خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر


میری پیاری امی۔

میں جب ہسپتال پہنچی تو میری زندگی سے کی امنگوں سے بھرپور، اور پر جوش امی نیم بے ہوشی کے عالم میں ہچکی نما سانسیں لے رہی تھیں۔ ابو نے کہا کہ آج رات تمہیں ہسپتال میں رہنا پڑے گا، میں ذرا سا بھی نہیں گھبرائی میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ ایسا بھی ہو گا۔

پھر کچھ دیر میں میں نے اپنے آپ کو ایک سٹریچر کے پاس کھڑا ہوا پایا میرے سامنے میری خوش رنگ اور خوش لباس امی سفید چادر میں لیٹی ہوئی تھیں۔
پھر میں نے دیکھا کہ میرے ابو کے گھر کا لاؤنج ہے، میرا ایک کزن ایک تختہ سا اٹھا کر لا رہا ہے اور سفید لٹھے کے تھان ہیں اور بیری کے پتے ہیں۔

اس رات اتنے زور کا جھکڑ چلا۔ عجیب طوفانی ہوائیں تھیں۔ امی کو ہم نے اے سی والے کمرے میں رکھا۔ میرے ابو بھی ٹی وی لاؤنج میں امی کے پاس رہے۔ میرے ابو بہت حوصلے والے ہیں اس رات بہت مصروف لگ رہے تھے۔ میری امی کو آخری ایام میں میرے ابو نے بہت محبت اور شفقت سے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ امی جب فزیو تھراپی کے لیے ہسپتال جانے کے لیے تیار ہوتی تھیں تو ابو ان کو میچنگ جیولری نکال کر دیا کرتے تھے۔

میں جب بہت زور لگا کر کوشش کروں کہ میرے بچپن کی بعید ترین یاد داشت کے مطابق امی کیسی ہوا کرتی تھیں تو گھر کی تعمیر میں علم ریاضیات کا استعمال یاد آتا ہے کہ کھڑکیوں کا رخ کس سمت رکھنا ہے، برآمدوں میں غیر محسوس سی ڈھلان کہ ترچھی بارش پڑے تو بارش کا پانی نا رکے، ایک دفعہ بڑی عید پر قربانی کے بعد امی نے قصائی سے پھیپھڑے ثابت مانگ لیے تا کہ ہمیں نظام تنفس سمجھا سکیں۔

میری والدہ نے ڈبل میتھ اور جغرافیہ میں بی اے کیا ہوا تھا ایک طویل عرصہ تک وہ علم ریاضی کے ماہر مضمون کے طور پر جھنگ صدر کے گرلز سکول میں تعینات رہیں، امی سکول کی ٹیموں کو اقبالیات، بیت بازی اور اردو مباحثوں کے مقابلہ جات کے لیے تیار کیا کرتی تھیں۔ ایک طرف تو میری والدہ علم ریاضی کے معمے، جی آر ای اور جی اے ٹی کے سوال حل کر لیتی تھیں۔ پزل گیم سوڈوکو میں ایکسپرٹ لیول کی پلیئر تھیں۔ اور دوسری جانب اقبال، احمد فراز، محسن نقوی ان کو ازبر تھے اور خود بھی شاعری میں طبع آزمائی کرتی تھیں، میرے بہت سے کزنوں کے سہرے اور رخصتانے انہوں نے لکھے۔

جب میں مڈل سکول میں تھی تو امی نے پنجابی زبان و ادب میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پچاس سال کی عمر میں باقاعدہ ایجوکیشن کالج میں داخلہ لے کر ایم ایڈ کیا۔ اس دور میں وہ اپنی ساری اسائنمنٹس ہاتھ سے بنایا کرتی تھیں۔ ان کو خطاطی اور آرٹس میں بھی طبع آزمائی کا شوق تھا۔ سکول کے لیے نظام شمسی اور آتش فشاں کے ماڈل، خلفائے راشدین کے ادوار کے متعلق چارٹس جو چاہو بنوا لو۔

میری والدہ نے کئی دفعہ عام انتخابات میں پریزائڈنگ افسر کی حیثیت سے ڈیوٹی بھی دی، سال ہا سال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں ہیڈ ایگزامینر بھی رہیں۔

90 کی دہائی کے اواخر میں فیصل آباد کے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہیں بعد ازاں ان کا تبادلہ ایک سکول میں بطور ہیڈ مسٹریس ہوا اور وہیں سے ریٹائرڈ ہوئیں۔ ایک ہیڈ مسٹریس ہونے کے باوجود وہ نویں اور دسویں جماعت کو ریاضی خود ہی پڑھاتی تھیں۔

یہ 22 مارچ 2021 کی رات تھی، میرے سامنے جو سفید لٹھے میں سجی شفاف چہرے والی میری امی لیٹی ہوئی تھیں یہ ایک باقاعدہ فیمنسٹ بھی تھیں۔ ان کے خیالات سے مجھے اکثر ڈر بھی لگتا تھا کہ اتنا بھی حقوق کا ادراک نا ہی ہو انسان کو۔

میری والدہ ایک محب وطن پاکستانی تھیں 70 سال کی عمر میں بھی 14 اگست کو خاص طور پر سبز رنگ کا جوڑا نکال کر پہنا کرتی تھیں۔ یہ انداز بہتوں کے لیے شاید بچگانہ ہو۔ لیکن یہ معصوم سی عادت غمازی کرتی ہے کہ امی کو زندگی زندہ دلی سے جینے کا سلیقہ آتا تھا۔

امی کی شخصیت اتنی ہمہ جہت تھی کہ سمجھ نہیں آتا کہ بطور والدہ، ساس اور بیوی ان کا ذکر کروں یا ایک ورکنگ وومن کے طور پر ان کی ذات کا احاطہ کروں، وہ ایک استاد، ایک ماہر تعلیم اور اردو ادب کی شیدا تھیں۔

لیکن میں نے خود کو خیالات کے دھارے کے حوالے کر دیا۔ اور حاصل تحریر آپ کے سامنے ہے۔ اگر بطور والدہ ان پر لکھوں تو تحریر کی طوالت اور میرے آنسوؤں پر میرا اختیار نہیں رہے گا۔

یاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہے
کس کو اب ہو گا وطن میں آہ میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار
خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا

Facebook Comments HS