فربہ مزاج لوگ درکار ہیں جو سوچتے نہ ہوں


بہت سے مصنف دنیا کے منظر پر نمودار ہوئے اور مدھم ہو کر بجھ گئے اور اب انہیں کوئی جانتا بھی نہیں۔ شیکسپیئر آج بھی زندہ ہے اس کے لکھے ہوئے ڈرامے اور ان میں درج مکالمے آج بھی انسانوں کے ذہن کو اسی طرح جھنجوڑ رہے ہیں جس طرح شیکسپیئر کے زمانے میں جھنجوڑ رہے تھے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ آج بھی انسان کی فطرت اسی طرح خود پسند ہے جس طرح شیکسپئر کے زمانے میں تھی اور شیکسپیئر نے انسانی فطرت کی نبض پر ہاتھ رکھا تھا۔

شیکسپیئر لکھتا ہے جنگ میں اپنی فتح کے بعد جب سیزر روم میں داخل ہوا تو پورا روم سیزر سیزر کے نعرے لگا رہا تھا۔ حاشیہ نشین سیزر کو تاج پیش کر رہے تھے کہ کسی طرح یہ صاحب اس تاج کو اپنے سر پر رکھ کر روم کے لوگوں کی دلی مراد پوری کر دیں۔ اور سیزر صاحب کمال انکسار سے لیکن کچھ بے دلی سے یہ پیشکش ٹھکرا رہے تھے۔ لیکن پورے روم میں مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں۔ اس گہما گہمی میں سیزر کی نظر اپنے دوست اور رومی جنرل کیسیس (Cassius) پر پڑتی ہے جو کہ سیزر کو دیوتا بنتا دیکھ رہا تھا اور دل ہی میں پیچ و تاب کھا رہا تھا۔

سیزر کی ذہانت ملاحظہ ہو کہ اپنے ساتھ کھڑے انتھونی کو کہتا ہے کہ مجھے اپنے ارد گرد رکھنے کے لئے فربہ لوگ لا کر دو۔ جن کے چہرے چمک رہے ہوں جیسی رات کی نیند ہوتی ہے۔ ادھر کیسیس کو دیکھو اس کا چہرہ دبلا ہے اور بھوکا نظر آتا ہے۔ یہ سوچتا بہت ہے۔ ایسے لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ کاش یہ کچھ اور فربہ ہوتا۔ مگر یہ پڑھتا بہت ہے۔ انتھونی تم ڈراموں کو پسند کرتے ہو مگر یہ ڈراموں کو پسند نہیں کرتا۔ مسکراتا بھی بہت کم ہے اور جب مسکراتا ہے تو اس طرح جیسے اپنے آپ پر طنز کر رہا ہو۔ (فربہ سے مزاج کے فربہ لوگ مراد ہیں۔ ایک نہایت دبلا شخص بھی مزاج کی فربہی کا شکار ہو سکتا ہے ) ۔ کیسیس مسکرا اس لیے نہیں رہا تھا کیونکہ وہ ان المیوں کو جنم لیتا دیکھ رہا تھا جنہوں نے اس دیوتا نما انسان کو اپنی شکنجے میں لے لینا تھا۔

آج کل پوری دنیا میں ایسے فربہ مزاج لوگوں کی بہت ضرورت ہے۔ جو کہ مسکراتے رہیں اور سوچنے اور لکھنے پڑھنے جیسے فضول کاموں میں وقت ضائع نہ کرتے ہوں۔ کیونکہ آج کل صرف چند صاحبان اقتدار ہی نہیں بلکہ بہت سی اقوام میں ایسے بڑے بڑے گروہ پیدا ہو چکے ہیں جو کہ سیزر جیسے مزاج کا شکار ہیں۔

برطانیہ کی مثال لے لیں۔ دوسرے مغربی ممالک کی طرح یہ ملک بھی بزعم خود انتہا پسندی کے خلاف سینہ تان کے کھڑا ہے۔ لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ جب غزا میں عرب آبادی کا قتل عام شروع ہوا تو برطانیہ میں بھی احتجاج شروع ہو گئے۔ حالانکہ احتجاج کرنے والوں کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ انتہا پسند تو صرف مسلمان ہی ہو سکتا ہے۔ اگر اسرائیل والے ہزاروں عرب باشندوں کو بھی قتل کر دیں تو وہ انتہا پسند نہیں ہو سکتے بلکہ وہ بیچارے تو اپنی جمہوری اقدار کی حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں۔

