غزہ اور رمضان: لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے


رمضان المبارک اہل ایمان کی ایمانی حرارت اور دینی و اخلاقی قوت میں اضافے کا ذریعہ ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے رمضان کی آمد سے قبل مسلم معاشرے میں خوشی کا سماں ہوتا ہے، ہر شخص کی تمنا ہوتی ہے کہ اس ماہ میں یکسوئی سے اپنے رب کا قرب اور رضا حاصل کرنے کے لیے اعمال صالحہ کرے۔ 2024 ء کے رمضان کا آغاز ایسے المناک اور انسانیت سوز حالات میں ہو رہا ہے کہ غزہ اور اس کا مغربی کنارہ لہو لہو ہے، پانچ ماہ کی اسرائیلی درندگی نے لاکھوں گھروں کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔

والدین بچوں اور بچے، والدین سے بچھڑ چکے ہیں۔ ان کے گھر سلامت ہیں نہ ان کے پیارے۔ ان کی ویڈیوز کی ایک جھلک بھی اشکبار کرتی ہے۔ 31 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، 70 ہزار سے زائد شدید زخمی ہیں۔ معصوم بچوں اور بے گناہ خواتین کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ غزہ کو محصور کر کے بنیادی سہولیات سے محروم کر دیا گیا ہے، جس کے سبب زندہ رہ جانے والے بھوک و پیاس کے کرب، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

خوراک کی عدم دستیابی کے باعث گھاس تک کھانے پر مجبور ہیں۔ اس سب کے باوجود رمضان المبارک کی آمد پر غزہ کے فلسطینیوں کا جوش دیدنی رہا۔ انہوں نے بابرکت مہینے کا اپنی بساط کے مطابق استقبال کیا۔ رنگ برنگی قمقموں سے خیمے سجائے، درختوں پر روایتی لالٹین لگائیں۔ خیموں میں مقیم فلسطینیوں کا رمضان ماضی سے بہت مختلف ہے، ان کے بقول پہلے دستر خوان پر طرح طرح کے کھانے ہوتے تھے، اس سال کھانے کو کچھ نہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ جلد اپنے گھروں کو لوٹیں گے اور حالات بہتر ہو جائیں گے۔

دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی سے روک دیا۔ غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ غذائی قلت کا شکار ہے، رمضان المبارک میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ سے روکے جانے کے بعد فلسطینیوں نے یروشلم کے پرانے شہر کی سڑک اور رفح میں شہید مسجد الفاروق کے ملبے کے درمیان نماز تراویح ادا کی۔ غزہ کے مظلوموں کا اس رمضان میں جو عالم ہے اس کا مختصر احوال جو میڈیا کے ذریعے سامنے آیا کچھ یوں ہے۔

غزہ میں پانچ بچوں کی ماں کا کہنا ہے کہ ’ہم نے رمضان کے استقبال کے لیے کوئی تیاری نہیں کی کیونکہ ہم پانچ مہینوں سے روزے رکھے ہوئے ہیں۔ چھ بچیوں کی ماں سہام حسین سے یہ سوال پوچھا گیا کہ‘ آپ رمضان کی تیاری کیسے کر رہی ہیں؟ ’انھوں نے جواب دیا کہ‘ کاش اس سال غزہ میں رمضان نہ آتا۔ سہام نے جن کی دو بچیاں ذہنی عارضے کا شکار ہیں۔ اداس لہجے میں کہا: ’جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے یہ بچیاں قصوروار نہیں۔ انھیں جنگ یا دیگر حالات کا کچھ پتا نہیں، انھیں بس کھانے پینے کی چیزوں سے غرض ہے۔ ان کے پاس تو ایک ٹماٹر تک خریدنے کے وسائل نہیں ہیں۔

سہام کی طرح رفح کے دیگر بے گھر افراد بھی عجیب کشمکش سے دوچار ہیں۔ ابو شدی العشر دس افراد کے خاندان کے واحد کفیل، جنگ کے دوران وہ اہل خانہ کے ساتھ نقل مکانی کرتے رہے، رفح ان کی تیسری منزل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال ہم صرف صبر کے ساتھ ہی مقدس مہینے کا استقبال کر سکتے ہیں۔ 53 برس کے الاشقر کہتے ہیں کہ ماضی میں ہم سجاوٹ کرتے اور جشن مناتے تھے، لیکن اس سال ایسا ممکن نہیں۔ تاجروں کے پاس ڈبوں میں بند سامان کے علاوہ کچھ نہیں، اگر سب کچھ دستیاب بھی ہوتا تو ہمارے پاس خریداری کے پیسے نہیں۔

خاندان کے 103 افراد کھونے والے فلسطینی نوجوان کا کہنا تھا کہ میری بیوی جانتی تھی کہ وہ مر جائے گی۔ یہ ہماری آخری فون کال تھی۔ ساٹھ برس کے ایاد بکر کا کہنا ہے کہ ان دنوں ان کی واحد امید یہ ہے کہ وہ صبح اٹھ کر پہلی خبر یہ سنیں کہ ’جنگ بندی کا اطلاق ہو چکا ہے، ان کی سات بیٹیاں ہیں۔ وہ سات بار بے گھر ہوچکے ہیں۔ ہم کس طرح روزہ رکھ سکتے ہیں یا سحری کر سکتے ہیں؟ کیا رمضان میں ڈبہ بند چیزیں ہماری طاقت بن سکتی ہیں؟ تین بچوں کے والد راشد مطر کہتے ہیں کہ اس سال انہیں سب سے زیادہ دکھ یہ ہے کہ ان کی میز، ان کے خاندان کے کچھ افراد کی عدم موجودگی کی وجہ سے نامکمل رہے گی، جو جنگ کی وجہ سے الگ ہو گئے میرے والد اور والدہ ابھی بھی شمال میں ہیں۔

یوسف شعبان کا کہنا ہے کہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ’ہم اسرائیلیوں اور یہاں کے تاجروں کے ساتھ جنگ ​​لڑ رہے ہیں۔ بازار جاتا ہوں تو بغیر کچھ خریدے صرف چیزوں کو دیکھتا ہوں۔ اس لیے سب اللہ پر چھوڑ دیا۔ غزہ میں ایک طرف جنگ ہے اور دوسری جانب بھوک فلسطینی رمضان اس ناگفتہ بہ صورتحال میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ مسلم امہ کے حکمرانوں کی بے حمیتی اور بے حسی نے ارض مقدس کے مظلوموں کو شدید مایوس کیا۔

فلسطینی اپنے معصوم بچوں کو دفناتے وقت کہتے ہیں کہ ”بچو! شافع محشر سے کہنا کہ امت مسلمہ نے ہمیں اسرائیلی درندوں کے سامنے بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا“ ۔ مسلم حکمران روز محشر شافع محشر کو کیا منہ دکھائیں گے؟ غذائی قلت اور بھوک سے اموات ہو رہی ہیں مگر نام نہاد انسان دوستوں کو رحم نہیں آ رہا۔ چند روز قبل 33 بچوں کی شہادت نے دل دہلا دیے۔ بلا تفریق مذہب عوام غزہ کے مظلومین کو نہیں بھولے۔ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائشیا اور پاکستان میں ہی نہیں لندن، نیویارک، جرمنی وغیرہ میں بھی بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ ایک مظاہرہ ناروے میں درجہ حرارت منفی 28 کے باوجود ہوا۔ یہ امت مسلمہ کے ”بے حس حکمرانوں“ اور مغرب کے ”بے رحم فرمان رواؤں“ کے سرد رویے سے زیادہ سرد اور منجمد کرنے والا موسم تھا لیکن اہل ناروے اس کے باوجود اس مظاہرے کے لیے گھروں سے نکلے۔

ارض مقدس پر ظلم و بربریت کی جو لہر 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہے وہ گزشتہ سات دہائیوں کے مظالم پر بھاری ہے۔

یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار جو سیپ بورل نے بھی غزہ کے محاصرے کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔ اب تو امریکی صدر اسرائیل کو غزہ سے پیچھے ہٹنے کا مشورہ دے رہے ہیں مگر اسرائیل نے رکنے کے بجائے غزہ کی بجلی، پانی، خوراک اور ایندھن کی فراہمی بند کر کے مزید خوفناک صورتحال پیدا کردی ہے۔

امت مسلمہ ہر نعمت و عسکری قوت ہونے کے باوجود اتنی بے بسی جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں اہل غزہ کی اولوالعزمی، ثابت قدمی، صبر و ثبات مسلم عوام اور دنیا کے باضمیر لوگوں کے حوصلوں کو جلا بخش رہی ہے۔ غیر مسلم بھی ان کی بہادری و شجاعت پر حیران ہیں کہ ایسی کون سی تربیت ہے کہ دنیا کی ہر چیز چھن چکی ہے، کوئی مستقبل نہیں ہے، کھانے اور پہننے کے لیے کوئی چیز دستیاب نہیں، لیکن ان کے حوصلے بلند ہیں۔

آج ”مسلم امہ“ حمیت سے عاری ہے۔ وہ ”مسلم امہ“ کیا ہوئی جس میں تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کے ایک حصے کو کانٹا بھی چبھتا تو دوسرا حصہ تڑپ اٹھتا۔ یہ کیسی مسلم دنیا ہے جس کے اہل اختیار کی سماعتیں فلسطینی بچوں کی چیخ و پکار سننے سے عاری ہیں؟ لگتا ہے مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہیں۔ غزہ کے دلخراش مناظر، اہل درد کو تڑپانے کے لیے کافی ہیں۔ اللہ تعالی کو ہماری محدود طاقت کا اندازہ ہے۔ خدا کے لیے اپنے بچوں کو بھی غزہ کے تڑپتے، ہم عمروں کا درد محسوس کرائیں۔

ان کے بارے میں بتائیں جنہوں نے پانچ مہینوں سے اپنی پسند کا کوئی کھانا نہیں کھایا جن کے لیے زندگی ایک بھیانک خواب ہی نہیں ہولناک ہو چکی ہے جو اپنی آنکھوں کے سامنے آگ اور بارود کے کھیل میں اپنے والدین اور خود کو جلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ ہر افطاری میں یہ ذہن میں رکھیں کہ غزہ میں افطار کیسا ہو گا؟ مسلمان ہونے کا اولین تقاضا ہمدردی و غم خواری ہے۔ اگر یہ بھی نہیں تو پھر ہمارے روزے فرمان نبوی کے مطابق بھوک پیاس کی مشقت کے سوا کیا ہوں گے۔

 

Facebook Comments HS