پنگوں کی کتھا۔ چھٹا پنگا : کرنا پیدا میرا، سلاجیت خالص، شہر کراچی میں


پچھلا خلاصہ :راوی، انجینئرنگ کے سال آخر کا طالب علم، اگست 1987 کی ایک دوپہر گھر جانا چاہتا ہے۔ گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے پاس نہیں تھے۔ سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، منجن اور سانڈے کا تیل بیچنے کی کوشش کی اور اس دوران جب سر پر پڑی تو مجھے صادقین کی شاگردی سے لے کر یاد آیا کہ مجھے مختلف علوم مخفی پر چھوٹی موٹی دسترس بھی حاصل ہے۔ ایک سپیرے کے بیٹے کو میٹرک پاس کرانے پر اس سے ملی، گیدڑ سنگھی یاد آئی، جو اس وقت بھی میرے پاس تھی۔

میری پہلی کمائی گیدڑ سنگھی کے دکھانے پر ٹکٹ لگا کر ہوئی۔ اسی دوران میرے اس دعوی پر کہ میرے پاس سسپنس ڈائجسٹ کی مشہور زمانہ کہانی دیوتا کے ہیرو فرہاد علی تیمور کی اصلی تصویر ہے اور فرہاد نے ہمارا خاندانی سرمہ اور وظائف استعمال کر کے ہی ٹیلی پیتھی کی طاقت حاصل کی تھی۔ ایک جوان کسی ادھیڑ عمر شخص کو لے کر فرہاد علی تیمور کی تصویر لینے آ پہنچا، جو بات کرتے کرتے میرے قریب آ کر میرے بارے میں جاننے کی کوشش کرنے لگا۔ اس پراسرار شخص نے مجھے دس روپے دے کر میرا آدھا گھنٹا، چائے پر مانگا۔ جو آگے جاکر پتہ چلا کہ مایہ ناز لکھاری محی الدین نواب تھے جن کے تصوراتی کردار فرہاد علی تیمور کے بارے میں کچھ دیر پہلے میں گپ مار رہا تھا کہ اس نے ہمارا سرمہ لگا کر ٹیلی پیتھی سیکھی تھی۔

٭٭٭

میں نے محی الدین نواب سے کہا: سر آپ نے آدھا گھنٹا مانگا اور مجھے امید ہے آپ کے دس روپے، ”پیسہ وصول“ ہو گئے ہوں گے ۔ کہنے لگے، رضی نے مخدوم کی یاد میں جو آنسو گروائے وہ انمول تھے اور میں عرصے سے اتنا جذباتی نہیں ہوا تھا۔ ”میں تمہیں کیا بتاؤں کہ اب تم میرے لئے کیا اہمیت رکھتے ہو“ ۔

میں نے کہا، سر میں نے ایک گورے کو اصلی سلاجیت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ آپ اگر آدھا گھنٹہ انتظار کر لیں تو میں اس مسئلہ کو حل کرلوں۔ کہنے لگے تم نے کبھی اصلی سلاجیت دیکھی ہے۔ کہا نہیں۔ کیسے کرو گے۔ میں نے کہا، ویسے تو اندازہ نہیں لیکن فراڈ نہیں کروں گا۔ میرے ایک اسٹوڈنٹ کے والد اسلحے کے کاروبار میں ہیں اور ان کے پاس کچھ نہ کچھ بندوبست ہو گا۔ کہنے لگے لیکن آدھے گھنٹے میں۔ میں نے کہا آپ بھی تو بھاگتے ہوئے بیس منٹ میں آ گئے تھے۔ ہنسنے لگے۔

میں نے گلگت کے بڑے خان صاحب کو وہیں سے فون کیا۔ یہ بھی ایک کہانی تھے، جن کا بیٹا انٹر میں فیل ہو رہا تھا۔ اور مجھ سے پڑھ کر نا صرف پاس ہوا بلکہ فرسٹ ڈویژن لانے کے بعد ملک سے باہر جا چکا تھا۔ اور وہ خود کو اب تک میرا زیر بار سمجھتے تھے۔ میں نے مختصر کہانی سنائی کہ میرے ایک گورے دوست کو اصلی سلاجیت چاہیے۔ ہنسنے لگے۔ میں نے قیمت بھی بتا دی تو کہنے لگے۔ شٹ اپ۔

