کیا تبلیغی جماعت ”امہ“ میں کوئی مثبت تبدیلی یا اخلاقی شعور بیدار کر پائی؟


ہمارے آبا و اجداد کا تعلق مسلک دیوبند سے ہے اور ایک طویل عرصہ تک ہم بھی مختلف تبلیغی بزرگان کے بیانات سے مستفید ہوتے رہے ہیں، مولانا طارق جمیل جو ہمارے قریب ہی رہتے ہیں ان کے بیانات بھی سنا کرتے تھے۔

موضوعات کی یکسانیت اور ایک ہی طرح کی گفتگو کو روزانہ کی بنیاد پر سننا بڑے جگر گردے کی بات ہوتی ہے اور ہر ایک میں اتنی سکت بھی کہاں ہوتی کہ وہ کسی تسلسل کی روٹین میں خود کو ایڈجسٹ کر لے اور صابر و شاکر رہے۔

ویسے بھی ہم ٹھہرے دنیا دار جنہیں دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لالے پڑے رہتے ہیں، ظاہر ہے ہم پر کوئی من و سلویٰ اترنے والا تو ہے نہیں اور نا ہی ہمارا اپنے متعلق اس قسم کا کوئی ماورائی سا دعوی ہے۔ ہمارا یقین کامل ہے کہ مزدوری کریں گے تو کھائیں گے ورنہ ہمیں کوئی غیبی امداد ملنے والی نہیں ہے۔

البتہ جب بیانات سے مستفید ہوا کرتے تھے تو اس وقت بھی بہت سارے سوالات ذہن میں کچوکے لگاتے رہتے تھے اور آج بھی سوالات کے انبار ہیں لیکن جواب ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔

تبلیغی جماعت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تقریباً واحد منظم جماعت ہے جس کے قافلے تبلیغ و اصلاح کی غرض سے چلتے رہتے ہیں، نا صرف نیشنل بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی دنیا بھر کے ممالک میں یہ لوگ تبلیغ و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انہی لوگوں کی محنت و ریاضت کی وجہ سے ہی دنیا بھر میں مساجد و مدارس قائم ہوئے اور لوگ دین کی طرف راغب ہوئے۔ لیکن عزیزان من حاصل کیا ہوا؟ مدارس و مساجد کا ایک وسیع نیٹ ورک تو ضرور پھیلا لیکن پریکٹسنگ مذہبیوں کی شرح کتنی ہے؟

مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی معاشرتی سطح پر افادیت کیا ہے؟

سوائے امام یا مبلغ بننے کے۔ جنہیں مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نان و نفقہ کے لیے علاقہ کے امراء اور صاحب حیثیت لوگوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جو ماہانہ بنیادوں پر ان کی تنخواہ کا بندوبست کرتے ہیں۔ دنیا دار اگر چند ٹکوں کے لیے در بدر ہوں تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ایک مذہبی عالم و فاضل دنیا کے حصول کے لیے اس قدر رسوا یا خجل ہو تو پھر مذہب کے تقدس پر بھی حرف آتا ہے۔ اور حالات کی ستم ظریفی بھی یہی ہے کہ ایسا ہی ہو رہا ہے، اگر موذی و مہلک اور مردار دنیا کا حصول اس قیمت پر ہے تو پھر دین کی سربلندی کا کیا؟

اسی لیے تو سمجھدار قسم کے مولانا جن کا خاصا نام بن چکا ہوتا ہے وہ اب بزنس ٹائیکون بن چکے ہیں۔

امامت اور خطبہ تو ان کا ایک طرح سے بونس ہے تاکہ دین کا اقبال بھی بلند رہے اور دین کی بدولت ذاتی کاروبار بھی پھلتا پھولتا رہے۔

بہت سارے علماء تو اپنے اپنے یوٹیوب چینل سے بھی کروڑوں کما رہے ہیں اور ان کے چینل پر عریاں یا ٹاپ لیس اشتہارات بھی چلتے رہتے ہیں جن سے مذہب کے تقدس پر کوئی آنچ نہیں آتی۔

