رول نمبر چار سو بیس


آٹھ بازاروں کی سرزمین پہ جہاں بہت اچھے دوست ملے، وہاں ایک بے جان درخت سے بھی دوستی رہی۔ دوستی سے محبت تک کا سفر کب، کیسے ہو گیا معلوم نہیں لیکن صبح اٹھتے، کمرے سے نکلتے اور رات کی اندھیر نگری میں چاند کو تلاش کرتے ہوئے جس چیز پر سب سے پہلے نظر پڑے وہ محبوب تو بن ہی جاتی ہے۔

وقت گزر گیا بس یادیں بچیں ہیں۔ میں اور میرا دوست یونی ورسٹی سے کافی دور ایک فلیٹ پر رہتے تھے۔ شروع شروع میں ایک دو سے تین چار تک ہاسٹلز کو جوائن کیا۔ کسی کا ماحول اچھا لگا تو کسی کا ناگوار لیکن دل کو سمجھایا کہ بھئی جیسے تیسے بھی گزارہ کر لیا جائے، ہم نے کون سی یہاں عمریں بسر کرنی ہیں۔

نئے لوگ، نئی جگہ، نئے کھانے اور نئے تجربوں سے واسطہ پڑنے جا رہا تھا۔ پہلے پہل تو سب اچھا تھا جب تلک ہم کو ہاسٹل میں کمرہ نمبر چار نہ ملا تھا۔ نمبر چار میں چار لوگ رہتے تھے۔ دو نئے دو پرانے، دو سینئر اور دو جونئیر، ہر ایک کی داستان الگ اور داستان میں موجود قصے کہانیاں جدا جدا تھیں۔ کمرہ نمبر چار کے سامنے کمرہ نمبر بیس تھا۔ جہاں ہر وقت میلہ لگا رہتا تھا جو بھی گم کے میلے ( عشق ) میں بچھڑ جاتا تو وہ اس کمرہ نمبر بیس کے میلے میں پہنچ کر اس کو چار چاند بخشتا تھا۔

آئے روز ہاسٹل وارڈن یہی تلاطم برپا کرتا کہ پانچ لوگوں کو رہنے کی اجازت ہے یہ بیس نمبر والے بیس بیس لونڈے بٹھائے رات بھر گروپ سٹیڈی کے نام پر لوڈو، تاش اور سدھو موسی آلا سنتے رہتے ہیں۔ ان سے وارڈن تو تنگ تھا ہی خوش ہم بھی نہیں تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ہمارا ہاسٹل میں پہلا روز تھا تو رات نے ابھی نقاب اٹھایا ہی تھا کہ اندھیرا چار سو چرچے دکھانے لگا۔ اردو ادب میں رات کو منفی اور مثبت استعاروں کے حوالے سے برتا گیا ہے لیکن بندہ ناچیز کے نزدیک ”رات کو سکونت کے لیے بنایا گیا ہے“ ابھی سورج ڈھلا ہی تھا کہ کمرہ نمبر بیس سے موسیقی کی دھنیں پوٹنے لگیں۔ موسیقی کیا موسیقی کے شاہکار تھے، ایسی آواز کہ کان پھاڑ کے رکھ دے۔ کچھ دیر تک برداشت کیا لیکن جب طبعیت جواب دینے لگی تو جا کر دستک دی۔

ارے بھائیوں! ”اگر سونگ سننا ہی ہے تو آواز تھوڑی دھیمی کر لو، خود ہی تو سننا ہے کون سا سارے ہاسٹل کو سنانا“ میرا یہ کہنا ہی تھا کہ جمو نے گرج کر کہا ”نئے ہو، آرام سے رہو ہم بھی پیسے دے کر رہتے ہیں“ یہ سنتے ہی میں تو ایسے، جسے چار دن سے چپ کا روزہ رکھ ہو، واپس آ گیا۔ یہ تھے نمبر بیس والے پرانے پاپی، میرے نزدیک تو پڑوسی کو سکون سے نہ رہنے دینا بھی پاپ کہلاتا ہے شاید آپ لوگوں کی ڈکشنری میں پاپ کے معنی کیا ہیں مجھے معلوم نہیں؟

دوست احباب سے ہاسٹل لائف کے متعلق بہت کچھ سن رکھا تھا اور اس سے پہلے بخاری صاحب کا مضمون ”ہاسٹل میں پڑنا“ بھی نظر سے گزر چکا تھا۔ بہت چرچے سنیں کہ ہاسٹل لائف میں بہت سکون ہوتا، آزادی ہوتی، جب جدھر دل کرے چلے جاوٴ۔ ہاں تو بات کر رہا تھا کہ جمو سے داد وصول کرنے کے بعد کمرہ نمبر چار میں اپنے بستر کو سیدھا کیا اور سونے کی ناکام کوشش کی۔ ابھی لحاف سیدھا ہی کیا تھا کہ آکاش عرف کاشی جو ہمارا سینئر تھا اسے گرل فرینڈ کی کال آ گئی، چوں کہ کال ویڈیو تھی تو اس نے مکمل کمرے کو شب برات کی رات سمجھ کر روشن کر دیا اور خود اپنی ناجائز دوست کے ساتھ بے غیرتی کے نوافل ادا کرنے لگا۔ قہقہے گونجنے لگے۔ سیگرٹیں دھواں اڑانے لگیں۔ کوک کے پک بنائیں گے۔ خوب پب کا سماں زندگی میں پہلی دفعہ دیکھنے کو ملا۔

