توہین مذہب کا الزام اور خاتون کی ہراسگی
اگر پاکستان میں ماضی قریب میں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ لوگ اپنے ناجائز عزائم حاصل کرنے کے لیے واقعات اور حقائق کی چھان بین کیے بغیر کسی پر بھی توہین مذہب کا الزام عائد کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔
گزشتہ دنوں لاہور کے اچھرہ بازار میں بھی اسی طرح کا ایک نا خوش گوار واقعہ رونما ہوا۔ ایک خاتون جس نے عربی خطاطی والی قمیض پہنی ہوئی تھی۔ اپنے شوہر کے ساتھ شاپنگ کی غرض سے بازار آئی۔ اس کو کچھ افراد نے روک کر کہا کہ تم قرآنی آیات والی قمیض پہن کر توہین مذہب کی مرتکب ہوئی ہو۔ جب خاتون اور اس کے شوہر نے وضاحت کرنا چاہی تو وہ لوگ مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے خاتون اور اس کے شوہر کو ہراساں کرنا شروع کر دیا اور یہ مجمع بہت جلد ایک مشتعل ہجوم کی شکل اختیار کر گیا۔
دریں اثنا پولیس بھی موقعہ پر پہنچ گئی۔ اے ایس پی گلبرگ شہر بانو نقوی ہجوم سے مذاکرات کے بعد بڑی بہادری اور جرات مندی سے خاتون کو مشتعل ہجوم کے چنگل سے نکال کر لے جانے میں کامیاب ہو گئی۔
بعد ازاں شہر بانو نقوی نے اس واقعہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ”آج اچھرہ بازار میں ایک خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ شاپنگ کے لیے گئی اور اس نے ایک کرتا پہنا ہوا تھا جس پر عربی زبان کے کچھ حروف لکھے تھے جس کے بعد وہاں موجود لوگوں نے سمجھا کہ یہ کچھ مذہبی کلمات ہیں اور اس معاملے نے ایک غلط فہمی کو جنم دیا۔“
اس ویڈیو میں ان کے ساتھ مذکورہ خاتون اور کچھ علماء بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک عالم نے فرمایا کہ ”ہم نے قمیض پر پرنٹ ہوئے حروف کو دیکھا ہے اور وہ عربی حروف ہیں لیکن وہ عام الفاظ تھے، یہ بیٹی نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ایسا لباس نہیں پہنے گی جس کے بعد انھیں معاف کر دیا گیا ہے۔“
اس کے بعد مذکورہ خاتون نے بھی اسی ویڈیو میں کہا کہ ”میں اچھرہ بازار شاپنگ کے لیے گئی تھی اور میں نے جو کرتا پہنا تھا وہ ڈیزائن سمجھ کر لیا تھا، مجھے نہیں علم تھا کہ اس پر ایسے الفاظ لکھیں ہیں جنھیں لوگ عربی سمجھیں گے، میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی، یہ جو کچھ بھی ہوا یہ لاعلمی میں ہوا، میں مسلمان ہوں اور کبھی توہین مذہب یا توہین رسالت کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتی۔ یہ سب لاعلمی میں ہوا میں پھر بھی معذرت کرتی ہوں اور دوبارہ ایسا نہیں ہو گا۔“
جب علماء نے اس قمیض کی خطاطی کا مکمل معائنہ کیا تو بتایا کہ قمیض پر قرآنی آیات نہیں بلکہ اس پر عربی زبان میں ”حلوہ“ اور ”حیات“ وغیرہ لکھا ہوا تھا۔ اس سے ہراساں کرنے والے مشتعل ہجوم کی علمی قابلیت اور عربی زبان و علوم میں مہارت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔
اس ضمن میں ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ ایک شخص بسلسلہ روزگار پاکستان سے سعودی عرب گیا۔ ایک دن وہاں کسی بات پر اس کی لڑائی ایک عربی سے ہو گئی اور بات بڑھتے ہوئے گالی گلوچ تک پہنچ گئی۔ چوں کہ پاکستانی کو عربی زبان نہیں آتی تھی تو اس نے اپنی مادری زبان میں عربی کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔ جواباً عربی نے پاکستانی کو عربی زبان میں گالیاں دینی شروع کر دیں، اس پر پاکستانی عربی کے سامنے احتراماً ہاتھ باندھ کے کھڑا ہو گیا۔ اس کے پاس کھڑے دوسرے پاکستانی نے، جس کو عربی زبان آتی تھی کہا کہ وہ تمھیں گالیاں دے رہا ہے اور تم اس کے سامنے ہاتھ باندھ کے کھڑے ہو گئے ہو۔ اس پر وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو سمجھا کہ وہ تلاوت کر رہا ہے۔ اس لیے میں احتراماً ہاتھ باندھ کے کھڑا ہو گیا۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ علم بڑی دولت ہے۔ علم انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور کی روشن راہوں پر گامزن کرتا ہے۔ اس کو بصیرت عطا کرتا ہے، منطق اور دلیل سکھاتا ہے۔
میڈیا پر شہر بانو نقوی کے اقدام کو بڑا سراہا گیا۔ آئی جی پنجاب پولیس، چیف آف آرمی سٹاف اور دیگر نے انعامات اور اعزازت سے نوازنے کا عندیہ دیا۔ اس کی جرات اور بہادری کو اس طرح سے خراج تحسین پیش کرنا ضروری تھا کیوں کہ ہمارے زوال پذیر معاشرے میں جب کوئی سرکاری ملازم یا کوئی شہری اپنے فرائض کی ادائیگی صحیح طرح سے کرتا ہے تو اس کی پذیرائی کی جانی چاہیے کیوں کہ عام حالات میں ہم اس کی توقع نہیں کر رہے ہوتے۔
شہر بانو نقوی کی بہادری اور اعزازات کی اوٹ میں ہمیں مذکورہ خاتون کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے۔ اس واقعہ نے خاتون اور اس کے اہل خانہ کی زندگی پر بہت برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کا کسی کو اندازہ ہے؟ کیا کوئی حکومت اور ریاست کبھی ان کا ازالہ کر پائے گی؟ کیا مذکورہ خاتون آئندہ کسی بازار میں شاپنگ کرنے کی ہمت کرے گی؟ کیا وہ صحیح اور غلط میں تمیز کر سکے گی؟ کیا وہ اپنے بچوں کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنا سکھا سکے گی؟
جہاں ریاست اور حکومت کمزور پڑ جاتی ہے اور مصلحت کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہاں قانون کی حکمرانی خواب بن کے رہ جاتی ہے۔ ہر کس و ناکس اپنی حیثیت اور اوقات کے مطابق اپنی مرضی کا نظام قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے نظام میں انتہا پسند اور متشدد رویوں کے حامل افراد کے سامنے ایک عام شہری کے پاس حق اور سچ پر ہوتے ہوئے بھی اپنی جان بچانے کے لیے معذرت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
اس طرح کے واقعات بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی بدنامی اور رسوائی کا باعث بنتے ہیں۔ ارباب اختیار و اقتدار اشخاص پر قانونی اور آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں اور کسی پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والوں کو قرار واقعی سزا دلوانے میں موثر کردار ادا کریں۔


