شاہکار فلم “گرم ہوا ” سے وابستہ قصے.


اس کا نام بدر بیگم تھا۔ وہ بستی جس کا آگرہ کے نام سے زیر آسماں چرچا ہے اس کے ایک کوچے میں اس کا گھر تھا۔ زندگی ایسی مشکل کہ اسی شہر کے ایک باسی جو بعد میں دلی میں بلی ماراں کی گلی قاسم جان میں جا بسا، کی دنیا سے مختلف دم نکلنے کا باعث بننے والی ہزاروں خواہشیں تو کیا چند عمومی خواہشیں بھی پوری کرنے کی استطاعت نہ تھی۔ چنانچہ سولہ برس کی عمر میں اس نے ممبئی کا رخ کیا اور فلم نگر میں قسمت آزمانا شروع کی۔ ایکسٹرا کے طور پر ایک آدھ فلم میں کام ملا لیکن بات آگے نہ بڑھی۔ وہ آگرہ لوٹ آئی۔ جسم فروشی کا دھندا شروع کیا جس کی وجہ سے ایک رئیس سے بھی تعارف ہو گیا۔ آنے والے سالوں میں تسکین ہوس کا ایک ٹھیہ قائم کر لیا یہاں تک کہ بالوں میں چاندی اتر آئی۔

فلم گرم ہوا میں بیگم اختر نے گھر کی سربراہ دادی اماں کا کردار ادا کرنا تھا لیکن انہوں نے آگرہ آنے سے معذرت کر لی تو کسی نے اس کردار کے لیے بدر بیگم کو تجویز کیا۔ فلمساز و ہدایت کار ایم ایس ستھیو نے جب اس بارے میں بدر بیگم سے بات کی تو وہ رو پڑی کہ وہ خواہش جو ممبئی میں خوار ہو کے پوری نہ ہوئی اب پوری ہونے کو ہے اور وہ بھی اس انداز میں کہ فلم کی زیادہ تر عکس بندی اس کے مرحوم عاشق کی حویلی میں ہونی ہے۔ اسے تقسیم سے متاثر ہونے والے مسلمان خاندان کے مسکن کے طور پہ دکھایا جانا تھا۔

فلم بندی کے دوران اس حویلی میں وہ جذباتی سین بھی عکس بند کیا گیا کہ جب دادی اماں ( بدر بیگم) کی خواہش پر دم آخر انہیں اس آبائی حویلی کو دکھانے پالکی میں لایا جاتا ہے۔ راستے میں ان کے دلہن بن کے آنے کے وقت کے گیت اور بدہائیاں پس منظر میں پلے کی جاتی ہیں۔ حویلی پہنچ کر صحن میں رکھی چارپائی پہ پڑے وہ اس کے در و دیوار پہ نظر دوڑاتی ہیں اور پھر دم توڑ دیتی ہیں۔

یہ اس کہانی کا ابتدائیہ تھا جو آج مجھے میرے دوست راجہ رجب سنا رہے تھے۔ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اردو ادب اور فلم ایسے موضوعات ہیں جن کے بارے ان کی معلومات بعض اوقات حیران کن ہوتی ہیں۔

انہوں نے بات جاری رکھی۔ 1974 میں ریلیز ہونے والی فلم ”گرم ہوا“ کا معیار اس قدر بلند تھا کہ میرے خیال میں جب بھی کبھی انڈیا کی بڑی فلموں کی چھوٹی سے چھوٹی فہرست بھی بنائی جائے گی تو یہ فلم اس میں ضرور شامل ہو گی۔ میں نے اس فلم کے بارے میں یو ٹیوب پر موجود بہت سی معلوماتی ویڈیو دیکھی ہیں۔ بڑی عجیب عجیب معلومات سامنے آئی ہیں۔ جیسے شمع زیدی جنہوں نے اس فلم کا منظر نامہ کیفی اعظمی کے ساتھ مل کر لکھا اور وہ ہدایت کار ایم ایس ستھیو کی بیگم ہیں بتاتی ہیں کہ وہ راجندر سنگھ بیدی کے ساتھ ان کے ناول ”ایک چادر میلی سی“ کو فلمی روپ دینے پہ کام کر رہی تھیں کہ انہوں نے آئیڈیا دیا کہ ایک فلم ان انڈین مسلمانوں پہ بننی چاہیے جنہوں نے ہجرت نہیں کی اور ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی کہا کہانی عصمت چغتائی سے لکھوانا لیکن سکرین پلے نہیں، وہ اس کام میں ماٹھی ہے۔

