افسانہ نجو اور آپا


دوپہر کا وقت تھا۔ چھتی گلی میں سناٹے کا راج تھا۔ اس گلی کے تقریباً سب مکانوں کی آمنے سامنے سے چھتیں ملی ہوئی تھیں۔ اس لیے چھتی گلی کے نام سے مشہور ہو گئی۔ ابھی سارے گھروں کے دروازے بند تھے۔ سوائے نجو کے گھر کے۔

نجو کون تھی؟ کہاں کی رہنے والی تھی؟

کوئی ٹھیک سے نہیں جانتا تھا۔ وہ جب بھی اپنی کہانی سناتی تو ہر بار ایک نئی جگہ اور نئے رشتے کا اضافہ ہوا ہوتا۔ ہاں ایک بات پر سب کا یقین تھا کہ نجو کی شادی نہیں ہوئی۔ اس نے شادی کیوں نہیں کی یہ بھی وہ کبھی ٹھیک سے نہ بتاتی۔ کبھی کہتی بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ والدین کی ساتویں اولاد تھی۔ میرے والدین کو کبھی میری کبھی خبر ہی نہ ہوئی۔ کیسی پلی بڑھی جوان ہوئی۔ خدا نے میرا رزق درباروں کی چوکھٹ پر لکھا تھا۔ ہمیشہ پیٹ کا جہنم لنگر نیاز سے بھرا۔ یوں میرا اوڑھنا بچھونا دربار ہو گئے۔ زندگی میں جو کچھ ملا اللہ نے اپنے کسی نیک بندے کی دہلیز سے عطا کیا۔ پھر کاہے کے ماں باپ، کاہے کے بہن بھائی۔ میرے سارے رشتے ناتے یہیں آنے جانے والوں سے بنے۔

چھتی گلی والی آپا بھی نجو کو لاہور کے مضافات میں ایک دربار پر ملیں۔ تین چار جمعرات ملاقات میں دونوں کی ایسی دوستی ہوئی کہ آپا نجو کو اپنے ساتھ گھر لے آئیں۔ اس سے پہلے وہ کرائے کے ایک کمرے میں اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ رہتی تھی۔ نجانے آپا کو اس کی کیا بات من کو بھائی کہ گھر لے آئیں۔ حالانکہ دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ہاں آپا جب اسے ساتھ لائیں تو اس سے ایک بات ضرور کہی محلے میں زیادہ میل ملاپ رکھنے میں گریز رکھنا اور اپنے کام سے کام رکھنا۔

وہ آپا کی بات پلو سے باندھ کر بھول ہی گئی۔ کوئی ہمسائی گھر چلی آتی تو خوش اخلاقی برتتے پٹری سے اترتے دیر نہ لگاتی۔ اس کی یہی عادت آپا کو بری لگتی جو ہر ایک سے فری ہو جاتی۔ آپا کے پاس رہتے اسے چار سال ہو چلے تھے۔ اسے یہ سادہ اور کمزور دل آپا بہت اچھی لگتی۔ جو ایک ہلکی آہٹ ہونے پر سہم جاتی۔ نجو کا وجود آپا کے لیے بہت بڑی ڈھارس تھی۔ آپا کے دونوں بیٹے بھی اس کے جیسے شریف اور سادہ تھے۔ بڑا ایف ایس سی کر رہا تھا۔ چھوٹا میٹرک میں تھا۔ دونوں کا وقت اکیڈمی کے ٹیسٹ یاد کرتے اور نبٹاتے گزرتا۔ وہ اپنے باپ جیسے اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے۔ نہ زیادہ شور شرابا کرتے۔ نہ فضول گوئی کے عادی تھے۔ باپ کی موت کا انہوں نے خاصا اثر لیا۔ پہلے سی شرارتیں کہیں کھو گئی تھیں۔ آپا بھی اب زیادہ تر وقت پنج سورۃ پکڑے رکھتی اور پڑھ پڑھ کے مرحوم شوہر کو بخشتی اور محلے میں جہاں مجلس یا محفل میلاد ہوتا تو سب سے پہلے تیار ہو کر پہنچ جاتی۔ نجو بھی آپا کے ساتھ ان محفلوں میں ضرور شریک ہوتی۔

