پاکستان میں سیاست کے عمومی تصورات


بغیر کسی مقصد یا فائدہ کے مخفی اور ملفوف طریقہ سے اپنے رفقاء اور عزیز و اقارب کی ٹانگیں کھینچنا یا ان کے راستے میں روڑے اٹکا کر ان کا تماشا دیکھنا ایک عام آدمی کا ”تصور سیاست“ ہے۔ اقرباء پروری، وعدہ خلافی، جھوٹ، منافقت اور مکر و فریب بھی خاصے عام تصورات ہیں۔ کچھ مسلکی سیاسی جماعتوں کے نزدیک کسی ایشو یا نان ایشو کو ایشو بنا کر بسا اوقات بڑے بڑے جلسے جلوس، احتجاج اور دھرنے کرنے کا نام سیاست ہے۔ ایک مختصر تعداد ایسے پڑھے لکھے لوگوں کی بھی ہے جن کے نزدیک سیاست کی معراج اسی میں ہے کہ کبھی کبھار دس بیس لوگوں کو ساتھ لے کر پریس کلب کے باہر کھڑے ہو کر اور چند عدد لچھے دار تقریروں کے ذریعے عوام اور میڈیا کو آگاہی دینا کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے۔

ایک طویل عرصہ تک سندھ کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کی وجہ شہرت اور سیاسی فلسفہ بھتہ خوری، بوری بند لاشوں اور بڑے شہروں کو منٹوں بند کروانے کی صلاحیت پر کھڑا رہا ہے۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیاں سیاست کے نام پر محض اقتدار حاصل کرنے کا کھیل کھیلتی نظر آتی ہیں۔ اقتدار خواہ ادھورا ہو، مشروط ہویا محدود عرصہ کا ہو، اندرونی اسٹیبلشمنٹ یا عالمی اسٹیبلشمنٹ کا محتاج ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بس اقتدار ہونا چاہیے اور پروٹو کول کی چار گاڑیاں آگے پیچھے ہوں تو مزہ ہی مزہ ہے۔ غلطی سے اگر کوئی چھوٹی موٹی کامیابی حاصل ہو جائے تو سہرا اپنے سر وگرنہ ناکامیوں کا تمام نزلہ فوج، امریکہ اور اپوزیشن پر ڈال دو اللہ اللہ اور خیر صلا۔ بالکل اسی طرح چھوٹے صوبوں کے حکمران اپنی ناکامیوں کا قصوروار پنجاب یا پنجابیوں کو ٹھہرا کر بری ہو جاتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ سیاسی سوچ یا نظریہ ایک مفروضہ کے گرد گھومتا ہے کہ ”اگر کوئی شخص ایک آدھ کام اچھا کر لے تو وہ سیاست بھی یقیناً اچھی کر لے گا“ اس تجربہ کی پہلی مثال شاید ائر مارشل اصغر خان مرحوم ہو سکتے ہیں جو کہ ایک بہترین جنگی پائلٹ تھے انہیں کسی بد خواہ نے بہکایا کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر سیاسی میدانوں میں بھی کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں۔ مرحوم نے ایک طویل عرصہ سیاسی زندگی گزاری اور سیاست میں شاید ایک بھی اچھا دن نہ دیکھ سکے اور نہ ہی دکھا سکے۔

پوری سیاسی زندگی کی واحد کامیابی مشہور زمانہ ”اصغر خان کیس“ ہے۔ خان صاحب مدتوں کیس لڑتے رہے مگر اپنی زندگی میں اس کا فیصلہ نہ لے سکے بعد میں ان کی بیوہ نے اس کیس والے مشن کو جاری رکھتے ہوئے کیس کی پیروی کا فیصلہ کیا مگر کیس کے فیصلہ اور اس پر عمل درآمد روز حشر پر ہی ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہمارے بعض جذباتی دوست 1977 ء کے مارشل لاء کا الزام مرحوم خان صاحب کو یوں دیتے ہیں کہ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کو متنازع قسم کا خط لکھا تھا۔

ویسے ہمارا خیال ہے کہ ائر فورس کے ایک ریٹائرڈ اعلیٰ افسر کی استدعا پر بھلا کون آرمی چیف سنجیدہ ایکشن لیتا ہے۔ مذکورہ خط تو ڈاک کی فائلوں میں ہی کہیں خلط ملط ہو گیا ہو گا۔ اگلا تجربہ میاں نواز شریف صاحب پر کیا گیا کیونکہ وہ اتفاق فاونڈری کو کامیابی سے چلا رہے تھے لہذا امید بندھ گئی کہ وہ ملک کو بھی احسن طریقے سے سنبھال لیں گے۔ اب بقول خود میاں صاحب کے کہ وہ تین دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے مگر تینوں دفعہ ہی نکال دیے گئے۔

قسمت سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم 1992 ء میں ہونے والا ورلڈ کپ جیت گئی بس پھر کیا تھا اقتدار یا سیاست کے ہما نے کپتان کے سر پر مسلسل منڈلانا شروع کر دیا اور خیال تھا کہ کرشمہ ساز کپتان ہی قوم کی تقدیر اور عوام کا مسیحا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ کپتان ان سونگ گیندیں کروانے پر ملکہ رکھتا ہے۔ سیاست کے ہر قدم پر یوٹرن اور اب صورتحال یہ ہے کہ سواری اور پڑاؤ تا حال رنگون (اڈیالہ) میں ہے۔

