فرد، نیا سماج اور سیرت رسول ﷺ
آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس سال پہلے جب میں سیرت النبی ﷺ پر اپنی کتاب مکمل کر چکا تھا اور اس کا مقدمہ لکھنے سے پہلے کتاب کے نام کی بابت سوچ رہا تھا جو جیسے ایک چھپاکا سا ہوا تھا اور روشنی کی ایک لکیر دور تک میری رہنمائی کرتی چلی گئی۔ میں نے قلم اٹھایا اور ”پیکر جمیلﷺ“ لکھ دیا تھا۔ مجھے اس نام تک راغب اصفہانی کی ”مفردات“ میں موجود ”حسن“ کی اس تعریف نے پہنچایا تھا۔ صاحب مفردات نے لکھا تھا:
”حسن مسرت بخشتا ہے۔ یہ عقل، خواہش یا حسیات کو مرغوب ہوتا ہے۔ حسن کا نقیض ’سو‘ ہے جو غم لاتا ہے۔ یہ غم دنیا کا ہو یا اخروی، خواہ نفسیاتی ہو یا جسمانی یا محض معروض یا خارج سے تعلق رکھتا ہو۔“
راغب اصفہانی کی ان سطور کو پڑھتے ہی میرا ایمان اور کفر کا ، خوبی اور خرابی کا اور نیکی اور بدی کا تصور بدل گیا تھا۔ اب یہ سارے تصورات جمالیات کے تصور کی ذیل میں ہو گئے تھے۔ اسی تصور کی روشنی میں میرے لیے آقائے دوجہاں ﷺ کا وجود مبارک اور احادیث اور سیرت پاک حسن کا منبع تھے اور آپ کا کامل وجود پیکر جمیلﷺ۔ جناب حسان بن ثابت نے فرمایا تھا:
واحسن منک لم تر قط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبراً من کل عیبٍ
کانک قد خلقت کما تشاء
(میری آنکھوں نے کبھی آپ سے زیادہ حسین نہیں دیکھا۔ عورتوں نے آپ سے زیادہ کوئی جمیل نہیں جنا۔ آپ کو ہر عیب سے پاک پید کیا گیا ہے۔ جیسے آپ اپنی منشا کے مطابق پیدا کیے گئے ہوں۔ )
میں نے جب جب شاعر رسول حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان اشعار کو پڑھا ہے ان کی تفسیر میں آپ کے شمائل سے اس نئی ثقافتی تشکیل تک کے مظاہر اپنی جگہ بناتے چلے گئے ہیں جو انصاف اور انسانی تکریم کو بنیاد کرتی ہے، معاشرتی بگاڑ کے راستے مسدود کرتی ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں زمینی خداؤں کی غلامی سے نجات دلا کر انسانی باطن کو بلوغت اور مسرت سے ہمکنار کرتی ہے۔
علامہ محمد اقبال کے نزدیک انسانی باطن کی بلوغت کی جانب سفر میں نبی آخرالزماں ﷺ کی بعثت کا کردار بہت بنیادی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہیں پہنچ کر نہ صرف انسانیت نے فکری، علمی اور روحانی ارتقا کی منزل عبور کی، انسانی معاشرت کو حسن کی مستقل بنیادوں پر منظم کرنے اور فرد اور اجتماع میں انہی اصولوں پر جمالیات کے نئے پیٹرن تخلیق کیے چلے جانے کی صورتیں بھی سمجھا دی تھیں۔ اب اگر میں یہ کہتا ہوں کہ آج کے زمانے میں جناب رسالت مآبﷺ کی سیرت سے جڑنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم رسمیات مذہب کے معاملے میں کس حد تک چوکس ہیں بلکہ اس کے حقیقی معنی جمالیاتی سطح پر سماجی تشکیل ہے تو یوں ہے کہ میں نے سماج کی اس جمالیاتی تشکیل کو تین سطحوں پر دیکھا ہے۔
پہلی صورت میں سماج کی تشکیل میں فرد کا اپنا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ میں نے سیرت رسالت مآب کے مطالعے سے یہ اخذ کیا ہے کہ سماج کی ثقافتی تشکیل میں فرد کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے۔ اسی لیے احادیث کا ایک بڑا خزانہ فرد کو ہی موضوع بناتا ہے۔ مجھے بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کسی کا مسلمان ہونا یا نہ ہونا ثانوی ہو جاتا ہے۔ مثلاً میں مولانا وحید الدین خاں کی کتاب ”تاریخ اسلام“ پڑھ رہا تھا۔ اور جہاں اپنے اعلیٰ انسانی اوصاف کے سبب خیار انسانیت ہو جانے والے اصحاب رسول رضوان اللہ اجمعین کا ذکر ہوا ہے وہیں آپ ﷺ کی ایک ایسی حدیث مبارکہ پر نظر پڑی تو کسی فرد کے صاحب توقیر ہونے اور سماج کے لیے کارآمد ہونے کا میرا تصور یکسر بدل گیا تھا۔
آپﷺ کا فرمان مبارک ہے : ”خیارکم فی الجاہلیہ خیار کم فی الاسلام“ ۔ گویا نسبی طور پر مسلمان ہو جانے سے ہم میں سے کوئی افضل نہیں ہو جائے گا اور نہ ہی وہ بہتر سماج کی تشکیل میں معاون ہو سکتا ہے۔ اس حدیث مبارکہ کا مطلب ہے کہ ”تمھارے جو افراد جاہلیت میں بہتر تھے وہی اسلام میں بھی بہتر ہوں گے۔“ گویا ہر فرد کے یہی شخصی اور ذاتی اوصاف بہت اہم ہیں۔ جناب رسالت ﷺ مآب کی سیرت کا مطالعہ کیجئے تو یہ فرد یہاں مرکز میں نظر آئے گا۔
سماج کی بنیادی اکائی کی صورت میں اور تواتر سے اس فرد پر اپنے اندر ایسے اوصاف پیدا کرنے پر زور دیا جا رہا ہو گا کہ وہ خیار انسانیت ہو جائے۔ ابو داود میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے کے درجہ کو حاصل کر لیتا ہے۔“ اچھے اخلاق کی تشریح اور شناخت کی بابت کثیر احادیث موجود ہیں اور اس کا اعلٰی اور کامل نمونہ آپ کی اپنی ذات مبارکہ ہے۔
آپ کو صادق اور امین کہنے والے وہ بھی تھے جو آپ پر ایمان نہیں لائے تھے۔ یاد کیجئے وہ واقعہ کہ جب کعبۃ اللہ کی عمارت کی تعمیر نو میں حجر اسود نصب کرنے کا معاملہ درپیش تھا۔ کتب سیرت میں درج ہے کہ ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ یہ فضیلت اسے ملے۔ جھگڑا کھڑا ہو گیا، تلخی بڑھی اور تلواریں نکل آئیں اور لہو کے بھرے ہوئے کٹورے پر مرنے مارنے کے عہد باندھے جانے لگے تو فیصلہ ہوا کہ تنصیب حجر اسود کا فیصلہ کل وہ کرے گا جو سب سے پہلے مسجد حرام میں داخل ہو گا۔
خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اگلے روز میرے آقاﷺ سب سے پہلے وہاں پہنچے تھے اور پھر جس نے بھی آپ کو دیکھا پکار اٹھا: ”ھذا الامین۔ رضینا۔ ہذا محمد“ یا یہ کہا۔ ”اٰتاکم الامین“ ۔ سیرت پاک ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ جب تک آپ ایک بہتر فرد نہیں بنتے، امانت دار اور سچے نہیں ہوتے آپ ایک بہتر سماج کو تشکیل دینے کے لائق بھی نہیں ہوں گے۔ یہیں ایک اور حدیث بھی ملاحظہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو اپنے مال سے تو غلاموں کو خریدتا ہے پھر ان کو آزاد کرتا ہے، وہ بھلائی کا معاملہ کر کے آزاد آدمیوں کو کیوں نہیں خریدتا جب کہ اس کا ثواب بہت زیادہ ہے؟“ یعنی فرد کا فرد سے سلوک دکھلاوے والا نہیں اخلاص والا ہونا چاہیے۔
اب میں اپنے دوسرے نقطے کی طرف آتا ہوں۔ یعنی ثقافتی تشکیل اور فرد کی آزادی کی طرف۔ جہاں سیرت پاک میں فرد کی باطنی تطہیر پر زور دیا گیا ہے وہیں اس کے اندر تخلیقی امکانات کی بڑھوتری اور نمو کے لیے ایسی ثقافتی تشکیل کے اندر ایسے رشتوں میں بندھنے پر زور دیا گیا ہے جس میں بے جا قدغنیں نہ ہوں۔ ثقافتی تشکیل میں جہاں فرد مادر پدر آزاد نہیں ہے وہیں سماج کو بھی اس کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ فرد کے حقوق کا تحفظ کرے۔ سورہ الحجرات میں فرمایا گیا ہے : ”لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے پھر تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کر سکو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ ہے جو زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔“
گویا محض کسی قبیلے یا خاندان سے متعلق ہونا فضیلت کی نشانی نہیں ہے۔ فرد کے شخصی اوصاف کی اہمیت کسی بھی خاندان یا قبیلے سے متعلق ہونے کے بعد بھی برقرار رہے گی۔ تاہم سماج میں شناخت کا نشان بننے والے دوسرے وسائل کی نفی نہیں کی گئی ہے۔ یہاں قوموں اور قبیلوں کو اگر شناخت کے طور پر محترم قرار دیا گیا ہے، تو یقین جانیے آج کے عہد میں بھی ان کی اہمیت ہے۔ ان شناختوں کی یکسر نفی سماجی انتشار کا سبب بنے گی۔
آج کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے مابعد نوآبادیاتی سماج میں فرد جتنا خود سر ہو گیا ہے اور اس پر جتنا بھروسا ہونے لگا ہے اتنا بھروسا خاندان کے حوالے سے قائم نہیں رکھا جا سکا ہے حالاں کہ فرد کی تربیت کا ذمہ محض ریاست نہیں لے سکتی۔ ماں باپ بہن بھائی، شوہر بیوی ؛ فرد ان رشتوں میں بندھ کر باہمی تعلق کی ایک تہذیب قائم کرتا ہے۔ اس تہذیب کی عمارت میں نئے زمانے میں جو دراڑیں پڑی ہیں انہوں نے فرد کو بھی حیوانی سطح پر لا پٹخا ہے اور سماج میں بھی سو طرح کے رخنے پڑنے لگے ہیں۔
ان رخنوں کو ترقی یافتہ حکومتیں سخت قوانین اور صریح تعزیری اقدامات سے بڑی حد تک پاٹ رہی ہیں مگر جہاں کہیں یہ قوانین معطل ہوتے ہیں اور کسی زیادتی کے حوالے سے احتجاج کی نوبت آتی تو اشیا سے بھرے ہوئے جدید تر اسٹورز یہی مہذب لوگ لوٹ لیا کرتے ہیں۔ پھر ایک اور سانحہ یہ ہوا ہے کہ آج کے سماج میں فرد اپنے تعلق داروں سے اتنا دور ہوا ہے کہ خاندانی غیرت اور حمیت جیسے الفاظ ہی سے اکتاہٹ ہمارے مزاجوں کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
سیرت پاک ﷺ کی رہنمائی سے ہم وہ توازن بحال کر سکتے ہیں جو خاندان کے افراد کے حقوق اور فرائض کے درمیان ہے۔ اس باب میں اسوہ حسنہ کی رہنمائی بھی اہم ہے اور احادیث مبارکہ کا وسیع ذخیرہ بھی جو افراد کے باہمی رشتوں میں عدل اور احسان کی تعلیم دیتا ہے۔
اس باب کا ، میری نظر میں، تیسرا اور آخری نقطہ، ریاستی انتظام اور نئی اخلاقی اقدار کی ترویج سے متعلق ہے۔ مغرب میں صنعتی ترقی ہوئی تو ریاستیں مضبوط ہوتی چلی گئیں اور خوش حالی آئی مگر فرد اور سماج کے درمیان موجود خاندان کی درمیانی کڑی ٹوٹتی چلی گئی۔ اس نئے نظام میں سرمائے کی بڑھوتری کے لیے اس درمیانی کڑی کا ٹوٹنا ہی بہت اہم تھا۔ خاندانی نظام شراکت کی بنیاد پر زندگی کی ذمہ داریاں ادا کرتا تھا اور سہولتوں کے فقدان کو رشتوں کے اخلاص کے سبب اہم نہیں سمجھتا تھا لہٰذا مستحکم خاندانی نظام کے سبب زندگی سادہ تھی اور فرد فرد سے جڑا ہونے کی وجہ سے سرمائے کا متبادل ہو جایا کرتا تھا۔
نئے نظام میں ہر فرد مقتدر بنا دیا گیا ہے ، اس کو دولت اور آسائش کا رسیا بنانے کے لیے میڈیائی طاقت کا استعمال ہوا اور یوں صارفین کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ پھر اسی فرد کو اس قدر مصروف کر دیا گیا کہ وہ مشین بنتا چلا گیا اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ فرد کو اس کی آزادی کا جھانسہ دے کر ایک منافع بخش پراڈکٹ بنا کر رکھ دیا گیا ہے اور سب سے زیادہ جس کو منافع بخش بنایا گیا ہے وہ عورت ہے۔ طرفگی یہ ہے کہ یہ سب کچھ علم، حکمت، تدبر اور مساوات کے پردے میں ہو رہا ہے۔ اقبال بہت پہلے سماج دشمن نظام کی اس ادا کو جان گئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا:
یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات
ہمیں اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ سرمائے کا سفینہ بہت جلد ڈوب جائے گا۔ اس ساری صورت حال میں سماجی سطح پر تباہی سے بچنے کے لیے ریاست پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اسے ایک فائر وال تعمیر کرنا ہوگی کہ فرد کو ، سماج کو اور پورے روحانی نظام کو نئے اقتصادی نظام کی مرتبہ اخلاقیات کی مضر پہلوؤں کی مسلسل یلغار سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اقبال نے ایک زمانے میں جو ایک مرکز محسوس کا خواب دیکھا تھا تو اس لیے نہیں کہ دنیا کے نقشے پر محض ایک اور ملک کا اضافہ ہو جائے ؛ اور ملکوں جیسا ایک اور ملک۔
بلکہ وہ اس مرکز محسوس کو جناب رسالت مآبﷺ کی سیرت کی روشنی میں ہر سطح پر ایک مثالی معاشرے کی صورت میں دیکھ رہے تھے۔ یاد رہے اقبال جس مثالی معاشرے کا خواب دیکھ رہے تھے اس میں کج فہم ملا دخیل نہ تھا ؛ نہ ہی ملا اور نہ ہی اس کی اپنے اپنے مسالک کی مصلحتوں کی اسیر مذہبی تشریحات اور تاویلات جو فروعی اختلافات پر دوسروں کو کافر کہنے سے بھی چوکتیں۔ اقبال جانتے تھے کہ:
پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
نے جدت گفتار ہے نے جدت کردار
کوئی بھی فکری نظام یا سماجی گروہ جو تبدیلی اور جدت کے لیے دروازہ کھلا نہیں رکھتا ناکامی اس کا مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔ زمانہ ایک لمبی جست لگا چکا مگر ہمارا مذہبی طبقہ ’زمین جنبد نہ جنبد گل محمد‘ کے مصداق وہیں کھڑا ہے۔ وہ وہیں کھڑا رہنا چاہتا ہے کہ اس کے مفادات اس سے وابستہ ہیں۔ خلیفہ عبدالحکیم نے پاکستان کے قیام کو پانچ برس گزرنے کے بعد ایک مضمون لکھا تھا : ”اقبال اور ملا“ ، جسے اقبال اکادمی نے مفید جان کر کئی بار شائع کیا۔ اس کتابچے میں ایک مقام پر وہ انتہائی دکھ کے ساتھ لکھتے ہیں :
