نئی شروعات، امیدیں، خدشات

طویل رد و قدح کے بعد بالآخر پارلیمنٹ نے پی پی پی کے آصف زرداری کو صدر اور نواز لیگ کے شہباز شریف کو دوسری مدت کے لیے ملک کا وزیراعظم چن لیا۔ شہباز شریف نے گزشتہ سال اگست تک بھی بطور وزیر اعظم خدمات انجام دیں جب قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران کی حکومت برطرف کر دی تھی۔ پی ٹی آئی، جو اپنا انتخابی نشان کھونے کے بعد آزاد حیثیت سے امیدوار کھڑے کرنے کے باوجود قومی اسمبلی میں 93 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑا گروپ بن کر ابھری، دو وجوہات کی بنا پر وہ دیگر پارلیمانی گروپوں کے ساتھ مل کر حکومت سازی سے گریزاں نظر آئی، اول بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ چوری اور سائفر مقدمات میں سزا اور نا اہلی، دوسرے معاشی بحرانوں میں گھری مملکت کو مخالفین کے سپرد کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کا فیصلہ تھا تاکہ مستقبل کی سیاسی تشکیل میں ان کے لئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے اسباب پیدا کیے جا سکیں۔
تحریک انصاف اب مینڈیٹ ”چوری“ کے بیانیہ کے ساتھ معاشی بحرانوں میں گھری حکومت کو سیاسی انتشار کی طرف دھکیلنے کی خاطر پارلیمنٹ کے اندر طریقہ کار ہتھکنڈے استعمال کرنے کے علاوہ سڑکوں پر احتجاج بھی شروع کرے گی، اس حکمت عملی کے تحت قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس اس وقت تاخیر سے شروع ہوا جب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ قانون سازوں نے پرجوش نعروں کی گونج میں الزام لگایا کہ شہباز انتخابی دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں۔
شہباز شریف نے اپنی جیت کی تقریر میں پی ٹی آئی سے منسلک قانون سازوں کے زبردست احتجاج اور شور و غوغا میں کہا کہ ہم پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔ اپنی تقریر میں شہباز شریف نے وزیر اعظم بننے میں مدد کرنے پر اپنے اتحادیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے کبھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کا سوچا تک نہیں۔ نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ ان کی ترجیح اول ملک میں سیاسی استحکام لانا ہے، اسی مقصد کے حصول کی خاطر چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔
جوابی خطاب میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے جیل میں قید عمران خان کا دفاع کرنے کے علاوہ نومنتخب وزیراعظم شہباز پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمارے لیڈروں کو جیل میں ڈالا، ہمارا انتخابی نشان چھینا، انتخابات میں دھاندلی کی لیکن ہم اپنے موقف پر کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے الیکشن میں 9 مئی سمیت خان کے خلاف تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ علی ہذالقیاس، حزب اقتدار و اختلاف کی ساری تر لن ترانیوں سے قطع نظر موجودہ بندوبست بھی پچھلی ہائبرڈ رجیم کا تسلسل دکھائی دیتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ عمران خان نے ہائبرڈ نظام کو بخوشی قبول کر کے اپنے لئے ایوان اقتدار تک پہنچنے کی راہ ہموار بنائی جبکہ حالات کے جبر نے نواز شریف کو غلامی کا یہ طوق ازخود اپنے گلے ڈالنے پہ مجبور کیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جس وقت نواز شریف مقتدرہ کے خلاف مزاحمت میں سرگرداں تھے، تب عمران خان نے خود کو ہائبرڈ نظام کے دفاع پہ مامور رکھا ہوا تھا، آج عمران اسٹبلشمنٹ کے خلاف سربکف اور شریفوں کی جماعت مقتدرہ کی بالادستی کو بچانے میں مصروف ہے۔ امر واقعہ بھی یہی ہے کہ گزشتہ 35 سالوں سے جاری اعصاب شکن سیاسی کشمکش میں مرتضی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور اکبر بگٹی سمیت درجنوں سیاسی زعماء شہید اور وقفہ وقفہ سے کئی سویلین حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن فی الحقیقت ہماری ہیئت مقتدرہ کے غلبہ میں کسی قسم کا ضعف پیدا نہیں ہو سکا البتہ اسی نامطلوب جدلیات نے 25 کروڑ آبادی کے حامل ملک کو عین پیراڈائم شفٹ کے دوران ایسے سیاسی عدم استحکام کا شکار بنایا، جس میں وہ گرتی معیشت اور تیزی سے بگڑتی سلامتی کی صورتحال سے نمٹ رہا ہے۔