دین کی خدمت بھی خوب اور دنیا داری بھی کمال کی ہے جناب۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ مدارس و مساجد کا جال تو بچھ گیا لیکن نمازوں کے اوقات میں نمازیوں کا جھرمٹ کہاں؟
لاکھوں مساجد ہیں اور نمازی چند ہزار؟

چند ہزار افراد پر مشتمل محلہ، ٹاؤن یا قصبہ لیکن مختلف مسالک کی 50 کے لگ بھگ مساجد ہیں جن سے ہر نماز کے وقت اذان کی صدا بلند ہوتی ہے لیکن نمازی صرف چار؟

تو پھر اتنی مساجد کی افادیت کیا ہوئی؟
اکثر مساجد میں تو ائر کنڈیشنر تک نصب ہوتے ہیں اور اعلی ترین قالین بچھے ہوتے ہیں لیکن مقصد کیا ہوا؟
ستم ظریفی یہ ہے کہ مساجد کی مہنگی ترین ٹونٹیاں، پنکھے اور ٹھنڈے پانی کے کولر تک محفوظ نہیں۔

جنہیں رات کے اندھیرے میں اسی مسجد سے جسے ہم بڑے فخر اور اطمینان سے ”اللہ کا گھر“ کہتے ہیں ہمارے ہی بھائی بندے چرا کر لے جاتے ہیں۔

اگر اللہ کے گھر میں جہاں تبلیغی جماعت والے دن رات لوگوں کی اصلاح کرنے میں مصروف رہتے ہیں محفوظ نہیں ہیں تو پھر کون سی جگہ اور کیا چیز محفوظ ہو سکتی ہے؟ جس قوم کو ہزاروں حج و عمرے، تبلیغی جماعت کے لاکھوں کے مجمعے، درجنوں دینی و روحانی اجتماعات، لاکھوں مدارس و مساجد اور درجنوں چلے یا سہ روزے مکروہ قسم کی برائیوں سے باز نہیں رکھ پائے اور ان کے اخلاقی و روحانی شعور کو بیدار نہیں کر پائے تو پھر آخر کون سا معجزہ ان کو تبدیل کر پائے گا؟

اس قدر دینی اور روحانی بندوبست کے باوجود انہی مساجد میں اگر کولر کے ساتھ زنجیر سے گلاس باندھنے پڑیں اور جوتوں کے لیے ٹوکن کا بندوبست کرنا پڑے تو اس سے بڑی شرمناک بات اور کیا ہو سکتی ہے؟

صبح کی سیر کے دوران ایک تبلیغی ساتھی سے ملاقات ہوئی جس کا مجھے دیکھتے ہی ثواب کا میٹر آن ہو گیا، کچھ بھی پوچھے بغیر کوئی 20 منٹ کا لیکچر جڑ دیا۔

میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ جناب کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ فرمانے لگے کہ بھائی! میری اچھی خاصی زمین ہے، تقریباً میرے سارے بچے بچیاں سرکاری ملازمت کرتے ہیں اور مل ملا کے کوئی ماہانہ تقریباً 15 لاکھ نکال ہی لیتے ہیں۔

موصوف خود بھی ٹیچر تھے اور بڑے فخر سے کہنے لگا

” کہ میں اپنی ملازمت پر کم ہی توجہ دیتا ہوں، چھٹی لے کر کبھی چلے پر تو کبھی سہ روزہ پر اور کبھی سالانہ تبلیغی دورے پر مختلف ممالک میں چلا جاتا ہوں، اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔ شکریہ کے طور پر تبلیغی سروس کرتا رہتا ہوں“

