مشنری سکول اور غریب مسیحی بچے


میں نے اپنی 35 سالہ صحافتی زندگی میں کبھی مشنریوں یا مشنری اداروں پر نکتہ چینی نہیں کی۔ مگر کچھ مشنری اداروں کا رویہ دیکھ اور سن کر سخت افسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی رسالتی اور انسانی خدمت کو غلط استعمال کر کے مشنریوں کے امیج کو دنیا کی نظروں میں خراب کر رہے ہیں۔ مجھے 1972 کا دور یاد آ گیا جب بھٹو کے دورحکومت میں مسیحی سکولز، کالجز اور کچھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ تب اس عمل کے خلاف جدوجہد بھی کی گئی تھی اور راولپنڈی میں احتجاج کے دوران دو لوگ شہید بھی ہو گئے تھے۔

مگر اس وقت کی حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اس کا نقصان کیا ہوا کہ مسیحیوں کی تعلیمی نشو و نما کا سلسلہ تقریباً رک گیا۔ مسیحی بچیوں اور بچوں کو سکول و کالج چھوڑنا بھی پڑ گیا۔ کیونکہ سکول کی انتظامیہ بدل گئی اور تعلیم دینے کا طریقہ بھی بدل گیا۔ بہت سے غریب بچوں اور بچیوں نے گورنمنٹ سکولز کا رخ کیا۔ جہاں اسلامی ماحول تھا اور اسلامیات پڑھائی جاتی تھی۔ مشنری ماحول نہ ملنے، مذہبی تعصب اور چھوت چھات جیسے ماحول سے مسیحی طلبا دل برداشتہ ہو کر اپنی تعلیم ہی چھوڑ گئے۔

اس وقت ایک باز گشت یہ بھی تھی کہ مشنری سکولوں کے کچھ اساتذہ بہت خوش ہوئے کیونکہ انہیں ان سکولوں میں بہت تنگ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے قومی تحویل میں لئے جانے پر خدا کا شکر ادا کیا کہ اب تنخواہ بھی اچھی ملے گی، کام بھی کم کرنا پڑے گا اور گورنمنٹ کی طرف پنشن بھی ملے گی۔ مگر مسیحی قوم کو اس کا اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑا جس کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا۔ اب بھی لوگ ان مشنری اداروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں کہ ان اداروں کا مسیحیوں کو کچھ فائدہ نہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسیحی اداروں نے کمیونٹی کو تعلیمی روشنی سے دور رکھا ہے۔ انہیں سہولت دینے کی بجائے ان پر بھاری فیسوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ پڑھے لکھے مسیحی نوجوانوں کی بجائے غیر مسیحی ٹیچرز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بہت سے مسیحی تعلیم اداروں میں بحیثیت مسیحی خاندانوں کے بچوں کو ہی داخلہ دیا جاتا تھا جبکہ غریبوں کو بالکل نظرانداز کر دیا جاتا۔

خانیوال میں مقیم ایک مسیحی خاندان سے ہونے والے قصے نے مجھے بہت رنجیدہ کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی بچیاں ایک مشنری سکول میں پڑھ رہی تھیں جہاں ان کی ماں بھی ٹیچر تھی۔ ایک دن ایک لیڈی ٹیچر نے ان کی بچی کو مارا پیٹا تو بچی نے روتے ہوئے دوسری ٹیچر کو بتا دیا۔ بچی کے باپ نے پرنسپل سے شکایت کی۔ شکایت کرنے پر پرنسپل رویہ بہت افسوسناک تھا۔ اگلے روز پرنسپل نے بچیوں کی ماں کو دفتر میں بلا کر اسے یہ سٹیٹمنٹ لکھنے کو کہا کہ ٹیچر نے اس کی اجازت سے بچی کو سزا دی اور مارا ہے۔

اس نے لکھنے سے انکار کر دیا جس پر پرنسپل نے بچیوں اور ان کی ٹیچر ماں کو سکول چھوڑ دینے کو کہہ دیا۔ مجبوراً ان سب کو سکول چھوڑنا پڑا۔ اب ان کی بچیاں ایک مسلم سکول میں داخل کرا دی گئی ہیں، جہاں کے اسلامی ماحول میں ایڈجسٹ ہونا انہیں کافی مشکل لگ رہا ہے اور انہیں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ مشنری اداروں کے ایسے رویوں کی وجہ سے بہت لوگ پریشان ہیں۔ مسلم سکول میں زیر تعلیم مسیحی لڑکیوں کے ساتھ کئی افسوسناک واقعہ بھی ہو چکے ہیں۔

اس کا ازالہ ناگزیر ہے۔ اور اس طرف دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے۔ کبھی ہم یوتھ سمینارز میں سنا کرتے تھے کہ بیرون استحصال سے اندرون استحصال زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مشاہدات اور تجربات نے یہ ثابت کر دیا کہ اندرونی استحصال اور فرقہ واریت جو ہمارے درمیان چرچز کی سطح پر موجود ہے۔ مثلاً مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والوں لوگوں میں شادی بیاہ نہ کرنا، فرقہ واریت کی بنیاد پر اداروں میں امتیاز رکھنا۔ ان رویوں نے مسیحی کمیونٹی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ کمیونٹی جذبے کو عملاً اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی بے حد ضرورت ہے ورنہ ہماری معاشی، معاشرتی حالت زار کبھی بھی بہتر نہیں ہو سکے گی۔

Facebook Comments HS