اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں


مارچ کا مہینہ اور رمضان ایک ساتھ آ گئے ہیں۔ وطن عزیز میں موجود خودساختہ مصلحین میدان میں ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لئے بھرپور جان لگا رہے ہیں۔ پر عزیزو مجھے کسی کی اصلاح نہیں کرنی۔ میرے اندر کا مصلح مر چکا۔ یوں کہوں کہ مار دیا گیا۔ کس نے مار دیا؟ جی انہوں نے ہی جنہوں نے آج کل اصلاح کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے۔ کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں نئی سوچ، فکر اور نظریات کے نام پر ۔

مجھے تو اب اگر کوئی یہ کہے کہ میں آپ کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں تو قسم سے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ گھناؤنے خیالات ذہن پر تاری ہونے لگتے ہیں۔ دل کرتا ہے کہ کاش مجھے کوئی ایسا منتر آتا جس سے میں اس مصلح کو ایک مینڈک بنا کر اسی کے تعمیر کردہ کنویں میں پھینک آتا۔

عمر رفتہ کا پینتالیسواں برس ہے اور مسلسل مشاہدہ یہی بتا رہا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمانہ رفتہ میں مثبت تغیر و ترقی اور قدرت سے ملے انسان کے اختیار پسند، ناپسند کے تمام حقوق کا راستہ دانستہ بند کر دیا ہے۔ یہ لوگ اصلاح کے نام پر خود کو ایسا خدا منوانا چاہتے ہیں جن کی منشا کے الٹ کوئی پتہ بھی نہ ہلے۔ یہاں تک کہ کوئی اپنی مرضی سے سوچ کا اختلاف تک نہ رکھے۔ بلکہ سوچے ہی کیوں۔ اس کام کے لئے ان کے فتنہ گر دماغ جو حاضر ہیں۔ فقیر تو کہتا ہے تف ہو ایسے اصلاح پر جو سوچ اور سوال کے راستے پر جہل کا ناکا لگا کر پوری ڈھٹائی کے ساتھ براجمان ہو جائے۔

خبردار رہیے گا، اگر یہ مصلح اپنے آپ کو مذہبی کہیں تو جان لیں کہ ان کے دل میں نہ خدا ہے اور نہ خدا کا خوف۔ نام یہ خدا کا لیں گے پر چاکری ان کو اپنی مطلوب ہوگی۔ ان کے ناموں کے پیچھے لگنے والے القابات میں وہ وہ لغت خرچ کی جائے گی جن لاحقوں کی نظیر انبیا ء، اولیا اور آئمہ تک کے ناموں کے ساتھ نہیں ملے گی۔ ان کا حلال و حرام بس ان کی توجیہات کی بنا پر ہے۔ اپنی پر آئیں تو کوا بھی حلال کر دیں۔ اور ان کے ظالم و مظلوم ان کی رفاقت کی بنا پر ہوتے ہیں جبکہ قصور وار اور بے قصور کے بیچ انہی کی رائے خط فاصل کھینچتی ہے۔

اگر کوئی ان کے اپنے قبیلے سے ہے اور ان کے مقدسات کو برا کہہ دے تو گستاخی کا مرتکب تو کرار پائے گا پر رجوع کا راستہ اس کے لئے کھلا رہتا ہے۔ پر اگر دوسرے قبیلے سے ہے اور بس مصلح پر سوال اٹھا دے تو اب معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اپ کو ملعون کرار دے کر سزا تجویز کی جائے گی۔ ان کا رفیق اگر فاسق و فاجر و قاتل ہو تو بھی مظلوم اور مخالف بے گناہ قتل کر دیا جائے پھر بھی ظالم اور لائق عتاب جہنمی جہنمی جہنمی۔

اور اگر یہ خود کو روشن خیال یا نظریاتی کہیں تو بھی جان لیں کہ ان کے نظریات کے تمام تر استدلال کے کل مناطق انہی کی دسترس میں رہیں گے۔ ان کا ایک ہی نعرہ ہے کہ ان کے گرد موجود نفوس میں کسی کو کچھ پتا نہیں۔

