مسلم لیگ نون کی حکومت اور ہمارا میڈیا
ملک میں نئی جمہوری حکومت آ چکی ہے، مگر اس دفع حکومتی اتحاد میں کوئی جوش ولولہ نظر نہیں آ رہا۔ مسلم لیگ نون کی مرکز اور پنجاب میں حکومت بن چکی ہے مگر ان کو ہمارا میڈیا اس الیکشن میں سب سے بڑا لوزر قرار دے رہا ہے۔ ان کی حکومت میں واحد تبدیلی اسحاق ڈار کو فارن منسٹر بنانا ہے باقی کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ نواز شریف تو پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ وہ اتحادی حکومت میں وزیراعظم نہیں بنے گے۔ نواز لیگ حکومت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ لاہور سینٹرلڈ حکومت بناتے ہیں۔
ان کی کیبنٹ کے تین کرائیٹیریا ہمیشہ نمایاں ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ وزیر بن سکتا ہے جو کشمیری ہو دوسری کوالٹی کہ وہ بٹ ہو اور تیسری کوالٹی اس کی یہ ہو کہ وہ لاہور کا ہو۔ اور مسلم لیگ نون کی حکومت مٰیں ہم اخباروں میں پڑھتے رہے کہ صوبے کا 60 فیصد بجٹ لاہور پر خرچ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بھی 2024 کی الیکشن میں نواز لیگ لاہور سے بری شکست سے دو چار ہوئی ہے۔ نواز لیگ کی مرکز کی حکومت میں کوئی ایک وزیر بھی سندھ سے نہیں لیا گیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز لیگ نے سندھ سے کوئی سیٹ نہیں لی مگر پنجاب سے بھی ایسے لوگوں کو وزیر بنایا جا رہا ہے جنہوں نے کوئی سیٹ نہیں جیتی۔ ایک قومی پارٹی کو ہر صوبے سے نمائندگی دینی چاہیے مگر یہ باتیں ہماری میڈیا پر ڈسکس نہیں ہوتی۔ ایم کیو ایم پاکستان کو اپنا سیاسی حصا ملے گا لیکن ایم کیو ایم پاکستان ایک لسانی تنظیم ہے اور اس کو کیسے سیٹیں ملی ہیں وہ سب کو ہی پتا ہے۔
بظاہر 100 ٪ مرکزی حکومت نواز لیگ کے پاس ہے اس کے باوجود یہ کیوں کہا جا رہا ہے مسلم لیگ نون کو کچھ نہٰیں ملا اور آصف علی زرداری سب کچھ لے گیا۔ 18 ترمیم کے بعد صدر کے پاس کوئی خاص اختیار نہیں وہ تو ایک سیریمونل صدر ہے اور اس کو سب کچھ کیسے مل چکا ہے۔ صدر تو عارف علوی بھی رہے ہیں مگر وہ تو کسی کے لیے خطرہ نہیں تھا۔ ابھی تو نئی حکومت کا ہنی مون شروع ہوا ہے مگر کچھ کالمسٹ نے لکھنا شروع کر دیا ہے کہ آصف زرداری کسی وقت بھی نواز حکومت کو چلتا کر سکتا ہے جو بالکل سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کوئی ایم کیو ایم یا مسلم لیگ قیو تو نہیں کہ وہ کسی کے اشارے پر کوئی ایسا فیصلہ کرے جو ملک میں سیاسی غیر یقینی والی صورتحال پیدا کر دے۔
اب ہماری حکومتوں میں بڑے بڑے صحافی بھی شامل ہوتے ہیں، اور جس صحافی کو اپنا حصا نہیں ملتا وہ اپنی ایجنڈا پر لوگوں کا ذہن بنانا شروع کر دیتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے پچھلے دور صدارت میں پی ٹی وی سے شاہد مسعود کو نکالا گیا تھا، اور اس نے صدر آصف زرداری کے خلاف سیکڑوں پروگرام کیے تھے۔ اس وقت بھی سمجھ آ رہا تھا کہ شاہد مسعود کا کوئی صدر زرداری سے ذاتی معاملہ ہے۔
ابھی تو صدر زرداری کو صدر کا حلف لیتے ہوئے کچھ ہی دن ہوئے ہیں کچھ صحافیوں نے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ حکومت زیادہ وقت نہیں چل سکے گی۔ ملک کا نامور صحافی نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں ایک دفعہ بتایا کہ ان کو پی سی بی سے صدر آصف علی زرداری نے ہٹوایا تھا۔ اب اس نے ایسے باتیں کرنا شروع کردی ہے جس سے لگتا ہے وہ بھی آصف علی زرداری سے بہت ناراض ہے۔ ایک دفع تو اس نے یہ کہہ دیا میری انفارمیشن ہے آصف زرداری صدر نہیں بن سکتا۔ جو لگتا ہے اس کی خواہش تھی لیکن وہ تو صدر بن گئے اور اب پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں غلط فہمی پیدا کرنی کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ سے پانچ دفعہ دھوکہ کیا ہے اور اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تو مسئلہ یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر 99 ٪ لوگ پنجاب کے ہی کام کرتے ہیٰں اور وہ کسی اور کا پوائنٹ آف ویو بھی نہیں لیتے اور پبلک مس گائیڈ ہو جاتی ہے۔ شام 7 بجے سے 11 بجے تک اکثر چار چار جرنلسٹ پروگرام کر رہے ہوتیں ہیں، 99 ٪ ان کا تعلق پنجاب سے ہوتا ہے اور وہ تھر کے بچوں پر بھی بات کر رہے ہوتے ہیں، اور ان کو تھر کے بچوں کی بڑی فکر ہوتی ہے جن لوگوں نے زندگی میں حیدرآباد تک نہیں دیکھا ہوتا۔ یہ لوگ بلوچستان کے حالات پر بھی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ جنہوں نے کبھی زندگی میں سبی نہیں دیکھا۔ ان میڈیا والوں کو نہ سندھ سے کوئی جرنلسٹ ملتا ہے نہ بلوچستان سے۔ کم از کم سندھ یا بلوچستان کے سیاسی حالات کے بارے میں وہاں رہنے والے لوگوں سے پوچھیں مگر وہ ایسا کر نا پسند نہیں کرتے۔
اگر ہمارا میڈیا ایسے ہی تبصرے کرتا رہا جیسے نجم سیٹھی اپنے پروگرام میں کر رہا ہے تو مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی ورکنگ ریلیشن خراب ہو سکتی ہے اور اس کا نقصان ملک اور عوام کو ہو گا۔


