چار اپریل 1979 سے 6 مارچ 2024 تک


پاکستان کے سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اس وقت اٹھایا جب ملک دو لخت ہو چکا تھا انہوں نے اس بچے کچھے پاکستان کو اپنے سیاسی تدبر سے ایٹمی قوت بنایا وہ پاک چین دوستی کے معمار تھے اور اسلامی ممالک کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے۔ 1974 میں لاہور میں ہونے والی اسلامی سر براہی کانفرنس میں ان کا کردار رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ دیگر ہمسایہ ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور رواداری ان کی مخلصانہ کاوشوں میں اہمیت کے حامل ہیں۔

ملک کے معاشی حب کراچی میں اسٹیل ملز کا قیام اور بیمار صنعتوں کو فعال کرنا، مزدوروں کے بنیادی حقوق کی حفاظت اور انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن دینا مفت تعلیم اور سرکاری ملازمین کے مفادات کا تحفظ سمیت معاشی اصلاحات، مزدوروں کے لیے یونین سازی کی سہولت، طلباء کے حقوق کا تحفظ، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا۔ اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو متفقہ آئین دینا۔ یہ بھٹو صاحب کی کرشماتی شخصیت کا ہی اعجاز تھا کہ انہوں نے محکوم طبقات کو بولنا سکھایا ان کے حقوق کے لیے آخری دم تک لڑتے رہے انہوں نے غریبوں کو عزت نفس دیا اور انہیں مراعات یافتہ طبقے کے سامنے سر اٹھا کر چلنا سکھایا مجھے وہ اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو کی عملی تفسیر لگتے تھے پیشے کے اعتبار سے آپ وکیل تھے انہوں نے دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور اپنی زندگی کے ہر مقدمے میں کامیاب رہے جس مقدمے میں انہیں پھانسی دی گئی اس کے سات رکنی بینچ کے چار ججز نے ان کے خلاف فیصلہ دیا اور تین ججز نے بھٹو صاحب کے حق میں فیصلہ دیا اگر ہم اس کے تاریخی پس منظر میں جائیں اور اس وقت کے حالات کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت ان کے خلاف عالمی سطح کی سازشیں ہو رہی تھیں اور ان کا دائرہ ء کار بہت وسیع تھا پی این اے نامی اتحاد نے ان 1977 میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ان کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی مہم شروع کی جو مارشل لاء پر جاکر اختتام پذیر ہوئی جس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا اور اس وقت حال ہی میں تعینات ہونے والے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیاء الحق نے آئین معطل کر کے ملک میں مارشل لاء لگا دیا اور نوے دن میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا دوسری جانب عوامی سطح پر بھٹو صاحب کی کرشماتی شخصیت کچھ اور بھی سوا ہو گئی تھی اور نہ صرف پیپلز پارٹی کے کارکنان اور حامی ملک میں احتجاج کر رہے تھے بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے گئے دنیا کے بیشتر ممالک نے ان کے خلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا لیکن مارشل لاء رجیم نے کسی کی نہ سنی اس زمانے میں سرکاری ٹی وی پر پیپلز پارٹی کا نام لینے پر بھی پابندی عائد تھی۔

پی پی پی کے حامیوں کا دار و مدار غیر ملکی میڈیا پر تھا جس میں سر فہرست بی بی سی کی اردو سروس کا مقبول پروگرام سیر بین تھا تاہم پاکستان میں امن اور مساوات جیسے اخبارات بھی تھے جو پرو بھٹو سمجھتے تھے لیکن جس انداز میں بھٹو صاحب کے حامیوں کے ساتھ سلوک کیا جا رہا تھا اس کے بعد اہل دانش کو ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی ابہام نہ تھا۔ مولوی مشتاق اس بینچ کے سربراہ تھے جس نے بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سنائی تھی ان کی بھٹو صاحب سے دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی اس ماحول میں انصاف کی توقع رکھنا عبث تھا۔

بہر حال 3 ستمبر 1977 کو پہلی بار تعزیرات پاکستان کے تحت بھٹو صاحب نواب احمد رضا خان قصوری قتل کیس میں گرفتار کیا گیا اور 1978 میں ان پر باضابطہ طور فرد جرم عائد کی گئی اتفاق سے یہ بھی مارچ کا مہینہ ہے جس میں ان کے سیاسی قتل کی از سر نو سماعت ہوئی اور عدالت نے چوالیس سال بعد یہ قرار دیا کہ ان کے مقدمے کی شفافیت کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ پاکستان کے سیاسی حالات کے تناظر میں یہ کہنا بہت ہی مشکل ہے کہ کسی ہائی پروفائل مقدمے میں متاثرین و لواحقین کو انصاف میسر آ سکے۔

Facebook Comments HS