خاموشی (افسانہ)
اندھیرے کمرے میں خامشی اوڑھے وجود میں اچانک اک حرکت ہوئی۔ تو زندگی کا احساس جاگا۔ سانسوں کا شور اس بات کا گواہ تھا، کہ وہ زندہ وجود اس قدر خاموش تھا، جیسے اس میں زندگی کی رمک باقی نہ رہی ہو۔ مگر چلتی سانسوں نے اسے اس خوبصورت قید سے رہا کر کہ سوچوں کی کھڑکی پہ زنگ آلود کواڑ لگا کر واپس تلخ الم میں تڑپتا چھوڑ دیا۔ وہ بے ساختہ چیخ اٹھا :
”نہیں کرنی مجھے تم سے بات، نہیں چاہے مجھے ایسی زندگی جس میں محبت کے علاوہ ہر شے میسر ہو۔ اتنی محنت اور کوششوں سے ملا ہی کیا ہے سوائے اذیت کے“ مہروز اس کا نام سنتے تڑپ اٹھا۔ وہ اس آ واز سے اپنے گزرے وقت کی تلخیوں کو محسوس کرتے، سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔ مہروز کا تعلیم سے لگاؤ اسے ہائر ایجوکیشن تک لے گیا تھا۔ پڑھنے کے علاوہ وہ دیگر تمام سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے دوسرے بھائی زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ لیکن وہ اپنے والد کے کاروبار میں شامل ہو گئے تھے۔
بھائی اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے۔ لیکن مہروز نے تعلیم مکمل کر کے، ایک بہترین فرم میں نوکری حاصل کر کے اپنا آپ منوا لیا تھا۔ تاہم اس کے گھر والوں سے اس کے تعلقات کچھ بہتر تو ہوئے تھے۔ لیکن اسے بہت سی باتیں بھی سننا پڑتی تھیں۔ اس کی وجہ تھی، اس کے تایا کی بیٹی سے محبت، اور تایا جو برسوں سے اس کے والد کی جائیداد پر قابض تھا۔ اس وجہ سے دونوں خاندانوں میں تمام مراسم بند تھے۔ جب مہروز کے گھر والوں پر اس کا اور شیریں معاملہ کھلا تو ہر کوئی اس کے مخالف ہو گیا ماسوائے اس کی والدہ کے۔
مہروز نے بھی ٹھان لی تھی، اپنے بل پہ وہ دونوں خاندانوں میں پھر سے مراسم استوار کرا کے شیریں کو اپنی دلہن بنائے گا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اچانک مہروز کی والدہ کو ایک مہلک بیماری نے آن گھیرا۔ جب مہروز کو اس کی خبر ہوئی کہ اس کی کل کائنات اس کی ماں کو کینسر جیسی دیمک نے آن گھیرا ہے تو اس پہ تو قیامت ہی ٹوٹ پڑی تھی۔ لیکن انھوں نے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی، لیکن وہ ہمت ہار گئی اس بیماری سے لڑ نہ سکی اور مہروز کی دنیا ویران کر گئی۔
اس کے بعد بھابھیوں نے اپنے تیور بدل لیے۔ مہروز کو اپنا کوئی کام کرنا آ تا نہیں تھا۔ کپڑے استری کرنا الماری سیٹ کرنا وقت پہ اس کا کھانا پینا ہر چیز اس کی والدہ کرتی تھی۔ اب اسے ہر چیز میں مشکل پیش آتی تھی۔ دفتر سے کچھ کھا لینا۔ یا اکثر بھول جانا۔ اس کی زندگی میں مشکل میں بڑھ گئی۔ تو کچھ عرصے بعد اس نے شادی کا اصرار کیا۔ تو اس بات سے مزید سب خلاف ہو گئے۔ مہروز کے والد نے کہا شیریں نے علاوہ جہاں کہو شادی کر دیں گے، مگر اس سے کسی صورت ممکن نہیں۔ مگر مہروز اپنی ضد پہ قائم رہا، اور اس کے گھر والے اپنی۔ وقت پانی کے تیز بہتے دھارے کی طرح گزر رہا تھا۔