میں رضائی اور تولائی کے درمیان دعا پہ دعا، دعا پہ دعا کیے جا رہا تھا کہ ”اے اللہ کال کٹے“ تو لائٹس آف ہوں، پب کا سماں ختم ہو اور مجھے کچھ دیر نیند کے سمندر کی گہرائی میں غوطے لگانے کا موقع مل سکے۔ قبولیت کا وقت تھا یا اسے کسی اور بھائی کی کال آ گئی البتہ جو بھی ہوا، لڑکی کی طرف سے کال بند ہو گئی تو ادھر زبان سے نکلا شکر الحمد اللہ۔ ابھی یہ کہنا ہی تھا کہ پھر سے فون پر گھنٹی بجنے لگی، اب کی بار بھی کوئی لڑکی تھی، جو کسی کی بیٹی، کسی کی بہن اور کاشی کی پری بنی ہوئی تھی۔

بہت دیر تک گپیں اڑاتے رہیں۔ کبھی ریستوران تو کبھی پارک کا ذکر، کبھی لان میں بیٹھنے کا پلان کرتے تو کبھی دوسری یونی ورسٹی میں گھومنے کا، ابھی اسی کشمکش میں تھے کہ ساتھ بیٹھے دوسرے سینئر کے موبائل کی سکرین روشن ہوئی۔ وہ مختار تھا۔ جو ہاسٹل میں مختار سے قاری بن گیا تھا۔ میسج دیکھا تو معلوم ہوا کہ ’سی آر‘ کا ہے اور پیغام کچھ یوں ہے کہ ”چند طلبہ کی حاضری کم ہے اگر انہوں نے باقی کلاسز نہ لی تو ان کو پیپر میں نہیں بیٹھنے دیا جائے گا“ یہ میسج دیکھتے ہی یک بار کاشی اور قاری کے رونگٹے کھڑے ہو گے۔ پھر اچانک کاشی نے قہقہہ لگایا اور بولا ”سی آر تو اپنا چیلا ہے پیسے کھلا دیں گے اسے، دیکھنا حاضری مکمل کرتا“ یہ سنتے ہی قاری خوب ہنسا اور سیگرٹ سلگانے لگا۔

یہ دونوں سینئر تھے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سینئر سے پنگہ مت لینا ورنہ یہ ننگا کر دیتے ہیں۔ ساتھ والا جونئیر دوست تو خراٹوں کی نیند سو رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے پر کمال کا شخص تھا موسم شور بھور میں بھی خراٹے مار رہا تھا۔ دوسری کال بھی بند ہو چکی تھی۔ کافی وقت گزر گیا۔ رات بام عروج پر تھی کہ ایک بار پھر کاشی کے موبائل پر گھنٹی بجی۔ اس بار بھی لڑکی تھی۔ یہ کالز کا سلسلہ رات کے آخری پہر تک چلتا رہا، ساتویں کال ابھی بند ہوئی تھی کہ موٴزن نے فجر کی نماز کا نیوتا بھیجنا شروع کر دیا۔ اذان سنتے ہی دونوں بوکھلا کر ایک دوسرے سے کہنے لگے یار صبح ”فلاں فلاں فلاں“ کام کرنے ہیں۔ ابھی کچھ دیر سوتے ہیں۔ تب جا کے کہیں سینئر لونڈوں نے بستر سیدھے کیے لیکن میں اس وقت مسجد کا رخ کر چکا تھا یہ کہہ کر کہ۔

رات کاٹی خدا خدا کر کے

وقت گزرا، صبح ہوئی، سورج کی کرنیں ہر چیز کو معطر کرنے لگیں لیکن میرا دل و دماغ رات کے جام سے خوب معطر ہو چکا تھا۔ جونئیر کے اٹھتے ہی بوری بستر باندھا اور نئے ہاسٹل کی تلاش میں محو ہوئے۔ جب کسی بھی ہاسٹل کو ہماری طبعیت راس نہ آئی تو یونی ورسٹی سے دور تقریباً بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پرائی ویٹ فلیٹ لے لیا۔ جہاں ہم دونوں جونئیر رہتے ہیں۔ خوش رہتے ہیں اور سکون سے رہتے ہیں۔ اسی فلیٹ کے سامنے ایک کیکر کا درخت ہے۔ لوگ شاید کانٹوں کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے ہوں لیکن مجھے اس درخت سے محبت ہے۔ طلوع آفتاب کے وقت مختلف پرندوں کا چہچہانا طبعیت کو باغ باغ کر دیتا ہے۔

ہاں! آخر پر بتاتا چلو کہ بظاہر تو کمرہ نمبر چار اور بیس میں کوئی خاص نسبت نہیں لیکن پرائمری کے بورڈ پیپر میں میرا رول نمبر چار سو بیس تھا اور سر سمت ساری کلاس والے اس رول نمبر پر خوب ہنستے تھے اور میں آج ہاسٹل کے کمرہ نمبر چار اور بیس کو اکٹھا لکھ کر خوب ہنستا ہوں کیوں کہ یہ میرا پرائمری کا رول نمبر بنتا ہے۔

Facebook Comments HS