جناح کا پاکستان بھی ریاست مدینہ ہی تھا


یقین کریں جناح کا پاکستان بھی تو ریاست مدینہ ہی تھا قائد کا پاکستان در اصل حقیقی ریاست مدینہ کی تصویر تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے تو بارہا اپنی تقاریر میں اپنی قوم کو بتایا کہ ہمیں پاکستان کو ایسا ملک بنانا ہے جہاں ہر شخص اپنے مذہب پر عمل کے لیے آزاد ہو، جہاں مندر، مسجد، گرجا گھر، میں عوام سب کی سب اپنے اپنے عقائد میں آزاد ہو، لیکن افسوس کہ ہم نے پاکستان کو ایک ایسی تجربہ گاہ بنا دیا جہاں پر آنے والے حکمران نے جناح کے پاکستان کو تجربہ گاہ بنا دیا۔

صوبہ پنجاب میں ایک ایسے بھی وزیر اعلی ہو گزرے ہیں جن کا یہ جملہ زبان زدعام تھا کہ (میں ابھی سیکھ رہا ہوں ناں ) خدا کی پناہ ملک کو ہم نے اتنا حقیر سمجھ لیا ہے کہ اس کو چلانے کے لئے انڈر ٹریننگ لوگوں کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھاتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے اور اس طرح کی مجرمانہ حرکت کرنے والے ایک بار بھی نہیں سوچتے کہ انہوں سے ملک و قوم کا کتنا نقصان کیا ہے۔ نکما حکمران اپنے نت نئے تجربات اور سیکھنے کے عمل سے ملک و قوم کا وقت ضائع کرتا ہے اور پاکستان کا ( وقت) توشہ خانہ میں پڑی گھڑیوں، گاڑیوں اور دوسرے بیش قیمت تحائف سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔

ہم نے کبھی روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر پاکستان کا وقت ضائع کیا، کبھی قرض لئے کر ہماری غلط ترجیحات نے پاکستان کا وقت ضائع کیا اور کبھی نیا پاکستان بنانے کے فلاپ تجربے نے پاکستان کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔ کسی نے بھی پاکستان کو جناح کا پاکستان بنانے کا نہیں سوچا۔ پاکستان کو بنے بھی اب 76 سال ہو چکے، یہ تحریر کرتے بھی شرم آ رہی ہے کہ اس وقت بھی ہمیں جناح کی ریاست تشکیل دینے کی سوچ پیدا کرنے کے لئے کیا ہمیں مزید 70 سال چاہیے؟

پاکستان کی حکمرانی کے حصول کے پیاسے سیاستدانوں کو جناح کا پاکستان بنانے کے لئے کم از کم اس کی جانب کوئی قدم تو اٹھانا چاہیے، کوئی ایجنڈا تو سامنے لانا چاہیے۔ مگر افسوس اس وقت تک نہ تو کوئی سیاسی پارٹی اس جانب سوچ رہی ہے اور صد افسوس اس عظیم سوچ کے بارے میں کسی بھی پارٹی کا ووٹر سپورٹر اپنے بڑوں سے سوال تک کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔

سیاسی پارٹیاں اپنے ووٹرز سپورٹرز اور مخلص کارکنان ہی کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں گنگا الٹی ہی بہتی ہے۔ آپ8 فروری 2024 کے انتخابات ہی کو لے لیں ہر طرف دھاندلی اور انتخابات کو بری طرح مینیج کرنے کے الزامات کا شور ہے، یہاں تک کہ حکمران پارٹی سمیت اتحادی پارٹیوں کو بھی انتخابات پر تحفظات ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے اب وہ وقت نہیں کہ مخلص کارکنان جنہوں نے اپنی جوانیاں پارٹی پر قربان کر دیں برے وقت میں پارٹی کے ساتھ رہے اس وقت نیب اور عدالتوں کے باہر اپنے قائدین کا حوصلہ بڑھاتے رہے جب پارٹی عہدیدار باہر نکلنے سے کتراتے تھے۔

اب اگر ان کارکنان کو ان کی قربانیوں کو بھلا کر آپ من پسند اور متنازعہ شخصیت مریم اکرام کو مخصوص نشست پر ایم این اے بنا دیں گے تو سوالات اور تنقید کا سامنا تو آپ کو کرنا پڑے گا۔ کیا ایسے جناح کا پاکستان بنے گا۔ سیاست دانوں کے غیر سیاسی رویوں سے عوام میں نفرتیں پیدا ہو رہی ہیں، عدم برداشت کی فصل تیار ہو رہی ہے۔

ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں مدینے میں تو امن کا درس ملتا تھا، محبت ملتی تھی، مدینے میں تو میں بھائی چارہ تھا، برداشت تھی، اخوت تھی، لیکن پاکستان میں اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے ریاست مدینہ کا چورن بیچا گیا، کانوں میں ( اسلامی ٹچ ) کی سرے عام سرگوشی سن کر بھی ہم اندھے گونگے بہرے بن جاتے ہیں۔ غلام اور فالوور میں فرق ہونا چاہیے۔ اگر آپ اپنے اپنے من پسند سیاستدانوں کی ایسی مجرمانہ سرگوشیوں کو نظر انداز کر کے واہ واہ کریں گے تو یاد رکھیں آپ بھی ان کے جرم میں برابر کے شریک ہوں گے۔

خدارا! پاکستان اور اس کی بدحال عوام پر رحم کرو اور اگر پاکستان کا کوئی ایک سیاسی لیڈر واقعی ریاست مدینہ کو رول ماڈل بنا کر پاکستان کی ریاست میں ریاست مدینہ کا عکس دیکھنا چاہتا ہے تو انہیں سب سے پہلے سیکھنا اور سمجھنا ہو گا کہ ر سول اکرمﷺ نے کیسے ریاست مدینہ کا قیام کیا۔ آج بھی ہمارے لئے رسول اکرمﷺ کا اسوہ حسنہ ایک روشن مثال ہے جس پر عمل کر کے غیر مسلم نے ترقی کر لی لیکن ہم آج بھی اقتدار کی ہوس میں کبھی کس کے ہاتھوں بک جاتے ہیں اور کبھی کس کے ہاتھ کا کھلونا بن جاتے ہیں۔ اللہ کی قسم! کامیابی حاصل کرنی ہے تو مدینے والے ﷺ رحمت اللعالمین ﷺ آقا کے ہاتھ بک جاؤ، قرآن و احادیث کے مطابق چلنے کی کوشش تو کر کے دیکھو، پھر دیکھو تمہیں کیسے کامیابی کے روشن راستے ملتے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے جو بہترین نظام زندگی قیامت تک کے لیے ہو سکتا تھا، وہ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاءﷺ کے ذریعے اپنی کامل اور اکمل ترین شکل میں دے دیا۔ ر سول اکرمﷺ نے دیانت و امانت کے اصولوں، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور اپنے کردار و عمل سے ”ریاست مدینہ“ کو دنیا کی عظیم اور بے مثال مملکت بنا دیا۔ حضور اکرم ﷺنے اپنی بعثت کے بعد عمر بھر لگن اور ذمے داری کے ساتھ اپنے فرض کو پورا کر کے انسانیت کو پستی سے نکال کر رفعت تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیا۔

رسول اکرم ﷺ کا مثالی طرز حکم رانی، جس نے داخلی و خارجی سطح پر بکھرے یثرب کو دنیا کی بہترین اسلامی فلاحی ریاست مدینہ میں تبدیل کر دیا۔ آپ ﷺ کے پیش نظر ایک اہم مقصد صالح معاشرے کا قیام تھا اور اس کے لیے حکومت کا ہونا ناگزیر تھا۔ آپﷺ اکثر دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے االلہ! اقتدار کے ذریعے اسلام کی مدد فرما۔ آپ ﷺ کی حکومت کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور عوامی بہبود تھا۔

پاکستان میں بدامنی، معاشی، اخلاقی اور سیاسی عدم استحکام اور ابتری کا دور دورہ ہے، اسے ختم کر نے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ آپﷺ نے اپنے دور حکمرانی میں تمام نوع انسانیت کے ساتھ عدل، مساوات اور سما جی برا بری کا رویہ اپنایا، لہٰذا اسلامی ریاست کے حکمرانوں کی یہ اولین ذمے داری ہے کہ وہ ریاست میں عدل کی بالادستی، ظلم کے سدباب اور امن و سلامتی کے قیام کے لیے عدل و مساوات اور بے لاگ احتساب کا وہ تصور قائم کریں جو اسلامی ریاست کی اساس اور بنیاد ہے۔ قائد کا پاکستان ہی دراصل ریاست مدینہ کا ماڈل تھا، لہذا نیا پاکستان بنانے کی ہر گز ضرورت نہیں، ضرورت صرف جناح کا پاکستان بنانے کی ہے جس کے لیے سیاستدانوں کو نیک نیتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS