کردار کشتی: قبلہ بڑے حکیم صاحب


شہر میں روز بروز تیزی سے معدوم ہوتے کرداروں میں ایک ”بڑے حکیم صاحب“ بھی ہیں۔ ایک وقت تھا جب علاقے کی ممتاز شخصیات کی فہرست میں بڑے حکیم صاحب نمایاں ہوا کرتے تھے۔ اب تو ”قبلہ بڑے حکیم صاحب“ ایک اشتہاری کردار بن کر رہ گیا ہے جو پوشیدہ امراض کا علاج سرعام جلی حروف میں اور نوشتۂ دیوار کرنے کے دعویدار ہیں۔ شہر کا شہر بیمار بنا پھرتا ہے اور یہاں لاحق بیماریاں ہرگز پوشیدہ نہ رہی ہیں۔ شہریوں نے علی الاعلان فیصلہ کر لیا ہے کہ انہیں اصلی والے حکما اور طبیب کی ضرورت نہیں۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے حکمت سے عاری گولڈ میڈلسٹ طبیب اور شہوت میں بھاری جعلی سنیاس کے دعویدار منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئے ہیں اور خدا کی بستی اتائی کی دکان بن گئی۔

معاشرتی بیماریوں کے جعلی معالج جو بجائے خود سماجی ناسور ہیں شہر میں بیماریوں کی آبیاری اور مریض کے استحصال پر تلے رہتے ہیں۔ مشورہ بلکہ مفت مشورے دینے کا یہاں عام چلن ہے۔ ہر مشکوک چال چلن والا دوسروں کی اصلاح پر کمر بستہ رہتا ہے۔ شہر کی گلی گلی میں نیم حکیم بلکہ چوتھائی حکیم زندگی کے ہر معاملے میں مفت مشورے بانٹتے اور تبلیغ فرما ہیں۔ گھریلو الجھنیں ہوں ’کاروباری دقتیں ہوں یا سیاسی چالبازیاں ؛ ہر مسئلے کا چٹکی بجاتے حل مل جاتا ہے۔

ڈرائنگ روم‘ پبلک ٹرانسپورٹ اور دفاتر سے لے کر قہوہ خانوں اور یاروں دوستوں کی محفل میں ایک سے بڑھ کر ایک جغادری موجود ہے جو اپنی حکمت کا راگ الاپتا ہے۔ ہر مسخرہ نسخۂ کیمیا بانٹنے میں مصروف ہے۔ بزعم خود سب کو سب معلوم ہے۔ نہیں معلوم تو خود اپنی کوتاہیوں کا حل نہیں معلوم۔ ایک دوجے پر الزام تراشی عام ہے۔ ہر سائز اور ماڈل میں دستیاب اس ہجوم بے ہنگم میں نمایاں حیثیت اس مہدی کو حاصل ہے جو کیمرے کے ساتھ مائیکروفون کے استعمال میں مہارت پالے۔ نیم حکیموں میں آج کل یہی بڑے حکیم صاحب ہیں۔

ان بڑے حکیم صاحبان کے مرتبانوں میں ہر طرح کے جواہر کشتے ’معجونیں اور مرہم بھرے ہوتے ہیں۔ وہ جنسی کمزوریوں کی گردان سرشام فرماتے اور گرد و نواح لوگوں کو کمزوری کے علاج پر مائل کرتے رہتے ہیں۔ شہر میں ہر کامیاب حکیم بیماری ختم نہیں کرتا بلکہ اپنی معجون خوبی سے بیچتا رہتا ہے۔ اندرون شہر اس دوا فروش نوسرباز کی طرح جو جنسی ہیجان پھیلا کر کبھی رسالے میں موجود وہ تصویر نہیں دکھاتا جس کو دیکھنے کے لئے ہجوم لبھایا گیا ہوتا ہے اور دوا کے نام پر دھوکہ بیچ کر چادر سمیٹ لیتا اور اگلے دن عین اسی مقام پر آن موجود کرتب فرمائی میں مشغول پایا جاتا ہے۔

ٹیلیوژن اور اسمارٹ فونز اسکرین پر ایک سے بڑھ کر ایک بڑا وارداتی ڈھونگ رچائے وارد ہوتا رہتا ہے۔ گھریلو ٹوٹکوں سے لیس خالائیں، ر نفسیاتی الجھنوں کا علاج کرتے خبطی معالج‘ بین الاقوامی سیاست کی گنجلکوں کے ماہر، مریخ و عطارد پر کمند زنی کرواتے فلسفی ’مستقبل بینی‘ ماضی کے جھروکے ’حال کی پریشانیاں اور ان کے حل‘ آزادیٔ نسواں اور جینڈر کی قید تک بھاشن دیتے یہ ہر لمحہ جلوہ افروز ہیں۔

پہلے زمانے کے مطب میں سفید براق کرتے میں ملبوس پان کی ہلکی لالی ہونٹوں پر رچائے بڑے حکیم صاحب نسخہ تجویز کرتے تھے تو عطار ہاتھ کی تحریر پڑھ کر ہاتھوں ہاتھ جڑی بوٹیاں باندھ کر جوشاندے کی پڑیاں تھما دیا کرتا تھا۔ اب ٹیلی ویژن یا سوشل میڈیا پر پوڈا کاسٹ کرتے برینڈڈ جیکٹ پہنے گہرا میک اپ کر واکر قبلہ بڑے اینکر اس طرح علاج تجویز کرتے ہیں گویا دنیا جہاں کے ہر موضوع پر بے تاج بادشاہ ہوں۔ ہمراہ موجود ان کے جونیئر عطار کے لونڈے یا لونڈی بنے ان مرکبات و مکشفات پر ہاں میں ہاں ملاتے اور سر دھنتے نظر آتے ہیں۔

اسی شہر میں ایک عرصے سے مارننگ شو والی بیبیوں نے یہی دھندا اپنا رکھا ہے جو سویرے سویرے گھریلو جلوہ افروز ہوتی اور مقامی خواتین کو عزت نفس نسواں اور گھر بسانے کے ٹوٹکے تجویز کیا کرتی ہیں۔ کبھی ہنستی ’کبھی روتی اور ناچتے گاتے خود اپنا گھر کئی مرتبہ اجاڑ کر بھی ڈھٹائی سے نجات دہندگی کے نام پر درندگی و بربادی بانٹتی ہیں۔ گھریلو خواتین کی سادہ لوحی ملاحظہ ہو کہ اب بھی ان ہی اجڑی بسری بیبیوں سے اب بھی ڈھلتی عمر کو شکست دینے کی تراکیب سیکھتی اور ناکام طریقۂ علاج ڈھونڈتی ہیں۔

روایت چلی آ رہی ہے کہ دہلی، بغداد اور استنبول کے شاہ خلفا اپنی مصاحبت میں قبلہ بڑے حکیم صاحب کو ضرور شامل رکھا کرتے تھے۔ اسی طرح بخارا ’ثمرقند اور تاشقند کے حکمران اور لکھنؤ، ، دکن اور بھوپال کے نواب اور رؤسا بھی حکیم حکما ساتھ لئے پھرا کرتے تھے۔ یہ دستور یہاں اب بھی رائج ہے۔ شہر کا طبقۂ امرا اور یہاں کی اشرافیہ سال بہ سال چیک اپ اور علاج کے واسطے یورپ اور امریکہ جانے کے ساتھ ساتھ مقامی عطائیوں اور شعبدہ بازوں کی بھی گرویدۂ علاج ہے۔

سیاسی برزجمہروں اور جمہوری حکمرانوں کو بھی پیروں کی بھیڑ اور گنڈا پروروں کے جھمگٹے کا شوق ہے۔ صرف بھانڈ اور فن کار ہی اپنی شخصیت کے نکھار کے لیے استاد نہیں رکھتے بلکہ موروثی حکمران خاندان بھی شین قاف کی درستگی اور کمال فن کے واسطے اتالیق ضروری سمجھتے ہیں۔ اب یہ اور بات ہے کہ اس خدمت کے لیے جو مال دستیاب ہے وہ قصیدہ گوئی اور چرب زبانی پر تو عبور رکھتا ہے مگر تاریخ‘ منطق اور دلیل سے ان اتالیق کا دور دور تک واسطہ نہیں۔

