فریم سے باہر – افسانوی مجموعہ


افسانہ نگار : دعا عظیمی
تاثرات : راشد جاوید احمد

دعا عظیمی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”فریم سے باہر“ 27 افسانوں اور 10 نثرانوں پر مشتمل ہے۔ اتنے بہت سے افسانے پڑھنے کے لیے مصمم ارادے کی ضرورت ہوتی ہے تاہم پہلے ہی افسانے ”کالی ہوا“ نے مجھے حوصلہ دیا کہ میں باقی افسانے بھی پڑھ پاؤں۔ اس افسانے میں دعا عظیمی نے سماج میں موجود طبقات، یعنی محنت کش اور ان کا استحصال کرنے والوں کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ اس افسانے میں تخلیق کیے گئے کردار زندہ اور حقیقی کردار لگتے ہیں۔ کہانی کی بنت بھی عمدہ ہے۔

”جنگلی پھول“ میں رنگوں سے بھیگی باتوں کی تتلیاں پکڑتے پکڑتے حرفوں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے اور ہمارے لیے ایک سوال چھوڑ جاتا ہے کہ ”لڑکیوں، آرزووں اور نیم تاریکی میں جلتے چراغوں کی تھر تھراتی لو میں کیا مماثلت ہے؟

”حسن کی دیوی“ میں افسانے کی بنیاد میں محبت کی اساطیری کہانی کی جھلک ملتی ہے۔ یہ ایک اچھا افسانہ ہے۔

” کیکر کہانی“ یہ بہت عمدہ افسانہ ہے اور افسانہ نگار نے اس افسانے میں شہر کی خوبصورتی اور درختوں کو مسمار کرتی سڑکوں کے حوالے سے ایک عام آدمی کا حزنیہ بیان کیا ہے۔ ”پھولوں کا بور ہوا کے ساتھ اڑنا“ اور ”ایک کاغذی کارروائی سے دلہن کا کسی غیر کو اپنا ساجن مان لینا“ بہت معنی خیز سطریں ہیں۔ اس افسانے کے اختتام نے اسے اور بھی خوبصورت بنا دیا ہے۔

” محبت نامے لکھنے والی لڑکی“ ۔ اس افسانے کا لوکیل غیر ملکی لگتا ہے۔ کرونا کی وبا نے لوگوں

کے روزمرہ پر جو بھیانک اثرات ڈالے، یہ اس کی ایک ہلکی سی جھلک ہے تاہم اس میں کرنسی نوٹوں کو آتش دان میں پھینکنے والی بات قرین قیاس نہیں لگتی۔ وبا کے دنوں میں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں آنے والے کرنسی نوٹ سینے ٹائز کیے جاتے تھے، جلائے نہیں جاتے تھے۔

” اتھری گھوڑی“ میں کچھ تضادات محسوس ہوئے ہیں۔ قاری اس الجھن میں ہے کہ اصیل یا اتھری میں سے بہتر کون ہے۔ ہیرے کا رجعتی ماحول سے نکل کر اپنا مستقبل بنانا اور پھر چودھریوں سے ہی تعلق بنانا۔ لڑکے کا رشتے سے انکار کرنا، قاری کے لیے کافی الجھاؤ ہے کہ عورت کو اصیل ہونا چاہیے کہ اتھری۔

” کتھئی گھوڑا“ اس افسانے میں محبت، جسموں کی کشش، استحصال، دھوکہ دہی سب عام کہانیوں کی طرح ہے لیکن ٹریٹمنٹ کی وجہ سے کہانی بہت عمدہ بن گئی ہے۔

” دوسری محبت مغربی ستارے سے“ ، ”نتھلی والی“ ، ”اک وصل کی خاطر“ ، ”بھوری“ ، ”زندگی کی جیب سے“ ، ”پڑھی لکھی اداسی“ اچھے افسانے ہیں۔

” پرائیویٹ“ کا مرکزی کردار افسانے کے اختتام میں جب دفتر سے باہر نکلتا ہے تو وہ نارمل کیفیت میں نہیں لیکن اگلی ہی لائن میں ڈاکٹر سے مکالمہ دکھایا گیا جو قاری کے لیے ایک جھٹکے کا باعث بنتا ہے۔ وہ اس سنٹر میں کیسے پہنچا، جس نے پہنچایا وہ یکایک آیا اور پھر غائب بھی ہو گیا۔ یہاں کہانی میں کچھ گیپ نظر آتا ہے۔ اسی طرح افسانہ ”معمہ“ بھی معمہ ہی رہا۔ ہمارے خوابوں کی بنیاد یا تو ہمارے حال اور ماضی قریب کی وارداتوں میں چھپی ہوتی ہے یا پھر لا شعور سے نکلتے ہیں۔ صدیقی صاحب کا بغیر کسی شعوری یا لا شعوری بنیاد کے، جس کا کہانی میں ذکر یا اشارہ نہیں، ایسے خواب دیکھنا قاری کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے۔

عام طور پر افسانہ نگار اپنی بہترین کہانی ہی کو کتاب کے نام کے طور پر استعمال کرتے ہیں ”فریم سے باہر“ بجا طور پر اس مجموعے کی سب سے اچھی کہانی ہے۔ یہ افسانہ اس بات پر دلالت ہے کہ افسانہ نگار جس سماج میں رہ رہا ہے اسے بہت اچھی طرح سے جانتا ہے۔ یہاں بھی اسے کردار تخلیق نہیں کرنا پڑے بلکہ اس نے معاشرے کے ان حقیقی کرداروں کو اپنے تخلیق فن سے قاری کے سامنے رکھ دیا ہے۔ یہاں افسانہ نگار سے لے کر قاری تک سب فریم سے باہر نظر آتے ہیں۔ بہت خوبصورت افسانہ ہے۔

دعا عظیمی کے ہاں افسانوں کے موضوعات بھی مختلف ہیں اور کردار عوامی سطح کے ہیں۔ افسانہ خواہ شہر کے پس منظر میں ہے یا اس کا لوکیل شہری ہے، افسانہ نگار کی باریک بین آنکھ کی عمدہ عکاسی ہے۔ منظر نگاری، مکالمہ اور کہانی کا عنصر سبھی اپنی اپنی جگہ موزوں ہیں۔ خوبصورت الفاظ اور تشبیہات کے گودام بھرے پڑے ہیں دعا کے پاس اور ان کا برمحل اور برجستہ استعمال بھی اسے آتا ہے۔ اس مجموعے کے زیادہ افسانے ایک الگ اسلوب کی تعمیر کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور امید ہے کہ اس میں مزید پختگی اور نکھار آئے گا۔ افسانوں میں پنجابی زبان اور دیسی مہینوں کا استعمال بھی نثر میں خوبصورت اضافہ ہے۔ میری تجویز ہے کہ دعا عظیمی کو پنجابی زبان میں افسانہ بھی لکھنا چاہیے۔ کتاب کا سرورق اور طباعت بھی مناسب ہے۔

اس کتاب میں شامل نثرانوں پر بس ایک سرسری سی نظر ڈالی ہے۔ ان میں بھی ”فریم سے باہر“ شامل ہے۔ یہ سب نثرانوں سے کہیں بہتر ہے۔ اسے یا تو افسانے کا حصہ ہونا چاہیے تھا یا یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بہت سی داد دعا عظیمی کے لیے۔ میں نقاد نہیں ہوں اور نہ ہی نصابی قسم کی تنقید سے کوئی رغبت ہے۔ یہ تاثرات ادب کے ایک قاری کے سمجھے جائیں۔

کتاب بک کارنر جہلم نے شائع کی ہے۔ کتاب پبلشر اور افسانہ نگار دونوں سے دستیاب ہے۔

Facebook Comments HS