چنانچہ عصمت چغتائی سے رابطہ ہوا۔ انہوں نے ایک کہانی لکھی جو ان سے گم ہو گئی۔ پھر دوسری لکھی۔ اس دوران پہلی کہانی مل گئی۔ اب دونوں کو ملا کر نئی کہانی لکھی۔ اسے میں نے اپنے والد اور ان کے ایک ادب نواز دوست کو دکھایا۔ کہانی میں مرکزی کردار سلیم مرزا ( بلراج ساہنی) آخری حصے میں کراچی ہجرت کر جاتے ہیں۔ وہاں وہ مایوس ہوتے ہیں اور یوں انڈیا لوٹ آتے ہیں۔ دونوں بزرگوں نے کہا کہ فلم کا آخری حصہ سیاسی ہو گیا ہے۔ اسے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ اس میں تبدیلی کے لیے کیفی اعظمی کا انتخاب ہوا۔

کیفی اعظمی نے اس کے علاوہ کچھ اور تبدیلیاں بھی کیں۔ جیسے شہر کے طور پر لکھنؤ کی بجائے آگرہ کو مرکز بنایا گیا کہ وہاں چمڑے کے کارخانے تھے اور مرکزی کردار کے خاندان کو اس کاروبار سے وابستہ دکھایا جانا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ فلم میں زیادہ تر کردار ٹھسے والی عورتوں کے تھے جو لکھنؤ میں کم اور آگرہ میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔

کیفی اعظمی ماضی میں قیام کانپور کے دوران یونین سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہے تھے یوں وہ مرکزی خاندان کے کاروباری مسائل کو بہتر طور پر بیان کر سکتے تھے۔

یہ ایم ایس ستھیو کی پہلی فلم تھی۔ وہ بنیادی طور پر آرٹ ڈائریکٹر تھے اور چیتن آنند کو فلم حقیقت میں اسسٹ کیا تھا۔ یہ فلم ڈھائی لاکھ روپے NFDC سے قرض لے کر شروع کی گئی۔ کسی اداکار کو معاوضہ نہیں دیا گیا تھا پھر بھی ستھیو جی کو دس لاکھ سے زیادہ قرض دوستوں سے لینا پڑا۔

فلم مکمل ہونے کے بعد گیارہ ماہ تک ڈبوں میں پڑی رہی کیونکہ اس کے بارے میں یہ تاثر عام ہو چلا تھا کہ یہ خفیہ ہاتھ کے ذریعے پاکستانی سرمائے سے بنائی گئی ہے۔

ریلیز کے لیے بڑی تگ و دو کرنا پڑی۔ شیو سینا اور ایل کے ایڈوانی نے بھی مخالفت کر دی جو بعد میں ختم ہو گئی۔ ایڈوانی نے تو اس پہ معذرت بھی کی۔

فلم کے خصوصی شو کا اہتمام وزیراعظم اندرا گاندھی، وزیر اطلاعات آئی کے گجرال اور کچھ کابینہ و لوک سبھا کے ممبران کے لیے کرنا پڑا۔ کچھ اعتراضات ہوئے لیکن فلم کو قابل نمائش قرار دیدیا گیا۔ ممبئی کے ریجنٹ سینما میں اس کے پریمیئر کے موقع پر مہاراشٹر کی گورنر وجے لکشمی پنڈت مہمان خصوصی تھیں۔

فلم باکس آفس پہ تقریباً ناکام ہی رہی لیکن پیرس میں منعقدہ پریمیئر کے بعد کانز اور آسکر کے لیے منتخب ہوئی۔ دوسری طرف اس سال کا بہترین فلم کا فلم فیئر ایوارڈ اپنے نام کیا۔

فلم آگرہ کے ریلوے سٹیشن سے ریل گاڑی کی روانگی سے شروع ہوتی ہے جس میں سلیم مرزا (بلراج ساہنی) کی بہن پاکستان جا رہی ہیں اور فلم کے آخر میں وہ اپنی بیوی اور بیٹے سکندر کے ساتھ آگرہ ریلوے سٹیشن کی طرف پاکستان جانے کے لیے روانہ ہیں۔ راستے میں وہ ایک جلوس میں گھر جاتے ہیں جو اپنے حقوق کی آواز بلند کر رہا ہے۔ اس منظر سے حوصلہ پا کر پہلے بیٹا اور پھر باپ تانگے سے اتر جاتے ہیں اور تانگے کو گھر واپس کرتے ہوئے جلوس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر پس منظر میں کیفی اعظمی کی کھنکتی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔

جو دور سے طوفان کا کرتے ہیں نظارہ
ان کے لیے طوفان یہاں بھی ہے وہاں بھی
دھارے میں جو مل جاؤ گے بن جاؤ گے دھارا
یہ وقت کا اعلان یہاں بھی ہے وہاں بھی

راجہ صاحب بولے بس آخری بات۔

ایک نازک خیال کو سلو لائیڈ کے فیتے میں بلراج ساہنی کی بے مثل اداکاری کے ساتھ ستھیو جی نے جس کمال فن سے پرویا اور نام کمایا وہ اس مصرعے کی یاد دلاتا ہے، “کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی”۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments