سائنس، سائکالوجی اور مذہب: تبصرہ
ڈاکٹر خالد سہیل ایک مہینہ پاکستان میں رہ کر واپس کینیڈا آچکے ہیں۔ آج کل پاکستان اور کینیڈا کے دن اور رات کے اوقات کے اختلاف سے پیدا ہونے والے جسمانی اثرات یعنی جیٹ لیگ سے نکلنے میں مصروف ہیں۔
ہم کینیڈا میں رہنے والے دوستوں نے ان کی کمی کو اس دوران بہت محسوس کیا۔ کچھ لوگوں کو شاید محبتیں بانٹنے کے لئے پیدا کیا گیا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ سب کے اپنے ہوتے ہیں۔ بہت سارے لوگ ان کی ادبی اور طبی مہارت سے یقیناً مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں ان کی انسان دوستی، خلوص، اور محبت ان کی شخصیت کا مضبوط ترین پہلو ہے۔ اور یہ خاصیت کسی رنگ، نسل، مرد عورت، جوان یا بوڑھے تک محدود نہیں۔ اس کا اندازہ ہمارے ان بہت سارے پاکستانی ادب دوست ساتھیوں کو بھی یقیناً بخوبی ہو چکا ہو گا۔ جو ان سے ان کے پاکستان کے قیام کے دوران ملے۔
میں نے ان کی اور ڈاکٹر سہیل زبیری کی مشترکہ کتاب پر ایک وقت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ آج میں ان کی کینیڈا واپسی کے موقع پر تحفتاً ہم سب کے قاری دوستوں کے ساتھ یہاں شیئر کرتی ہوں۔
ایک ملاقات میں ڈاکٹر خالد سہیل نے مجھے اپنی دو نئی کتابوں کے تحفے سے اپنے دستخط اور حسب معمول اپنے خوبصورت الفاظ کے ساتھ نوازا۔ ان میں سے ایک آج کی زیر بحث کتاب تھی۔
ڈاکٹر خالد سہیل ایک پرولفک رائیٹر ہیں اور کرونا وائرس کے دور نے جہاں بہت سارے لوگوں کو ایک ڈپریشن کی سی کیفیت میں مبتلا کیا تھا، وہاں ڈاکٹر خالد سہیل کے لئے یہ ایک بھر پور وقت ثابت ہوا۔ ان کی یکے بعد دیگرے کتابیں اس دوران شائع ہونا اس بات کا بھر پور ثبوت ہیں کہ وقت سے کیا لینا ہے یہ انسان کے اپنے ہاتھ۔ میں ہے۔ ایک وقت تھا میں ان پر رشک کرتی تھی۔ اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ ایسا لگنے لگا کہ رشک ایک عمومی دائرے میں رہتے ہوئے اعلی کارکردگی دکھانے والوں پر کیا جاتا ہے۔ ان کی توانائی اور ان کا اپنے کام پر فوکس عمومی حدود سے بے انتہا آگے ہے۔ لہذا اب میں انہیں اپنے طور پر سپر مین کا خطاب دے چکی ہوں۔
سائنس، سائکالوجی اور مذہب کے عنوان سے یہ کتاب انھوں نے ڈاکٹر سہیل زبیری کے ساتھ مل کر لکھی ہے۔
ان کی خطوط کی شکل میں لکھی ہوئی پہلی کتابوں کی طرح یہ بھی دو دوستوں کے خطوط پر مبنی کتاب ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل نے کتاب دیتے ہوئے مختصراً ڈاکٹر سہیل زبیری کا تعارف کروایا۔ ایک سوشل ماحول میں جب کہ مختلف موضوعات زیر بحث ہوتے ہیں، کچھ سنجیدہ، کچھ غیر سنجیدہ، کچھ گاسپ، ایسے میں ذہن اکثر اوقات مرکوز نہیں ہوتا۔ لیکن مجھے یاد ہے میں ایک بات پر چونک اٹھی تھی جس نے میری پوری توجہ اپنی جانب کروا دی تھی، وہ جب انہوں نے پشاور کا نام لیا اور بتایا کہ سہیل زبیری ان کے پشاور کے وقتوں کے دوست ہیں۔ مجھے اپنے وطن پاکستان سے محبت ہے۔
لیکن پاکستان میں پشاور کا نام آتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے میری ماں کی گود کی بات کر دی۔ میری پیدائش کا شہر، میرے بچپن کا شہر، میری جوانی کا شہر، میری ماں کا شہر، میرے باپ دادا کا شہر۔ اس شہر سے تعلق نے ڈاکٹر سہیل زبیری کو ایک لکھاری کے طور پر مجھ سے ایک قدم اور نزدیک کر دیا۔ اور میری دلچسپی بڑھی کہ میں ان کے بارے میں مزید جانوں۔
بالکل ایسا ہی احساس تھا جب مجھے آج سے کوئی چھ سال پہلے ڈاکٹر خال سہیل کے بارے میں معلوم ہوا تھا۔ اور یوں آج تک ان سے دوستی قائم ہے۔ بلکہ اس دوستی میں ایک اپنائیت کا عنصر شامل ہے۔
میں ان کی بیشتر کتابیں پڑھ چکی ہوں اور یوں مجھے ان کے خیالات، ان کی قابلیت، اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا کافی حد تک اندازہ ہے۔ وہ ایک دانشور، ایک لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے ماہر نفسیات اور ایک اچھے ڈاکٹر بھی ہیں۔ وہ میری طرح طب کے پیشے سے متعلق ہیں اور اسی خیبر میڈیکل کالج سے اپنی ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں جہان سے بعد میں میں نے بھی اپنی ڈاکٹری کی ڈگری لی۔ وہ میرے شہر پشاور میں اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی کے دن گزار چکے ہیں اور جب ہم بات کرتے ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے کہ ان کو وہاں کے کلچر اور رہن سہن کی آگاہی دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور میرا اندازہ ہے کہ آپ سب ان کے بارے میں کافی جانتے ہیں
ڈاکٹر سہیل زبیری
یہ میری پہلی ملاقات ہے، جو اس کتاب کے حوالے سے ہوئی۔ اور بقول خالد سہیل
وقت ایک بحر بیکراں خالد
ہر ملاقات ایک جزیرہ ہے
اور سہیل زبیری سے یہ پہلی ملاقات میرے لئے یقیناً ایک نئے جزیرے کی سیر کی مانند ہے۔
چوالیس سال سے فزکس اور کوانٹم آپٹکس کے شعبے سے منسلک رہنے والے ڈاکٹر سہیل زبیری نے فزکس اور کوانٹم آپٹکس کی فیلڈ میں ریسرچ کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ کئی دوسرے ممالک میں آگے بڑھایا
ان کی کتاب کو کوانٹم آپٹکس کے میدان میں بائبل سمجھا جاتا ہے اور اس کتاب سے پوری دنیا میں کوانٹم آپٹکس کے میدان میں بہت سے طالبعلم اور ریسرچرز استفادہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی میں فزکس میں سب سے پہلے پی۔ ایچ۔ ڈی کا پروگرام شروع کیا اور 20 برس تک اس کو اپنی رہنمائی میں چلاتے رہے۔ اس دوران متعدد طلباء کو پی۔ ایچ۔ ڈیز کروائیں۔ ان کی مختصر بائیوگرافی جو اس کتاب میں موجود ہے پڑھنے کے قابل ہے۔ اور قاری ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
بہر حال میں نے کتاب پر اگلے چند دنوں میں ایک ہوائی نظر ڈالی، ہیڈنگز دیکھیں، تعارفی صفحات پڑھے۔ جہاں جہاں فزکس کا ذکر تھا اسے مارک کر کے بعد کے لیے چھوڑ دیا، بالکل ایسے ہی جیسے کالج میں پری میڈ سٹڈیز کے دوران جہاں بیالوجی اور کیمسٹری کی کلاس کا مجھے انتظار رہتا تھا وہاں فزکس کی کلاس سے چھپنے کی خواہش اسی قدر شدید ہوتی تھی۔ نیوٹن کے لاز آف موشن، ماس، ولاسٹی، فارمولے اور بہت کچھ اور، جو مجھے بہت خشک اور مشکل محسوس ہوتے تھے۔ اور جو بھی فزکس کی فیلڈ میں آگے بڑھتا ہے وہ انسان مجھے بہت قابل معلوم ہوتا ہے۔ لہذا ڈاکٹر سہیل زبیری کی فیلڈ کا سن کر میں پہلے ہی ان کی قابلیت سے متاثر ہو چکی تھی۔
ان کا خدا اور مذہب کے بارے میں ڈائلاگ میں دلچسپی محسوس کرتے ہوئے میں نے وہاں سے آغاز کیا۔ اور پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ کسی بھی ڈائیلاگ میں جب علم اور شخصیت کی پختگی کی چاشنی شامل ہوتی ہے تو بات کا اثر کس قدر مختلف ہوتا ہے۔
جس میچور انداز میں ڈاکٹر زبیری نے ڈاکٹر خالد کے سوالوں کے جواب دیے ہیں اور جس قدر دیانت داری سے انسانی علم کی محدودیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے بات کی ہے۔ وہ نہایت پر اثر ہے۔ میری دلچسپی ان کے علم اور ذہانت کی گہرائی کا اندازہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں مزید جاننے میں بڑھی۔ اور کتاب کو شروع سے پڑھنا شروع کیا۔
دونوں ڈاکٹرز کے بائیو گرافیکل خطوط پڑھتے ہوئے ایک قاری اس بات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ کس طرح ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے طالبعلم، پشاور کے ایک متوسط درجے کے اردو میڈیم سکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے کتنے بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں۔ دونوں ساتویں جماعت سے دسویں تک اور پھر ایف ایس سی تک ساتھ رہتے ہیں۔ اور دونوں اپنی عمروں سے زیادہ گہری سوچ کے مالک ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی سوچ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ دونوں اپنے اپنے طور پر
the road less travelled
کے راہی ہیں۔ جو کچھ عرصے بعد اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے اپنی اپنی راہ لیتے ہوئے الگ ہو جاتے ہیں۔
اور پھر ایک دوسرے سے قریبا نصف صدی کے بعد رابطے میں آتے ہیں۔ اور اپنے اپنے سفر کی داستان ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ ان کی اس داستان میں نئے آنے والوں کے لئے کتنا کچھ ہے۔ وہ کتاب کے مطالعہ سے ہی معلوم ہو سکتا ہے۔
نعیم اشرف صاحب کا اس کتاب کے بارے میں لکھا ہوا کالم نظر سے گزرا۔ جس میں وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ایسے لوگوں کی کہانی ہمارے بچوں کے نصاب کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ یقیناً ہمارے نصاب میں پچھلے وقت کے کامیاب لوگوں کے ساتھ ساتھ دور حاضر کے ایسے لوگوں کی کہنیاں، انٹرویوز، ملاقاتیں ایک طالبعلم کو بہت متاثر کر سکتی ہیں۔ پچھلے زمانوں کی کہانیاں بسا اوقات کہانیاں ہی محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن زندہ مثالیں ٹھوس ثبوت ہوتی ہیں۔ اور ایسی انسپائرنگ کہانیاں ایک معیاری تعلیم اور ایک نئی اور پروگریسیو سوچ رکھنے والی شخصیات کے بارے میں جانکاری قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اس کتاب میں پڑھنے کے لئے تو بہت کچھ ہے لیکن میں چار نکات پر یہاں مختصر بات کرنا چاہتی ہوں۔
1۔ خاندان، پرورش اور اس کا اثر
ایک بات جو بہت عیاں ہے وہ یہ کہ بچوں کے مستقبل پر فیملی اور پرورش کا کتنا گہرا اثر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر زبیری اپنے والدین کے بارے میں لکھتے ہیں۔ کہ ان کے والدین متوسط درجے کے تعلیم یافتہ اور کافی مذہبی انسان تھے۔ لیکن انھوں نے کبھی بھی اپنے بچوں پر اس معاملے میں سختی نہیں کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میری ماں کی کوشش ہوتی تھی کہ ہم ایک متجسس اور سوال کرنے والے ذہن کے ساتھ پروان چڑھیں۔ ایسے ماحول میں رہتے ہوئے میں نے مذہبی اور غیر مذہبی نظریات رکھنے والے لوگوں کی یکساں طور پر عزت کرنا سیکھا۔
اپنے اساتذہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ کس طرح انھوں نے ان کی زندگی کو کامیاب راستے پر ڈھالنے میں ان کی مدد کی۔ اور ان کے اساتذہ میں سے قابل ذکر نام ایک استاد کا ہے جو ڈاکٹر خالد سہیل کے والد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ صرف ایک استاد نہیں تھے۔ he was a man of integrity۔ اور بتاتے ہیں کہ کس طرح ان کا سکول سے تعلیم ختم کرنے کے بعد بھی وہ ان سے رابطے میں رہے اور وہ ان کی تعلیمی میدان میں سرپرستی کرتے رہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ خود ڈاکٹر خالد سہیل کی زندگی اور ان کی شخصیت پر ان کے والدین اور خاص طور پر والد کا کیا اثر ہو گا۔
2۔ مذہب اور خدا
اس عنوان پر میرا جتنا بھی محدود مطالعہ ہے، مجھے مذہب اور خدا کے موضوع پر کسی کی بحث نے اتنا متاثر نہیں کیا ہے۔ جتنا کہ ڈاکٹر زبیری کے دلائل نے جب خالد سہیل ان سے اس بارے میں سوال کرتے ہیں۔ اور اس سے ان کے علم کی گہرائی کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے۔ وہ ایک خیال کے دفاع پر جھپٹتے نہیں بلکہ بڑے ٹھنڈے دماغ سے ٹھوس دلائل دیتے ہوئے اپنے اس سوال کے بارے میں اپنے خیال کا اظہار کرتے ہیں۔
مثلاً وہ کہتے ہیں کہ
ہماری کائنات کے وجود سے متعلق بگ بینگ تھیوری ( The Big Bang theory ) کو ایک صدی سے بھی کم وقت ہوا ہے۔ جس کے مطابق ہماری کائنات تقریباً ساڑھے تیرہ بلین سال پہلے ایک نقطے کی شکل سے پھیلنی شروع ہوئی اور مسلسل پھیلتی جا رہی ہے۔ لیکن اس کائنات میں 95 فیصد مادہ وہ ہے جس کا ابھی کسی کو علم نہیں۔ ہمیں صرف پانچ فیصد کا علم ہے۔
اور پھر یہ بھی کہ کیا یہ ایک ہی کائنات ہے یا ایسی اور بھی ہیں۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ اور اس محدود علم کی بنیاد پر ہم خدا کے وجود سے متعلق سوالات کے جواب تلاش کرتے ہیں۔ اور اس کے ہونے اور نہ ہونے کی بحث نہ صرف کرتے ہیں بلکہ اس بحث کو جیتنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس پر مرنے مارنے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔
کتنے سوال ہیں جن کا ابھی کوئی جواب موجود نہیں۔
1۔ چودہ بلین سال پہلے جب ابھی ہماری کائنات نہیں بنی تھی تو اس سے پہلے کیا تھا
2۔ دوسرا سوال۔ کیا کوئی اور کائنات تھی جو ٹوٹی اور ہماری کائنات میں ضم ہو گئی
3۔ ہماری کائنات کا آخری انجام کیا ہے۔ کیا اس کی پھیلاوٹ رکھ جائے گی۔ کیا یہ کائنات پھر سے سکڑ کر اپنی ابتدائی حالت میں پہنچ جائے گی۔ اور پھر کیا ایک اور بگ بینگ ہو گا۔
4۔ ان ساری تھیوریز سے پچھلے وقت کا اندازہ کریں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک نہیں بلکہ شاید لامحدود یونیورسز ( کائناتوں ) کا وجود ہے۔
5۔ اور اہم سوال کہ، ہماری اتنی لامحدود کائنات کے وجود کا مقصد کیا ہے۔
6۔ کیا واقعی ہم اشرف المخلوقات ہیں؟ جبکہ ہماری گیلیکسی میں ایک ٹریلین سے زیادہ ستارے ہیں جن میں سے سورج ایک ستارہ ہے۔ اور ہماری گیلیکسی کی طرح ٹریلینز اور گیلیکسیز ہیں۔ اور ان ستاروں اور سیاروں کے درمیان ہماری زمین اور اس پر موجود انسان۔ ایک معمولی ذرے سے زیادہ نہیں۔
7۔ کیا جس کائنات کی ہم بات کرتے ہیں یہ سب حقیقت ہے یا ہم ایک خواب کے عالم میں ہیں اور جب ہم جاگ جائیں گے تو کیا معلوم حقیقت کچھ اور ہو۔
ان سوالوں کی بنیاد پر دیکھا جائے تو ہماری کوئی حیثیت نہیں بنتی کہ ہم خدا کے وجود سے متعلق کسی سوال کا جواب دے سکیں۔ لیکن ایک بات کہی جا سکتی ہے کہ اس کائنات کا جس قدر اندازہ اس وقت تک ہو چکا ہے وہ یہ ضرور بتاتا ہے کہ یہ بہت منظم ہے۔ یہاں ایک ترتیب ہے۔ اور یہ ترتیب ایک بڑی طاقت کے بغیر ناممکن معلوم ہوتی ہے۔
اسی طرح مذہب ہو یا غیر مذہب دونوں انسان کی اپنی سچائیاں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی حتمی نہیں۔ لیکن ایک مذہب انسان کو انسانیت سے محبت کے راستے کی رہنمائی کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور مذہب کی بنیاد پر انسانی مساوات، انصاف اور بھلائی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ جو دکھ اور حماقت کی بات ہے وہ یہ کہ انسانوں نے اپنی اپنی سچائی کی بنیاد پر زمینی سرحدیں بنا لی ہیں۔ جو ہمیں قوموں اور ملکوں میں تقسیم کرتی ہیں۔ اور ان سرحدوں کو برقرار رکھنے کے لئے انسان ہی انسانوں کا خون کرتے ہیں بلکہ ان سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنا خون بھی بہا دیتے ہیں۔
3۔ فزکس اور میٹا فزکس
ڈاکٹر زبیری کا فزکس اور میٹا فزکس کا تبصرہ بہت دلچسپ ہے۔ فزکس کا علم ٹائم اینڈ سپیس پر مبنی ہے جو ناپے جا سکتے ہیں اور میٹا فزکس جو فزکس کی حدود سے آگے اور محسوس کرنے کی حد میں محدود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک فزسٹ عام طور پر عملی مسائل پر متوجہ رہتا ہے اور میٹا فزکس کی حدود کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتا۔ اس کی سوچ کے مطابق میٹا فزکس عطائیت کی حدود میں آتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ایک فلسفی اپنی ساری عمر میٹا فزکس کی حدود ٹٹولتے ٹٹولتے خوشی سے گزار لیتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فزکس کا علم جس انداز سے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ اس نے میٹا فزکس کے کافی گنجلکوں کو حل کر لیا ہے۔ اور مزید اس کی حدود میں آگے بڑھتا جا رہا ہے۔
میرا تعلق ڈائگناسٹک میڈیسن، سرجیکل پیتھالوجی سے ہے جہاں بیماری کو سیلولر، مالیکیولر اور جینیٹکس کی سطح پر دیکھا جاتا ہے۔ ڈائیگناسٹک میڈیسن میں بھی آگے آنے والے وقتوں میں کوانٹم آپٹکس کی بدولت ترقی پر بہت کام ہو رہا ہے۔
کتاب کے اگلے حصے میں ڈاکٹر خالد سہیل کے مضامین حسب معمول بہت دلچسپ اور معلوماتی ہیں۔ انسانی سائکالوجی، فرائیڈ، کارل جونگ، یا الفریڈ اڈلر کی بات ہو، یا ہیومن ازم کی، خوابوں کی حقیقت اور ان کی اہمیت کی بات ہو یا ان کی گرین زون فلاسفی کی، ان چند صفحات میں انھوں نے جیسے دریا کو کوزے میں بند کیا ہے اور وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پڑھنے والوں کی دلچسپی کا سب سامان ان صفحات میں موجود ہے۔
آخر میں وہ پاکستان میں موجودہ وقت سے متعلق مشکلات اور ان کے حل کی قابل توجہ تجویزات پیش کرتے ہیں۔
اور پھر امن عالم کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں۔ جو پڑھنے والوں کے لئے انتہائی دلچسپ اور معلوماتی ہے۔
4۔ ڈاکٹر خالد سہیل کی گرین زون فلاسفی۔
یہ ان کی ماہر نفسیات ہونے کے ناتے دوسروں کی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے ان کا ترتیب دیا ہوا ٹریننگ پروگرام ہے جو ان کے کلائنٹس میں بہت مقبول ہے۔ اور اس کے ذریعے یہ بیشمار دکھی انسانوں کی مدد کر چکے ہیں۔
ایک کامیاب اور مطمئن زندگی کی علامت یہ ہے کہ جب آپ مڑ کر دیکھیں تو آپ یہ کہہ سکیں کہ آپ نے زندگی سے وہ سب حاصل کر لیا جو آپ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور ان دو صاحب علم لکھاریوں کو جاننے کے بعد یہ اندازہ بخوبی ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری اور وہ حاصل کیا جو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔
وہ طالبعلموں کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ زندگی میں اپنے خواب اونچے رکھیں۔ اور پھر کسی مخالف قوت کی پرواہ کیے بغیر ان خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے میں پوری یکسوئی سے اپنی پوری طاقت لگائیں۔ ایسا کرتے ہوئے اپنی منزل حاصل کر لیں گے اور اگر کسی وجہ سے منزل پر نہ پہنچ سکیں تو منزل کی طرف اس سفر کے احساس اور اطمینان کے برابر بھی کچھ نہیں۔
ہماری پشتو زبان کے ایک شاعر محمد اعظم اعظم کا شعر ہے
اے وختہ ستاد تگ لارے زمونگہ دی ستا نہ دی
منزل کہ زمونگ نہ شو مزلونہ خو بہ وی
یعنی
اے وقت تمہاری راہ ہماری ہے تمہاری نہیں
منزل نہیں ملے بھی، سفر تو یونہی رہے گا
میں نے اپنا یہ مضمون ڈاکٹر سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل کی مشترکہ کتاب
”Religion, Science and Psychology“
کی تقریب رونمائی کے دوران پڑھا تھا

