چھے جنوری سے نو مئی، براستہ تین اپریل


6 جنوری 2021 کے دن امریکی کانگرس کی بلڈنگ پر اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے کیے گئے حملہ کا کیا پس منظر تھا؟ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں 3 اپریل 2022 اور 9 مئی 2023 کے واقعات بھی 6 جنوری سے مماثلت رکھتے ہیں اور اس سوال کا جواب ان واقعات پر روشنی ڈالنے کے علاوہ دونوں ممالک کے بعد میں بنے سیاسی منظر نامے کو بھی سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

نومبر 2020 میں ہوئے امریکی صدارتی الیکشن کے فائنل نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے مقابل امیدوار جو بائیڈن سے شکست ہو گئی تھی۔ نتائج کے اعلان کے بعد دو مراحل اہم ہوتے ہیں ؛ پہلا مختلف ریاستوں کا 14 دسمبر کو اپنے اپنے الیکٹورل کالج کا ووٹ اکٹھا کرنا اور دوسرا کانگرس کا 6 جنوری کو ان ووٹوں کی گنتی اور تصدیق کا عمل۔ عام طور پر یہ دونوں مراحل بغیر کسی رکاوٹ یا ڈرامہ کے مکمل ہو جاتے ہیں اور 20 جنوری کو نیا صدر وائٹ ہاؤس میں پرانے صدر سے ایک رسمی ملاقات کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھال لیتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جس کا پرسونا یا شخصیت کا تاثر ہی ہر قیمت پر جیت ہے وہ ذہنی طور پر انتخاب میں شکست تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھا، اور الیکشن کی رات اس نے ابتدائی نتائج آنے پر ہی اپنی جیت کا اعلان کر دیا۔ حالانکہ اس کے اپنے ایڈوائزر اسے پہلے ہی بتا چکے تھے کہ کووڈ کی وجہ سے بھی بہت بڑی تعداد میں ووٹ پوسٹ کے ذریعے بھیجے جائیں گے، جن کی گنتی میں وقت لگ جائے گا اور یہ سلسلہ ایک سے زیادہ دن چل سکتا ہے۔ بعد میں تمام ریاستوں سے مکمل نتائج کے اعلان پر بھی ٹرمپ نے الیکشن میں شکست تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے وکیلوں کی ایک اسپیشل ٹیم اکٹھا کرنا شروع کر دی۔

امریکی انتخابات میں کچھ ریاستیں دوسروں کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں انہیں سونگ سٹیٹس بولا جاتا ہے اور ان کا الیکشن میں ایک یا دوسری پارٹی کے حق میں فیصلہ دے دینا امیدوار کی ہار یا جیت کا باعث بنتا ہے۔ ایسی کچھ ریاستوں سے نتائج اکٹھے کرنے کے بعد ٹرمپ کے وکیلوں نے 64 نتائج کو امریکی عدالتوں میں چیلنج کیا تھا۔ اگر ان چیلنجز میں سے کافی کا فیصلہ ٹرمپ کے حق میں آتا تو ممکنہ طور پر الیکشن کا رزلٹ بدل سکتا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ ساتھ ٹرمپ نے کچھ ایسے قدم بھی اٹھائے جنہیں بعد میں غیر قانونی گردانا گیا اور جن پر اب عدالتوں میں ریاستی انتظامیہ کی طرف سے لگائے مجرمانہ الزامات کے اوپر سماعت جاری ہے، مثلاً جارجیا کے سیکریٹری آف سٹیٹ پر اپنی حمایت میں ووٹ ڈھونڈنے اور نتیجہ تبدیل کرنے کے لیے دباؤ۔

بہرحال دسمبر 2020 کے وسط تک 64 میں سے 63 چیلنجز کا فیصلہ ٹرمپ کے خلاف آ چکا تھا اور ایک نتیجہ جو اس کے حق میں آیا بھی وہ اتنے کم ووٹوں کے فرق سے تھا کہ جس کا الیکشن کے مجموعی نتیجہ پر کوئی اثر نہیں تھا۔ لیکن ٹرمپ نے الیکشن رزلٹ پر اثر انداز ہونے کی ایک اور کوشش میں سونگ سٹیٹس میں مرتب ہو چکے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کچھ ریاستوں میں موجود اپنی پارٹی کے عہدہ داران کی مدد سے اپنے حمایت یافتہ الیکٹرز کی جیت کے جعلی سرٹیفیکیٹ بھی تیار کرا لیے۔

