یک دانہ اور طالب علم


’گوہر یک دانہ‘ فارسی اور اردو زبان میں استعمال ہونے والا ایک مرکب ہے۔ گوہر فارسی زبان میں موتی کو کہتے ہیں اور ’یک دانہ‘ سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے کہ جس کی کوئی مثل نہ ہو اور وہ یکا و تنہا ہو۔ یہ مرکب ویسے تو قیمتی موتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے البتہ مجازاً بے مثال اور بے نظیر چیز کو بھی گوہر یک دانہ کہتے ہیں۔ فارسی زبان میں ’یک دانہ‘ ایسے ہار کو بھی کہتے ہیں کہ جس کے درمیان میں فقط ایک ہی قیمتی موتی پرویا گیا ہو۔

لیکن زیر نظر مضمون میں ہم نے یک دانہ کے مرکب عددی میں صرف معدود- فارسی زبان سے لیا ہے اور اس سے ہماری مراد اعلی تعلیمی اداروں میں پائے جانے والے وہ خاص قسم کے طالب علم ہیں جو طالب علم سے زیادہ غالب علم ہوتے ہیں۔ یہ جنس پہلے تو زیادہ تر جامعات میں ہی پائی جاتی تھی لیکن سمیسٹر سسٹم کے متعارف ہونے کے بعد کالجوں میں بھی ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ یک دانے اپنی ذہنی استعداد کے لحاظ سے نہ تو بہت ذہین طالب علم ہوتے ہیں اور نہ ہی بالکل نکمے، بل کہ اوسط درجے سے قدرے بہتر ذہن کے حامل نوجوان ہوتے ہیں اور ان میں کام یابی کے روشن امکانات بھی موجود ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ شارٹ کٹ کے عادی ہوتے ہیں اس لیے حصول علم کے لیے محنت اور مطالعہ کی بہ جائے خوشامد، چاپلوسی اور عیاری کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اگرچہ دیکھنے میں یہ نہایت علم دوست اور فہم و دانش کے سچے طلب گار و شیدائی نظر آتے ہیں لیکن حصول علم کے لیے یہ جس راستے کا انتخاب کرتے ہیں وہ انہیں منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔

غلامی اور زوال آمادگی کے ماحول میں جہاں لوگ محنت سے زیادہ شارٹ کٹ پر یقین رکھتے ہوں، خوشامد کو پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ یک دانہ بھی چرب زبانی اور خوشامد کو فاتح عالم سمجھتا ہے اور اسی باعث ہر محفل میں فٹ ہو جانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اپنی خود غرضانہ فطرت کے باعث یک دانہ اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ ہر دو کے لیے برابر خطرناک ہوتا ہے۔ ہم جماعتوں کو یہ سازشوں اور غلط بیانی سے گم راہ اور اساتذہ کو خوشامد کے ذریعے بے راہ کرتا ہے۔

یک دانے کی ایک پکی نشانی کہ جس سے یہ فوراً پہچانا جاتا ہے اپنے علم کا بے موقع اظہار کرنا ہوتا ہے۔ دراصل یک دانہ اظہار علم کا شیدائی ہوتا ہے اور اس کی ہر ہر ادا سے علم نمائی ٹپک رہی ہوتی ہے کہ جس کا خود اسے بالکل احساس نہیں ہوتا۔ یہ عموماً الفاظ چبا چبا کر بات کرتا اور اسے دانش ورانہ انداز گفتگو خیال کرتا ہے۔ یہ بات بھی اکثر دیکھنے میں آئی ہے کہ یک دانہ کی روش مکالمہ کی بہ جائے مناظرہ کی ہوتی ہے اور وہ اپنی فکر اور نظریات میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کرتا۔ بہ زعم خویش وہ اپنے علم سے لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہوتا ہے لیکن اکثر حاضرین کو تھوتھے چنے کی مانند بجتا دکھائی دیتا ہے۔ اس ضمن میں ہر یک دانے نے کچھ مخصوص الفاظ و اصطلاحات رٹے ہوتے ہیں جن کا موقع بے موقع اظہار کرنا وہ اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔

یک دانہ کی تعلیم کا محور و مرکز سی جی پی اے اور اس کا نصب العین کلاس میں پوزیشن حاصل کرنا ہوتا ہے جس میں یہ عموماً ناکام رہتا ہے۔ دراصل یک دانہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ سمیسٹر سسٹم میں نمبر مکمل طور پر اساتذہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جو وہ کبھی میرٹ پر نہیں دیتے بل کہ ہر استاد کے پاس ایک گڈ بک اور ایک بیڈ بک ہوتی ہے اور نمبر صرف ان طلبہ کو ملتے ہیں کہ جن کا نام گڈ بک میں درج ہوتا ہے۔ سو وہ بحر علم میں شناوری اور محنت کو اضافی خیال کرتے ہوئے اساتذہ کی چاپلوسی اور خوشامد کو ان پر مقدم جانتا ہے۔

بہ ظاہر تو یک دانہ اساتذہ کی ساقی گری کے آگے اوک بنائے پھرتا ہے لیکن جامعاتی درس و تدریس کے لیے اس کا زیادہ تر انحصار انکل گوگل کی خدمات پر ہی ہوتا ہے اور اگر کبھی کوئی ہم جماعت، اس سے کسی تعلیمی موضوع پر، گفتگو کرنا چاہے تو جواباً مسکرا کر کہتا ہے : ’یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ گوگل کر کے دیکھ لے یار!‘

یک دانہ اگرچہ کلاس میں ہمیشہ وقت پر آتا ہے اور چھٹی بھی کبھی نہیں کرتا لیکن درس و تدریس سے محض اتنا ہی فیض یاب ہو پاتا ہے جتنا ایک اوندھا پڑا ہوا مٹکا پانی سے یعنی وہ بھرا تو نہیں جا سکتا بل کہ اس کی صرف ظاہری سطح ہی تر ہو سکتی ہے۔ فیضیؔ کہتا ہے کہ یک دانے پر جعلی عالم یعنی سوڈ انٹلیکچوئل کی اصطلاح صادق آتی ہے۔ وہ ادھر ادھر کی باتیں سن کر منقولات تو بیان کر سکتا ہے لیکن اس کا باطن خلاقیت کے جوہر سے خالی ہوتا ہے۔

وہ سطحی باتوں میں مدھانی چلا کر معنی پیدا کرنے کی کوشش تو ضرور کرتا ہے لیکن اعلی علمی نکات کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ بات بھی مشاہدہ میں آئی ہے کہ یک دانہ میں شعر فہمی کی صلاحیت مفقود ہوتی ہے اور اسی لیے اکثر شعر غلط وزن کے ساتھ پڑھتا ہی نظر آتا ہے اگرچہ اس کا تعلق ادبیات کے کسی شعبہ سے ہی کیوں نہ ہو۔

یک دانہ زیادہ دیر تک کلاس میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ اگر وہ لیکچر کے متعلق کوئی سوال نہ بھی کر پائے تو برابر والے طالب علم کے ساتھ کھسر پھسر ضرور شروع کر دیتا ہے۔ دوران لیکچر اساتذہ کو لقمہ دینا اور خوب بنا بنا کر سوالات پوچھنا بھی یک دانے کا وصف خاص ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو یک دانے کے سوالات اتنے عجیب ہوتے ہیں کہ اساتذہ کافی کوشش کے باوجود اس کے سوال کا مدعا سمجھ ہی نہیں پاتے۔ پھر اس ناقص الفہم سوال کے جواب میں اساتذہ جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں، یک دانہ اس جواب پر یوں گردن ہلاتا ہے جیسے من کی مراد پا گیا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ مذکورہ سوال کے جواب پر، یک دانے کے مطمئن ہو جانے کے باوجود، اساتذہ کی پیشانی کی شکنیں تادیر قائم رہتی ہیں۔

کلاس میں یک دانہ کی نشست بھی مخصوص ہوتی ہے جس کے حوالے سے وہ بہت حساس ہوتا ہے اور چند رقیب نما ہم جماعتوں کے ساتھ اس نشست کے حوالے سے یک دانے کی کھینچا تانی بھی چلتی رہتی ہے۔ یہ نشست ایسے زاویے پر ہوتی ہے کہ جہاں سے اس کی نظر بہ یک وقت استاد اور لڑکیوں کی جانب رہتی ہے۔ لڑکیوں کے حوالہ سے یک دانہ نظریں نیچی اور نیت خراب رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہوتا ہے۔ یک دانہ بہ ظاہر تو بہت نیک نظر آتا ہے لیکن اس صفت نیک میں، اس کی ذات کے لیے ’ن‘ محض اضافی ہوتا ہے۔ دوران لیکچر ہر فہمیدہ و نافہمیدہ بات پر گردن ہلانا بھی یک دانے کا وصف خاص ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب یک دانے کی جانب سے سوال داغا جاتا ہے تو یہ بھرم کھل جاتا ہے کہ وہ لیکچر سے کتنا مستفید ہو رہا تھا۔

یک دانہ کبھی سی آر بننے کا کشٹ بھی نہیں اٹھاتا بل کہ اپنی توجہ نمبر اور سی جی پی اے پر ہی مرکوز رکھتا ہے۔ ویسے تو یک دانہ تمام ہم جماعتوں کے ساتھ گھل مل کر رہتا ہے لیکن کلاس کے قابل ترین طلبہ کو ہمیشہ اپنا رقیب تصور کرتا ہے۔ یہ باقی ہم جماعتوں سے تو نوٹس حاصل کرتا ہے لیکن اپنے بنائے ہوئے نوٹس کی کسی کو بھنک تک نہیں لگنے دیتا۔ اگر کبھی کوئی استاد کسی یک دانے کے ذریعے کلاس کو کوئی پیغام بھجوانے کی غلطی کر بیٹھے تو وہاں بھی اپنی کارستانی کے ذریعے غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے۔

امتحانات کے قریب اساتذہ سے مل کر آنے والے سوالات جاننے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ ہر یک دانے نے اپنے ساتھ ایک ہم جماعت بہ طور کار خاص بھی رکھا ہوتا ہے۔ یہ کار خاص زیادہ تر خاموش طبع ہوتا ہے اور اس کی مدد سے یک دانہ اپنی سازشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ کوئی یک دانہ اپنا کار خاص کبھی کسی خوب صورت لڑکے کو نہیں بناتا۔ گمان ہے کہ یک دانہ ہر خوب صورت لڑکے اور لڑکی کو ذہین سمجھتا ہے اور اس کے ہاں حسن ہی ذہانت کا معیار ہوتا ہے۔

کلاس کی نسبت نجی محفل میں یک دانے کا رویہ قدرے مختلف ہوتا ہے۔ کلاس میں یک دانہ اس پرندے کی مانند ہوتا ہے جو اڑان بھرنے کے لیے بالکل تیار ہو لیکن نجی محفل میں اس کی طبعیت میں قدرے قرار پایا جاتا ہے البتہ ہر دو محفلوں میں یک دانے کے بیٹھنے کا مصنوعی انداز دیکھ کر لگتا ہے گویا ناجائز معزز بننے کی کوشش کر رہا ہو۔ بعض یک دانے ہم جماعتوں کی نسبت اساتذہ کی محفل میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ یہ اساتذہ کی محفل میں سوالات کے ذریعے جگہ بناتے ہیں۔

اساتذہ کی صحبت کا مقصد بہ ظاہر تو علم کا حصول ہوتا ہے لیکن در حقیقت استاد کی ثقیل و گراں صحبت کا کشٹ، یک دانہ انہیں صرف یہ باور کروانے کے لیے اٹھاتا ہے کہ آپ ہی وہ دیدہ ور استاد ہیں کہ جن کی تلاش میں ہماری آنکھیں بے نور ہو رہی تھیں اور اگر آپ سے ملاقات نہ ہوتی تو ہم تو جاہل مطلق ہی رہ جاتے۔ یوں یک دانہ مختلف اساتذہ کو یہ بات باور کرواتا رہتا ہے کہ سر! آپ کے علاوہ دیگر اساتذہ کے لیکچر کی کچھ سمجھ ہی نہیں آتی۔ اگرچہ یک دانے کی ایسی باتوں کے جواب میں اساتذہ ہمیشہ کسر نفسی دکھاتے اور اپنے علم کی محدودیت کا اعتراف کرتے ہی نظر آتے ہیں لیکن یک دانہ آخر کار اساتذہ میں یہ غلط فہمی پیدا کرنے میں اس لیے بھی کام یاب ہو جاتا ہے کہ اساتذہ میں، بہترین ہونے کا خبط، باقی شعبہ ہائے زندگی کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے ۔

ایک مرتبہ ہم ایک دوسرے شعبے کے استاد کے کمرے میں بیٹھے تھے کہ ایک یک دانہ ان استاد کے پاس ملنے آیا اور استاد کی تعریف میں رطب اللسان ہو کر کہنے لگا کہ سر ڈیپارٹمنٹ میں صرف آپ کے لیکچر کی سمجھ آتی ہے باقی اساتذہ کی تو کوئی بات پلے ہی نہیں پڑتی۔ استاد محترم یک دانے کی اس بات پر پھولے نہ سمائے اور پڑھانے اور تفہیم کے مسائل کے حوالے سے ایک طویل گفتگو فرما ڈالی۔ لیکن اگلے ہی دن میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب میں ایک دوسرے استاد کے کمرے میں کسی کام سے پہنچا تو وہی یک دانہ، ان پروفیسر صاحب کی تعریف میں بھی زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے، انہیں بھی یہی باور کروا رہا تھا کہ سر آپ کے علاوہ کسی استاد کے لیکچر کی سمجھ ہی نہیں آتی۔

ہمارے ایک دوست پروفیسر صاحب نے ایک یک دانے کو اس کی امید کے مطابق نمبر نہ دیے۔ اس نے استاد سے بدلہ لینے کا طریقہ یہ نکالا کہ پروفیسر صاحب کے سامنے ان کی خوب مبالغہ آمیز تعریف کی۔ پروفیسر صاحب بھی آخر ترنگ میں آ کر بول پڑے کہ میاں! تم ہمیں کیا جانتے ہو! ہم تو یوں یوں اور یوں ہیں۔ بس پھر کیا تھا؟ یک دانے نے استاد کے وہ مبالغہ آمیز ستائشی کلمات پکڑے اور ڈپارٹمنٹ میں خوب چرچا کیا کہ فلاں پروفیسر صاحب اپنے بارے میں کن کن خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں۔

اگلے زمانے میں تو یک دانے تحائف دے کر یا گھر کے کام کاج کر کے اساتذہ کے دل میں مقام پاتے تھے لیکن اس جدید دور میں یہ شارٹ کٹیے یک دانے اپنے اساتذہ کی فیس بک پوسٹوں پر رائے دہی اور تعریفوں کے پل باندھ کر ہی یہ مقام پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ادھر پروفیسر صاحب نے فیس بک پر کوئی پوسٹ لگائی اور ادھر یک دانوں نے لمبے لمبے مبالغہ آمیز کمنٹس کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ مستزاد یہ کہ یک دانے اپنے کمنٹس میں اساتذہ کو ایسے ایسے القابات سے نوازتے ہیں کہ انہیں افلاطون زمان اور جالینوس دوران کے خبط میں مبتلا کر کے ہی دم لیتے ہیں۔

اس کے علاوہ بعض یک دانوں نے تو اساتذہ کے کپڑوں اور دائم جوانی کی روزانہ کی بنیاد پر تعریف کرنا بھی اپنے اوپر فرض کیا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ ہتھکنڈے آزما کر بھی خاطر خواہ کام یابی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پھر دانش گاہ چھوڑنے کے بعد ، اپنی مادر علمی کے حوالے سے، ان کی رائے بھی عموماً اچھی نہیں ہوتی اور آخر میں ان کی زبان پر یہی ہوتا ہے کہ کاش ہم بھی لڑکی ہوتے تو گولڈ میڈل ہمارا تھا!

سینئر سمیسٹرز میں جا کر یک دانہ زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ جب وہ اپنی چالاکیوں اور عیاریوں کے باوجود پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اساتذہ کو ایک دوسرے کے خلاف کر کے ان کے دل میں جگہ بنانے کا خواہاں ہو جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنے اساتذہ سے ایک دوسرے کی چغلیاں کر کے ان کی گڈ بکس میں جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے اور ہر استاد کو اپنی وفاداری کی یقین دہانی کرواتا ہے۔ یک دانہ اپنی تعبیرات کے ذریعے ایک استاد کی بات کو دوسرے کے سامنے توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔

پہلے ایک استاد سے دوسرے کی خامیاں بیان کرتا ہے او ر اگر جواباً دوسرا استاد کچھ رائے دے بیٹھے تو پہلے کو جا کر بتاتا ہے کہ فلاں آپ بارے میں یوں کہہ رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی باہمی گروہ بندیوں اور اختلافات میں یک دانوں کا بنیادی کردار دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ یک دانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے پیدا شدہ یہ اختلافات، ان اساتذہ تک ہی محدود نہیں رہتے بل کہ ان کے شاگردوں میں بھی کئی نسلوں تک چلتے ہیں اور کئی اچھے بھلے علمی لوگ (اساتذہ اور شاگرد دونوں ) اس باعث بے راہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے آخر میں ہماری یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی اعلی تعلیمی اداروں کو یک دانہ اساتذہ سے بھی محفوظ رکھے!

Facebook Comments HS