پونم پریت افسانہ (آخری قسط)


میں نے یادوں کے جھروکوں سے باہر دیکھا تو ایک ایک سروس ایریا کا سائن بورڈ نظر آیا۔ میں نے توقف کیا۔ گاڑی کو ری فیول کیا اور ریسٹورنٹ کے باہر کھلے برآمدے میں بیٹھ کر میک ڈانلڈ کا میک عریبیہ کھانے لگا۔ تازہ دم ہو کر جب دوبارہ موٹر وے پر آیا تو دماغ میں لاہور کے گیسٹ روم کا منظر ابھی تک قائم تھا :

’صبح جب میری آنکھ کھلی تو کمرے کا عجیب منظر تھا۔ کھڑکی کے پردے ہٹائے جا چکے تھے۔ سورج کی کرنیں مجھے صبح کا سلام پیش کر رہی تھیں۔ ”صبح بخیر۔“ مجھے پونم کی سرگوشی سنائی دی۔ میں نے سلام کا جواب دیا اور بیڈ کی دائیں جانب دیکھا۔ وہ آرام دہ چئیر پر آرام سے بیٹھی مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ سامنے کافی ٹیبل پر دو کپ اور ایک تھرمس پڑی تھی۔ کافی کو کافی دیر سے تمھارے جاگنے کا انتظار ہے۔ شاید ٹھنڈی ہو چکی ہوگی۔

میں گرم کر کے لاتی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اٹھنے لگی تو مجھے اس پر بہت پیار آیا۔ میں نے اس کا بازو پکڑ کر اس کے ہاتھ کا بوسہ لے لیا۔ پونم شرما کر تھرمس اٹھا کر باہر نکل گئی۔ وہ واپس آئی تو میں نے رات کا قصہ چھیڑا۔ پونم نے بتایا کہ رات میں جوتے پہنے پہنے ہی گہری نیند سو گیا تھا۔ اور یہ کہ پونم نے کمرے کا ماحول خواب آمیز کیا اور مجھے آرام دہ کر کے سونے دیا تھا۔ اور باتوں والا سیشن مؤخر کر دیا تھا۔

صبح جب ہم دونوں نہا دھو، تازہ دم ہو کر مشترک لاؤنج میں داخل ہوئے تو ڈائننگ ٹیبل پر توس، پراٹھا، آملیٹ، اچار، پودینے کی چٹنی اور لسی پر مشتمل ناشتہ ہمارا منتظر تھا۔ ناشتے کے دوران پونم بہت خوش، تازہ دم اور آسودہ لگ رہی تھی۔ آج اس نے کلیجی رنگ کی لمبی قمیض اور کالی ٹائٹس پہن رکھی تھیں۔ پاؤں میں فلیٹ کینوس شوز تھے اور خلاف معمول آج اس کشمیری شال بھی کند ہوں پر ڈال رکھی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں پونم کے موقع کے مطابق لباس پہننے کے سلیقے کی داد دی۔

ناشتے کے بعد ہم چائے پیتے ہوئے بقیہ دن کا پروگرام ترتیب دیتے رہے۔ مجھے شاپنگ کرنی نہیں آتی اور نہ ہی اس کام میں کسی اور کا ساتھ دے کر خوشی ہوتی ہے۔ پونم یہ جانتی تھی۔ اس نے مجھے لاہور میوزیم میں ڈراپ کیا۔ اور خود میری جیپ لے کر شاپنگ کرنے انار کلی کی طرف چلی گئی۔

اس دن میں نے پہلی دفعہ پنجاب میں سکھوں کی حکومت کے شاندار ادوار ماضی کے جھروکوں میں دیکھے۔ اس کے علاوہ گوتم بدھ کے نادر مجسمے، مختلف آسن اور سندھ تہذیب کے شاہکار پر مشتمل تینوں گیلریاں دیکھ کر اتنا محظوظ ہوا کہ تین گھنٹے گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔

شاپنگ سے فارغ ہو کر پونم جب مجھے لینے میوزیم پہنچی تو سہ پہر ڈھلنے کو تھی۔ ہم نے بھاٹی سے دہی بھلے کھائے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق شام ڈھلنے سے پہلے پہلے شاہدرہ باغ پہنچ گئے۔ سورج غروب ہونے سے قبل ہم نے دونوں مقبرے اندر تک دیکھ لئے۔ کھجوروں کی اوٹ سے غروب ہوتا سورج ایک اور دن کے زوال کا اعلان کر رہا تھا۔ پونم نے میرا ہاتھ اس وقت تک تھامے رکھا اور ہلکے ہلکے آنسو بہاتی رہی جب تک سورج مکمل غروب نہیں ہو گیا۔

جب اس کی طبیعت سنبھل گئی تو بولی: ”تم ایک کھرے اور سچے دوست ہو۔ مجھے تمہاری دوستی پر فخر ہے۔ یہ وقت، یہ دن، یہ لمحہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ کل یہاں شام تو آئے گی مگر ہم ایسے بیٹھ کر اس طرح غروب آفتاب کا نظارہ کرنے کے لئے موجود نہیں ہوں گے ۔ اس طرح یہ شام اب ہمارے لئے دوبارہ کبھی نہیں آئے گی۔“ پونم کی سسکی نکل گئی۔ میں نے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور اس کے گال سہلانے لگا۔ زندگی ملنے اور بچھڑنے سے عبارت ہے۔ آؤ اب لوٹ چلیں۔ ”میں صرف اتنا کہہ سکا۔ اور پونم کا ہاتھ تھامے اٹھ کھڑا ہوا۔ ہم نے شام کا کھانا پرانی انار کلی میں خاموشی سے بیٹھ کر کھایا اور وہاں کی مشہور کشمیری چائے پینے کے بعد اپنی عارضی رہائش گاہ کی طرف چل پڑے۔

گیسٹ روم پہنچ کر ہم دونوں نے مل کر پونم کا سامان سفر نہایت احتیاط سے باندھا۔ پھر کیا ہوا کہ پونم ایک دم اٹھی اور مجھے گلے لگا لیا۔ میں بھی اس کو بانہوں لینے سے اپنے آپ کو نہیں روک سکا۔ اس نے میرے کان میں ’شکریہ‘ کی سرگوشی کی اور میرے دونوں گال چومنے لگی۔ میں نے بھی اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھاما اور اس کے ہونٹوں کے طویل اور رسان آور بوسے لینے لگا۔ چند لمحات کے لیے ہم ہر شے سے بے خبر ایک دوسرے میں کھو چکے تھے اور کچھ بولے بغیر بوس و کنار سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے انگ انگ کو محسوس کر رہے تھے۔

پھر کیا ہوا کہ پونم اچانک رک کر مجھ سے الگ ہو گئی۔ اگرچہ اس نے میرے دونوں کندھوں کو اب بھی پکڑ رکھا تھا۔ میں بھی پیچھے ہٹ گیا۔ میں نے جب آنکھ اٹھا کر پونم کی جانب دیکھا تو اس کی خمار آلود سرخی مائل آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میرے کمرے میں لے آئی۔ مجھے میرے بستر پر لٹایا اور شب بخیر کہہ کر چلی گئی۔

نیند مجھ سے کوسوں دور تھی۔ پونم کے جسم کی خوشبو مجھ سے لپٹی ہوئی تھی۔ میں واش میں جا کر شاور کے نیچے دیر تک اپنے جسم کو ٹھنڈا کرتا رہا۔ اس کے بعد جسم کو خشک کر کے سو نے کی کوشش کرنے لگا اور کروٹیں بدلتے بدلتے نہ جانے کب سو گیا۔ صبح میری آنکھ پونم کے پیار بھرے بوسے سے کھلی۔ اس کی زلفوں میں بسی کول واٹر کی خوشبو مجھے مشکبار کر گئی۔ وہ سفر کے لیے بالکل تیار تھی۔ میرے تیار ہونے تک پونم اپنا سامان برآمدے میں لاکر ناشتہ میز پر لگوا چکی تھی۔

