صدارتی الیکشن اور زرداری: ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے


چاروں صوبوں اور وفاق میں حکومتوں کی تشکیل ہو چکی ہے۔ اس تشکیل سے بادی النظر میں یہی دکھائی دے رہا ہے کہ 8 فروری کے انتخابی نتائج تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ ایوان میں مفاہمتی رویہ اختیار کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن عوام کو متحرک رکھنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اسمبلیوں اور اپنی پریس گفتگو میں شعلہ بیانی ہوتی رہے گی۔ مگر پارلیمنٹ میں معمول کی کارروائی جاری رہے گی۔ خیبرپختونخوا میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی حکومت کو تحمل مزاجی سے کام لینا پڑے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھلے جارح مزاج ہوں لیکن کامیاب حکومت چلانے کے لیے انہیں تحمل مزاجی اختیار کرنی پڑے گی۔ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں 9 مئی کے مقدمات ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آرز درج کرنے والے اپنی اصلاح کر لیں یا سزا کے لیے تیار رہیں۔ اس حوالے سے قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر اسمبلیوں کو مستقل سیاسی اکھاڑا بنایا گیا اور دانش مندی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبوں میں گورنر راج نافذ کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔

مارچ 1973 ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ سے نیشنل عوامی پارٹی کو مفلوج کر دیا تھا اور جوڑ توڑ کر کے وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم کردی تھی۔ چونکہ ابھی تو نئی صوبائی حکومت کو وجود میں آئے چند روز ہی گزرے ہیں ’اس لیے حکمرانوں سے مفاہمانہ رویے اختیار کرنے کی امیدیں وابستہ ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کی صورت میں ہی صوبہ بہتر طور پر آگے بڑھے گا۔

گزشتہ دور حکومت سیاسی مخاصمت کی نذر ہو چکا ہے ’اس لیے نئے دور حکومت میں حکومت اور اپوزیشن کو مفاہمتی رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس سلسلے سے پہل کرتے ہوئے اپوزیشن کو میثاق معیشت اور میثاق مفاہمت کی دعوت دی ہے جو انتہائی خوش آئند بات ہے۔ اپوزیشن کو بھی مفاہمانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اپوزیشن کو الیکشن نتائج کے حوالے سے جو تحفظات ہیں ان کے متعلق دونوں فریق مل بیٹھیں۔

وزیراعظم اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے الیکشن کمیشن سے فارم 45‘ 46 اور 47 کی شفافیت کے بارے میں جائزہ رپورٹ حاصل کریں اور الیکشن کمیشن کی مشاورت سے کوئی متفقہ فارمولہ تیار کیا جائے۔ نو منتخب وزیر اعظم کو قومی اسمبلی کے تمام اجلاس میں شریک ہونا چاہیے۔ عوام کو وسائل کی بہتر فراہمی کے لیے نئے صوبے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں آئین کے آرٹیکل 1 سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم کو لوکل گورنمنٹ کے نظام پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کا آغاز پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات سے کیا جا نا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کی معاونت بھی یقینی بناتے ہوئے ان اقدامات سے ملک میں کشیدگی کی فضا ختم ہو سکتی ہے اور اپوزیشن بھی سنجیدہ رویہ اختیار کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان تمام انتخابی عذر داریوں کو فوری طور پر الیکشن ٹربیونلز کو تفویض کر کے انہیں ایک مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے کا پابند بنا سکتا ہے۔ چونکہ الیکشن ٹربیونلز کے ججز کا تعلق ہائی کورٹس سے ہوتا ہے ’لہٰذا اس ضمن میں متعلقہ چیف جسٹس صاحبان سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ الیکشن ٹربیونلز کو مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے کا پابند بنائیں۔ الیکشن ٹربیونلز کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے سپریم کورٹ کا فورم موجود ہے‘ وہاں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ اس سے الیکشن نتائج کے حوالے تنازعات کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلٰی کا انتخاب مکمل ہونے کے بعد اب 9 مارچ کو ہونے والے صدارتی انتخاب کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور الیکشن کمیشن نے صدارت کے عہدے کے لیے امیدواروں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اگرچہ موجودہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی مدت گزشتہ سال ستمبر میں پوری ہو گئی تھی تاہم صدر کا حلقہ انتخاب جو سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوتا ہے کے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے صدارتی انتخابات موخر ہو گئے تھے۔ آئین کے تحت انتخابات کے 30 دن کے اندر صدارتی انتخاب کروانا ضروری ہے۔

صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ صبح 10 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک ہو گی۔ آصف زرداری پاکستان مسلم لیگ نواز کے معاہدے کے نتیجے میں حکمران اتحاد کے مشترکہ امیدوار ہیں جب کہ محمود اچکزئی کو سنی اتحاد کونسل نے اس وقت اپنا امیدوار مقرر کیا جب انہوں نے نو منتخب اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں عمران خان کے حق میں تقریر کی۔ اگرچہ سنی اتحاد کونسل اس عزم کا اظہار کر رہی ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں بھرپور مقابلہ کرے گی تاہم امکان ہے کہ حکومتی اتحاد جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ قائداعظم اور تحریک استحکام پاکستان شامل ہیں اگر کوئی انہونی نہ ہوئی تو بہ آسانی آصف زرداری کو دوسری مرتبہ صدر منتخب کروا لیں گے۔ آصف زرداری اس سے پہلے 2008 سے 2013 تک پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں۔ اب تک تو انہوں نے جس طرف رخ کیا تو بقول فیض احمد فیض:

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

صدر مملکت کا انتخاب وزیر اعظم یا کسی اور آئینی عہدے کے انتخاب سے زیادہ وسعت کا حامل ہے۔ تمام صوبائی اسمبلیاں صدارتی انتخاب میں مساوی حیثیت کی حامل ہوتی ہیں۔ رواں ماہ تمام ایوانوں کے 1100 سے زائد اراکین صدر کے انتخاب میں حصہ لیں گے ’تاہم تمام منتخب اراکین کے ووٹوں کا وزن برابر نہیں ہو گا۔ آئین کے تحت تمام صوبائی اسمبلیوں کے ووٹوں کو سب سے چھوٹی صوبائی اسمبلی (بلوچستان) کی مجموعی طاقت سے تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے تمام 371 ووٹوں کو بلوچستان اسمبلی کے 65 ووٹوں سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی کے 5.71 ووٹ صدارتی انتخاب میں ایک ووٹ کا درجہ رکھتے ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ایک ووٹ ایک ہی گنا جاتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت سینیٹ کے 100 اور قومی اسمبلی کے 336 اراکین کا صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ شمار ہو گا۔ بلوچستان کے 65 اراکین کا صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ شمار ہو گا۔ 371 کے ایوان میں پنجاب کے 5.7 اراکین کا ایک صدارتی ووٹ تصور ہو گا۔ 168 کے ایوان میں سندھ کے 2.6 اراکین کا ایک ووٹ تصور ہو گا۔ 145 کے ایوان میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے 2.2 اراکین کا ایک ووٹ تصور ہو گا۔

پاکستان کے صدارتی انتخاب کے عمل میں شامل ایوانوں کے حالیہ اراکین کے مطابق اس وقت سینیٹ کے مجموعی ووٹ 95 ہیں، قومی اسمبلی کے 334، پنجاب کے 339، سندھ کے 163، اور خیبر پختونخوا کے 116 ووٹ ہیں، اسی طرح بلوچستان اسمبلی کے کل 65 اراکین میں سے اس وقت 62 موجود ہیں۔ اگر وزیراعظم اور وزرائے اعلٰی کو ملنے والے ووٹوں کی شرح سے اندازہ لگایا جائے تو حکومتی اتحاد کے امیدوار آصف علی زرداری کو صدارتی انتخاب کے لیے دستیاب 1109 ووٹوں میں سے 600 کے قریب ووٹ ملنے چاہئیں جن میں سینیٹ کے حکومتی اتحادیوں کے 50 ووٹ بھی شامل ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے قریبی حلقے دعوٰی کر رہے ہیں کہ انہیں اب تک 345 پارلیمنٹیرینز نے حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پارٹی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق آصف زرداری کی کامیابی کے لیے مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، بلوچستان عوامی پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی نے حمایت کا یقین دلایا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر ہوں گے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سینیٹ اور قومی اسمبلی میں صدارتی الیکشن کے لیے پریزائیڈنگ افسر مقرر کیے گئے ہیں۔

Facebook Comments HS