لاریب، تمام تر داخلی تنازعات کے ہمراہ یہ مملکت یورپ و امریکہ کے ساتھ طویل تزویری وابستگی کو ترک کر کے اپنے مستقبل کو ، ابھرتے ہوئے، چین کے ساتھ وابستہ کرنے کی تگ و دو میں مشغول ہے، چنانچہ شہباز شریف نے پیر کو جب دوسری بار بطور وزیر اعظم حلف اٹھایا تو چین نے والہانہ خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر موسم کے دوست کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خاطر 60 بلین ڈالر کے پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبوں کو اپ گریڈ کرنے کے لئے پرامید ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ چین شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہے، صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کیانگ نے بھی شریف کو تہنیتی پیغامات بھجوائے۔ ماؤ نے کہا چین، اقتصادی راہداری بارے وزیر اعظم شہباز شریف کے مثبت بیانات کو سراہتا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم پاکستان کے ساتھ روایتی دوستی، تبادلوں اور تعاون کو آگے بڑھانے، سی پیک کو اپ گریڈ کرنے اور چین پاکستان ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اپنی فتح کی تقریر میں شہباز شریف نے چین کے ساتھ سی پیک منصوبوں کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سی پیک بیجنگ کی طرف سے عالمی انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کا گیم چینجر منصوبہ ہے جسے، 2013 میں نواز شریف نے اس وقت شروع کرایا تھا جب عمران خان بعض جرنیلوں کی ایما پر انتخابی دھاندلی کا مدعا لے کر پرتشدد لانگ مارچ اور طویل دھرنوں کے ذریعے نواز حکومت گرانے میں سرگرداں تھے۔ سی پیک پاکستان کے گوادر پورٹ کو چین کے صوبے سنکیانگ سے ملاتا ہے۔
یہاں کے سرکاری حلقوں میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ چین کا اہم اتحادی پاکستان، جو گزشتہ کئی سالوں سے سنگین معاشی اور سیاسی بحرانوں سے گزر رہا ہے، وہاں ایک ایسی منتخب حکومت بن گئی جس کے ساتھ مل کر بیجنگ کام کر سکتا ہے۔ چین کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے ساتھ تعلقات اس لئے ناخوشگوار رہے کہ خان نے پہلے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت میں اس منصوبہ کی راہ میں روڑے اٹکائے اور پھر اقتدار میں آ کر دانستہ سی پیک منصوبہ کو سست رفتاری کا شکار بنانے کے علاوہ اس معاہدہ کی حساس دستاویزات چین کے مخالف ملک امریکہ کے حوالے کر دی تھیں۔
شہباز اور ان کے بھائی، سابق وزیر اعظم نواز شریف، دونوں حکمران چینی گورنمنٹ کے لیے جانی پہچانی شخصیات اور قابل بھروسا دوست سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان دونوں نے اپنے ادوار میں ہمہ موسمی اتحاد کو مضبوط کیا، وہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل سی پیک منصوبے کے مضبوط حامی ہیں۔ ایک اچھے دوست کی مانند چین وقتاً فوقتاً غیر ملکی کرنسی کے قرضے اور اپنے قرضوں کا رول اوور فراہم کرتا رہا ہے تاکہ پاکستان کو شدید معاشی بحران سے نمٹنے میں مدد دی جائے۔
اسلام آباد سے حالیہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین نے مارچ میں ادا کیے جانے والے 2 بلین ڈالر کے قرضے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بہرحال، پاکستان کو جس طرح کے سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا سامنا ہے اس کی توضیحی مشکل ہو گی کیونکہ یہاں آئین کی موجودگی کے باوجود ریاستی ڈھانچہ اور حکومتی اختیارات کی حدود ابہام کی دھند میں لپٹی ہوئی ہیں، بلاشبہ نوع انسانی نے ریاست کے تصور کی بنیاد اسی مفروضے پر رکھی تھی کہ سیاسی، فوجی یا اقتصادیات کو ریگولیٹ کرنے اور بعض صورتوں میں آئینی حکومت کے اندر طاقت کا توازن قائم رکھنے کا کوئی ایسا معروف میکانزم ہونا چاہیے جسے ہر کوئی دیکھ اور سمجھ سکے، شاید اسی لئے اہل علم، سیاسیات کو ملکی، بین الاقوامی اور تقابلی نقطہ نظر سے طاقت کے مطالعہ کا نام دیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں معاشرے، ریاست اور حکومت کی تفہیم متنازعہ بلکہ کنفیوژن میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس میں سیاسی نظریات، اداروں، پالیسیوں، عمل اور رویے کے ساتھ ساتھ گروہوں، طبقوں، حکومتی ڈھانچہ، سفارت کاری، قانون، حکمت عملی اور جنگ جیسے مہلک عوامل کے فیصلے قوم کی اجتماعی دانش کی مظہر پارلیمنٹ کی بجائے مقتدرہ کرتی ہے۔