یہاں دستیاب تھنک ٹینکوں میں ایندھن ناقص اور پرزے زنگ آلود ہیں۔ لہذا جابجا مداری ڈگڈگی بجاتے اپنے مسخرے پن کا مظاہرہ کرتے شاہراؤں پر ہجوم کا دل گرماتے نظر آتے ہیں۔ انبوہ میں شامل ہر فرد سمجھتا ہے کہ وہ سب سمجھتا ہے لیکن عملی طور پر کنارہ کش ہے۔ اپنی خواب گاہ میں بیدار نیم شب وہ کھلی آنکھوں میں خواب سجائے شہر کی فٹ پاتھوں پر تبدیلی کا خواہاں ہے۔ سیاست دانوں کے دعووں اور مسیحائی کے علمبرداروں کو وہ مذاق اور ٹھٹھے سے سے زیادہ نہیں لیتا۔

ہر شہری کو یقین ہے کہ یہاں ایسا ہی ہے، ایسا ہی چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بونے اور بردہ فروش ان کے سروں پر مسلط ہیں۔ سماجی معاملات میں عدم دلچسپی اور بہبود سے بیزاری ایسی لاعلاج کمزوریاں پیدا کرتی ہیں جو پوشیدہ بھی نہیں ہوتیں مگر ان کو تسلیم کرنے پر دل آمادہ بھی نہیں۔ یہاں کے باسی ایلوپیتھک طریقۂ علاج کو طویل اور مہنگا سمجھتے ہوئے جم کر مخالفت کرتے اور سستے ہومیوپیتھک کو کارگر مان لینے پر مصر ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ناسور کا علاج سرجری ہے مگر تعویذ فروشوں کو بار بار موقع دیتے ہیں۔

وہ سرجری سے گھبراتے ہیں اور پر امید ہیں کہ باورچی خانے میں موجود گرم مصالحوں سے جوشاندہ بنا بنا کر چسکیاں بھرنے سے پھوڑازائل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے حکیم صاحب کے بہروپ میں نائی اور نانبائی ان میں بطاشے بانٹ رہے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ اصلی اور سچے بڑے حکیم صاحب کا دور کب کا ختم ہوا۔ تاہم اس مفلوج عوامی دور میں مالشی اور مشاطائیں مسیحائی پر مامور فرما دی گئی ہیں۔ صرف بڑے حکیم صاحب ہی نہیں بلکہ سب جانتے ہیں کہ مرض لاعلاج ہے۔

ناسور کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مانتا کوئی نہیں۔ کوئی معالج کارگر نہیں ہو گا ماسوائے مریض کے اپنے ارادے کے۔ مگر اپنے اپنے درجے میں سب ہی اپنے تئیں ”قبلہ بڑے حکیم صاحب“ ہیں اور خود کے سوا ہر دوسرے کا علاج کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جو نسخے دوسروں کو تجویز کرتا ہے ’خود پر وہ کیمیا کبھی نہیں آزماتا۔ حتیٰ کہ وہ قبلہ بڑے حکیم صاحب گولڈ میڈلسٹ بھی نہیں جو دوا فروشی کا شو مکنے پر چادر میں کشتے‘ مرہم تیل اور سانڈھے سمیٹ کر اپنے علاج کی خاطر بالا آخر باہر چلے جاتے ہیں۔

بڑے حکیم صاحب کے فصیل شہر چھوڑتے ہی بعد ان کے وہ لاڈلے ممدوح تبریٰ کرتے ہیں جو اب تک ان کی قصیدہ خوانی سے روزی کما رہے تھے۔ بڑے حکیم صاحب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بعد ازاں ان کے سنیاسی اشتہارات سے مزین شہر پناہ کی دیوار کی بنیاد میں موذی بیماریوں میں مبتلا کر دیے گئے نیم خوابیدہ مریض اور مسلط شدہ نڈھال مسافر استنجے کریں گے۔ کبھی بیدار نہ ہوں گے ؛ عقل کی مشت زنی کا شغل شوق سے جاری رکھیں گے۔ البتہ اس رفع حاجت کا علاج ڈھاکہ نام کے ایک دور دراز شہر نے ڈھونڈھ لیا۔ یونانی طریقے کی بجائے رسم الخط میں معمولی سی تبدیلی۔ رسم الخط تبدیل تو بیماری سے ہار مان لینے کی رسم تبدیل۔ باقی رہے نام اللہ کا ۔

Facebook Comments HS