میں جب لاہور ائر پورٹ کے بین الاقوامی لاؤنج میں، پونم کو الوداع کہنے کے لئے آگے بڑھا تو وہ ماحول کی پروا کیے بغیر مجھ سے لپٹ کر رونے لگ گئی اور روتے روتے میرے دونوں گالوں پر اپنے نرم و گرم ہونٹوں سے بوسے لینے کے بعد سر گوشی کی: ”تم میرے سب سے مخلص اور قابل قدر دوست ہو۔“ مجھے اس وقت پونم پر بہت پیار آیا۔ اور بے ساختہ اس کے کان میں ایک سر گوشی کی۔ ”آئی لو یو پونم۔ “ میری سرگوشی سن کر اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑ لئے اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس وقت تک دیکھتی رہی جب تک دو آنسو اس کی پلکوں سے ٹپک کر اس کے روشن رخساروں پر پھیل نہیں گئے۔

پھر اچانک پونم نے میرے ہاتھ چھوڑے اور تیزی سے بین الاقوامی لاؤنج میں داخل ہو گئی۔ اس نے پھر مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ شاید اس سے زیادہ آنسو وہ مجھے دکھانا نہیں چاہتی تھی۔ پونم کو رخصت کر کے جب میں موٹروے لینے کے لئے کینال روڈ کی طرف روانہ ہوا تو یوں محسوس ہوا جیسے میں اپنی کوئی بہت قیمتی شے لاہور ائرپورٹ پر چھوڑ آیا ہوں۔

میں اب موٹر وے کا سفر ختم کر کے اسلام آباد ٹول پلازہ عبور کر رہا تھا۔ غروب آفتاب میں کوئی ایک گھنٹہ ابھی باقی تھا۔ مجھے چائے یا کافی کی طلب محسوس ہو رہی تھی۔ مگر اسلام آباد ٹول پلازہ سے ای۔ الیون۔ کے درمیان بیس منٹ کے فاصلے میں کوئی مناسب چائے خانہ نہ تھا۔ میں نے اپنے ٹھکانے پہنچ کر ہی چائے یا کافی پینے کا فیصلہ کیا۔

بیس منٹ میں گاڑی پارک کر کے وہیں سے لفٹ کے ذریعے جب اپنے فلور پر پہنچا تو مجھے اپنے فلیٹ کی جانب سے اپنی پسندیدہ موکہ کافی کی مہک آتی محسوس ہوئی۔ اس مہک کے آنے سے میری کافی کی پیاس بڑھی سو بڑھی میری حیرت اس سے زیادہ بڑھ گئی۔ کیونکہ میرے اپارٹمنٹ کا واحد دروازہ بے قفل تھا۔ اگرچہ میرے فلیٹ کی ایک اضافی چابی استقبالیہ پر بھی موجود ہوتی ہے۔ جو میرا کیئر ٹیکر لے سکتا ہے تاکہ دن کے اوقات میں صفائی وغیرہ کروا سکے۔ مگر آج تو اتوار تھا۔ اور شام کا وقت بھی۔

اتنی دیدہ دلیری سے میرے گھرمیں کون موجود ہے؟ یہ سوچ کر مجھے حیرانی کے ساتھ ساتھ تشویش بھی ہونے لگی۔ اسی شش و پنج میں جب میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو اندر کا منظر دیکھ کر مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ پونم میرے لاؤنج میں سامنے صوفے پر بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ اس کے عقب میں دن کا تھکا ہارا سورج اپنی خواب گاہ پر دستک دے رہا تھا۔ ”جلدی سے تشریف لے آئیے جناب۔ کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ “ یہ بات کہتے ہوئے مسکرا کر نہایت اپنائیت سے پونم مجھے یوں دکھائی دی جیسے صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچی ہو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments