افسانچہ عکس


وہ جھلی تو نہ تھی پر گلی کے لڑکوں سے اکثر جھگڑتی تھی انہیں برا بھلا بولتی تو سب اسے جھلی کہنے لگ جاتے ”کیوں کملی بنتی ہے لڑکی ذات ایسی نہیں ہوتی“ اماں اسے پچکارتی تو وہ ہنس پڑتی۔ ”میں تو لڑکا ہوں مرد ایسے ہی ہوتے ہیں نا۔ ابا کو دیکھ لے اور وہ چاچا رحیما“

رضیہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اماں نے چپل کھینچ کر اس کی طرف پھینکی ”بند کر اپنی بکواس، پندرہ کی ہونے والی ہے رشتے کے قابل ہو رہی ہے خبردار جو اب کسی کے بکے پڑی“

رضیہ نے ڈھٹائی سے اماں کی اچھالی چپل کو گیند کی طرح قابو کیا اور ہنستی ہوئی اندر چلی گئی۔

رضیہ کا باپ نشہ کرتا تھا۔ کئی کئی دن گھر نہ آتا تھا۔ اس کا گھر ہونا نہ ہونا ایک برابر تھا، آدھا دن سویا رہتا۔ رضیہ کی ماں سے مار پیٹ اور جھگڑا ہی کرتا رہتا تھا۔ یہ مار پیٹ کی عادت بھی رضیہ نے اپنے باپ سے ہی سیکھی تھی۔ ایک بار منہ سے بات نکالی۔ اگلے کی سمجھ میں نہ آئی تو ہاتھ اٹھا لیا۔ رضیہ کی ایک چھوٹی نو سالہ بہن تھی۔ جس کی پیدائش کے وقت سے رضیہ سنتی آئی تھی کہ اماں کو کچھ ہو گیا ہے اب اس کے ہاں اولاد نہ ہو سکے گی اور سب افسوس کرتے تھے کہ اب نذیرے کے ہاں لڑکا نہ ہو گا۔

اماں کو چپکے چپکے آنسو بہاتے دیکھتی چھ سالہ رضیہ کے کچے ذہن نے لڑکے جیسا بننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ اپنے ارد گرد لڑکوں اور مرد حضرات کا مشاہدہ کرتی۔ رضیہ محلے میں ادھر ادھر کھیلتی، آس پڑوس کی باجیوں کے کام کر دیتی۔ لڑکوں کے ساتھ سائیکل چلاتی، گلی ڈنڈا اور کنچے کھیلتی اور پھر ان ہی سے کر جھگڑ کر مار پیٹ کرتی

بچپن سے بیٹی ہونے پر جو تحقیر آمیز رویہ دیکھا تھا اس نے رضیہ کو باغی بنا دیا تھا۔ گھر سے باہر لڑکوں سے جھگڑ کر، انہیں گالیاں دے کر اسے تسکین ملتی تھی۔

اماں اسے پکڑ کر گھر لاتی ”اب تو بڑی ہو گئی ہے لڑکوں کے ساتھ نہ کھیلا کر گھر کے کام میں ہاتھ بٹایا کر۔“ رضیہ کام نبیڑ کر پھر باہر بھاگ جاتی۔

رضیہ تو سکول نہ جا سکی لیکن اماں نے کپڑے سلائی کر کے اور لوگوں کے گھروں میں کام کر کے چھوٹی بیٹی کے تعلیمی اخراجات کا انتظام کر لیا۔ آج بھی نذیرا دو دن بعد گھر آیا تھا۔ رضیہ شاپر اٹھائے سلے ہوئے کپڑے باجی کو دینے جا رہی تھی کہ اماں کی آواز نے اس کے قدم روک لئے ”کہاں سے لاؤں پیسے؟ بچوں کا پیٹ پالوں یا تیرا نشہ پورا کروں؟ تو گھر نہ ہی آیا کر“ رضیہ کی ماں سلائی مشین میں دھاگہ ڈالتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی۔ بڑی زبان چل۔ رہی ہے تیری۔ ”“

نذیر اس کی گردن دبوچتے ہوئے گرجا۔ ”کچھ تو پیسے ہوں گے تیرے پاس نکال کر دے مجھے۔“
اسی اثنا میں رضیہ ہاتھ میں شاپر پکڑے کمرے میں چلی آئی

نذیر نے بیوی کی گردن چھوڑ کر فوراً رضیہ کے ہاتھ سے شاپر کھینچ لیا۔ اس کے اچھے پیسے مل۔ جائیں گے وہ شاپر لے کر باہر کی طرف لپکا تو بیوی نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے بیوی کو دھکیلتا ہوا وہ آگے بڑھا تو رضیہ نے پیچھے سے باپ کی ٹانگ پکڑ لی نذیر لڑکھڑا کر گر پڑا اور رضیہ نے اسے دیوانہ وار ٹھڈے مارنے شروع کر دیے۔ نذیر نشہ ٹوٹنے کی وجہ سے جلد ہی ہار مان گیا لیکن منہ سے اول فول بکتا رہا اور رضیہ بھی اپنے باپ سے کم نہ تھی۔

رضیہ کی ماں بیٹی کا یہ روپ دیکھ کر تذبذب کا شکار تھی اسے روکے یا نہیں۔ اگر نذیر یہ سوٹ لے جاتا تو وہ باجی کو کیا جواب دیتی اور پھر دوسری باجیاں بھی اس پر بھروسا نہ کرتیں۔

لیکن نذیر اب رضیہ کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ یہ بات سوچتے ہی اس کا دل ڈوب رہا تھا۔ رضیہ کپڑے لے کر چلی گئی۔ نشے کی طلب میں بڑبڑاتا لڑکھڑاتا نذیرا بھی گھر سے نکل گیا تو رضیہ کی ماں بھی دروازے کی طرف لپکی، کہیں باہر ہی رضیہ کو دیکھ کر اس سے الجھ نہ پڑے۔ آج پہلی بار اسے رضیہ کا یہ لڑاکا پن برا نہ لگا۔ اگر وہ سوٹ لے جاتا تو اس کی محنت بھی رائیگاں ہوتی، الٹا سوٹ کے پیسے بھی بھرنے پڑتے۔ وہ دروازے کی اوٹ سے رضیہ کی راہ تکتی رہی۔ رضیہ کے گھر آتے ہی اسے گلے سے لگا کر رو پڑی۔ رضیہ نے روتی ماں کو الگ کیا پانی کا گلاس گھڑے سے بھرا اور تسلی سے چارپائی پر بیٹھ کر پی گئی۔ رضیہ کا چہرہ کسی بھی تاثر سے عاری تھا۔ پانی پی کر اس نے آنکھیں موند لیں اور گہری سانس لی۔

” تو کچھ دن کے لئے نانی کے گھر چلی جا نذیرا نشہ پورا کر کے آ گیا تو تجھے بہت مارے گا۔“
” نہیں اماں میں تجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہی۔ تو بھی نہ ہو پریشان“

اگلی صبح نذیرا گھر آ گیا۔ نہ کوئی مار پیٹ نہ گالی گلوچ، رضیہ کی ماں سہمی ہوئی تھی کہ نذیرے کی خاموشی کسی طوفان کا پتا دے رہی تھی۔

رضیہ صحن کی دیوار پر بیٹھی لاپرواہی سے ٹانگیں جھلا رہی تھی۔ باہر سے گزرتے کسی منچلے نے اس پر جملہ کس دیا تو رجو نے بھی آگے سے ماں بہن کی گالی بک دی۔

”یہ سیکھا رہی ہے تو بیٹی کو، لڑکی ذات ہے زبان دیکھ اس کی۔ شرم آتی ہے مجھے بھلا ایسی ہوتی ہیں لڑکیاں“ نذیرے نے رضیہ کو غصے سے گھورتے ہوئے کہا

رضیہ نے زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ”ابا میں تو تیرے جیسی ہوں“ ۔ رضیہ کے قہقہوں کی گونج میں نذیرے کے لئے سوال تھا۔ اب اپنا عکس دیکھ کر کیوں شرماتا ہے۔

Facebook Comments HS