پوچھنے لگے تم ٹاور آسکتے ہو یا میں کوئی اور بندوبست کروں میں نے کہا کسی کے ہاتھ بھجوا دیں جو طریقہ استعمال بھی سمجھا دے۔ ہنکاری بھر کر انہوں نے ایرانی ہوٹل کا پتہ اور فون نمبر لے لیا اور کہا اس وقت سڑکوں پر رش ہو گا۔ اس لئے ممکن ہے گھنٹہ لگ جائے۔

اتنے میں خوش خطی کرنے والا شخص قاسم جٹ کے ساتھ آ کر مودبانہ ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا۔ جیسے کوئی غلام بادشاہ کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ ہوٹل کا منیجر اور اردگرد لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ وہ مداری جو سب کو نچاتا ہے۔ بھیگی بلی بنے کھڑا ہے۔ محی الدین نواب صاحب مسکراتے تماشا دیکھ رہے تھے۔

قاسم جٹ کے پاس موجود میرا حصہ تیس روپے ہو چکا تھا۔ میں نے اس سے کوئی حساب نہیں مانگا۔ اس کی اپنی کمائی اس سے بھی زیادہ تھی۔ میں نے نواب صاحب کی طرف دیکھا۔ اپنے حصے کے تین حصے کیے ۔ ایک قاسم جٹ کو دیا کہ چچا آج ان کو صرف اپنے بچوں پر خرچ کرنا۔ دوسرا محمد علی خوش خط کو دیا جو سات روپے پہلے کما چکا تھا۔ اور دس روپے میں نے رکھ لئے۔ جس کی وجہ مجھے خود نہیں پتہ تھی۔ گیدڑ سینگھی کے درشن کی اچھی کمائی، اور محی الدین نواب کے دس روپے میرے پاس پہلے ہی موجود تھے۔ قاسم جٹ اور محمد علی کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔

میں نے انہیں تھپکی دیتے کہا، آپ لوگ مجھ سے بڑے ہیں۔ بس کسی کو دھوکہ نہ دیں۔ میں ابھی دوبارہ باہر آؤں گا۔ وہ میرا پتہ جاننے کے لئے مصر تھے۔ قاسم جٹ جانے لگا تو میں نے اسے آواز دے کر کہا۔ چچا ذرا واپس آنا۔ وہ شرمندہ شرمندہ آیا۔ خوش خط سے پوچھا، آپ کیا کام کرتے ہو۔ بے روزگار دیہاڑی دار، مگر پڑھا لکھا تھا۔ میں نے کہا گڈ۔

پوچھا آپ دونوں ساتھ کام کر سکو گے۔ دونوں راضی، ”اگر شاہ صاحب کا سایہ ہو“ ۔

میں نے کہا مجھے آپ آج کے بعد بھول جائیں۔ ابھی جائیں اور مل کر وہاں بیٹھیں۔ ساتھ میں نے قاسم جٹ سے کہا یہ بندہ تمہارا سینیئر ہو گا اس کی بات سننا کیوں کہ یہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے اور تمہیں کئی چیزوں سے بچائے گا۔

میں نے نواب صاحب کی طرف سے ان سب کے لئے چائے کے ایک دور کے ساتھ بسکٹ کا آرڈر دیا۔ اور دس منٹ بعد آنے کو کہا کیونکہ گورے کسی بھی وقت آسکتے تھے۔ محی الدین نواب چپ چاپ تماشا دیکھ رہے تھے اور اب وہی پرانا محی الدین نواب میرے سامنے تھا جس کی آنکھیں مجھے اس وقت بھی ایکس رے لگ رہی تھیں۔

کہنے لگے، اب کیا پروگرام ہے۔ میں نے کہا، ایک منٹ رکیں۔ ایک کاغذ پر میں نے جلدی جلدی مختلف چیزوں کے نام لکھے۔ سرسوں کا تیل۔ ناریل کا تیل۔ گائے کے دودھ کا گھی۔ کلونجی۔ شہد۔ پسی ہلدی۔ لونگ ثابت بھی ساتھ پسی ہوئی۔ دار چینی پسی۔ ہاشمی کے سرمے کی بڑی بوتل۔ خالص نمک۔ کچھ بہت چھوٹی پلاسٹک کی بوتلیں وغیرہ۔ ڈراپر وغیرہ۔

کہنے لگے، ”سید یہ کیا ڈرامہ ہے“ ۔ میں نے کہا۔ رضی۔ کہنے لگے، سوری۔
میں نے کہا، تجسس سلامت رہنے دیں۔ ان لوگوں کو آنے میں وقت لگے گا۔ آپ بتائیں آپ کا کیا کام تھا۔

کہنے لگے دوپہر کا کھانا کھایا ہے۔ میں نے کہا، کھالیں گے۔ یوں چائے کا آرڈر موخر ہو گیا اور سبزی دال روٹی کا آرڈر ہو گیا۔ کہنے لگے کوئی چکن قورمہ نہاری۔ میں نے کہا سر کیا ضرورت ہے۔

باہر والوں کی چائے باہر چلی گئی۔
پوچھنے لگے، تمہیں علم ہے کہ دیوتا کا مصنف کون ہے۔ میں نے کہا۔ فرہاد علی تیمور۔ ہنسنے لگے۔
کہنے لگے۔ آر یو سیریس۔ میں نے کہا سو فی صد۔

کہنے لگے اور وہ جو اندر واقعات ہیں۔ کیا وہ اصلی ہیں۔ اسپائی ماسٹر، ماسک مین وغیرہ۔ میں نے کہا نری بکواس۔ تو مصنف اصل کیسے ہوا۔ میں نے کہا یہ لکھنے والے کا سحر ہے کہ جس دن پتہ چلا کہ یہ فرہاد علی تیمور کی تحریر نہیں بلکہ فرضی داستان ہے تو میں پڑھنا چھوڑ دوں گا۔ ساتھ میں نے کہا دیوتا کی ٹکر پر شکیل عادل زادہ کی بازی گر بھی ہے۔ لیکن وہاں چونکہ اول دن سے پڑھنے والے کو علم ہے کہ یہ شکیل صاحب کی تحریر ہے اس لئے صفدر زمان، بٹھل، استاد پیرو اور لاڈلا کا سحر برقرار ہے اور یہ انتطار بھی کہ کب حکیم صاحب صفدر زمان کو اس کی محبت لوٹاتے ہیں۔

کہنے لگے تمہاری معلومات اور اندھے اعتماد نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ہے۔
کیا تمہیں پتہ ہے دیوتا میری تحریر ہے۔
میں نے منہ بناتے کہا۔ میں نہیں مانتا۔
ہنس کر کہنے لگے کیسے مانو گے۔ معراج رسول سے تو تم مل ہی چکے ہو۔ بات کرا دوں۔
میں کھانے کے دوران انہیں گھور کر، غصے سے دیکھتا رہا۔
کچھ دیر خاموشی کے بعد میں نے کہا۔ مجھے آپ پر اعتبار ہے۔ لیکن، آج کے بعد سے میں دیوتا نہیں پڑھوں گا۔

ایک شخص جس کا وجود ہی نہیں میں اس کے نام پر سرمہ سلیمانی بیچ چکا ہوں۔ کہنے لگے وہ آدمی، معراج صاحب کے دفتر میں کام کرتا ہے اور تمہاری لن ترانیاں سن کر اصل کام چھوڑ کر بھاگم بھاگ میرے پاس آیا تھا کہ پینٹ شرٹ پہنے ایک مداری ہے جو فرہاد علی تیمور پر انسائیکلوپیڈیا ہے اور اس کے یہ یہ دعوے ہیں۔ اس کی خود اعتمادی سے لگتا ہے کہ واقعی اس کا سرمہ فرہاد علی تیمور نے استعمال کیا ہے اور اس کے پاس اس کی تصویریں بھی ہیں۔ میں واقعی لوگوں سے نہیں ملتا، لیکن اس نے ایسا نقشہ کھینچا کہ میں فوراً ادھر آ گیا۔