لیکن یہ تمام کوششیں اس چیز پر منحصر تھیں کہ جنوری 2021 کے پہلے ہفتہ میں کانگریس میں ووٹوں کی گنتی والے دن اس کا اپنا وائس پریزیڈنٹ مائیکل پنس سونگ سٹیٹس کی طرف سے بھیجے ووٹوں کو گننے سے انکار کرے اور جعلی سرٹیفیکیٹس کی موجودگی میں الیکشن کے نتیجے کا اعلان ٹرمپ کے حق میں کر دے۔ یہ پلان ٹرمپ نے اپنے وکیلوں کی ایڈوائس پر آئین کی تشریح سے متعلقہ ایک غیر قانونی تھیوری کی آڑ میں بنایا تھا اور اس کے لیے اس نے پنس پر دسمبر سے ہی مسلسل دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ پنس البتہ اس بارے میں قانونی مشاورت کے بعد ٹرمپ کو آگاہ کر چکا تھا کہ بحیثیت کانگرس کے صدر کے اس کا کام صرف ووٹوں کی گنتی کروانے تک محدود ہے اور اگر اس نے ہر ریاست کے بھیجے ووٹ گنوانے اور قبول کرنے سے انکار کیا تو یہ غیر آئینی ہو گا اور ایسا وہ نہیں کرے گا۔

6 جنوری 2021 کو مائیکل پنس کے ووٹوں کی گنتی کروانے اور کانگریس کے الیکشن نتائج کی تصدیق کرنے کے عمل پر دباؤ برقرار رکھنے کی غرض سے ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک جلسے کی کال دی ہوئی تھی۔ اس کے ہزاروں حامی کانگریس سے کچھ دور ایک پارک میں الیکشن رزلٹ پر احتجاج کے لیے جمع تھے جن سے ٹرمپ نے خطاب کیا اور انہیں کانگریس کی بلڈنگ کی طرف جانے پر اکسایا اور کہا کہ وہ بھی ان کے ساتھ ہو گا۔ ٹرمپ جلسے سے پہلے بھی اپنے حامیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے بتا چکا تھا کہ 2020 کے الیکشن چوری کر لئے گئے ہیں اور وہ درحقیقت صدر کا انتخاب جیت چکا ہے۔

کانگریس کے باہر جمع ہونے کے کچھ دیر بعد ٹرمپ کے حامی دروازے اور کھڑکیاں توڑتے ہوئے بلڈنگ کے اندر داخل ہو گئے۔ سکیورٹی حکام نے وہاں ہال میں ووٹ گننے کی کارروائی کے لیے موجود نمائندگان کو فوراً بلڈنگ کے محفوظ مقامات پر منتقل اور کر اؤڈ کنٹرول کرنا شروع کر دیا جس میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ ٹرمپ جسے اس کے اپنے سکیورٹی حکام پہلے ہی وائٹ ہاؤس واپس لے جا چکے تھے یہ سارے مناظر ٹی وی پر براہ راست دیکھ رہا تھا اور اس دوران اس کا اپنا سٹاف اسے اس کے حامیوں کو پرامن رہنے کی ہدایت جاری کرنے کا مشورہ دیتا رہا۔ کانگرس پر ایسا حملہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا تھا اور اس کی ڈیموکریٹ اور ٹرمپ کی اپنی ریپبلیکن پارٹی کے لوگوں نے بھی شدید مذمت کی۔

3 اپریل 2022 کو عمران خان پاکستان میں وہ کرنے میں کامیاب ہو گیا جو ٹرمپ 6 جنوری 2021 کو امریکہ میں کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اس دن عمران نے اپنی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی مدد سے اپوزیشن پر آئین کے آرٹیکل 5 اور 6 یعنی ملک سے غداری کا الزام بھی لگاتے ہوئے پیش ہی نا ہونے دیا اور بغیر کارروائی کے مسترد کرا دیا۔ لیکن ٹرمپ کے الیکشن نتائج کے چیلنج کی طرح عمران بھی تحریک عدم اعتماد کے خلاف کی گئی اپنی کارروائی کا دفاع ایک ہفتہ بعد عدالتی فیصلہ میں ہار گیا۔ اب تقریباً ایک سال پہلے کے ٹرمپ کی طرح عمران بھی اپنے حامیوں کو لے کر سڑک پر آ گیا اور اس کے ایک سال بعد پاکستان میں وہ کچھ ہوا جو اس کی تاریخ میں بھی پہلے نہیں ہوا تھا۔

9 مئی 2023 کو عمران نے مبینہ طور پر اسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کی کوشش کی جس نے اس کی برسوں کی سیاسی کیمپین کو بالآخر 2011 سے سپورٹ کرنا شروع کیا تھا، 2013 میں خیبر پختون خواہ اور 2018 میں مرکزی حکومت بنوا کر دی تھی۔ اس دن ملک کے طول و عرض میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے فوج کے مرکزی ہیڈ کوارٹر، چھاؤنیوں میں موجود رہائشی اور دفاعی عمارات، شہدا کی یادگاروں اور دیگر اہم ریاستی اداروں جیسے ریڈیو پاکستان پشاور کے دفتر کے سامنے پہلے احتجاج اور بعد میں حملہ کر کے آگ لگائی اور توڑ پھوڑ کی۔ لیکن 9 مئی کا واقعہ بھی 6 جنوری کی طرح صرف اس دن سے پہلے عمران کی لمبے عرصہ سے نہ ہو سکی گرفتاری کا ایک اچانک ردعمل نہیں کہا جا سکتا۔