بلکہ جس کو جاننا کہا جا سکتا ہے وہ بس یہی جانتے ہیں اور یہی سمجھتے ہیں۔ ان کی معلومات، جس کو یہ اپنا علم سمجھتے ہیں وہ ان کے ذات کے تفاخر اور انا کی تسکین کا سامان ہے۔ بس ایک بار ان کے قبیلے میں رہ کر ان سے الگ سوچ کر دیکھیں اور کسی ایک رائے پر اپنا تعرض دکھائیں۔ پھر دیکھئے یہ اپنے گماشتوں کے ساتھ مل کر آپ کو ایسے گھیریں گے جیسے لاہور اچھرہ بازار کے ابوجہلوں نے لڑکی کی قمیض پر ”حلوہ“ لکھا دیکھ کر اس کو گھیر لیا تھا۔

یہ سب تازہ و باسی جدید مصلحین اپنی اپنی اصلاح کی پرت کے نیچے منافقت کی برہنگی کے ساتھ وجود کی بدنمائی سے اٹے ہوئے ہیں۔

ان میں سے جن روشن خیالوں کے مہ پر فیمینزم کا میک چڑھا ہے۔ ان کے چہروں سے ذرہ یہ پرت ہٹا کر دیکھیں تو اکثر اپنی نوکری اور اچھی تنخواہ کی خاطر ادارے کی پالیسی پر چلتے ہوئے، تو کچھ محض تماش بینی کے لئے 8 مارچ کو بینر اٹھائے عورت مارچ میں فلک شگاف نعرے مارتے ہوئے نظر آئین گے۔ جبکہ ان کے اپنے گھر کی عورتیں کبھی طبقاتی تفریق، کبھی نسلی تفاخر تو کبھی روایتی قدامت پسندی میں پابند ان سلاخوں کے پیچھے قید دکھائی دیں گی۔

جبکہ دوسری طرف بہت بڑے قدآور اور جید مصلح، جو کہ دین و شریعت کے ٹھیکیدار، پہریدار بلکہ کم و بیش مالک ہی ہیں، ایک پر آسائش سواری میں سوار ہو کر مسجد میں پر درد اور سحر انگیز لہجے میں سادگی، حیا اور ایمانداری پر ایک گھنٹے کا وعظ کرنے کے بعد اسی پر آسائش سواری پر واپس چلے جائیں گے۔

ان کی نظر اتنی تیز ہے کہ بازار میں چلتی پھرتی عورت کے لباس میں لپٹے وجود کی برہنگی انہیں واضح دکھائی دیتی ہے جوکی ان کی حس ہیجا کو پھلا کر ان کو مضطرب کر جاتی ہے اور ان کی قوت ایمانی ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔

اور اندھے اتنے ہیں کہ بچوں سے بدسلوکی کرنے والے باریش اور قبر سے نکال کر ایک عورت کی نعش کے ساتھ بد فعلی کرنے والے بھیڑیے، ان کو نظر نہیں آتے۔ ویسے بھی ایک مہا پرش مصلح کبیر نے کہا تھا کہ مرد روبوٹ تو نہیں ہوتے جو کچھ محسوس نہ کر سکیں۔ اب جن کے خیالوں اتنی طاقت ہو کہ بس سوچ کر ہی حالت غیر ہو جائے وہ ایک تازہ دفنائی ہوئی سالم عورت کیسے چھوڑ دیں۔

اگر چہ روشن خیال نظریاتی مصلحین کا طریقہ واردات مذہبیوں سے تھوڑا سا الگ ہوتا ہے پر مقصد ایک کہ اپنی اجارہ داری قائم رہے۔ مذہبی مصلح ڈر کا ہتھیار تھامے سر تن سے جدا کر کے جسموں کو مجروح حتی کہ محروم حیات کرنے کی ترغیب دیتا ہے جبکہ روشن خیال و نظریاتی مصلح ہم خیالوں کا جھنڈ لے کر الفاظ کے نشتر سے مخالفین کے روحوں کی چیر پھاڑ کرتا ہے، تاکہ مخالف ہر چلتی سانس کے ساتھ مسلسل موت کا ذائقہ چکھتے ر ہیں۔

سولہویں صدی کے بعد یورپ کو کبھی کسی مصلح کی ضرورت نہیں پڑی۔ کم از کم تاریخی مندرجات میں تو اس کے بعد کسی مصلح کا ذکر نہیں ملتا۔ نہ صرف سولہویں صدی کے بعد یورپ نے اقتصادی ترقی کی بلکہ بیسویں صدی کے عالمی جدال کے تجربے کے بعد اپنی غلطیوں کو سدھار کر اخلاقی ترقی بھی کرلی۔ اور گزرے زمانوں پر تاریک دور کی تختی لگا کر اپنی نسلوں کو آنے والے وقتوں کے لئے تیار ہونے پر لگا دیا۔