میں نے کہا اور اب آپ کو افسوس ہے۔ ہنستے کہنے لگے۔ رضی، تم سوچ نہیں سکتے میں کتنا کٹھور دل ہو چکا ہوں اور ایک عرصے بعد میں نے ناصرف کسی کی یاد میں آنسو بہا کر انجوائے کیا ہے۔ بلکہ کھل کر قہقہہ بھی لگایا ہے۔ شاید تم ابھی اس کی اہمیت نہ سمجھ سکو، لیکن مجھے یقین ہے کہ تمہاری گیدڑ سینگھی واقعی کام کرتی ہے۔ میں نہ کہا۔ شکریہ۔

آپ کا کام کیا ہے۔ کیونکہ کچھ دیر بعد قاسم جٹ اور سلاجیت پارٹی آ جائے گی۔ کہنے لگے وہ اسی صورت بتاؤں گا اگر تم محنتانہ وصول کرو گے۔ بے شک اور مانگ لو۔ کہنے لگے۔ تم چونکہ دیوتا پر پی ایچ ڈی ہو تو کیا اپنے تخیل سے بتا سکتے ہو کہ آگے کیا کیا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تم صرف امکانات بتاؤ۔ باقی میرا کام ہے۔ میں نے کہا۔ سوچنا پڑے گا۔ لیکن آپ نے آگے کی بہت سی قسطیں پہلے ہی لکھ رکھی ہوں گی تو کیسے ایڈجسٹ کریں گے۔

قاسم جٹ اور محمد علی خوش خط کو میں نے بلا کر سامان کی فہرست دی اور ساتھ اپنی طرف سے دس روپے بھی دے دیے کہ یہ میری طرف سے انوسٹمنٹ ہے۔ میں نے کہا چاہو تو اس میں خود مزید کچھ ملا لو یا دکاندار سے ادھار لے کر حساب بے باق کرتے رہو۔ بس ضرورت سے زائد ادھار مت لینا۔ لیکن سامان اصلی ہو۔ بے شک چھٹانک یا چند تولہ ہی کیوں نہ ہو۔ ان میں سے ایک کو میں نے گوروں کا انتظار کرنے کو کہا۔

اور خود فرہاد علی تیمور بن گیا۔ بظاہر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ میں نے کہا، ”آپ مجھ سے کنپٹی پر پستول رکھ کر شاعری کروانا چاہتے ہیں“ ۔ کہنے لگے کیا شاندار مکالمہ ہے۔ میرا ہوا۔

میں نے کہا آپ کو پتہ ہے میں آپ کو کیا سمجھا تھا۔ سی آئی ڈی یا انٹیلی جنس کا اہل کار جو حالیہ بم دھماکوں کی تحقیق کرتے کرتے مجھ تک پہنچ گیا۔ ”چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے۔ تبھی تم نے کارڈ مانگا تھا“ ۔ ہاں، لیکن مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ خفیہ کے لوگ مخدوم کے کلام پر آہیں نہیں بھرتے۔

مجھے کچھ سمجھ نہ آیا تو میں نے کاغذ پر پاکستان کا زائچہ بنانا شروع کر دیا۔ پھر انڈیا، افغانستان اور روس کا۔ یہ کام میں نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا اس لئے کیتو راہو اور مشتری میں دھینگا مشتی میری بساط سے باہر تھے۔ غلطی کی سو فی صد گنجائش تھی۔ ہم دونوں چپ تھے۔

میں اٹھا اور سینٹر میں فون کر کے چوکیدار کو بتایا کہ میں آج پہلا پیریڈ نہیں لوں گا۔ ستی صاحب اگر ہوں تو وہ لے لیں ورنہ اسٹوڈنٹ حسین شاہ کے پاس میرے نوٹس ہیں ان سے وہ پڑھا لے۔ نواب صاحب بولے۔ ”اب یہ کیا کہانی ہے“ ۔

Facebook Comments HS