پنجاب بیوروکریسی اور مریم حکومت؟
محض تقرری و تبادلے کبھی عمدہ گورنس کی ضمانت نہیں ہوئے، گڈ گورنس کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے جب تک بیوروکریسی میں ہر لیول پر اصلاحات نہیں ہو جاتیں۔ بہرحال گڈ گورنس میں سول سرونٹس کا کردار ریڑھ کی ہڈی سا ہوتا ہے، مرکز میں افسران کا معاملہ قدرے مختلف تاہم صوبائی سطح پر ان کی حقیقت اور افادیت ”افسر شاہی“ کے فلسفہ سے میل کھاتی ہے۔
عرف عام میں زیادہ تر بیوروکریٹس جلیبی کی طرح سیدھے ہی ہوتے ہیں، لیکن چیلنجز کا سامنا بہرحال انہیں بھی ہوتا ہے جیسے ہر وقت ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی کی مسافت ہو اور دائیں بائیں کی کانٹے دار جھاڑیوں دامن بھی بچانا ہے، سو فیصد سچ پر رہیں تو صوبائی چیف ایگزیکٹو کے کان بھرنے والے جینے نہیں دیتے یا کسی سیکرٹری کے ڈپٹی سیکرٹری، ایڈیشنل یا اسپیشل سیکریٹری کی چاپلوسیاں اور فنکاریاں جینے نہیں دیتیں۔ کہیں کہیں تو سیکشن افسر بے وقوف بنانے میں کسر نہیں چھوڑتے، جیسا سول سیکریٹریٹ اور سی ایم سیکرٹریٹ کا ماحول ہوتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر ضلعی اور ڈویژنل امتحانی ایکو سسٹم ہوتے ہیں۔
ان سب چیزوں کے باوجود آج بھی پاکستان کا بیوروکریٹ کالجز، یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی اداروں سے زیادہ محنتی، فہیم اور جدت پسند ہے! بلکہ بعض اوقات ٹیکنوکریٹس سے بھی زیادہ زیرک دکھائی دیتا ہے! چشم فلک گواہ ہے پینڈیمک کے امتحانی دنوں میں متعدد بیوروکریٹس کو ڈاکٹرز اور پولیس آفیسرز کی طرح چاق و چوبند اور نسبتاً زیادہ فرض شناس بھی پایا!
پنجاب میں مریم نواز حکومت کے آتے ہی تبادلوں کا ریلا بیوروکریسی کو روندتا ہوا آگے نکل گیا، پہلے سو دن ہم کسی تنقید کے موڈ میں نہیں، سو اللہ کر اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے تبادلے اور او ایس ڈی کا ”اعزاز“ پانے والے عناصر سے خلق خدا کا بھلا ہو، اتنے ہی بڑے لیول پر سندھ، کے پی کے اور بلوچستان ہی نہیں مرکز میں بھی بھونچال آنے والا ہے۔ اگر تو یہ سب سودمند ہوا پھر بناؤ ہے، اور اگر محض پیالی میں طوفان کی بات ہوئی تو پھر اللہ ہی حافظ!
اس تحریر کے دوران مرحوم عبداللہ سنبل سا ہیرا یاد آ گیا جن کو ہم ہائر ایجوکیشن، فنانس اور لاہور کے کمشنر کے طور پر لوگوں کے بھلے ہی کرتے دیکھا، وہ قوم اور عوام رعایا تصور نہیں کرتے تھے، ان کا بطور چیف سیکرٹری پنجاب قلیل دور تھا کہ متعصب سیاست دان استفادہ نہ کرسکے، اور وفاقی سیکرٹری کے زیادہ دن کی مہلت رب تعالیٰ نے نہ دی ( اللہ انہیں جنت میں اللہ مقام دے! )
ہمارے وفاقی سیکرٹری ریٹائر ہونے والے دوست خواجہ شمائل بطور ایڈیشنل چیف سیکرٹری بھی کمال تھے، ان میں سلمان فاروقی کی سی بھی جھلک دکھائی دیتی رہی۔ ایسے انمول اثاثوں میں ارم بخاری سے لوگ بھی شامل ہیں، آخری خبریں آنے تک ارم بخاری ایوان صدر میں ہیں، اس سے قبل پنجاب کے سیاستدانوں کی عاقبت نا اندیشی کی بھینٹ چڑھ کر انہیں ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب سے ہاتھ دھونے پڑے اور ”جزا“ کے طور بلوچستان میں ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی سربراہ بنا کر باقاعدہ ضائع کرنے کی ”عمدہ“ کوشش کی گئی۔
بھولنے کو تو ہمیں وہ دن بھی نہیں بھولتے جب ”شریف النفس“ بزدار سرکار نے راجہ یاسر ہمایوں جیسے قابل قدر وزیر کے وژن کا بیڑا ڈبونے کے لئے ہائر ایجوکیشن کے چار سال میں پندرہ سولہ سیکرٹری بدل ڈالے۔ ہائر ایجوکیشن میں ماضی قریب کے خالد سلیم ہوں یا تھوڑے پرانے ذوالفقار گھمن ان کی تو اپنی تعلیم کو تربیت کی ضرورت تھی، حال ہی میں خالد سلیم کو او ایس ڈی لگایا گیا ہے، یہ اسی کی زینت بنے رہیں تو بھلا ہے۔
بہرکیف تازہ ترین تبادلوں میں افتخار ساہو کو چیئرمین پی اینڈ ڈی سے زراعت میں بھیجا گیا ہے، یہ باصلاحیت ہیں اور باکردار بھی، جہاں ہوں گے محنت اور محبت کو پروفیشنلی یکجا رکھیں گے۔ خوش قسمتی یہ کہ پی اینڈ ڈی کو نئے چیئرمین بیرسٹر نبیل اعوان کی شکل میں ملے ہیں گویا پی اینڈ ڈی کو کسی نقصان کا سامنا نہیں ہے، اوپر سے ڈاکٹر آصف طفیل کو سیکرٹری پی اینڈ ڈی بھی ان کا اپنا چوائس ہے۔
بہرحال ہائر ایجوکیشن سے گورنر ہاؤس تک نبیل اعوان فرض شناس ہی پائے گئے۔ بڑی دیر بعد ہائر ایجوکیشن کی خوش بختی کا دریچہ کھلا ہے گر کھلا رہا کہ ڈاکٹر فرخ نوید سی ایم امپلیمنٹیشن سے ہائر ایجوکیشن تک پہنچے ہیں، ان کا کریئر اور ارادے ہمیشہ بناؤ پر مشتمل ملے، اور امید ہے کہ سیکشن آفیسرز کو یونیورسٹیوں کی سنڈیکیٹ کی بے توقیری کے لئے نہیں بھیجیں گے اور مناسب آفیسرز سے استفادہ کریں گے، کچھ عاقبت نا اندیش ڈپٹیوں سے بھی جان چھڑائیں گے تو ثمرات پائیں گے۔
کیپٹن (ر) اسداللہ خان (جنرل جیلانی کے داماد) کی ملتان سے لاہور تک تعریفیں ملی ہیں ترجیحات کا تعین بنا کر چلنے والے اسداللہ خان کو سیکرٹری ہاؤسنگ کی ذمہ داری ملی ہے، اس سے قبل یہ ذمہ داری ساجد ظفر ڈال کے پاس تھی گویا یہاں بھی ہاؤسنگ کی لاج رہی کہ اچھے کی جگہ اچھے ہی آئے واضح رہے کہ ساجد ظفر ڈال کچھ دن قبل وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری چکے گئے، ساجد ظفر ڈال چونکہ پہلے بھی سی ایم سیکرٹریٹ ڈیوٹی کر چکے ہیں پس وہ اس سیٹ پر احسن انداز سے کام کر لیں گے کیونکہ وہ اس ماحول کے رموز و اسرار سے بخوبی آشنا ہیں۔
کیپٹن نور الامین مینگل کا بطور ہوم سیکرٹری آنا بھی رائٹ جاب فار دی رائٹ پرسن ہے، اسلام آباد سے لاہور تک کی سیاسیات و ماحولیات سے بخوبی واقف ہیں کئی بار سیکرٹری رہے کمشنر کا بھی تجربہ ہے۔ ڈاکٹر محمد شعیب اکبر کو اچھی پوسٹ نہ ملنا دیگر مبصرین کی طرح میرے لئے بھی حیران کن ہے، سیکرٹری ایم پی ڈی ڈی کے بجائے کسی زیادہ کام کی سیٹ پر ہوتے تو اچھا ہوتا، ماضی میں یہ سی ایم کے پرنسپل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔
مظفر سیال کو سیکرٹری سپورٹس معظم سپرا سیکرٹری فوڈ اور دانش افضال سیکرٹری وزیر اعلیٰ آفس کی اس دفعہ کارکردگی کیسی ہوتی ہے، اس کے فیصلہ آنے والے دن کریں گے تاہم زمان وٹو کو بورڈ آف ریونیو بھیجنا اور محض ممبر ٹیکسز پر ٹرخا دینا ٹیلنٹ کو کھڈے لائن لگانے کے مترادف ہے، جاوید اختر محمود سیکرٹری اوقاف چلے گئے ہیں، تجربہ کار ہیں، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا، طاہر رضا بخاری کو ڈی جی اوقاف لگا دیا گیا حالانکہ وہ بحیثیت سیکرٹری اچھا کام کر رہے تھے، واضح رہے کہ طاہر بخاری پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں۔
شاہدہ فرخ نوید ڈی جی سپیشل ایجوکیشن مقرر ہوئی ہیں تاہم یہ بطور اسپیشل سیکریٹری ہائر ایجوکیشن بھی محنت کرتی رہیں، اور جو ڈاکٹر احتشام انور سیکرٹری سکولز پھر مدثر ریاض ملک ڈی جی وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب اور آمنہ منیر کی ڈی جی سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب تقرری اور منیب الرحمن اسپیشل سیکریٹری ہائر ایجوکیشن کو بھی از سر نو دیکھنا پڑے گا ان لوگوں کو کام دکھانے ور نام بنانے میں پہلے سے زیادہ محنت کرنا ہوگی! نادر چٹھہ کمشنر بہاولپور بنے ہیں، ان کا ماضی اور فعالیت کہتے ہیں کہ یہ بہاولپور کے لئے اچھا شگون ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کو دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محمد علی کی جگہ اور ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ کی جگہ پر افادیت کے دریچے کھلنا کیسا رہے گا؟ سیکرٹری ریونیو بورڈ شفقت مشتاق (سابق ڈی سی بہاولنگر) سے بطور ڈی سی کس ضلع میں استفادہ کیا جا سکتا ہے؟ اسی طرح رائے منظور سے آفیسرز کا بہتر استعمال بھی ڈیو ہے! ہاں، عثمان خان جیسے وہ محنتی لوگ کہاں ہیں جنہوں نے ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کے طور سے اچھا کام کیا لیکن حاسدین وہ کام ہضم نہ کرسکے؟ ایک بات اور، سیکرٹریز اور ڈی جیز کے بعد ڈی سیز اور کمشنرز کے تقرر و تبادلے کو ایک دم بڑے پیمانے پر سامنے نہ لانا بہتر ہو گا، دھیرے دھیرے ہی درست ہو گا!
گڈ گورنس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ پنجاب کابینہ بھی کچھ ہاتھ پاؤں مارے کابینہ کے کچھ لوگ تو خاندانی بھرتی سے زیادہ کچھ نہیں تاہم مجتبیٰ شجاع اور سلمان رفیق کے علاوہ کرنل (ر) ایوب گادھی، مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری میں یہ صلاحیت بہرحال ہے کہ وہ متعلقہ بیوروکریسی کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ بنا سکتے ہیں۔ علاوہ بریں وزراء پرویز رشید کی چشم بینا، تجرباتی دوربین اور موثر خوردبین سے بھی فیض یاب ہو سکتے ہیں کہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے۔ ! یک صداقت عامہ یہ بھی ہے کہ روز روز تقرری و تبادلوں سے بہتر ہے پوری دور اندیشی سے آغاز ہی میں فیصلے کے لئے جائیں، سول سرونٹ۔ پرائیویٹ سرونٹ نہ بنیں، اور نہ انہیں بنایا ہی جائے!
کام دے کر کچھ عرصہ ان کی کارکردگی کو پرکھنا ضروری اور ”بے کار سرکار کے سفیروں“ کا کھڈے لائن ہونا ہی عوام اور اداروں کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ یقیناً، اب وہ کوڑھ کی کاشت نہیں ہوگی جو عثمان بزدار کے دور میں کروڑوں کے عوض تقرری و تبادلوں میں ہوا کرتی تھی!