اب انہیں یہ کھڑکا لگا کہ جب انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے تو یہ تو فیصلہ کریں کہ انتہا پسندی کسے کہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے لئے ایک جامع تعریف بھی مرتب کی گئی۔ اور اس میں یہ پخ بھی لگا دی گئی کہ ہر وہ شخص انتہا پسند ہو گا جو

overturn or replace the UK ’s system of liberal parliamentary democracy

یعنی اگر کوئی شخص آزاد برطانوی پارلیمانی نظام اور جمہوریت کو بدلنے کا خواہاں ہو یا اس معاملہ میں کسی دوسرے کی اعانت کرے تو وہ انتہا پسند ہو گا۔ اگر کوئی جماعت یہ مطالبہ کرے کہ برطانیہ میں پارلیمانی نظام کی بجائے، امریکہ کی طرز پر صدارتی نظام ہونا چاہیے تو وہ انتہا پسند ہو گی۔ ویسے یہی برطانوی آزاد پارلیمانی نظام تھا جس نے ایک وقت میں آدھی سے زیادہ دنیا کو اپنا غلام بنایا ہوا تھا۔ اور دعویٰ یہ تھا ہم نے غلام تھوڑا بنایا ہے، ہم تو اپنا خون پسینہ ایک کر کے دنیا کو تہذیب سکھا رہے ہیں۔ لیکن برطانیہ کو اتنی سوچ بچار کرنے والے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اور یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فلاں شخص یا گروہ انتہا پسند ہے۔ یہ فیصلہ ان کے وزیر صاحب بہادر فرمائیں گے۔ تا کہ کسی عدالت میں کچھ ثابت کرنے جھنجٹ ہی نہ رہے۔

برطانیہ اپنی پارلیمانی اقدار کی حفاظت کر رہا تھا تو ہم پاکستانی اپنے ملک کی دینی اقدار کی حفاظت کے لئے دن رات ایک کر رہے ہیں۔ خاکسار نے گزشتہ کالم میں عرض کی تھی کہ چیف جسٹس صاحب نے اپنے ایک فیصلہ میں پاکستان میں مذہبی آزادی کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے چند پیراگراف لکھ دیے تو ایک طبقہ ان کے گرد ہو گیا۔ مذہبی طبقہ نے تو ان پر تیر چلائے، فیصل آباد میں پاکستان میڈیکل کونسل نے ایک مصروف سڑک پر جو بینر لگائے ان کی عبارت ملاحظہ ہو

1۔ چیف جسٹس کا قادیانیت کے حق میں فیصلہ پاکستانی آئین سے انحراف ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن فیصل آباد

2۔ قادیانیت ایک ناسور ہے۔ مسلمان اسے پھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن فیصل آباد

3۔ چیف جسٹس پاکستان کا فیصلہ قادیانیت کی حوصلہ افزائی اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن فیصل آباد

جب اس عاجز نے پاکستان میڈیکل کونسل کے مرکزی دفتر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ یہ بینر کس نے لگائے ہیں۔

دنیا کے وہ دو تین ممالک جن میں سب سے زیادہ نوزائیدہ اور پانچ سال سے کم عمر بچے موت کا شکار ہوتے ہیں، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن پاکستان میڈیکل کونسل کو اس کی فکر نہیں۔ دنیا کو وہ دو ممالک جن سے پولیو ختم نہیں ہو سکی، ان میں پاکستان کا نام بھی ہے لیکن پاکستان میڈیکل کونسل کو اس کا غم نہیں۔ اگر فکر ہے تو اس بات کی کہ چیف جسٹس کا محاسبہ کس طرح کیا جائے۔ اور وہ بزعم خود پاکستانی آئین کی حفاظت کے لئے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے ہیں۔

جب ہم اس راستہ پر چل پڑے تو بھارت کس طرح پیچھے رہ جاتا۔ گجرات کی ایک یونیورسٹی میں مختلف ممالک کے مسلمان طلبا نماز پڑھ رہے تھے۔ یونیورسٹی کے ہندو طلبا نے ان پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کر دیا اور ’جے شری رام کی‘ کے نعروں کی ساتھ ان کی پٹائی کر ڈالی۔ جب دنیا میں شور مچا تو یونیورسٹی کے وی سی صاحب بہادر نے بیان دیا کہ ان غیر ملکی طلبا کو ہماری ثقافت کی حساسیت کا احساس نہیں تھا۔ ہم ان کو ان کو اس بارے میں ٹریننگ دیں گے۔

ان صاحب کو یہ خیال نہیں آیا کہ پہلے ہندوستانی طلباء کو کچھ تمیز سکھا دیں۔ اور انہیں دوسروں کے مذہب اور ثقافت کا احترام سکھائیں۔ اسی طرح اسرائیل کے فوجی اور ان کے سیاستدان یہ دلیل دے رہے ہیں اگر ہم نے غزا میں عرب بچوں کا قتل کر دیا تو کیا ہوا۔ کل کو انہیں بچوں نے جوان ہو کر دہشت گرد بننا تھا۔ ہم نے حفظ ما تقدم کے طور پر ان کا حساب صاف کر دیا۔

اس وقت دنیا کا ہر ملک اپنی تہذیب اور اقدار کی جے جے کار کرنے میں مشغول ہے۔ اور ہر گروہ میں ایسے فربہ مزاج لوگ موجود ہیں جنہیں سوچنے اور پڑھنے لکھنے جیسے فضول کاموں کی فرصت نہیں ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل اسی طرح کا ماحول پیدا کیا گیا تھا اور اس دھینگا مشتی کا جو انجام ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

Facebook Comments HS