کثیر اللسانی تعلیم بین النسلی تربیت کا ایک قوی ستون


کثیر اللسانی تعلیم کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ جس کے ذریعے سے ثقافتوں کی ترویج ہوتی ہے اور یہ ثقافتیں معدومیت کے خطرے سے تحفظ پاتے ہیں۔ اس سے انسانی زندگی میں سماجی تسلسل قائم رہتا ہے۔ اس طرح سے یہ قیمتی ثقافتی ورثہ علم کی صورت میں اگلی نسل کو منتقل ہوجاتی ہے جو کہ صدیوں کے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ ہے۔ اس ثقافتی ورثہ میں، مذہبی، معاشرتی رسوم و رواج سے لے کر کمیونٹی کے تصور و خیالات تک شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کو محفوظ کرنے کے پیچھے ایک قومی فریضہ اور نسلوں کا مفاد مدنظر رہتا ہے کہ جو معلومات اور ثقافتی علم ہمارے آباؤ اجداد کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہے وہ اگلی نسلوں کو منتقل ہوجائیں۔ اس طرح سے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ماضی کے تجربات کو بنیاد بنا کر کوئی بہتر تجربہ کیا جا سکے۔ کثیر اللسانی تعلیم کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک بچہ یا بچی اپنے گھر میں سیکھی ہوئی زبان کو بنیاد بنا کر دوسری زبان اور علم حاصل کر سکیں۔

جب سکول میں تعلیم کی بنیاد گھر میں بولی جانے والی زبان اور اردگرد میں موجود ماحول کے مطابق ہوگی تو ایک بچے کو شروع میں ہی اچھے طریقے سے سیکھنے، مشاہدہ کرنے، اور حاصل کیے ہوئے علم کو اظہار کرنے میں مشکلات کا سامنا نہیں ہو گا اور بچہ بغیر ہچکچاہٹ کے سکول کی سرگرمیوں میں مشغول ہو جائے گا۔ اس سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار آئے گا۔

ماہرین تعلیم کا بھی یہ ماننا ہے کہ ایک استاد جب ابتدائی کلاسوں میں سبق پڑھائے تو بچے کے ذہن پر وہ سبق بوجھ نہ ہوں، کتاب میں دیے ہوئے الفاظ کے معنی، جملوں کی ترتیب، اشیاء کے نام سب ان کے ماحول کے عین مطابق ہوں۔ استاد اور شاگرد کے درمیاں زبان کی رکاوٹ حائل نہ ہوں۔ استاد کی زبان بچے سمجھے اور سوال کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار بغیر کسی رکاوٹ کے کرسکیں۔

انہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 2001 ء میں یو این ایجوکیشنل سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن، یونیسکو نے اپنے ایک قرارداد کے ذریعے ماں بولی میں بنیادی تعلیم کو بچے کا بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا تاکہ دنیا میں شرح تعلیم کے ساتھ معیار تعلیم بھی بہتر ہوں۔

مادری زبان میں تعلیم، معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بین النسلی تربیت کا ایک قوی ستون بھی ہے۔ کثیر اللسانی تعلیم کا آغاز گھر میں بولی جانے والی زبان، ماں بولی سے شروع ہوتی ہے۔ یہیں وجہ ہے کہ یہ بین النسلی تعلیم کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس سے بچہ نسل در نسل سیکھتا ہے پھر یہ علم اور مہارتیں اپنی اگلی نسل کو منتقل کرتا ہے۔ علم اور مہارتوں کی نسل در نسل منتقلی ایک دوسرے سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور یہ سیکھنے کا عمل، مہارت، تصورات، خیالات اور رویوں تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

دستیاب وسائل کے استعمال سے لے کر اپنی زندگی میں پیش آنے والے مسائل تک سے نمٹنے کے لیے ایک فکر اور سوچ مہیا کرتی ہے اور سیکھنے کا یہ عمل گھر سے شروع ہو کر باہر کی دنیا تک پہنچ جاتی ہے۔ اس طرح سے کثیر اللسانی تعلیم میں سیکھنے کا یہ عمل غیر محسوس طریقے سے زبان و ثقافت کی احیاء اور معدوم ہونے سے بچانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

