے بھی آگے بڑھ کر جنون کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کی لگائی ہوئی ماچس کی تیلی اب ایک بڑے شعلے کی شکل اختیار کر چکی ہے اور تیزی سے پورے معاشرے کو یہ آگ نگلتی چلی جا رہی ہے۔
آنجہانی بے نظیر بھٹو اپنی تقریروں میں جنرل ضیاء کے دور کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مخصوص آکسفورڈ لہجے میں کلاشنکوف اور ڈرگز کلچر کے فروغ کی بات کرتی تھیں لیکن وقت نے ثابت کیا کہ جنرل ضیاء کے دور کا اصل جرم شدت پسندی تھا جو معاشرے کی جڑوں میں ایسے پھیلایا گیا کہ اب اس سے اگنے والی ہر فصل اور پیدا ہونے والی ہر نسل زہر آلود ہے۔
لاہور کے اچھرہ بازار میں عربی زبان کے ڈیزائن کا لباس پہننے والی خاتون کو جس رد عمل کا سامنا کرنا پڑا اگر نوجوان پولیس افسر شہر بانو موجود نہ ہوتی تو نجانے کیا ہو جاتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شہر بانو ہر جگہ تو نہیں ہو گی۔ کہیں بھی کسی بھی جگہ کوئی بہن، بہو، بیٹی ان جنونیوں کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی روشن خیال قیادت میں قائم کیے جانے والے پاکستان میں بنیاد پرستی اور شدت پسندی کا پہلا ٹیکہ تب لگا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف انتخابی دھاندلی کے الزام کے نام پر چلائی جانے والی احتجاجی تحریک نے ”نظام مصطفیٰ تحریک“ کا نام اختیار کر لیا۔ احتجاجی تحریک چلانے والے 9 جماعتی اتحاد میں انتہائی سیکولر ائر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال اور سرخ پوش خان عبدالغفار خان کے جانشینوں کی نیپ کی متبادل نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بھی شامل تھی جس کی قیادت سردار شیر باز مزاری اور بیگم نسیم ولی خان کر رہے تھے۔ جی ایچ کیو کے سدا بہار نمائندے پیر پگاڑا بھی اس اتحاد کا حصہ تھے۔
نظام مصطفیٰ کے نام پر چلائی جانے تحریک کا زور توڑنے کے لیے وزیر اعظم بھٹو نے جمعہ کی ہفتہ وار تعطیل اور شراب پر پابندی عائد کرنے کا اعلان تو کیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور پھر اگلے گیارہ سال انہوں نے نظام مصطفیٰ کا نعرہ بلند کرنے والے مذہبی عناصر کو چالاکی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
جنرل ضیاء الحق نے وفاقی شرعی عدالت، اسلامی نظریاتی کونسل، جیسے غیر موثر ادارے قائم کرنے کے ساتھ 1973 کے آئین میں ایسی بنیادی تبدیلیاں کر دیں کہ جس سے آئین کا عوامی جمہوری امیج بری طرح مسخ ہو گیا۔ آرٹیکل 62 اور 63 بھی اسی دور کے تحفے ہیں۔ لیکن مسجد و منبر تک محدود رہنے والے مذہبی عناصر کو معاشرے میں بے لگام کرنے اور ان کو ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کا موقع جنرل ضیاء الحق نے ہی فراہم کیا۔ گیارہ سالہ ضیاء دور کے اقدامات اس قدر دور رس تھے کہ خود جنرل ضیاء الحق کا نام 1973 کے آئین سے ان کی موت کے ایک دہائی بعد آئینی ترمیم کے ذریعے نکالا جا سکا۔
جنرل ضیاء کے مذہبی رجحانات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی لوگ ”ککھ پتی“ سے ”کروڑ پتی“ ہو گئے۔ 1985 کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ٹیکسی پر پارلیمنٹ ہاؤس تک آنے والے کئی علماء کو میں نے پجیرو اور پھر لینڈ کروزر تک پہنچتے دیکھا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بلیو ایریا میں کمرشل زمین پر بغیر اجازت تعمیر ہونے والی مساجد کو بھی اسی دور میں قانونی شکل دینے کا عمل شروع ہوا اور آج سی ڈی اے سمیت کسی شہری ادارے کی جرات نہیں کہ آنکھ اٹھا کر بھی ان کی طرف دیکھ سکے۔
افغان جہاد کے نام پر امریکی ڈالروں کے لیے لڑی جانے والی لڑائی جنیوا معاہدے کے بعد ختم ہو رہی تھی تو جنرل ضیاء الحق نے ان تربیت یافتہ جنگجوؤں کو کشمیر کی آزادی کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ گلی محلے میں جہاد کے نام پر بھرتی ہونے لگی اور اسلحہ چلانے کی تربیت کے درجنوں مراکز قائم ہو گئے۔
نائن الیون نے جہاد کے نام پر جاری جنگ و جدل کو بند کرا دیا لیکن تربیت یافتہ عناصر کے پاس اب اپنی بھڑاس نکالنے کا کوئی راستہ نہ بچا تو ان میں سے کم ہی تھے جو اپنے جذبات پر قابو رکھ سکے۔ نتیجہ یہ کہ ان کی بڑی تعداد شمالی اور جنوبی وزیرستان پہنچ کر اپنے ہی سرپرستوں کے خلاف لڑنے کے لیے دستیاب ہو گئی۔
معاملہ یہیں تک نہیں رکا بلکہ اب بھی مختصر مدت کے مقاصد کے لیے ریاستی اداروں نے چھوٹے چھوٹے شدت پسند گروہ قائم کرنے کا سلسلہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری رکھا ہوا ہے اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آتشیں اسلحہ سے تو لیس نہیں لیکن ان کے دماغوں اور دلوں میں ایسا بارود بھر دیا گیا ہے کہ وہ آتشیں نعرے لگاتے ہوئے بظاہر خالی ہاتھ اور ڈنڈوں کی مدد سے گزشتہ حکومتوں کو بری طرح بلیک میل کر چکے ہیں۔
قصور صرف ان لوگوں کا نہیں جو اس شدت پسندی کی جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں بلکہ ان ریاستی اداروں کا بھی ہے جو کبھی ان کو استعمال کرتے اور کبھی ان کے آگے آگے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پولیس اور شہری انتظامیہ کو جس انداز میں ان جنونی عناصر نے آگے لگایا ہے وہ بہت تشویشناک ہے۔ لیکن مقتدر اداروں کے اعلیٰ افسر ان کو احتجاج کے اختتام پر واپسی کے کرائے کے نام پر لفافے بانٹتے نظر آئیں تو کوئی کہہ سکتا اور کیا کر سکتا ہے؟
سوال یہ ہے کہ بہت محنت اور تندہی کے ساتھ بوتل سے نکالا گیا شدت پسندی یہ جن واپس کیسے ڈالا جائے؟ یہ عناصر اب وہ قوت بن چکے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان بھی ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ لاہور میں اچھرہ کے بازار میں خاتون کو ہراساں کرنے کے واقعے کے بعد یہ شدت پسند عناصر ابھی تک چپ نہیں بیٹھے بلکہ سوشل میڈیا ویب سائٹس کے ذریعے اپنے موقف کے حق میں مسلسل دلائل پیش کرتے چلے جا رہے ہیں اور مصر ہیں کہ انہوں نے جو کیا وہ ٹھیک تھا۔
اپنی غلطی پر معذرت کرنے کی بجائے ان افراد نے دباؤ ڈال کر مذکورہ خاتون کو معافی مانگنے پر مجبور کیا۔ وہ تو بھلا ہو نوجوان پولیس افسر شہر بانو کا جس نے کچھ حوصلہ کیا اور خاتون کو مشتعل ہجوم سے بچا کر لے گئی تھی۔ لیکن شہر بانو ہر جگہ تو نہیں ہو گی۔ کیا کوئی اس سوال کا جواب دے گا کہ ایک طرف جب مغرب میں سائنسدان کائنات کی تخلیق کا راز جاننے کے لیے ہوشربا تحقیق کرنے میں مصروف ہیں ایسے میں قوموں کی برادری میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟

