ایک اور نیوز چینل بند ہوا: آگے کیا ہو گا؟
میڈیا انڈسٹری سے وابستہ دوستوں کے لئے یہ خبر افسردہ اور مایوس کردینے والی تھی کہ حال ہی میں سیالکوٹ کے کچھ سرمایہ داروں کی جانب سے مارکیٹ میں لانچ کیا جانے والا چینل ٹیلن نیوز اچانک بند کر دیا گیا، آپ نیوز کے بعد یہ دوسرا چینل ہے جسے مالکان نے اچانک بند کر دیا، 2018 میں آپ نیوز کی بندش سے سیکڑوں میڈیا کارکن بیروزگار ہوئے، سیکڑوں گھروں کے چولہے بجھ گئے۔ بڑے اینکرز تو پھر کسی دوسرے چینل پر جا کر بیٹھ گئے لیکن ورکنگ جرنلسٹ کے لئے سردست کوئی جگہ نہ بن پائی اور دوستوں نے کئی کئی ماہ تک بیروزگاری کا سامنا کیا اور انتہائی دکھ اور پریشان کے حالات سے گزرے۔ میڈیا کے دوست آج بھی آپ نیوز کے بند ہونے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
سچ بات تو یہ ہے چینلز کسی صورت بند نہیں ہونے چاہیں، آپ نیوز کے بعد یہ دوسرا چینل ہے جسے بند کر دیا گیا ہے، آپ نیوز کے اور مسائل تھے لیکن یہاں سب کچھ اوکے تھا، اچانک ہی یہ فیصلہ کیا گیا
سرمایہ دار کے لئے اپنے منصوبے کو بند کرنا، بالکل ہی لپیٹ دینا بہت مشکل ہوتا ہے، پتہ نہیں کروڑوں اربوں لگانے کے بعد سرمایہ دار، یا مالکان اسے بند کرنے پر کیسے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اگر چینل کو بند نہ کیا جائے اور اسے مختلف طریقوں سے چلایا جائے تو مالکان کو کچھ نہ کچھ حاصل ہوتا رہتا ہے چینل میں ڈاؤن سائزنگ عام روٹین ہے اس کے ذریعے چینل کو رواں رکھا جا سکتا ہے، کسی دوسری پارٹی کو فروخت کیا جا سکتا ہے، چینل کو ڈیجیٹل میڈیا کی شکل میں زیادہ استعمال کر کے کمائی کی جا سکتی ہے، بند نہیں کرنا چاہیے، کیپٹل والے اب ڈیجٹل ہو کر اچھا خاصا کما رہے ہیں، مطلب بند نہیں ہوئے بس میڈیم بدل لیا ہے اور کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں، یقین کریں اس وقت بہت سارے چینلز ڈیجیٹل میڈیا پر بہترین خبریں اور مواد دے کر سیٹلائٹ ٹرانسمیشن سے زیادہ کما رہے ہیں، آنے والے دنوں میں یہ بزنس ماڈل زیادہ مقبولیت اختیار کرے گا کیونکہ اس سے ایک تو ڈالرز آتے ہیں سیٹھ کی جیب میں دوسرا یہ کم خرچ بالانشین ہے، یہاں کم سٹاف سے کام چلایا جا سکتا ہے، نیوز چینل کے سٹاف کو بھی اگر اس کام پر لگا دیا جائے تو سونے پہ سہاگا ہو جائے، کیونکہ نیوز روم میں کام کرنے والے صحافی خبر کی اہمیت، تاثیر، تعبیر اور مار کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، بس اسے کڑاکے دار بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے ایک اچھا کاپی ایڈیٹر کافی ہوتا ہے
قصہ مختصر، اربوں روپے لگا کر نیوز چینل شروع کرنے والے مالکان کو چینل بند کرنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے بنیادی طور پر اپنے سرمائے کا تحفظ ان کی اولین سوچ ہونی چاہیے جو کہ ان کا حق بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ورکرز کی بہبود، خاندانوں کے تحفظ اور صحافیوں کے مستقبل کی سوچ بھی پیش نظر رہنی چاہیے،
ایک سوچ یہ بھی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے دورحکومت کے آتے ہی میڈیا پر برا وقت شروع ہو گیا تھا، لگتا ہے نون لیگی حکومت بھی اسی طرز حکومت کو اپنانا چاہتی ہے، اصل میں پس پردہ طاقتیں عمران کے دور میں بھی میڈیا سے نالاں تھیں اور اب بھی ہیں، حالانکہ اس وقت پورا میڈیا سرنگوں ہو چکا ہے، ہتھیار ڈال چکا ہے۔ بھائی لوگوں کو مائی باپ مان چکا ہے۔ لیکن لگتا ہے وہ میڈیا کا سارا ڈنک اور ہوا نکالنا چاہتے ہیں، اس کے لئے ورکنگ جرنلسٹ کو سب سے زیادہ بھگتنا پڑے گا۔
ٹیلن نیوز کے مالکان نے یہ بھی نہیں سوچا، رمضان ہے، لوگ بیروزگار ہو جائیں گے، آگے عید بھی ہے، کچھ تو خوف خدا کرنا چاہیے، سب کچھ پیسہ ہی نہیں ہوتا، اخلاقیات، شرم و حیا، اور روایات بھی کسی شے کا نام ہے۔ افسوس کہ یہ سب اچھائیاں ہمارے معاشرے سے اٹھتی جا رہی ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
اس صورتحال میں میڈیا کے دوستوں کے ایک گروپ میں ہونے والی ڈسکشن میں صورتحال کے حوالے سے صحافی دوستوں نے مختلف تجاویز پیش کیں، یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے میڈیا سٹڈیز کے استاد ڈاکٹر عاطف اشرف اس صورتحال پر کہتے ہیں۔ افسوس ناک خبر ہے اور مستقبل میں بھی کوئی امیدیں نہیں ہیں، ہمیشہ الیکشن کے بعد ایسا مشکل وقت آتا ہے۔ صحافیوں پر یہ لازم ہے کہ آپس میں مل کر اپنے لئے خود کام کریں، ڈیجیٹل میں آئیں سیٹھ سے آزادی حاصل کریں، بڑی امید ہے کہ کم از کم ڈیجیٹل پر سب کو برابر موقع ملتا ہے۔ اللہ سب کے لئے آسانیاں پیدا کرے اور تمام بے روزگاروں کو ایسا روزگار دے کہ کسی سیٹھ کی محتاجی نہ کرنی پڑے
24 نیوز سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی افتخار رامے نے سارا ملبہ حکومت پر ڈالے جانے کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں ہر کام نون لیگ کے کھاتے میں ڈالنے کا چلن عام ہو چکا ہے حقیقت یہ ہے کہ حکومت کا چینل کی بندش سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ چینل مالکان کا رجحان گزشتہ برسراقتدار جماعت سے تھا اس لئے موجودہ حکومت سے کسی رو رعایت یا بزنس نہ ملنے کے خدشے کے پیش نظر انہوں سے چینل کو ٹھپ کر دیا، دوست کا کہنا تھا، مالک کے پیسے نہیں ہیں چینل چلانے کے، ٹیم اچھی نہیں ہے، اشتہار نہیں مل رہے۔ اس لئے اسے بند کر دیا،
اس موقف پر ہمارا جواب یہی ہے کہ حالات جو بھی ہوں، صورتحال جیسی بھی ہو، چینل بند کرنا کہاں کا حل ہے،
ہانڈی نہیں پک رہی تو اس کے لوازمات پورے کرتے ہیں، آگ تیز کرتے ہیں مرچ مصالحہ پورا رکھتے ہیں، ناکہ ہانڈی کو اٹھا کر بیچ چوراہے پھوڑ دیتے ہیں، اس مالک کے دیگر کاروبار چیک کریں وہ تو بہترین چل رہے ہیں، کئی بار اپ ڈاؤن بھی ہوا ہو گا، وہ کاروبار تو بند نہیں کیے، بلکہ انہیں رواں دواں رکھنے کے لئے ہر ممکن ہاتھ پاؤں مارے گئے، تو پھر یہاں کیا مصیبت آن پڑی جو اچانک چینل بند کر کے گھر کو چل دیے
سما نیوز سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عاصم حمید کے مطابق الیکشن کے بعد یہ فیز آنا ہی ہوتا ہے خدشہ ہے کچھ اور چینل بھی ڈاؤن سائزنگ پر جا سکتے ہیں، ٹیلن نیوز نے بند کرنے سے پہلے بڑی کوشش کی کہ چینل کو فروخت کر دیا جائے مگر پوسٹ الیکشن ماحول کی وجہ سے اچھے پیسے نہیں مل رہے تھے اس وجہ سے مالکان نے چینل بند کر دینا ہی بہتر سمجھا
ڈسکشن میں ڈیجیٹل میڈیا کا ذکر چھڑا تو بات چل نکلی اس لامحدود دنیا میں کیسے داخل ہوا جائے، ہم ڈیجیٹل میڈیا، کا بڑا شور مچاتے ہیں، لیکن اس کو کیسے جوائن کیا جائے، شروع کہاں سے اور کیسے کیا جائے، ایک کاپی ایڈیٹر، ایک اسائمنٹ ایڈیٹر، ٹکر آپریٹر، نیوز پروڈیوسر کیسے ڈیجیٹل پر جا سکتا ہے پلیز دوست سیکھنے سکھانے کی نیت سے رہنمائی فرمائیں، ڈاکٹر عاطف اشرف، سینئر صحافی علی ریحان، نے اس موضوع پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے ڈیجیٹل میڈیا میں کمائی کے حوالے سے سب سے بہترین ٹول ٹویٹر ہے جہاں سب ٹویٹ، تصویر، بلاگ، ویڈیو، سب سے پیسہ کما سکتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو اس کا پیمنٹ سسٹم یہاں ورک نہیں کرتا، لیکن کچھ لوگ جگاڑ کر کے یہاں بھی اس سے پیسے کما رہے ہیں، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ٹویٹر چلتا ہی نہیں۔ اور یہی اصل اور حقیقی مسئلہ ہے ایک چیز بہترین متبادل ہے اور پاکستان میں اس پر ایک ماہ سے پابندی ہے اور یہ پابندی آئندہ مستقبل میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ میٹا ورس یعنی فیس بک اور اس کی ایپس زیادہ ڈیٹا چور ہے، یوٹیوب کا معیار خاصا کڑا ہے، شرائط و ضوابط اتنے سخت ہیں کہ انہیں پورے کرتے کرتے لوگوں کی لسی نکل جاتی ہے، اور ان تمام پلیٹ فارمز کے لیے جس طرح کا کانٹینٹ پروڈیوس کرنا ہے وہ سب ایک جگہ پر کر کے پیسے کمانا آئیڈیل ہے، ہاں کانٹینٹ جب بنایا ہی جا رہا ہے تو باقی پلیٹ فارمز سے بھی پیسے کمائے جائیں، یہ ایک اچھی تجویز تھی کہ جینوئن کانٹینٹ تخلیق کر کے اسے مختلف پلیٹ فارم پر پیش کیا جائے اور روزی روٹی کمائی جائے
ساتھی کولیگ فرحان ظفر کی رائے تھی جنہوں نے پیسے کمانے ہیں وہ پاکستان میں بیٹھ کر ایک وقت میں یو ٹیوب، فیسبک، انسٹا گرام، ٹویٹر، ٹک ٹاک سے ایک جیسے کانٹینٹ سے پیسے کما رہے ہیں، ڈیجیٹل پر جتنا کام کرو اتنا تھوڑا ہے، فرحان ظفر ایک یوٹیوب چینل پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے مزید تجاویز دیں کہ یو ٹیوب پر کام کریں، دو تین باتیں ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کانٹینٹ ایسا ہو کہ اگر 5 سے 8 منٹ کی ویڈیو ہو تو ایوریج 2 منٹ ویڈیو دیکھی جائے، کانٹینٹ مکمل طور پر آپ کا اپنا ہو، اب ٹائٹل اور ٹیگز کا بھی مسئلہ نہیں رہا، صرف تھمب نیل اچھا ہو، کانٹینٹ روٹین سے اپلوڈ کریں، ایک ڈیڑھ سال تک انکم کا نہ سوچیں، صرف سبسکرائبرز دیکھیں، یو ٹیوب آپ کا چینل خود ہی چلا دے گی
میری رائے یہ تھی یوٹیوب چینل وغیرہ سے ہٹ کر، میں نے لنکڈان پر ایسی درجنوں جابز دیکھی ہیں جن سے صحافی دوست پیسے کما سکتے ہیں، وہاں جابز آفر کی جاتی ہیں کانٹینٹ رائٹرز کی جاب ہم لوگ آسانی سے کر سکتے ہین، آرٹفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے تخلیق ہونے والا تحریری مواد بکنا بند ہو گیا ہے، اس پر پابندیاں لگنا شروع ہو گئی ہیں، تو لکھنا ہمارا کام ہے ہم لکھ کر کما سکتے ہین، انگلش، اردو، پنجابی،
اسی طرح وائس اوور بھی جا سکتا ہے، سب ٹائٹلنگ بھی ایک کام ہے، سب سے زیادہ ان دنوں ویڈیو ایڈیٹنگ کی ڈیمانڈ ہے، ٹی وی اور موبائل، ہر سکرین پر چلنے والی ویڈیو، ویڈیو ایڈیٹنگ کے مرحلے سے گزر کر آتی ہے اور اس کام کے لئے ویڈیو ایڈیٹر ضروری ہے ہر بندہ ویڈیو ایڈیٹ خود سے نہیں کر سکتا،
پروفیشنل ویڈیو ایڈیٹرز کی بڑی ڈیمانڈ ہے آپ لوگ دفترمیں ہی بیٹھ کر کچھ وقت ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھیں، دو، تین، ماہ، زیادہ سے زیادہ چھ ماہ بعد ، آپ کچھ نہ کچھ کرنا سیکھ جائیں گے اس کے بعد لنکڈان پر جائیں وہاں سرچ کرتے رہیں اپلائی کرتے رہیں۔
آپ کو کوئی نہ کوئی ریسپانس لازمی مل جائے گا
ویڈیو ایڈیٹنگ سے یہ فائدہ ہو گا آپ خود بھی اپنا چینل بنا سکیں گے، اسے بنا سنوار کر، مارکیٹ کے مزاج کے مطابق چلا سکیں گے، اور ایک نہیں کئی چینلز چلا سکیں گے، اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔
آن لائن بزنس سے وابستہ ہمارے صحافی دوست حافظ ثاقب کا اس حوالے سے تجزیہ کافی حوصلہ افزا تھا، انہوں نے کہا کہ۔ یوٹیوب چینل بھی 2 سال تک کسی قسم کی کمائی نہیں دے گا۔ تجویز ہے کہ دوست صحافت کے ساتھ ساتھ کاروبار کے میدان میں بھی کام کرنے اور کمانے کی کوشش کریں۔ بزنس کے لئے کوئی آئیڈیا سوچیں، مارکیٹ دیکھیں اور پروڈکٹ بیچنا شروع کریں۔ اپنی نہ سہی کسی کی پروڈکٹ سیل کریں، مارکیٹنگ کریں پرافٹ لیں یا مارجن، مجھے یقین ہے ایک سال کے اندر اندر آپ مالی پریشانیوں سے نکل جائیں گے، اور بھرپور بزنس کر رہے ہوں گے
سینئر سپورٹس صحافی محمد احمد رضا نے صورتحال پر کچھ یوں تبصرہ کیا، مجموعی طور پر بری خبر ہے۔ اللہ تمام متاثرین کو عید سے پہلے متبادل روزی کا بندوبست فرمائے۔ لیکن دیکھا جائے تو چینل 5 پنجاب ٹی وی ٹائپ جیسے اداروں سے تو اچھا ہی رہا ٹیلن کہ 10۔ 10 ماہ تک بنا تنخواہ کے کام نہیں کرایا ورکرز سے۔ ورنہ چھوٹے چینل کے ورکرز کو تو ہر چھ سات ماہ بعد ایک آدھی تنخواہ ہی نصیب ہوتی ہے
علی میو کے مطابق سے وہ کئی برسوں سے دوستوں سے کہہ رہے ہیں کہ ضروری نہیں آپ صحافی ہیں تو مرتے دم تک صحافی ہی رہنا ہے، بدلتے حالات کے پیش نظر ہم سب کو دوسرا روزگار پارٹ ٹائم کے طور پر دیکھنا چاہیے، اس میں آپ کی ذات کے سوا کوئی دوسرا رائے نہیں دے سکتا کہ آپ کو کون سا کام سوٹ کرتا ہے۔ آپ اگر اچھے موچی بن سکتے ہو تو بن جاؤ اچھے برگر بنا سکتے ہو لگا لو۔ ٹیوشن پڑھا سکتے ہو کوئی آن لائن برنس کر سکتے ہو۔ یہ آپ نے طے کرنا ہے۔
سب دوستوں کو مشورہ ہے میڈیا کے بھروسے پر نہ رہیں۔ اتنے سخت پریڈ کے بعد 1۔ 2 سال سے اچھا پریڈ آیا۔ اللہ نہ کرے پھر برا آ سکتا ہے
چینل میں ہی کام کرنے والے معروف صحافی اور مزاح نگار گل نوخیز اختر نے اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی اپنے ایک کالم کے ذریعے پیش کیا، انہی کی زبانی تصویر کا دوسرا رخ جانتے ہیں وہ لکھتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ یوسف بیگ مرزا نے ٹیلن نیوز کو یوں ڈیزائن کیا کہ حیرت انگیز طور پر ہم ریٹنگ میں ٹاپ ٹین چینلز میں آ گئے۔ پورے ملک میں ہماری ٹرانسمشن دیکھی جا رہی تھیں۔ سب کچھ بہترین چل رہا تھا لیکن اسی دوران مالکان کو تین احساس دامن گیر ہوئے۔ پہلا یہ کہ کروڑوں جا رہے تھے اور لاکھوں آرہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ کروڑوں روپے جو چینل پر لگ رہے تھے ان میں سٹاف کی تنخواہیں، بجلی کا بل، کھانے کا خرچہ، سیٹلائٹ کا خرچہ، کیبل والوں کا بھتہ، پٹرول کا خرچہ اور اسی طرح کے دیگر اخراجات شامل تھے۔ یہ وہ اخراجات ہیں جو بہرصورت آنے ہی آنے ہوتے ہیں۔ سیٹلائٹ چینل کوئی چھوٹا کام نہیں ہوتا۔ چینل کا میکنزم یہ تھا کہ ہر خرچہ پہلے بجٹ کی صورت ڈپارٹمنٹ ہیڈ سے منظور ہوتا، پھر ایم ڈی کے پاس جاتا، پھر فنانس مینجر کے پاس اور پھر چوہدری سلیم بریار صاحب کے پاس۔ کوئی ضروری چیز درکار ہوتی تو پروکیورمنٹ ڈپارٹمنٹ کے پاس بجٹ جاتا جو کیش کی بجائے وہ چیز خرید کر متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیتی۔ مالکان کو دوسرا احساس یہ ہوا کہ جن لوگوں کے خلاف خبر لگتی ہے وہ شکایت کرنے لگے ہیں اور یوں تعلقات بلاوجہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ تیسرا احساس یہ تھا کہ کیا لوگوں کے خلاف باتیں کر کے ہی چینل چلتا ہے؟ اب یہ ایک خالصتاً نیوز سینس کا معاملہ تھا۔ بدقسمتی سے ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہر چینل ایک لائن لیتا ہے اور پھر اسی ایڈیٹوریل پالیسی پر چینل چلایا جاتا ہے۔ آپ اسے ٹھیک کہیں یا غلط لیکن نیوز چینل عوامی مزاج کی رنگ بازیوں سے ہٹ جائیں تو ریٹنگ نہیں آتی، ریٹنگ نہ آئے تو اشتہار نہیں ملتے اور اشتہار نہ ملیں تو چینل نہیں چلتا۔ سو پہلے یہ طے پایا کہ اخراجات کم کرنے کے لیے سٹاف اور بھاری معاوضے والے اینکرز کو کم کیا جائے۔ بیگ صاحب چونکہ بھاری معاوضے والے اینکرز کو رکھنے کی ڈیل میں شامل نہیں تھے لہذا انہوں نے پورا زور لگایا کہ کسی کو نہ نکالا جائے لیکن بات بگڑتی جا رہی تھی۔ یہ ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا لیکن کرنا پڑا۔ ٹیلن نیوز نے ہمیشہ تنخواہ ٹائم پر دی اور بغیر نوٹس نکالے جانے والوں کو ہمیشہ ایک ماہ کی ایکسٹرا تنخواہ بھی دی۔ تو ہوا یوں کہ اخراجات کم تو ہو گئے لیکن بہت کم نہیں ہو سکے، اسی دوران سٹاف کو چینل کی طرف سے دیا جانے والا کھانا بند کر کے بھی اخراجات کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کچھ عرصے بعد پھر اسی معاملے نے سر اٹھا لیا۔ لیکن معاملات ہاتھ سے نکلتے چلے گئے۔ مجبوراً پھر ڈاؤن سائزنگ کرنا پڑی۔ سلیم بریار صاحب رکھ رکھاؤ والے انسان ہیں، انہیں لگنے لگا کہ سیٹلائٹ چینل لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا باعث ہوتے ہیں۔ چونکہ پہلے انہیں ایسا کوئی تجربہ نہیں تھا اس لیے ان کی نفیس طبیعت پر یہ گراں گزرنے لگا اور وہ خود بھی بیمار ہو گئے۔ بالآخر یہ طے ہوا کہ چینل بند کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ آج سے تین ماہ قبل ہوا تھا لیکن بیگ صاحب اس کے حق میں نہیں تھے۔ انہیں سٹاف کے ایک ایک فرد سے لگاؤ تھا۔ چینل بھرپور مقبولیت حاصل کر رہا تھا لیکن حالات پلٹا کھاتے جا رہے تھے۔ بالآخر یہ طے ہوا کہ چینل بند کر دیا جائے۔ یہ ارادہ سلیم بریار صاحب نے جس دل سے کیا اسے میں ہی جانتا ہوں۔ پچھلے تین ماہ سے ان کی بھرپور کوشش رہی کہ چینل کسی کو فروخت کر دیا جائے تاکہ سٹاف کی نوکریاں لگی رہیں۔ بہت سی پارٹیوں سے بات چیت ہوئی لیکن کہیں بھی ڈن نہ ہوسکا۔ چینل کے اختتام کا مرحلہ آن پہنچا۔ یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ یہاں تک پہنچنے کی کہانی بہت دردناک ہے، خود چوہدری سلیم بریار صاحب اسے بند کرنے کا اظہار کرتے اور پھر خود ہی رک جاتے۔ میری روز ان سے بات ہوتی تھی۔ ان کی تکلیف ان کے لہجے سے عیاں تھی۔ میں نے انہیں شدید ڈپریشن میں دیکھا ہے۔ میرا شو ختم ہونے کے بعد وہ مجھے اپنے آفس میں بلا لیتے اور رات دو دو بجے تک ڈسکشنز کرتے رہے۔
بہرحال۔ 12 مارچ کو ٹیلن نیوز بند ہو گیا۔ تمام ڈپارٹمنٹس بند کر دیے گئے۔ نیوز روم کی بتیاں گل ہو گئیں، سکرین آؤٹ ہو گئی۔ تمام سٹاف کو آج 13 مارچ کو پندرہ دن کی تنخواہ اور ایک ماہ کی ایکسٹرا تنخواہ ٹرانسفر ہو جائے گی۔ ایک خوبصورت دور اختتام پذیر ہوا۔ لیکن اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں۔ سب دکھی ہیں