ملک میں نافذ ہونے والے مارشل لاز بھی اسی طرح کی سوچ کا نتیجہ ہیں کہ آرمی چیف چونکہ طاقت ور ہوتے ہیں اور ملک طاقت کے ذریعے سے بہتر طور پر گوورن کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثریت عوام آج بھی ایک عدد پاکستانی امام خمینی کے منتظر ہیں۔

انتہائی افسوس سے لکھنا پڑ ہے کہ من حیث قوم پاکستان میں یہ تصور مستحکم ہو چکا ہے کہ سیاست انتہائی آسان مضمون یا کام ہے جس بندے کو کوئی مضمون سمجھ نہ آ سکے وہ سیاست کو وہ بخوبی سمجھ لے گا اور جس کی جیب میں چار روپے ہوں وہ تو ناصرف دوسروں کو بلکہ کل عالم کو آسانی سے سمجھا بھی سکتا ہے۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی سوچوں اور وہم و گمان میں بھی معاہدہ عمرانی، احتساب اور خود احتسابی، عوامی اور قومی مفادات، ترقی، جواب دہی، قانون اور آئین کی پاسداری، اخلاقیات، ضمیر جیسے الفاظ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔

سیاسی میدان میں 99.99 % درست نظریات بھی 10 % تک ہی کامیابی حاصل کر پاتے ہیں باقی کا 90 % تجربے اور آنے والی نسلوں کے لیے ریسرچ کا سامان کر جاتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں اگر کوئی سیاسی پارٹی یا گروپ اپنے گھر سے ہی غیر منطقی، خلط ملط اور پراگندہ سوچ یا نظریات کو مشکوک نیتوں اور غلط ارادوں کے ساتھ نکل کر عملی سیاست میں حصہ لے تو پھر نہانا کیا اور نچوڑنا کیا والی کیفیت زیادہ دور نہیں رہ سکتی۔

عام سی بات ہے کہ موٹر مکینک، پلمبر، مستری وغیرہ بیس بیس سال ماہر استاد کی زیر نگرانی تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں تب کہیں جا کر دوسرے لوگوں کو بہتر سروس مہیا کرنے کے قابل ہو پاتے ہیں۔ اس ادنیٰ درجے کی مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب شاید آسان ہو جائے کہ کیا سیاست اتنا ہی آسان مضمون اور میدان عمل ہے کہ ہر آدمی منہ اٹھا کر اس میں گھس جائے اور عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں لگ جائے۔ آج کا پاکستان ملکی میڈیا اور حکومتی حلقوں کے بقول تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ گزشتہ 75 سالوں سے ملک کو بیان کردہ غیر منطقی سوچوں اور ہوائی مفروضوں کی بنیاد پر چلایا جاتا رہا ہے کوئی حادثہ اچانک نہیں ہوا کرتا۔

مغل عہد میں جب بادشاہ ہی سیاسی طاقت کے مرکز اور مرجع ہوا کرتے تھے جب تک وہ امور سلطنت کو سنجیدہ لیتے رہے معاملات درست رہے مگر اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد جانشینوں نے جب غیر سنجیدگی اختیار کی توان کا نام تاریخ سے ہی مٹ گیا۔ اورنگزیب سے پہلے کے پانچ بادشاہوں کے نام بچہ بچہ جانتا ہے مگر اس کے بعد تخت نشین 15 بادشاہوں کے نام کوئی بھی نہیں جانتا۔ عملی سیاست شاید ایک چلتی ہوئی ٹرین کی مانند ہے اور جو بھی اس چلتی ٹرین سے شرارت کرے گا یا اسے غیر سنجیدہ یا ”ایزی“ لے گا وہ برے انجام سے دوچار ہو گا۔

یاد رہے کہ تاریخ میں کامیاب، اچھے اور برے لوگوں کو تو جگہ مل سکتی ہے مگر ناکام اور دو نمبر کے لوگوں کو تاریخ ہمیشہ رد کر دیتی ہے۔ حکمرانوں کو تو اپنے غلط رویوں کی سزا تو ملتی ہی ملتی اور ان کو اپنے کندھوں پر بٹھانے والے عوام کو بھی مہنگائی، لاقانونیت، غربت وغیرہ کی شکل میں کم از کم سزا ضرور ملتی ہے حالانکہ عوام بادی النظر میں بے قصور اور معصوم نظر آتے ہیں۔

سیاست ایک پیچیدہ، سنجیدہ، خصوصی مہارتوں، حکمت، انسان دوستی، نیک نیتی، رواداری، محبت اور امن پر مبنی علم اور عمل کا نام ہے اس حقیقت کا ادراک اگر آج بھی کر لیا جائے تو وقت ابھی زیادہ نہیں گزرا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فکری دھاروں اور زاویوں کو درست کرنے کے لیے روپے پیسے، عالمی بینک یا مالیاتی فنڈ گرانٹ یا قرضہ کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔

Facebook Comments HS