”ہم پاکستان میں پانچ برس سے اس ادھیڑ بن میں لگے ہوئے ہیں اور ہنوز روز اول ہے۔ صرف فیصلہ ہوا تو اتنا کہ تمام اسلامی فرقوں کو تسلیم کر لیا جائے اور دستور و آئین و قوانین کے متعلق قرآن و سنت کی جو تاویل کسی فرقے کے ہاں صحیح ہو، اس کو مان لیا جائے۔ اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا راگ، اس سے سنگیت میں کسی طرح ہم آہنگی پیدا ہو جائے گی، اس پر غور کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ پانچ ملاؤں کو جو بقول اقبال لغت ہائے حجازی کے قارون ہوں، ہر مسئلے میں رد و قبول کی اجازت دی جائے اور ان مدعیان دین کی رخصت کے بغیر نہ دستور بن سکے اور نہ کوئی قانون۔“
اور یوں ہے کہ ابھی تک انہی کی مانی جاتی رہی اور سماجی انتشار بڑھتا چلا گیا ہے۔ اسی کتابچے میں ایک دلچسپ واقعہ یوں بیان ہوا ہے :
”علامہ اقبال ایک روز مجھ (یعنی خلیفہ عبدالحکیم ) سے فرمانے لگے کہ اکثر پیشہ ور ملا عملاً اسلام کے منکر، اس کی شریعت سے منحرف اور مادہ پرست دہریہ ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ایک مقدمے کے سلسلے میں ایک مولوی صاحب میرے پاس اکثر آتے تھے۔ مقدمے کی باتوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت یہ تلقین ضرور کرتے تھے کہ دیکھیے ڈاکٹر صاحب آپ بھی عالم دین ہیں اور اسلام کی بابت نہایت لطیف باتیں کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ آپ کی شکل مسلمانوں کی سی نہیں، آپ کے چہرے پر ڈاڑھی نہیں۔
میں اکثر ٹال کر کہہ دیتا کہ ہاں مولوی صاحب آپ سچ فرماتے ہیں۔ یہ ایک کوتاہی ہے، علاوہ اور کوتاہیوں کے۔ ایک روز مولوی صاحب نے تلقین میں ذرا شدت برتی تو میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحب آپ کے وعظ سے متاثر ہو کر ہم نے آج ایک فیصلہ کیا ہے۔ آپ میرے پاس اس مقدمے کے سلسلے میں آتے ہیں کہ آپ باپ کے ترکے میں سے اپنی بہن کو زمین کا حصہ نہیں دینا چاہتے اور کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں شریعت کے مطابق نہیں بلکہ رواج کے مطابق ترکہ تسلیم ہوتا ہے اور انگریزی عدالتوں نے اس کو تسلیم کر لیا ہے۔
میری بے ریشی کو بھی دینی کوتاہی سمجھ لیجیے لیکن رواج کے مقابلے میں شریعت کو بالائے طاق رکھ دینا اس سے کہیں زیادہ گناہگاری ہے۔ میں نے آج یہ عہد کیا ہے کہ آپ بہن کو شرعی حصہ دے دیں اور میں ڈاڑھی بڑھا لیتا ہوں۔ لائیے ہاتھ، آپ کی بدولت ہماری بھی آج اصلاح ہو جائے۔ اس پر مولوی صاحب دم بخود ہو گئے اور میری طرف ہاتھ نہ بڑھ سکے۔“
جس ملا سے اقبال بے زار تھے، اس کی مصلحتوں اور تفرقہ بازی نے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا جو شاعر مشرق نے دیکھا تھا۔ اس کی کئی اور وجوہ بھی ہیں ؛ یقیناً ہیں اور ان کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے مگر سماجی انتشار کا بہت بڑا سبب وہ مذہبی انتشار اور انتہاپسندی کی روش ہے جو اسی طبقے کی عطا ہے۔ اگر اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونا ہے تو محض عشق رسولﷺ کا دعویٰ کافی ہے نہ اقبال کے اس خواب سے وابستگی کا ، کہ ہم ان سے کہیں الگ اور دور بھٹک رہے ہیں۔
۔
(کچھ برس پہلے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام احمد فراز آڈیٹوریم میں منعقدہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں پڑھی گئی تحریر، حک و اضافہ کے ساتھ۔ )