اسی دوران مہروز کے والد نے خود سے کم عمر لڑکی سے نکاح کر لیا۔ اور بچوں سے الگ ہو گیا۔ مہروز جب گھر والوں سے مایوس ہوا، تو تایا سے جا کر خوب منت سماجت کی۔ اور ان کی ہر خواہش پوری کرنے کی حامی بھری۔ لیکن اس کے تایا کسی صورت نہ مانے۔ اور اس سے الٹا یہ نقصان ہوا۔ مہروز کے تایا نے جلد از جلد شیریں کی شادی کسی بڑے گھرانے میں کرا دی۔ مہروز کی تو دنیا ہی اندھیر ہو گئی۔ اب اس کے لیے اس ملک میں رہنا مشکل ترین ہو گیا تھا۔
مہروز کو لگتا تھا اگر وہ ادھر رہا تو یا تو وہ خود کو ختم کر لے گا۔ یا کسی اور کا خون اس کے سر ہو گا۔ اس سے فرار کی رہ اس نے ڈھونڈی بیرون ملک جانے کی ٹھان لی۔ اس سے کسی کو فرق نہیں پڑتا تھا۔ بہنیں اپنی فرمائشیں پوری کرواتی رہتیں لیکن وہ بھی کبھی نہ چاہتی تھیں کہ اس کی شادی ہو ۔ بہن بھائی خود غرضی کی روش اپنائے اپنا الو سیدھا کرنے میں مگن تھے۔ مہروز حساس طبیعت کا مالک تھا۔ لیکن بلا کا ضدی۔ شیریں کے تصور کے علاوہ وہ ہر شے سے نا آشنا تھا۔ اسے اپنی ہر منزل اس کی طرف جاتی نظر آتی تھی۔ لیکن اس کی ہر کوشش ناکام گئی۔
مہروز جس کمپنی میں کام کرتا تھا۔ ان کے ذریعے ہی اس نے بیرون ملک کا ویزا حاصل کر لیا۔ اور سب چھوڑ کر اپنا بکھرا وجود لیے نئی فضا میں پرواز کر گیا۔ لیکن وہ ہی بات جیسے وہاں سکون میسر نہیں تھا۔ سات سمندر پار بھی اسے بے چینی ہی ملی۔ یہاں اسے دوست کے پاس رہنے کو کمرا مل گیا تھا۔ وہ جس ذہنی اذیت میں تھا۔ اس نے خود کو اس کمرے تک محدود کر لیا۔ ہر وقت سگریٹ نوشی، اداسی، اپنوں کا پرایا پن ہر شے نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس نے ایک سال تک خود کو اس خول میں بند رکھا۔ پھر سائیکڑیس سے علاج کے بعد وہ پھر سے زندگی کی طرف لوٹا۔ اور خود کو کام میں مصروف کر لیا۔
زندگی نے ایک نیا موڑ لیا۔
جب اچانک ایک جانی پہچانی آواز مہروز کے کانوں میں پڑی،
مہروز، میں شیریں بات کر رہی ہوں۔ یہ آواز ماضی کے ہر درد کو جگا گئی تھی۔
مہروز تم ایک بار میری بات تو سنو۔ شیریں تم نے اس وقت میرا ساتھ چھوڑا جب مجھے تمہاری سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ تم اب کیوں آئی ہو۔ مہروز میں تم سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔ میں مجبور ہو گئی تھی۔ شیریں مجبور تو میں تھا تمہاری محبت میں بے بس تو تم نے مجھے کر دیا تھا۔ مگر پھر تم کنارہ کر گئی۔ اب تم کسی اور کی امانت ہو تو کیوں اتنے عرصے بعد معافی مانگنے آئی ہو، تمہیں تو میرا خون بھی معاف تھا۔
مہروز میری ایک بیٹی ہے، اور میری طلاق ہو گئی ہے، ابو کو فالج ہو گیا ہے اس صدمے سے۔ اس تکلیف میں مجھے تمھارا خیال آ یا۔ تو تم سے رابط کرنے کی ہمت کی ہے۔ میری عدت پوری ہو گئی ہے۔ تم واپس آ جاؤ یا مجھے بلا لو۔
شیریں۔
شیریں تم آج بھی اتنی ہی معصوم ہو، لیکن مجھے اب تم سے محبت کے لیے تمہارا ساتھ نہیں چاہیے۔ میں جتنی منزلیں طے کر آ یا ہوں اب کسی کے ساتھ کی طلب نہیں رہی تمہاری بھی نہیں۔ رہی بات تمہاری بیٹی کی تو، میں اس کی ہر ذمہ داری پوری کروں گا۔ ایک ہمدرد بن کر۔ اس سے زیادہ اب میرے اختیار میں نہیں میں ساتھ نبھا سکوں۔
دوسری طرف سے خاموشی سے کال بند کر دی گئی۔
مہروز گہری سوچوں میں ڈوب گیا۔
