ہمارا جغرافیہ ( مزاح)


حدود اربعہ : دیس کے مشرق میں اقتدار کا سمندر ہے اور مغرب میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے ہیں۔ جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، انتقاموں کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں۔ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ مایوسیوں کے کالے باغ بھی قابل ذکر ہیں۔ شمال مغربی کونے میں قرضوں کے کوہ گراں اور ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے صحت افزاء مقامات بھی ہیں۔

پورا خطہ دین کا قلعہ ہے جس میں اسلام کے بیسیوں چھوٹے چھوٹے دائرے ہیں جو ایک دوسرے کو repel کرتے رہتے ہیں۔ یہ دائرے volcano beltپر ہونے کے باعث اکثر آتش فشانی کا شکار رہتے ہیں۔ سیاسی و مذہبی شاہراہوں پر خطرناک موڑوں کی بہتات ہے جس کی وجہ سے ملک ہر وقت کسی نازک موڑ کی زد میں آیا رہتا ہے۔ ایک وسیع پر پیچ، پیج، بھی ہے جس پر پوری قوم بحیثیت مجموعی کبھی اکٹھی نہیں رہی۔ ریاست کے بے شمار مقامات سطح سمندر اور اپنی اوقاتوں سے بلند رہتے ہیں۔ ملک میں جگہ جگہ فکری و تعصبی تجاوزات کے ڈھیر ہیں۔ دیس کے طول و عرض میں متعدد، اینمل فارمز، بھی پائے جاتے ہیں۔

آب و ہوا :منطقہ حارہ میں ہونے کی وجہ سے پورا خطہ طبی، بدنی، اخلاقی، مذہبی، آئینی اور دماغی مزاج میں تیسرے درجے پر خشک اور گرم ہے۔ اسی لیے آب و ہوا یکساں نہیں رہتی۔ کبھی اقتدار کی باد نسیم چلتی ہے تو کبھی شجر اقتدار پت جھڑکا شکار ہوجاتا ہے۔ مخاصمت، حسد، ہوس اور اناؤں کی تیز گرد آلود آندھیاں پورا سال چلتی ہیں۔ سر منڈاتے ہی اولے پڑنے کا امکان بھی رہتا ہے جبکہ گالی گلوچ اور بڑھکوں کے طوفان کا رواج عام ہے۔

الزامات کی سموگ اور دشنام کی آلودگی ہمہ وقت چھائی رہتی ہے۔ ریاست میں متعدد موسم ہیں جن میں دھرنوں کے موسم، ڈھٹائی کے موسم، وعدوں کے موسم، شادیوں کے موسم، کشکول اٹھانے اور بیرونی دوروں کے موسم قابل ذکر ہیں۔ سب سے دل چسپ موسم الیکشن کا موسم ہے جو، جنرل، ہونے کے باعث اپنی مرضی سے آتا اور مرضی سے جاتا ہے۔ ماضی میں اس موسم کا تات مان 45,46 رہتا تھا جو اس بار 47 تک جا پہنچا ہے۔ چند برس قبل، شہاب ثاقب، گرنے کے واقعات بھی دیکھے گئے۔ یہاں کی ہوائیں چراغوں سے بلا کی واقفیت رکھتی ہیں۔

باشندے : دیس میں بڑی تعداد میں بھان متی کے کنبے آباد ہیں جن میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں۔ اکثر باشندے صورت خورشید جیتے ہیں۔ سب سے پر اسرار بندے، آزاد، ہیں جو ایک ہی جست میں کروڑوں کے فاصلے طے کر سکتے ہیں۔ خلائی مخلوق کے ساتھ بیت الخلائی بھی بستی ہے۔ اقتدار اعلیٰ کی تہمت عوام کے سر رہے جبکہ یلغار اعلیٰ کا حق اوپر والوں کو حاصل ہے۔ سیاسی راہ نماؤں کا سیاسی ڈی این اے چند واسطوں سے کسی نہ کسی غیر سیاسی ادارے سے جا ملتا ہے۔

جبکہ آبادی کی اکثریت عربوں، افغانوں اور ترکوں کی اولاد ہونے پر بضد ہے۔ موروثی و عروسی سیاست عام ہے۔ یہاں قدرت نے ہر بڑے کے حصے کے بے وقوف پیدا کر رکھے ہیں۔ یہاں صحافی، ملا، قوم پرست، وکلاء لبرل اور لیڈر سب ہی بے مہار ہیں۔ سیاست دان یو ٹرن اور علماء کرائم نو ٹرن کے قائل ہیں۔ عربی زبان پر جان چھڑکتے ہیں۔ لوگ مقام بیچ کے مکان پیدا کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ یہاں کے تھنک، ٹینک، میں علماء اور خواتین کا پلہ خاصا بھاری ہے۔ کثیر تعداد میں ہیروز، زیروز، نیروز اور منگو کوچوان موجود ہیں۔