کثیر اللسانی تعلیم میں بین النسلی تربیت کی ایک مثال کھو معاشرے میں موجود کہانیوں کی ہے۔ ان کہانیوں کے ذریعے سے نسل در نسل سیکھنے، تربیت پانے اور اخلاقیات کو سمجھنے کا موقع مل جاتا۔ نسل در نسل اور سینہ بہ سینہ ایک دوسرے کو منتقل ہونے والی ان کہانیوں سے یہ واضح ہوجاتی کہ معاشرے میں بڑوں کے ساتھ کیسے برتاؤ کرنا ہے۔ چھوٹوں کے ساتھ بڑوں کا رویہ کیسا ہونا چاہیے، مظلوم کی مدد کیسے کریں۔ غلط کاری کا انجام زندگی میں انسان کو کیسے ملتا ہے۔ فطرت کے ساتھ رویہ، قدرتی آفات کے ساتھ نمٹنے اور اپنے آپ کو ان سے محفوظ رکھنے کے لیے بنیادی معلومات کے منبع یہیں ایک دوسرے کو منتقل ہونے والے علوم ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس طرح سے بنیادی تربیت کا یہ رواجی طریقہ گھر سے ہی شروع ہوتی ہے، جو صدیوں کے تجربے کا نچوڑ ہوتا ہے۔

ہر ایک زبان کا اپنا طریقہ کار اور اپنا الگ علم اور دانش ہے اور اس کو سیکھنے میں عرصہ درکار ہوتا ہے۔ یوں بندہ عرصے بعد ایک زبان سیکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اتنے عرصے میں بندہ اپنی ماں بولی میں بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی زبان کی فصاحت، بلاغت اور ضخامت کے بارے میں آگاہی حاصل نہیں ہے اور ہم صرف غیروں کی زبانوں کو سیکھنے میں سال لگا دیتے ہیں۔

ثقافتی طور پر نسل در نسل منتقل ہونے والا علم یعنی علاقے کے بارے میں تاریخی روایت، رسم رواج، محاورے، کہاوتیں اس کے ساتھ ساتھ مافوق الفطرت عناصر، علاقے میں پائے جانے والے تصورات، توہمات، پرانے زمانے میں زندگی گزارنے کے طور طریقے، سوچنے کا طریقہ یا انداز یہ سب باپ دادا سے ایک دوسرے کو منتقل ہو کر ہی ہم تک پہنچے ہیں۔ صدیوں سے رائج ان رسم و رواج سے نوجوانوں کی تربیت، معاشرتی آداب، قومی غیرت اور علاقے سے محبت ایک سے دوسرے کو منتقل ہوتی رہتی ہے۔

روایتی تاریخ کے بارے میں آگاہی، معاشرے میں رہنے کے طور طریقے، کچھ کرنے اور سیکھنے کے لیے رہنمائی، زندگی گزارنے کی مہارتیں، مقامی دانش و تجربات کے حاصل ہونے کے ساتھ اپنی تاریخ سے جڑے رہنے کی تلقین یہاں سے شروع ہوتی ہے۔

Local Wisdom یا مقامی دانش وہ ہے جو کسی خاص علاقے یا جگہ میں ایک مخصوص گروہ کی سرگرمیوں کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہے، مقامی دانش میں نہ صرف علم بلکہ زندگی کی قدریں بھی شامل ہیں۔ اس میں اٹھنے بیٹھنے سے لے کر دنیا کو مختلف زاویے سے دیکھنے تک کا عمل شامل ہے اور پھر یہ سارا مقامی علم زبانی طور پر نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ مقامی علم کی اس اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماں بولی کے عالمی دن 2024 کے لیے تھیم بھی
”Multilingual education is a pillar of intergenerational learning۔
یعنی“ کثیر اللسانی تعلیم بین النسلی تربیت کا ایک قوی ستون ہے ”تعین کی گئی تھی۔

Facebook Comments HS