3 اپریل 2022 کی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی سے پہلے ہی عمران اپنے حامیوں کو اس کے پیچھے ایک سازشی تھیوری کے بیانیہ سے ذہنی طور پر تیار، اس تحریک کو ناکام کرنے کی غیر قانونی پیش بندی اور اس کی کامیابی کی صورت میں ’خطرے ناک‘ ردعمل کی پلاننگ کر چکا تھا۔ یہ ویسے ہی اقدام تھے جو ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو انتخاب کو تسلیم نہ کرنے، اشتعال دلانے اور وائس پریزیڈنٹ سے غیر قانونی کام کروانے کے لئے جہاں ممکن ہوا ریاستی سطح پر موجود انتظامیہ کی مدد لینے کے لیے اٹھائے تھے۔

مجھے لگتا ہے کہ ٹرمپ اور عمران جیسے سلیبریٹی لیڈرز کے لئے ناصرف ہر قیمت پر جیت ان کے پر سونا کا حصہ ہوتی ہے بلکہ شکست سے بچنے کے لئے ہر حد عبور کر لینا بھی جائز ٹھہر جاتا ہے۔ مثال کے طور پر دسمبر میں واضح ہونے کے باوجود کہ الیکشن میں تمام قانونی آپشن آزما لیے گئے ہیں ٹرمپ اپنے چیف آف سٹاف سے یہ کہتے سنا گیا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ لوگوں کو پتا لگے کہ ہم ہار گئے ہیں، یہ شرمندگی کا باعث ہو گا، کوئی حل نکالو، ہمیں کوئی حل نکالنا ہے‘ ۔

اسی طرح مارچ میں عمران اپنے خلاف اگلے مہینہ پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا یقین آ جانے پر اول ایک لیک آڈیو کال میں اپنے قریبی ساتھیوں سے یہ کہتے سنا گیا کہ ’اب ہم نے اس سائفر سے کھیلنا ہے، لوگوں کو (اس سازشی تھیوری کی) سپون فیڈنگ کرنی ہے‘ اور دوم ایک اور حربہ کے طور پر وہ تحریک عدم اعتماد کو اسپیکر کے ذریعے ناکام بنانے کی پلاننگ کر چکا تھا۔ اور پھر اپریل میں حکومت کھو جانے کے بعد ایک سال تک اس نے پہلے امریکہ اور بعد میں پاکستان کی فوج کو عدم اعتماد کی سازش میں ملوث ہونے کا مسلسل الزام لگاتے ہوئے اپنے نشانہ پر رکھا۔

ٹرمپ اور عمران جیسے لیڈر اپنے حامیوں کے جذبات کو بہت اچھی طرح سمجھتے اور اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹرمپ نے ایک دفعہ یہ کہا کہ ’وہ نیویارک شہر کے درمیان دن دیہاڑے ایک شاہراہ پر کسی کو گولی بھی مار دے تو اس کی حمایت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ ۔ اسی طرح عمران جو کچھ عرصہ پہلے خود اپنی مرضی سے قومی اسمبلی میں ایک تحریک پیش کروا کر اعتماد کا ووٹ جیت چکا تھا، اپوزیشن کی پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک کو سازش کہنے اور اپنے فالوورز کو اس پر قائل کرنے میں کامیاب رہا۔ جیسے ٹرمپ کے حامی 6 جنوری کے واقعہ کو امریکہ کی ایجنسیوں کی سازش سمجھتے ہیں، ویسے ہی عمران کے حامی 9 مئی کو پاکستان کی ایجنسیوں کی سازش مانتے ہیں۔

مجھے (بھی) ٹرمپ اور عمران کی شخصیت اور سیاست میں بہت مماثلت محسوس ہوتی ہے اور ان سارے واقعات میں عمران پہلے تو ٹرمپ کی تقلید ہی کرتے نظر آتا رہا ہے۔ مگر اب جبکہ عمران فروری 2024 تک اپنے حامیوں کو مختلف بیانیوں سے متحرک اور اپنے پر بنے مقدمات سے ابھری ہمدردی کے نتیجہ میں الیکشن میں اکثریتی ووٹ لینے میں کامیاب ہو چکا ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ کیا نومبر 2024 کے امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ جو خود بھی بہت سے مقدمات کا سامنا کر رہا ہے اس نتیجہ میں اپنے سے بڑھتی ہمدردی کو عمران کی تقلید میں اکثریتی ووٹ میں بدلنے میں کامیاب رہتا ہے۔

البتہ ایک مکافات عمل کا پراسس بھی ہر وقت جاری رہتا ہے جیسا عمران کے کیس میں اکثریتی ووٹ اس کے کام نہیں آیا اور وہی اسٹیبلشمنٹ جس نے کسی زمانہ میں اس کی حکومت بنوائی تھی اس بار مقبولیت کے باوجود اس کے اقتدار کی راہ رکاوٹ بن گئی، اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اکثریتی ووٹ ٹرمپ کے کام بھی نہ آئے جیسے 2016 کے الیکشن میں ہیلری کلنٹن کے کام نہیں آیا اور 2024 کے الیکشن میں الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی ٹرمپ کے حق میں نہ جائے۔

 

Facebook Comments HS