بیماریاں۔ اس ریاست کے مکینوں میں متعدد ایمان لیوا بیماریاں پائی جاتی ہیں جن میں رشوت کی شوگر، سمگلنگ کی کلپٹو کریسی، ذخیرہ اندوزی کا کینسر، عدم برداشت کا بلڈ پریشر، خود نمائی کا موتیا، کام چوری کا الزائمر، وعدہ خلافی کا ڈمینشیا، سرخ فیتے کی ٹی بی، سوشل میڈیا کا ایڈز، حکمرانی کی رے بیز، گیس ٹربل، ٹرین ہیمرج، گالی گلوچ کا یرقان اور نا اہلی کا فالج قابل ذکر عوارض ہیں۔ یہاں کا نزلہ محض غریب پہ ہی گرتا ہے۔ لوگ بیماریوں سے کم اور مسیحاؤں کے علاج سے زیادہ مرتے ہیں۔ اہل وطن علاج کو پرہیز سے بہتر سمجھتے ہیں۔

خوراک اور پھل۔ قرض کی مے قومی مشروب ہے۔ قومی اثاثے، قومی خزانے اور کمیشن کھانا عام ہے۔ توشے خانوں پر ہاتھ صاف کرنا بھی مرغوب رہا ہے۔ مکافات عمل کے موجب حالیہ خوراک میں مقدمات بھگتنا، دھکے کھانا، آنسو پینا اور چنے چبانا شامل ہے۔ شرم و حیاء، تحمل، بردباری کی فصلات کا قحط ہے جبکہ ضمیر کی ساری فصل بر آمد کر دی جاتی ہے۔ مشہور عوامی خوراک، چورن، ہے۔ عوام کا خون، گوشت اور کھال سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی امانت ہیں۔

پھلوں میں خربوزہ مرغوب ہے کیونکہ اس کی نسبت سے نئے لوگ پرانوں سے رنگ پکڑتے ہیں۔ آم اپنی گٹھلیوں کے داموں کی بدولت مطلوب ہیں۔ یہاں کی مونگ کی دال حریفوں کے سینوں پہ دلنے کے کام آتی ہے جبکہ مسور مخالفین کے منہ چڑانے میں استعمال ہوتی ہے۔ انگور دانت کھٹے کرنے اور اپنی بیٹی کی وجہ سے خاصے مقبول ہیں۔ البتہ کھجور گرتے ہوؤں کو پھر سے اٹکانے کے موجب پسند نہیں کی جاتی۔ کسی خاص باغ کی مولی اور تھالی کے بینگن بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہاں صبر کا پھل ناپید ہے۔ کریلوں کی تمام اقسام نیم چڑھی ہیں۔ خطے کا مشہور اور اہم پھل کیلا ہے اور اسی نسبت سے ریاست، بنانا سٹیٹ، کہلانے میں حق بجانب ہے۔ کیلے کے چھلکے حریفوں کو پھسلانے کے کام بھی آتے ہیں۔

پیدا وار : کچھ اور پیدا ہو نہ ہو، بیس ہزار بچوں کی یومیہ پیدائش کے ساتھ وطن عزیز دنیا بھر میں نمایاں ہے۔ واحد خطہ ہے جس میں زوجین میں ناچاقیوں کے باوجود مذکورہ پیداوار متاثر نہیں ہوتی۔ یوں ہم بیرونی ممالک میں افرادی قوت کی قلت پوری کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ گندم کا زیادہ اور کنڈم کا کم استعمال ہے۔ ان کے علاوہ اپنے مقامی حریفوں، اسلام اور وطن کے دشمنوں کے لیے گالیوں اور بد دعاؤں کا کثیر ذخیرہ پیدا کرتے ہیں جو بڑی تعداد میں بر آمد کرنے کے بعد بھی ملکی ضرورت کے لیے کافی رہتا ہے۔

انا، نفرت، فتنہ اور ہلہ گلہ کی پیدا وار مثالی ہے۔ برآمدات میں علیل قائدین، افرادی قوت، شرم و حیا، اخلاقی اقدار، احساس زیاں شامل ہیں۔ ماضی میں پٹ سن کی برآمد سے ڈھیر سارا، شر مباد لہ، حاصل ہوا۔ درآمدات میں این جی اوز، فیشن، قرضے، خیرات، مداخلت، بے راہ روی، انٹر نیٹ اور بوٹ پالش شامل ہیں۔ پچھلے چار ماہ میں غریب قوم نوے ارب کی چائے درآمد کر کے پی چکی ہے۔

معدنیات : دیس میں نمک کی کئی کانیں ہیں جہاں سے زخموں پر چھڑکاؤ کے لیے وافر نمک مل جاتا ہے۔ چونا کرنے اور، لگانے، کے کام آتا ہے جبکہ تیل کی قلت عوام کا تیل نکال کر پوری کر لی جاتی ہے۔ گیس کے وسیع ذخائر ہیں جو صرف ٹربل کا موجب ہیں۔ لوہے کے ذخائر کا قومی و نجی ترقی میں، اتفاق، سے کافی ہاتھ رہا ہے۔

کھیل۔ امپائر کو ملائے بغیر کھیلنا کٹھن جانا جاتا ہے۔ شطرنج اور سانپ سیڑھی کے کھیل خاصے مقبول ہیں۔ سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل Blame Game ہے۔ پولیس اور عوام کی آنکھ مچولی پورا سال جاری رہتی ہے۔

قدرتی آفات۔ سیاسی جتھے، علمائے سو، عربی پسند مومن، جاہل عابد، بے عمل عالم، سرکاری ادارے اور کچھ غیر مرئی مخلوقات قدرتی آفات ثابت ہوتی ہیں۔ سیاسی سونامی، مہنگائی کی سونامی، پٹرول اور بجلی بم بھی نمایاں آفات ہیں۔ بجلی کا ملنا محال اور گرنا معمول ہے۔ اسی طرح گیس کا آنا کم اور ہوجانا عام ہے۔ نیب، عدلیہ، میڈیا، پانامے، اقامے، اکاؤنٹس، قرض، مسائل عدت، بغاوت، غداری، سرخ تیلا، امریکی سنڈیاں اور ٹیکس بھی انھیں آفات کا حصہ ہیں۔

مشہور شہر اور مقامات۔ مذہبی مقامات میں چنددربار اور کچھ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد مشہور ہیں۔ مشہور شہروں میں ٹیکس لاء، انتقام آباد، یوٹرن سٹی، این آر او وال، کما لیا، ڈیرہ قاضی خان، عسکری وال، لارا لائی، متنفر گڑھ، لیا ہور، لٹکانہ صاحب، پاپوش نگر، حریف مار خان، فیض آباد، پیش آور اور دو جڑواں قصبے صادق آباد اور امین آباد اہم ہیں۔

جنگلی حیات : دیس میں ہر شاخ پر کئی کئی الو بیٹھے پائے جاتے ہیں۔ مگر مچھوں کی بھرمار، سفید ہاتھیوں کی کھیپ، شوخ بندروں کے غول، بھیڑوں کے ریوڑ اور کاہل گدھوں کے انبار قابل ذکر ہیں۔ اکثر بلیاں تھیلوں میں بند ہوتی ہیں تاہم کھلی بلیوں کے بھاگوں اکثر چھینکے ٹوٹتے رہتے ہیں۔ چونکہ ہر بلی کو نیک بننے کے لئے نو، نو سو چوہے درکار ہوتے ہیں لہٰذا چوہے یہاں نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ Doves ناپید اور Hawks بڑھتے جا رہے ہیں۔

اقبال کا شاہین تو مدت ہوئی اڑ چکا اور مرغ چمن کی جگہ برائلر اور لیئر لے چکے۔ کولہو کے بیل بھی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اکثر کوے ہنس کی چال چلتے ہیں۔ ٹریڈنگ کے لیے اہم اور قیمتی جانور گھوڑا ہے جس کی دیکھ بھال اور تربیت، اصطبلشمنٹ، کرتی ہے۔ شیر نحیف اور بدنام ہیں جبکہ ٹائیگر ہر حال میں سنسنی پھیلانے کے در پے ہیں۔ ڈینگی تو اب قومی مچھر بن چکا ہے۔ یہاں کے اونٹ کی کوئی کل سیدھی ہے نہ اس کی کروٹ کی بابت اندازے ممکن ہیں۔ شکاری کتے عام ہیں جبکہ آوارہ کتے محض، گوشت کے مراکز، پر گھورتے دیکھے جا سکتے ہیں لہٰذا آواز سگاں کی بازگشت ہمیشہ سنائی دیتی رہتی ہے۔ انسانوں کے اس ہجوم میں مختلف الانواع کے سانپ بھی ہیں مگر ان کی سبھی اقسام زہریلی نہ ہیں۔

ادبی اور کہاوتی ورثہ۔ اگرچہ سیاست اور ادب کا اٹ کتے کا ویر ہے تاہم ادبی حوالے سے اہل سیاست قدرے ذوق رکھتے ہیں۔ میڈا سائیں اور عمرانی رویوں پہ ریحامی و حاجری کتابیں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سرکار کا فیورٹ راگ، درباری، جبکہ اپوزیشن کا پسندیدہ راگ، دیپک ہے۔ ڈرامے اور فلمیں بھی اہم ہیں جن میں خان دا کھڑاک، وحشی شیخ، میاں ان ٹربل، نیب دا ویر، اتھرا میڈیا، شریف بزدار، چٹا کبوتر، ٹھگز آف پاکستان شامل ہیں۔

سیاسی کہاوتوں میں مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں بلایا، ٹریکٹر ٹرالی، ، لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو، قرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کوئی شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے، 35 پنکچرز، دھاندلی، پیرنی مرید، روٹی کپڑا مکان، ڈیزل، پن دی سری، بابا رحمتا، تاریخی دھرنے، گو نواز گو، گھڑی چور، نک دا کوکا، پروگرام تو وڑ گیا، حافظ سوہن حلوہ، فارم 47 نا قابل فراموش اصطلاحات ہیں۔ البتہ ماضی کی مشہور کہاوت، میرے عزیز ہم وطنو، السلام علیکم، کو باضابطہ طور پر سنے ایک عرصہ بیت گیا ہے۔

Facebook Comments HS