پہلی بار محلے میں کسی کے گھر میلاد پر گئی تو کہنے لگی۔

”ہائے آپا میلاد پر کیا مزے کا کھانا ملا ہے سچ پوچھو دربار کے لنگر میں سوائے دال کے کوئی ڈھنگ کی چیز نہیں ہوتی“ ۔

اس کے منہ میں جو آتا بول دیتی۔ زیادہ سوچنے سمجھنے اسے عادت نہیں تھی۔ اس پر نہ گرمی کی شدت کا اثر ہوتا نہ سردی کی۔ وہ زیادہ دیر تک گھر ٹک کر بیٹھ نہیں سکتی تھی۔ اسے دنیا جہاں کے دکھ درد اور کام دوپہر کو یاد آتے۔ ابھی بھی وہ دروازہ کھولے باہر جھانک رہی تھی۔

”نجو کیوں دروازے سے چپکی کھڑی ہے؟“

آپا کو اس کا دروازے سے میں کھڑا ہونا بہت برا لگتا۔ جب دیکھو دروازے سے لگ کر گلی کے دائیں بائیں دیکھتی رہتی۔ جیسے کوئی گمشدہ چیز یا انسان آنے کا انتظار کر رہی ہو۔

”آپا کوئی بچہ دیکھ رہی ہوں۔ ہیئر کلر منگوانا ہے۔“
”تو خود چلی جا، تیرا کون سا پردہ ہے۔“
”پردہ تو کوئی نہیں آپا، بس باہر نکلنے کا جی نہیں کر رہا۔“
اتنے میں ایک بچہ سائیکل پر گلیوں کی مٹرگشت کرتا ادھر چلا آیا۔
”چھوٹے بات سن، یہ شانی کی دکان سے گیارہ نمبر ہیئر کلر کی ٹیوب تو لا دے۔“
بچہ ماتھے سے بال پیچھے کرتے ایک منٹ رکا پھر یہ جا وہ جا۔
”بدتمیز کہیں کا ہنہہہ“
”تیرے بال تو اچھے خاصے رنگے ہیں۔ اور رنگنے کی کیا ضرورت ہے؟“

”آپا تو ان باریکیوں کو نہیں جانتی۔ فریش لک کے لیے ضروری ہے۔ کل بانو بی کی طرف میلاد ہے۔ تو جانتی ہے وہاں سب محلے والیاں ایک سے بڑھ کے ایک تیار ہو کے جائیں گی۔ میں بھی تھوڑی تیاری کر لوں۔ وہ دیوار سے لگے شیشے کے سامنے کھڑی ہو کے تھریڈنگ کرنے لگی۔“ لا آپا تیرے بھی اپر لپس صاف کر دوں، کتنی جھاڑیاں بنائی پھرتی ہے۔ وہ دھاگہ لیے آپا کے قریب چلی آئی۔

”چل ہٹ، میرے قریب نہیں آنا۔ ساری زندگی یہ واہیات کام نہ کیے۔ اب اس عمر میں کرتی اچھی لگتی ہوں“ ۔
”اچھا آپا طعنے مت دے۔ تو اپنے چہرے کی جھاڑیاں سنبھالی رکھ، تیرے سے بڑی بور بیوہ کہیں نہیں دیکھی“
وہ پھر شیشے کے سامنے چلی گئی۔
”کم بخت تو میری بیوگی کا مذاق بنا کر اچھا نہیں کرتی“
دونوں بہنیں سارا دن یوں ہی الجھتی رہتیں۔

آپا اب بھی وہ بانو کی طرف محفل میلاد میں جانے کو تیار کھڑی نجو کا انتظار کر رہی تھی۔ جو کبھی وقت پر تیار نہیں ہوئی تھی۔ اس کی عادت تھی وہ ہمیشہ آخر وقت محفل میں پہنچتی۔

”نجو! اری نجو کہاں رہ گئی؟“
”جلدی کر، گھنٹہ ہو گیا محفل شروع ہوئے۔“
”آپا بس آ رہی۔ قمیض پہ ہلکی سی استری مار لوں۔“
”شرم کر نجو، کبھی کہیں وقت پر نہ پہنچنا“
”آپا تو آہستہ آہستہ چل میں بس تیرے پیچھے پیچھے آئی۔“
وہ جلدی جلدی قمیض پر استری پھیرتے بولی۔

پڑوس میں بانو کے ہاں محفل میلاد تھی۔ محلے کی سب عورتیں مدعو تھیں۔ بانو اکثر و بیشتر ایسی محفلیں سجاتی رہتی تھی۔ لیکن یہ بڑا میلاد تب کرواتی جب عمرے یا حج پر جانا ہوتا۔ حج پر گئے تو کافی عرصہ ہو چلا تھا۔ ہاں عمرے پر وہ سال میں ایک دفعہ ضرور جاتی۔ جانے سے پہلے سب رشتے داروں اور ہمسائیوں کو خود گھر گھر جا کر دعوت نامے دیتی۔ بھلا ہو واٹس ایپ کا جب سے آیا تھا۔ بیٹی کو کہہ کر ایک اشتہار بنوا کر سب کے نمبروں پر بلاوا بھیج دیتی۔

پہلے پہل کچھ نے منہ بنائے۔ گھر آ کے دعوت کیوں نہ دی۔ یہ کیا طریقہ ہوا۔ ہم غیر ہیں جو میسج پر نپٹا لیا۔ آہستہ آہستہ سب عادی ہو گئے۔ خود بھی اس طریقہ کار پر چلنے لگے۔ بانو کے عمرے کے میلاد بہت مشہور تھے۔ جس کو نہ بھی بلاتی وہ بھی چلی آتی۔ آخر اتنا لذیذ مٹن قورمہ اور گڑ والے چاول کس کافر کو اچھے نہیں لگتے۔ بن بلائی عورتوں کی شان میں جو قصیدہ خوانی بانو پیٹھ پیچھے کرتیں۔ وہ سن لیتیں تو وہ شرم سے ڈوب مرنے کے بجائے اس کے سر پر ایک بال نہ چھوڑتیں۔

نجو جب بانو کی طرف آئی تو محفل اپنے عروج پر تھی۔ ایک عورت کہنے لگی۔ ”دیکھو نیاز کھانے اور لوٹنے والیاں نیاز کے ٹائم ہی آتی ہیں۔“

تین چار لڑکیاں تخت پوش پر بیٹھیں تھکی سی ڈفلی کی تھاپ پر نعتیں پڑھ رہی تھیں۔ ڈفلی ان کے بالکل پاس نیچے زمین پر ایک عمر رسیدہ عورت بجا رہی تھی۔ وہ شاید ان لڑکیوں کی ماں تھی۔

وہ ڈفلی چھوڑ کر پیسے اکٹھے کرنے لگتی۔ تو لڑکیاں ایک دوسرے کو دیکھ کر سر ہلاتیں۔

وہ عورت کو سمجھا سمجھا کر تھک گئیں کہ پیسے کہیں بھاگے نہیں جاتے۔ تم دھیان سے ڈفلی بجایا کرو۔ لیکن وہ پیسے دیکھ کر سب بھول بھال جاتی۔

”ہائے یہ پڑھنے والیوں کے ساتھ کون سا عجوبہ آیا ہے؟ کتنی بے سری ڈف بجا رہی ہے۔“ نجو ساتھ والی عورت سے کہنے لگی۔

وہ جو ڈفلی کی چھن چھن پر جھوم رہی تھی۔
ہکا بکا نجو کی شکل دیکھنے لگی۔

اور نجو کبھی جھومنے والیوں کو دیکھتی کبھی بانو کی بیٹیوں بہو کو۔ جو مردوں کی طرح پڑھنے والیوں پر پیسے لٹا رہی تھیں۔

اتنے میں بانو جس نے سفید رنگ کا موتیوں والا لباس پہنا تھا۔ وہ پھولوں کا سہرا دونوں ہاتھ میں لیے کمرے سے باہر آئی۔ سب عورتیں تعظیما ً اٹھ کھڑی ہوئیں۔

اتنے میں نجو ہانپتی کانپتی آپا کے پاس آن پہنچیں۔
نجو بانو کو دیکھ کر توبہ توبہ کرنے لگی۔

”ویسے آپا یہ اچھا مذہبی فیشن ہے۔ سر کو لپیٹو اور سینہ تان کر چلتی پھرو۔ اب عمر رسیدہ عورتیں بھی حجاب سے کافی متاثر ہیں۔ ایک چادر کے چنگل سے آزادی ملی دوسرا جی بھر کے میک اپ کیا۔ اور پھر حجابی بھی بن گئیں۔ فیشن کا فیشن اور مسلم کی مسلم رہیں۔“

سچ بتا آپا ایسا ہی ہے نا؟
”بڑی جلدی پہنچ گئی“
”آپا بڑی دیر کی آئی ہوں۔ بس تیرا طنز کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نکل نہ جائے۔“

”اللہ اتنی جلدی محفل ختم ہو رہی۔ ابھی شروع ہوئے گھنٹہ تو ہوا ہے۔ اتنی جلدی کاہے کی ہے؟ لڑکیوں نے آخری سلام پڑھنا شروع کیا تو نجو کو فکر ہونے لگی۔

پاس بیٹھی ایک عورت بولی ”فلیٹ کے ٹیم کی وجہ سے، باجی جلدی جلدی سب سمیٹ رہی۔“
”ہہہہنہ فلیٹ کا ٹیم۔“

”رب سوہنا بھی کیسی کیسی شکلیں اپنے در پر بلاتا ہے۔“ وہ بانو کو دیکھ کر منہ چڑانے لگی۔ آپا اس کے منہ کے بدلتے زاویے دیکھ کر گھبرا گئیں۔ کہیں کوئی دیکھ لے تو کیا کہے گا۔

”نجو! ہوش کر، سٹھیا گئی ہے، منہ تو سیدھا کر، کسی نے دیکھ لیا تو کہیں گے حسد کرتی ہے۔“
”کہتے پھریں۔ میں کسی سے نہیں ڈرتی۔“
”آپا تو خود انصاف کی بات کر۔
”اچھا چل چپ گھر چل کے سارے انصاف کرنا۔“
وہ اس کا ہاتھ دباتے اور آنکھیں نکالتی چپ کروانے لگیں۔
ویسے آپا انصاف کی بات کر۔
اب آدھی رات کو تیرے کون سے انصاف جاگ گئے نجو۔ سو جا تنگ نہ کر۔ آپا نے کروٹ لی۔
چل دل چھوٹا نہ کر۔ ایک دن تو بھی سوہنے کے گھر جائے گی۔

پتا نہیں نجو جاؤں گی یا ہم غریب یوں ہی حسرت لیے دنیا سے چلے جائیں گے۔ دیکھ ذرا بانو بی ہر سال عمرے پر جاتی ہے۔

ارے آپا وہی نا اس کی ہی بات کر رہی تھی۔ اب انصاف کی بات کر تو بھی مالدار بیوہ ہوتی تو عیش کرتی مجھے بھی کرواتی۔ سچ غریب کی بیوگی بھی ذلالت ہے۔

ہاں، ہاں۔ نہیں نہیں، توبہ کر توبہ نجو۔ کیا اول فول بکے جا رہی ہے۔
آپا نے دوسری طرف کروٹ لی اور دیوار کے اکھڑے پلستر میں عجیب و غریب شکلیں بناتے گہری سوچ میں گم بولی۔
”نجو کہتی تو ٹھیک ہے غریب کی بیوہ ہونا نری ذلالت ہے“ ۔

Facebook Comments HS