میں نے پوچھا اور تنخواہ؟

وہ تو خیر باقاعدہ ملتی رہتی ہے، جب انسان اللہ کے راستے میں نکلتا ہے تو اس کے سارے کام خود بخود ہونے لگتے ہیں۔ مجھے فرمانے لگے کہ جناب! آپ بھی مجھ سے وعدہ کریں اور چلے کی نیت کر لیں کیونکہ ارادہ باندھنے پر بھی نیکی ملتی ہے۔

میں نے کہا سرکار آپ کو تو تبلیغ راس آ نی ہی ہے۔ چونکہ آپ کے اجناس کا بھڑولہ تو بھرا رہتا ہے، ماشاءاللہ ماہانہ 20 لاکھ کے لگ بھگ آمدنی ہے۔ لیکن حضور میرا ایک اوسط گھرانے سے تعلق ہے، ہم جب تک ایک یا دو اداروں میں پڑھا نہ لیں ہماری گزر بسر ممکن نہیں ہو پاتا۔

تازہ کما کر کھانے پینے والے معمولی سے انسان ہیں۔ ہم ایسے مزدور بھلا چلے یا سہ روزوں کے لیے کہاں وقت نکال سکتے ہیں؟ موصوف سے بڑی مشکل جان چھڑوائی۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ جو بڑے بڑے نامی گرامی تبلیغی ہوتے ہیں ان کا کروڑوں کا بزنس ہوتا ہے اور وہ گناہوں سے پاک ہونے کے لیے تبلیغی سفر پر نکل پڑتے ہیں۔

لیکن سوال وہیں پہ اٹکا ہوا ہے کہ ماحصل کیا ہے؟

جو کاروباری قسم کے تبلیغی ہوتے ہیں ان کو تو خیر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جو غریب غرباء ان کے جھانسے میں آ کر اپنا کاروبار بند کر کے تبلیغی سفر پر روانہ ہوتے ہیں ان کا کیا؟

کیا وہ بھی کبھی امیر تبلیغیوں کی طرح خوشحال زندگی بسر کر پائیں گے؟
کبھی فرصت ملے تو اس طرف بھی توجہ دیں جناب!

” کہ مرچوں میں چوکر ملانے والے، گھی میں گریس اور مردہ جانوروں کی چربی ملانے والے اور چائے کی پتی میں سیاہ چنے کا بردہ ملا کر اپنے ہی بھائی بندوں کو کھلانے والے کون ہیں؟“

جن کافر یا مہذب ملکوں میں ہم تبلیغ و اصلاح کے لیے روانہ ہوتے ہیں کیا وہاں اس قسم کی ملاوٹ بارے کوئی سوچ بھی سکتا ہے؟

تو پھر کفار کو تبلیغ کا کیا مقصد ہوا؟

جو اپنی دینی و روحانی محنت اور ریاضت کے باوجود بھی اپنوں کو نہ سدھار پائے تو کیا وہ دوسروں کو سدھارنے کا کوئی حق محفوظ رکھتے ہیں؟

اور سدھار بھی کس بات کا ؟ وہاں تو انسانی جان بچانے والی ادویات یا انسانی پیٹوں میں جانے والی خوراک میں دو نمبری کا تصور ہی نہیں ہے اور وہ اس قسم کی دو نمبری والے رویے کو مکروہ، نجس یا انسانیت سے گرا ہوا عمل سمجھتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اسے کاروباری چالاکی کا نام دیا جاتا ہے اور یہاں کچھ بھی خالص نہیں ملتا۔

ایک مذہب تھا جس میں بھی درجنوں فرقوں کے ملاوٹ ہو چکی ہے، پھر بھی ہم اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم قادر مطلق کے ”چوزن ون“ ہیں اور فقط عبادت اور تسبیح پھیرنے کے لیے دنیا میں تشریف لائے ہیں۔

ہم دنیا و آخرت کے ہیرو اور کہانی کے مرکزی کردار ہیں جن کے بغیر کہانی مکمل ہو ہی نہیں سکتی اور ہم دنیا بھر میں راج کرنے آئے ہیں۔

Facebook Comments HS