یہی انقلاب عالمی جنگ سے تباہ شدہ جاپان میں آیا۔ پہلے کار زندگی چلانے کے لئے انہوں نے کچھ اصول طے کیے جو انہی کے اجتماعی قصد فہم کا نتیجہ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے جزا و سزا کی تعلیم دے کر اپنے سماج میں بسنے والے انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، سوال رکھنے اور اپنے فیصلوں میں خود مختار ہونے کا حق دے کر آزاد چھوڑ دیا۔

جس کا نیتجہ آج بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقوام جو کسی بھی قسم کے مصلح سے پاک ہیں۔ وہاں سچ کا راج ہے اور ایمانداری کا بول بالا۔ جہاں دنیا میں برپا ظلم و جبر پر ہمارے مصلحین کی جماعت میں ہر دو جانب سکتہ تاری ہے، وہیں مادر پدر آزاد قومیں اپنی تعلیم اور اس سے حاصل کردہ تربیت کی بنا پر ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ بلکہ مسلسل اپنے ہی حاکموں اور لیڈروں کے خلاف روڈ رستوں پر کلمہ حق بلند کیے ہوئے ہیں۔

اور یہاں مقدس مصلحین اپنے مقدس فدائین کے ساتھ مل کر چند حروف کے تقدس پر کاٹ کھانے کو تو تیار ہیں، پر اپنے اطراف میں ہونے والے مظالم اور نا انصافیوں پر ان پر ایک سکتہ سا طاری ہے۔

وقت زیادہ دور نہیں دیکھئے گا کہ یہی مصلحین اور ان کے فدائین آپ کو کچھ دن بعد رمضان آتے ہی پورے اخلاص کے ساتھ ملاوٹ کرتے ہوئے گے، مصنوعی مہنگائی، لوگوں کی عقیدت اور محبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں کی زندگی زہر کرنے میں مسلسل اپنا حصہ کار خیر سمجھ کر ڈالتے ہوئے نظر آئیں گے۔ پر اسی رمضان میں اگر کوئی غریب چھابڑی والا کوئی چیز بیچے گا، یا کوئی بیمار لاچار یا کئی دنوں کا بھوکا سر راہ کچھ کھالے گا تو ان کا مصلح تمام تر توانائیوں کے ساتھ ان کے وجود حتی کہ کپڑوں سے بھی باہر آ کر فساد برپا کریں گے۔

”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ نہیں، یہ تو فساد کرنے والے ہیں، لیکن انہیں اس کا احساس نہیں۔ (القرآن ) ۔ اب احساس بھی کیسے ہو جب کوئی اپنی ذات کی اصلاح اور خود احتسابی سے زیادہ خود پسندی اور مصنوعی تفاخر میں مبتلا کر دیا جائے۔

حضور التماس بس اتنی ہے کہ لوگوں کو صحیح غلط، برے بھلے اور سزا و جزا کی تعلیم دیں۔ پھر انہی اصولوں کو نافذالعمل کریں۔ سزائیں دیں، جزائیں بانٹیں پر خدا کے لئے جن اعمال کی جزا اور سزا کا اختیار خدا نے اپنے پاس رکھا ہے اس کو اسی پر رہنے دیں اور اپنے ہاتھوں میں نہ لیں۔ کم از کم خدا سے تو اس کا حق نہ چھینیں۔

کیونکہ خدا کے حق کو اپنے ہاتھ میں لینا، قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے سے بڑا جرم ہے۔ بس ایک بار یہ کر کے دیکھیں۔ پھر دیکھئے گا کیسے اس معاشرے پر اصلاح کا فضل خدا کا کرم بن کے برستا ہے۔ او ر اگر نہیں تو پھر اپنی باری کا انتظار کریں۔ آنے والے وقت میں آپ کی صدائے ”ہل من ناصر پہ کوئی لبیک کہنے والا نہ ہو گا۔ بس ایک بھیڑ ہوگی اور ان کی خون آشامی۔

باقی مجھے اس اصلاح کرنے والی خدمت سے رخصت بخشیں۔ بہتر ہے پہلے اپنی اصلاح خود کر لیں، میں واقعی کسی کی بھی اصلاح کر نے سے معذور ہوں، ویسے بھی بقول شاعر سراج الدین ظفر صاحب کہ

اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں
اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں

Facebook Comments HS